چین کی ایران میں سکول حملے کے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت، عطیہ دے گا
بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین نے کہا ہے کہ وہ شرقِ اوسط کی جنگ کے اوائل میں ایران میں بچیوں کے ایک پرائمری سکول پر اندھا دھند میزائل حملے میں ہلاک شدہ طالبات کے والدین کو عطیہ دے گا۔
تہران نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جنگ کے پہلے دن ایران کے جنوب میں واقع سکول پر مہلک میزائل حملہ کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں ہلاک شدہ بچیوں سمیت کم از کم 165 افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس سے ہر آنکھ اشک بار ہو گئی مگر امریکی صدر ٹرمپ نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حملے کا الزام بھی الٹا ایران پر لگا دیا۔
بیجنگ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چینی ریڈ کراس سوسائٹی ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کو ہنگامی انسانی امداد کے طور پر خاص طور پر ہلاک شدہ طالبات کے والدین سے تعزیت اور معاوضے کے لیے عطیہ کرے گی ۔
وزارت کے ترجمان گو جیاکون نے اس مہلک حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سخت خلاف ورزی قرار دیا۔
گو جیاگون نے بتایا کہ سکولوں اور بچوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور انسانی ضمیر اور اخلاقیات کی زیریں سطح سے بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے ایران کو ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوجی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی ٹوماہاک میزائل سکول پر گرا تھا۔