سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ پیش، وجوہات و ذمہ داروں کا تعین، وزیراعظم نے اجلاس بلا لیا
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی، رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین اور کارروائی کی سفارش کی گئی، وزیراعظم نے اس حوالے سے اجلاس طلب کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحہ کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کر لیا، کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات اجلاس میں پیش کی جائیں گی، وزیراعظم اہم فیصلے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت دس ٹاپ کے افسران و متعلقہ عملے کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔
رپورٹ میں موجودہ قائم مقام سیکرٹری کیپٹن (ر) محمود کی سفارشات بھی شامل ہیں۔
انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ جمع کروائی، رپورٹ رات گئے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کروائی گئی، مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا، رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کیا، ریسکیو ٹیموں کو امدادی کاروائیوں میں درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا گیا۔
رپورٹ میں پمز کے متعلقہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی، پمز کو انتہائی غیر پیشہ وارانہ اور انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جارہا تھا، ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ نئی پروفیشنل تعنیاتیاں کی جائیں، پمز کاایک باقاعدہ گورننگ بورڈ بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کےلئے سفارشات بھی دی گئی ہیں، پمز کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں پمز ہسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا ذکر کیا گیا، کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، ذمہ داروں کے خلاف وزیراعظم کو کارروائی کرنے کی فوری سفارش کی گئی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ کی روشنی میں فوری ایکشن کا فیصلہ کر لیا، متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف جلد کارروائی کا امکان ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments