اسرائیل کے حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم انتقال کر گئے

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا کے ممتاز ریپبلکن سینیٹر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور اسرائیل کے مضبوط حامی لنڈسے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

سینیٹر گراہم کے دفتر کے مطابق وہ مختصر اور اچانک علالت کے بعد انتقال کر گئے، سینیٹر گراہم کے اہلِ خانہ اس مشکل وقت میں دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں اور اپنی نجی زندگی کے احترام کی اپیل کرتے ہیں۔

لنڈسے گراہم 2002 میں پہلی بار امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے، جبکہ 2008، 2014 اور 2020 میں دوبارہ منتخب ہوئے، اس سے قبل 1994 میں وہ جنوبی کیرولائنا سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بھی رہے۔

وہ حالیہ عرصے میں سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے چیئرمین تھے، جبکہ اس سے قبل فنڈز ، عدلیہ اور ماحولیات و عوامی تعمیرات سے متعلق سینیٹ کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔

لنڈسے گراہم 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے مضبوط حامی تھے اور طویل عرصے سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے رہے، وہ اسرائیل کے پُرجوش حامی سمجھے جاتے تھے اور ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور جنگی مؤقف کی بھی بھرپور حمایت کرتے تھے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لنڈسے گراہم اسرائیل کے مشکل ترین وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہے۔

2016 میں انہوں نے ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم ابتدائی انتخابی مرحلے سے قبل دستبردار ہو گئے، اگرچہ وہ ابتدا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد تھے، لیکن بعد ازاں کانگریس میں ان کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہونے لگے۔

سیاسی زندگی میں آنے سے پہلے لنڈسے گراہم چھ سال سے زائد عرصہ امریکی فضائیہ میں وکیل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، بعد ازاں 1995 میں فضائیہ کے ریزرو میں شامل ہوئے، جہاں تقریباً 20 سال خدمات انجام دینے کے بعد کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں