ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں: جے ڈی وینس
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں، وینس نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو تقریباً ڈیڑھ صفحہ طویل ایک بہت عمومی دستاویز قرار دیا ہے۔
دوسری جانب سینیئر امریکی حکام بھی معاہدے کی کچھ تفصیلات شیئر کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز معاہدے پر باضابطہ طور دستخط ہوں گے اور اسی روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
خیال رہے کہ آج آبنائے ہرمز سے پانچ جہاز گزر چکے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ فرانس میں جی سیون سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جہاں آج ایران کے متعلق ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوگا، اس خصوصی اجلاس میں مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنما بھی شرکت کریں گے۔
اس سے پہلے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، سب کچھ طے ہو چکا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے پر ٹرمپ، وینس اور ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر تکنیکی مذاکرات اس ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی یا اثاثوں کی واپسی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات جمعہ کی تقریب کے بعد جلد جاری کی جائیں گی تاہم جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکی صدر اس سے پہلے بھی تہران کے ساتھ معاہدہ جاری کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
وینس نے اس سے قبل سی این این کو بتایا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت ایک بہت عمومی دستاویز ہے، اور اس کی بہت سی تفصیلات آئندہ مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔
وینس کے مطابق دستاویز کے پہلے پیراگراف میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے خود کو پابند کرے گا، جس میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت بند کرنا بھی شامل ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران قابلِ تصدیق عہد کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔