سانحہ نائن الیون کو 25 سال بیت گئے، اس دن کے زخم آج بھی تازہ

واشنگٹن: (دنیا نیوز) سانحہ نائن الیون کو 25 سال بیت گئے مگر اس دن کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔

امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشتگرد حملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، ہائی جیک کیے جانے والے طیارے موت بن کر بلند و بالا ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، ٹوئن ٹاورز پر یکے بعد دیگرے دو حملوں سے تین ہزار کے قریب جانیں لقمہ اجل بنیں۔

نائن الیون نے دنیا کی عسکری اور سیاسی جہت کو بدل کر رکھ دیا، افغانستان میں امریکی بدلے کی کارروائی مشرق وسطیٰ میں ہولناک جنگوں کا باعث بنی۔

11 ستمبر 2001ء کی صبح جو معمول کے مطابق شروع ہوئی، مگر تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں ہمیشہ کیلئے درج ہوگئی، امریکا پر ایسا حملہ جس نے صرف عمارتیں نہیں گرائیں بلکہ دنیا کا سیاسی منظر نامہ ہی بدل دیا۔

انیس دہشت گردوں نے امریکا کے تین مختلف ہوائی اڈوں سے چار مسافر طیارے ہائی جیک کئے، دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، ایک پینٹاگون سے جا ٹکرایا اور چوتھا پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا، چند ہی لمحوں میں بلند و بالا ٹوئن ٹاور کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں بدل گئیں۔

حملے کے وقت صدر جارج ڈبلیو بش ریاست فلوریڈا میں ایک پرائمری سکول کا دورہ کر رہے تھے، وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف اینڈی کارڈ نے ان کے کان میں حملے کی اطلاع دی۔

صدر بش نے بچوں کی کلاس مختصر کی سکول میں موجود ایک کمرے میں جا کر تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور قومی سلامتی حکام کو ہدایات جاری کیں اور قوم سے خطاب کیا۔

9/11 کے دہشتگرد حملے میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے، حملے امریکا پر تھے مگر اس کے اثرات پوری دنیا نے بھگتے، امریکا نے القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو حملوں کا ذمے دار قرار دیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کا اعلان کرکے افغانستان پر فوجی کارروائی شروع کردی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے۔

9/11 کو دو دہائیاں گزر چکی ہیں مگر اس دن کے بعد امریکا کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں کے اثرات نے آج تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...