طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشتگردوں کی موجودگی کی عالمی سطح پر پھر تصدیق

کابل: (دنیا نیوز) افغانستان میں عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں اورجدید ٹیکنالوجی تک رسائی پر روس کی جانب سے سکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر افغانستان میں عالمی اور علاقائی دہشتگردوں کی موجودگی کے پاکستانی موقف کی تائید کردی۔

روسی سرکاری نیوز ایجنسی  ریا نووستی  کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر پیوتر ایلیچیف نے وسطی ایشیائی ممالک کے 19ویں اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان خطے بلخصوص پڑوسی ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اب بھی 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں جنہیں افغان رجیم نے سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کیا ہوا ہے، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کےجنگجوؤں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ڈائریکٹر پیوتر ایلیچیف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے، افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی اسلحے کی تجارت سے بڑے پیمانے پر مالی وسائل حاصل کر رہے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا بنیادی سبب بن رہا ہے، روسی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان پاکستان کے اس دیرینہ موقف کو بالکل درست ثابت کرتی ہے کہ افغانستان میں قائم  نارکو ٹیرر نیکسس  براہِ راست افغان رجیم کی سرپرستی میں چل رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں