فیڈریشن چیمبر سروے: اکثریت نے بدعنوانی کا مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کر دی
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب سے متعلق سروے رپورٹ جاری کر دی جس میں عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کا مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔
ایف پی سی سی آئی نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر نجی شعبہ کی طرف سے کروائے جانے والے ملک گیر سروے سے نئی داغ بیل ڈال دی، شفافیت و احتساب انڈیکس کے لیے معروف فرم آئی پی ایس او ایس سے اشتراک کیا گیا، سروے کا مقصد پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس مرتب کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اس سروے کے نتائج کے مطابق مختلف انواع کی بدعنوانی کے بارے میں عوامی تاثر اور ذاتی تجربے یا ذاتی مشاہدے میں واضح فرق سامنے آ گیا۔
سروے کے مطابق 68 فیصد رائے دہندگان کے ’’تاثر‘‘ کےمطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے جبکہ صرف 27 فیصد رائے داہندگان نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر ایسی صورتحال کا سامنا ہوا جہاں ان سے رشوت مانگی گئی۔
رپورٹ میں نتیجہ نکلا کہ 56 فیصد رائے دہندگان کے تاثر کے مطابق سرکاری اداروں میں اقربا پروری عام ہے، لیکن صرف 24 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہوں نے ایسی صورتحال بھگتی ہے جہاں اقربا پروری نے میرٹ کی خلاف ورزی کی۔
سروے میں بتایا گیا کہ 59 فیصد رائے دہندگان کے مطابق سرکاری اداروں یا عہدہ داروں میں غیر قانونی ذرائع سے دولت بنانے کا رجحان موجود ہے تاہم صرف 5 فیصد نے کہا کہ انہوں نے کسی سرکاری ملازم کو غیر قانونی طریقے سے دولت بناتے ہوئے خود دیکھا ہے، عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کا مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔
ملک گیر سروے 6018 رائے دہندگان کی آراء سے مکمل کیا، 67 فیصد رائے دہندگان کے مطابق انہیں کسی بھی قسم کی بد عنوانی کا تجربہ نہیں ہوا، 73 فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی، 76 فیصد رائے دہندگان کا اقرباء پروری سے کوئی واسطہ نہ پڑنے کا انکشاف کیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق شفافیت کے اشاریے میں اسلام آباد سرفہرست، پنجاب اور خیبر پختونخوا نمایاں رہے، اینٹی کرپشن اداروں میں نیب کو سب سے مؤثر ادارہ سمجھا گیا، رائے دہندگان میں احتسابی نظام سے متعلق آگاہی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے ، وفاقی و صوبائی محتسب اور این سی سی آئی اے سے بھی عوامی آگاہی سامنے آئی، سرکاری اداروں میں عوام کی سب سے زیادہ واقفیت پولیس کے ساتھ پائی گئی، پولیس کے بعد سرکاری ہسپتال ، واپڈا اور تعلیمی ادارے نمایاں رہے۔
فیڈریشن چیمبر کی سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروے کے دوران سرکاری اداروں میں میرٹ پر بھرتی کو سب سے مثبت اصلاح قرار دیا گیا، عوامی تجربات میں شفافیت کے حوالے سے سرکاری ہسپتال سرفہرست رہے، ہسپتالوں کے بعد نادرا، تعلیمی ادارے اور ٹریفک پولیس کا نمبر آیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق 31 فیصد شہری حکومتی انسدادِ بدعنوانی اقدامات سے مطمئن،37 فیصد غیر جانبدار رہے، صرف 32 فیصدرائے دہندگان نے عدم اطمینان کا اظہار کیا، صرف11 فیصد عوام کو آر ٹی آئی قانون سے آگاہی، 34 فیصد کو بدعنوانی رپورٹ کرنے کے طریقہ کار کا علم ہے۔
رپورٹ کے نتائج کے مطابق عوامی خدمات کے معیار پر نادرا کو سب سے بہتر درجہ حاصل رہا، ’’وسل بلور‘‘ تحفظ قوانین سے صرف 15 فیصد رائے دہندگان آگاہ پائے گئے، صرف 8 فیصد رائے دہندگان کا کسی اینٹی کرپشن ادارے سے واسطہ پڑا۔
سروے میں تاثر کے لحاظ سے ٹریفک پولیس، ہسپتال، ایف بی آر اور تعلیمی ادارے بہتر قرار پائے، نوجوان نسل کے تجربات بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہے، خواتین اور شہری آبادی میں نظام پر اعتماد نسبتاً بہتر پایا گیا، شہری علاقوں میں بدعنوانی سے متعلق تاثر دیہی علاقوں سے بہتر پایا گیا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں، ایک سیاسی گروہ نے سیاسی فائدے کے لیے منفی پروپیگنڈا کیا جبکہ بے بنیاد تنقید سے قومی خوداعتمادی کو نقصان پہنچتا ہے۔