امریکا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، ایرانی پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی

تہران: (دنیا نیوز) ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کردی ہے کہ واشنگٹن اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست پسِ پردہ رابطہ قائم ہوچکا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے ٹرمپ کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خیالی باتیں جنگ میں ناکامی کے باعث پیدا ہونے والے وہم اور ڈراؤنے خوابوں کا نتیجہ ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکی صدر اپنے بیانات کے ذریعے تیل اور توانائی کی قیمتوں کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان رابطوں کا تاثر پیدا کرنا موجودہ جنگی اور اقتصادی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اب ایک ہی راستہ باقی ہے، وہ اپنی شکست اور ایران کی مقررہ شرائط کو تسلیم کریں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست پسِ پردہ رابطہ قائم کرلیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی جلدی میں نہیں ہیں۔

امریکی صدر کے اس دعوے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سامنے آنے والا بیان دونوں ممالک کے درمیان موجود شدید بداعتمادی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ حالیہ صورتحال میں آبنائے ہرمز، جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات بنیادی تنازعات بنے ہوئے ہیں، جبکہ 60 روزہ مفاہمتی عمل کی مدت بھی 17 اگست کو بغیر کسی حتمی پیش رفت کے ختم ہوگئی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...