سانحہ بھاٹی گیٹ کی شفاف تحقیقات کیلئے درخواست پر 3 مارچ کو جواب طلب
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعہ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی۔
لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اطلاعات پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے، واقعے کی شفاف چھان بین اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس پر عدالت نے فریقین کو 3 مارچ تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی نے کیس کی سماعت کی، دائر درخواست میں پنجاب حکومت، ایل ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انتہائی گنجان آباد علاقے میں مین ہول کو کھلا چھوڑنا سنگین غفلت ہے جبکہ حکومت نے اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف نمائشی اقدامات کیے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں ہر سال 10 ہزار سے زائد مین ہول کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، پولیس کی جانب سے سیکشن 322 کے تحت مقدمہ درج کرنا ناکافی ہے کیونکہ ماں اور بیٹی کی ہلاکت محض حادثہ نہیں بلکہ واضح مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔
درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ واقعے کے بعد پولیس اور حکومتی نمائندوں نے متاثرہ خاندان کو ہراساں کیا۔
وکیل نے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق سامنے لانے اور لواحقین کے لیے معاوضے کے تعین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جبکہ غفلت کے مرتکب افسران سے 25 کروڑ روپے معاوضہ وصول کر کے متاثرہ خاندان کو دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات پھیلانے پر وزیر اطلاعات پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی۔
سماعت کے دوران جسٹس سید شہباز رضوی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ مفادِ عامہ سے متعلق ہے اور اس میں وفاقی حکومت کا جواب آنا بھی ضروری ہے۔
عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 مارچ کو جواب طلب کر لیا۔