پنجاب سے 1 لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھجوا دیا: محکمہ داخلہ

لاہور:(دنیا نیوز) محکمہ داخلہ پنجاب کے فارن نیشنل سکیورٹی سیل کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلاء کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، پنجاب سے 1 لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھجوا گیا۔

حکام کے مطابق حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت قابلِ قبول ویزا کے بغیر مقیم تمام افغان شہریوں کا قیام غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے اور انہیں مرحلہ وار وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔

محکمہ داخلہ نے بتایا کہ اب تک ملک بھر سے مجموعی طور پر 25 لاکھ 88 ہزار 16 افغان باشندوں کو واپس بھجوایا جا چکا ہے جب کہ صرف پنجاب سے ایک لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی عمل میں لائی گئی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ کریک ڈاؤن کے دوران صوبہ بھر کے رہائشی علاقوں اور مارکیٹس کی جانچ مکمل کی گئی جب کہ گرفتار کیے جانے والے غیر قانونی افغان شہریوں کو پہلے ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان کی عارضی رہائش، رجسٹریشن اور وطن واپسی کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔

اِسی طرح پنجاب میں اس وقت 36 ہولڈنگ سینٹرز فعال ہیں جہاں اس وقت 53 افغان شہری موجود ہیں، بعد ازاں انہیں طورخم بارڈر کے ذریعے افغان حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔

محکمہ داخلہ کا کہنا تھا  کہ یہ اعداد و شمار حکومت کی مؤثر حکمتِ عملی اور فعال انتظامی اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افغان شہریوں کے غیر قانونی قیام، شناختی جعلسازی یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر دیں، جبکہ اطلاع دینے والے افراد کی شناخت مکمل طور پر صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

دوسری جانب حکام نے واضح کیا ہے کہ کارروائیاں صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جب کہ فارن نیشنل سکیورٹی سیل صوبہ بھر میں اس عمل کی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں