بھارتی وزیرِ تعلیم کی برطرفی ہندوتوا تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار
نئی دہلی: (دنیا نیوز) بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی کو ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق مودی حکومت تعلیم سمیت عوامی زندگی کے مختلف شعبوں کو ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے، تاہم وزیرِ تعلیم کی برطرفی سے اس منصوبے کواہم نقصان پہنچا ہے۔
بھارتی جریدے ’دی وائر‘ کے مطابق دھرمیندر پردھان مودی حکومت میں آر ایس ایس کے وسیع تر ہندوتوا تعلیمی منصوبے کے اہم کردار سمجھے جاتے تھے۔
جریدے کا کہنا ہے کہ ان کی برطرفی نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بلکہ آر ایس ایس کے طویل المدتی نظریاتی منصوبے کے لیے بھی ایک بڑی ناکامی ہے۔
— Media Talk (@mediatalk922) July 27, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ دھرمیندر پردھان کو سنگھ پریوار کے تعلیمی ایجنڈے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ مودی دورِ حکومت میں تعلیم کو ترقی کے بجائے ہندوتوا نظریے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
ادھر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا اتحاد ملک کے نظامِ تعلیم اور خودمختار اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments