فلسطین:تمام مسلمان حکومتوں پر جہاد فرض ہوچکا:قومی کا نفرنس

فلسطین:تمام مسلمان حکومتوں پر جہاد فرض ہوچکا:قومی کا نفرنس

اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ، مانیٹرنگ ڈیسک )مجلس اتحادامت پاکستان کی قومی کانفرنس بعنوان فلسطین اور امت مسلمہ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے کہاکہ شرعاً تمام مسلم حکومتوں پر جہاد فرض ہوچکا ہے عالمی ضمیر مردہ ، ادارے بے بس ہو چکے ہیں۔

جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی نصرت امت مسلمہ پر واجب ہوچکی ، امریکہ اور مغربی ممالک کی آشیر باد اور اسلحہ سے فلسطین پر تباہ کن مظالم ڈھائے ہیں جس کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے ،یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ فلسطینوں کی نسل کشی ہے ،اپنی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد اور قاتلوں ،ظالموں کو حق پر مبنی قرار دیا جارہا ہے اس وقت سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ غیر موثر ہوچکے ہیں اور امریکہ غیر مشروط جنگ بندی کی ہر قرار داد کو ویٹو کرتا آرہا ہے اور تمام عالمی ادارے مفلوج اور بے بس ہوچکے ہیں ،انہوں نے کہاکہ مسلم حکمران اور پوری امت اس کیلئے جواب دہ ہوگی اور اللہ پاک کے ہاں اس حوالے سے کوئی عذر قابل قبول نہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے ذریعے اسرائیل کے قبضے کو ناجائز اور غاصبانہ قرار دے چکی ہے اور مسلمہ قوانین کی رو سے ا پنے وطن کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا فلسطینیوں کا شرعی ،قانونی اور اخلاقی حق ہے ۔

انہوں نے کہاکہ عالمی عدالت انصاف اسے فلسطینیو ں کی نسل کشی قرار دے چکی ہے اور جو ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں وہ عالمی معاہدوں کو توڑنے کے مجرم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم فلسطینیوں کی بحالی کیلئے فوری فنڈ قائم کرے اور متاثرین تک اس کی ترسیل کا انتظام کرے ۔ انہوں نے کہاکہ جن مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہیں وہ غیر مشروط جنگ بندی تک ان تعلقات کو منقطع کرکے اپنے سفیروں کو واپس اور اسرائیلی سفیروں کو برطرف کرے ۔ انہوں نے کہاکہ جو عالمی ادارے اپنے فرائض ادا نہیں کر رہے مسلم ممالک ان کی رکنیت سے عارضی طور پر دستبردار ہوجائیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے اور پاکستان اس حوالے سے پہل کرے انہوں نے کہاکہ جب تک مسلم حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہوتیں امت مسلمہ کا فرض ہے کہ قابل اعتماد دفاعی اداروں کے ذریعے فلسطین کی بڑھ چڑھ کر مالی مدد کرے اور احتجاجی جلوسوں کے ذریعے دنیا کو اپنے جذبات سے آگاہ کرے اور غزہ کے عوام کیلئے اشیائے خورد ونوش اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔

انہوں نے کہاکہ جو کاروباری ادارے اسرائیل کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں اس کے سامان کا بائیکاٹ کیا جائے اور جو ادارے اسرائیلی مصنوعات نہ ہٹائیں تو اس کا بھی بائیکاٹ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اگلے جمعہ کو ملک بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کئے جائیں اور سوشل میڈیا سمیت تمام پلیٹس فارم استعمال کرکے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کیلئے غیر سرکاری سطح پر کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ یہ اجلاس امریکی صدر کے اس بیان کی شدید مذمت کرتا ہے جس میں انہوں نے فلسطینیوں کو غزہ سے ہجرت کرنے کا کہاہے اور غزہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ہم ببانگ دہل کہتے ہیں کہ اسرائیل سمیت پورا خطہ فلسطینیوں کا آبائی وطن ہے جس پر ان کا قانونی اور فطری حق ہے اگر امریکہ چاہے تو اسرائیلیوں کو کہیں اور لے جاسکتا ہے ۔قبل ازیں قومی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں،غزہ اور فلسطین پر قیامت بیت رہی ہے جب کہ اہل اسلام کی قیادت مردہ پن کا شکار ہے ۔

عالم اسلام اپنی حکمت عملی کو واضح کرے ۔ اسرائیل کا انبیا کی زمین پر قبضہ ناجائز ہے ۔گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے نزدیک گوری چمڑی والوں کے سوا کسی کے انسانی حقوق نہیں۔مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ حماس کے مجاہدین ہوں یا قائدین، اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ہم نے تمام اسلامی حکومتوں سے کھل کر فتویٰ کے ذریعے کہا ہے کہ آپ پر جہاد فرض ہوچکا ہے ۔ زبانی جمع خرچ سے مسلمان حکمران اپنے فرض سے پہلو تہی نہیں کرسکتے ۔ مسلم ممالک کی فوجیں کس کام کی ہیں اگر وہ جہاد نہیں کرتیں؟۔اجتماع حکمرانوں کو پیغام دے رہا ہے کہ اپنی ذمہ داری ادا کریں ۔ کب تک ہم ایسی زندگی گزاریں گے ؟۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی حکومت پھٹی ہوئی قمیض کی طرح عجیب ہے ، پی ڈی ایم کی حکومت ہے اور اُس کا صدر (میں) اپوزیشن میں ہوں۔فضل الرحمن نے کہا کہ سوال ہوتا ہے کہ اگر ہم ڈٹ گئے اور فلسطینیوں کا ساتھ دیا تو پاکستان کی معیشت کیسے چلے گی۔انہوں نے کہا کہ ایسی معیشت پر میں لعنت بھیجتا ہوں جو یہودیوں کے رحم و کرم پر چلے ۔

بجائے اس کے وہ پی ڈی ایم کے صدر کی مانیں معلوم نہیں کس کی مان رہے ہیں۔اگر پاکستان جنگ نہیں کرتا تو قیام پاکستان کی نفی ہے ، مسلم لیگ قائد اعظم کے مؤقف کو جھٹلا رہی ہے ۔ساری زندگی ہم نے بھیک مانگی اور قرضے مانگ کر گزارا کیا۔انہوں نے کہا کہ تمہارا دماغ اور دل اندر سے غلامانہ ہے اور تم کل بھی غلامی کررہے تھے آج غلامی ہی کررہے ہو، سربراہ جے یو آئی نے 13 اپریل کو کراچی میں اسرائیل مردہ باد کے نام سے ملین مارچ کا اعلان کیا اور قوم ، مذہبی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ آج جمعے کے بعد اسرائیلی مظالم و فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ضلعی سطح پر مظاہرے کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے جلسے میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ، نہ ہی خود سکون سے بیٹھیں گے نہ ہی آپ کو بیٹھنے دیں گے ۔سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظلم کی ایک داستان ہے جس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔سابق گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے خطاب میں کہا کہ غزہ کے ظلم کے خلاف تمام سیاسی اور مذہبی قیادت خاموش ہے ۔ نوجوان علما مساجد میں اسرائیل کے ظلم پر بات کریں۔

فلسطین کے مسلمانوں نے اپنے خون سے تاریخ لکھ دی ہے ۔حماس رہنما ڈاکٹر زہیر ناجی نے کہا کہ فلسطین دراصل سرزمین بیت المقدس ہے ۔ فلسطین دراصل سرزمین انبیا ہے ۔ مظلوم غزہ کے عوام امت مسلمہ کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ مظلوم غزہ کے عوام حکومت پاکستان، علما پاکستان اور عوام پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں فلسطینی عوام کو عوام پاکستان کی بھرپور حمایت و مدد کی ضرورت ہے ۔ مولانا قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے حقوق کے علمبردار آج انسانیت کے قاتل بن چکے ہیں ، مگر پوری دنیا تماشائی بنی ہے ۔دکھ کی بات ہے کہ او آئی سی اور مسلم ممالک خاموش نظر آرہے ہیں ۔ جہاں اسرائیل ظالم و درندہ و دہشتگرد ہے ، وہیں مسلم ممالک کے حکمران بھی برابر کے شریک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے بعد لبنان، شام، یمن پر حملے اور سعودیہ، اردن و مصر کو دھمکیاں گریٹر اسرائیل کا خواب ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں