ایرانی صدر نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دے دی
ایران: (ویب ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، تاہم ان میں دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے گریز کیا جائے۔
صدر پزشکیان نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا، انہوں نے کہا کہ دوست علاقائی ممالک کی جانب سے امریکا کے صدر کی مذاکرات کی تجویز پر ردِعمل دینے کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر بات چیت کے لیے ماحول سازگار بنانے کی تیاری کریں۔
In light of requests from friendly governments in the region to respond to the proposal by the President of the United States for negotiations:
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) February 3, 2026
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ، یہ مذاکرات اسی صورت ممکن ہوں گے جب ایسا ماحول قائم ہو جس میں کسی قسم کی دھمکیاں اور غیر معقول توقعات شامل نہ ہوں، انہوں نے واضح کیا کہ ایران قومی مفادات کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے ہی کسی بھی ممکنہ سفارتی عمل میں پیش رفت کرے گا۔
ایک اور ایکس پوسٹ میں ایرانی صدر نے کہا کہ یہ مذاکرات ہمارے قومی مفادات کے دائرۂ کار میں ہی کیے جائیں گے۔
I have instructed my Minister of Foreign Affairs, provided that a suitable environment exists—one free from threats and unreasonable expectations—to pursue fair and equitable negotiations, guided by the principles of dignity, prudence, and expediency.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) February 3, 2026
یاد رہے کہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے، اگر ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لیے برے نتائج ہوں گے، ایک طرف فوجی تیاری جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔