پی ٹی آئی ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں فاصلہ پیدا نہیں کر سکی

 پی ٹی آئی ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں فاصلہ پیدا نہیں کر سکی

(تجزیہ: سلمان غنی) ملک بھر میں دہشت گردی کا رحجان حکومت کے لئے جہاں بڑا امتحان نظر آ رہا ہے وہاں خود اپوزیشن کی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر دکھائی دے رہی ہیں۔ اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی جو عیدالفطر کے بعد حکومت مخالف تحریک کی تیاریوں میں تھی۔۔۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

 اس نے اس حوالے سے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کر رکھے تھے ، اب ملک پر طاری نئی فضا میں بھی وہ نتیجہ خیز نظر نہیں آ رہے ۔جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان ابھی تک کوئی قابل قبول فارمولہ طے نہیں پا یا ، جس بنیاد پر کہا جا سکے کہ وہ مشترکہ پلیٹ فارم سے کوئی جدوجہد کر سکیں اور اس ضمن میں بڑی رکاوٹ وزیر اعلیٰ گنڈا پور کا طرز عمل بتایا جا رہا ہے جو مولانا  فضل الرحمن کے سیاسی کردار پر لچک دکھانے کو تیار نہیں ۔ جے یوآئی کی لیڈر شپ ان کے اس طرز عمل کو ہضم نہیں کر پا رہی ۔دوسری جانب پاکستان عوام پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تو شدید تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر کسی حکومت مخالف تحریک پر یکسو نہیں ۔جماعت اسلامی بھی ایسے کسی حکومت مخالف اتحاد اور تحریک سے فاصلے پر کھڑی ہے ، لہٰذا جو گرینڈ الائنس کی بات تھی وہ تو توڑ چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک کے لئے تو پر عزم نظر آ رہی ہے مگر خود جماعت کے اندر کی صورتحال اس کی متحمل دکھائی نہیں دے رہی ۔ وہ مزاحمتی طرز عمل اور احتجاجی سیاست جو پی ٹی آئی کی پہچان ہے ، اب اس کی کمزوری بن گیا ہے ۔ ماہرین کے نزدیک اپوزیشن کی سیاست بغیر کسی تھپکی اور اشارے کے موثر نہیں ہوتی ۔

پی ٹی آئی اب تک نہ تو نو مئی کے اثرات سے نکل پائی ہے ، نہ ہی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اسے بھلانے کو تیار ہے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی اپنی مشکلات ہی ختم نہیں ہو پا رہیں تو وہ حکومت کے لئے کیا مشکلات کھڑی کرے گی ؟ ، اپوزیشن جماعتیں حکومت کی مخالفت پر تو تیارہیں مگر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر آکر خود پر ریاست مخالف کی چھاپ نہیں لگوانا چاہتیں ۔پی ٹی آئی کی جیل سے باہر بیٹھی لیڈر شپ اسٹیبلشمنٹ سے اچھے روابط کی تو خواہاں ہے مگر اس حوالے سے انہیں بانی پی ٹی آئی کی تائید حاصل نہیں ۔ بانی پی ٹی آئی کی جیل سے ایک ٹویٹ پی ٹی آئی کو پسپائی پر مجبور کر دیتی ہے ۔ اب تو یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ اتنی اسٹیبلشمنٹ کی تائید کسی بھی وزیراعظم کو حاصل نہیں رہی جتنی انہیں حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست نہیں ریاست کا نعرہ لگاتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔

پی ٹی آئی کی بڑی ناکامی یہی ہے کہ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں نہ توفاصلہ پیدا کر سکی ہے اور نہ اپنا فاصلہ گھٹا سکی ہے ، اس حکمت عملی نے خود پی ٹی آئی کے اندر مایوسی پیدا کی ہے اوروہ لوگ جو پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کی بنا پر اس سے جڑے ہوئے تھے ، اب وہ بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مقبولیت ، قبولیت کے بغیر کچھ نہیں ، اسی بنا پر ان کے اراکین اسمبلی احتجاجی سیاست سے نالاں نظر آرہے ہیں ۔ اس صورتحال کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ اول تو احتجاجی تحریک کے امکانات نہیں اور اگر یہ شروع بھی ہوتی ہے تو زیادہ دیر چل نہیں سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی ریاستی اداروں سے اپنے تعلقات بحال نہیں کرتی اور اپنے طرز عمل کو تبدیل نہیں کرتی ، تب تک نہ تو اسکا بڑا کردار بحال ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کے احتجاج کی حکمت عملی کارگر ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں