انسانی حقوق تنظیموں نے جنوبی لبنان میں صحافیوں پر اسرائیلی حملے جنگی جرائم قرار دیدیئے

بیروت: (دنیا نیوز) انسانی حقوق تنظیموں نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں صحافیوں پر اسرائیلی حملہ جنگی جرم تھا۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق 22 اپریل کو الطیری قصبے میں رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور لبنان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرے۔

دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے الطیری واقعات سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز، زینب فرج اور امدادی کارکنوں کے بیانات، میڈیا رپورٹس اور لبنانی ریڈ کراس کی جانب سے اسرائیلی فوج کو بھیجے گئے ایک پیغام کا جائزہ لیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد دونوں صحافیوں نے قریبی عمارت میں پناہ لی، مدد کیلئے لبنانی ریڈ کراس سے رابطہ کیا ،ریسکیو کارروائی شروع کی گئی تو ان پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا جس کے بعد وہ صحافی امل خلیل کو نکالے بغیر واپس جانے پر مجبور ہو گئے، اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز مسلسل فرج اور خلیل کی نگرانی کرتے رہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے اسرائیلی افواج کی جانب سے صحافیوں کی مسلسل ہلاکتیں عکاسی کرتی ہیں کہ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر سنگین خلاف ورزیاں کرنے پر آمادہ ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق رواں سال 27 صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے ہیں جن میں سے 9 لبنان میں جبکہ 7 اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں جاں بحق ہوئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...