پاک چین ڈائیلاگ کا اعلامیہ افغانستان کے مستقبل کیلئے اہم
طالبان موثر کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو برسراقتدار آنے کا جواز ختم ہو جائیگا
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاک چین سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے عمل اور اعلامیہ میں ایک مرتبہ پھر سے افغانستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کے خاتمہ اور دوسرے ممالک کے خلاف عسکریت پسندی سے نمٹنے کیلئے مزید نمایاں اور قابل تصدیق اقدامات کے مطالبہ کو موجودہ علاقائی صورتحال میں بروقت اور حقیقت پسندانہ قرار دیا جاسکتا ہے ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور چین تمام تر تحفظات کے باوجود آج بھی افغان سرزمین کے دہشت گردی کیلئے استعمال کے خاتمہ کے ساتھ یہاں امن واستحکام کے خواہاں ہیں۔ زمینی حقائق یہی ہیں کہ افغان طالبان دوحہ معاہدہ اور علاقائی دباؤ کے باوجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات سے اس لئے گریزاں ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان گروہوں او رتنظیموں کے خلاف کارروائی خود ان کے اپنے کیمپ میں بغاوت کو جنم دے سکتی ہے ۔
آج اقوام متحدہ ،عالمی طاقتیں امریکا، چین ،روس مسلسل مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ افغان سرزمین کا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور چونکہ طالبان حکومت تسلیم شدہ حکومت نہیں اور پابندیوں اور معاشی بحران کا شکار ہے اس لئے وہ دباؤ تسلیم کرنے سے گریزاں نظر آ رہے ہی،ں خصوصاً افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بڑا مسئلہ ہے ۔
پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں ۔چین کی یہ کوشش اس لئے کارگر نہ ہوسکی کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن سے گریزاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے کسی آپریشن کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لئے وہ عملی طور پر تیار نہیں۔ حقائق یہی ہیں کہ ٹی ٹی پی کے نمائندے افغانستان میں موجود ہیں جو دہشت گردی کو منظم کرتے نظر آتے ہیں مگر افغان طالبان ان کی سرگرمیوں سے صرف نظر کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور پاک افغان تجارت کی بندش جیسا ناخوشگوار فیصلہ اسے کرنا پڑا ۔
پاکستان کو اپنی سکیورٹی پالیسی خود مختار بنانا ہوگی اور طالبان سے زیادہ توقعات قائم نہیں کرنا چاہئیں۔ پاکستان نے علاقائی محاذ پر افغانستان بارے اپنے اصولی موقف کو منوایا ہے ۔ تہران کانفرنس ہو یا چین کے سٹرٹیجک مذاکرات ، سب خرابی کی جڑ کو افغان سرزمین سے بھی جوڑتے نظر آتے ہیں اور افغان طالبان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ افغانستان کے حوالہ سے ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہے کہ افغانستان کو بھارت پراکسی کے طور پر استعمال کر رہاہے اور اپنے مذموم مفادات کیلئے ڈیجیٹل اور سفارتی محاذ گرم کر رکھا ہے ۔
پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان سے بڑھتے تعلقات خود خطے میں امن کیلئے شدید خطرہ ہیں ۔پاکستان اور چین پھر سے افغان طالبان کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن کیا افغان طالبان اس حوالہ سے سرگرم ہوں گے ؟، فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا اور محسوس ہو رہا ہے کہ افغان طالبان پر دباؤ کا یہ آخری مرحلہ ہے اور علاقائی فورسز سمجھتی ہیں کہ اگر افغان طالبان اپنی ذمہ داریوں کے تحت اپنا موثر کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو پھر افغان طالبان کا افغانستان میں برسراقتدار آنے کا جواز ختم ہو جائے گا اور دوحہ معاہدہ کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
لہٰذاپاک چین سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے اعلامیہ کو افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمہ کے ساتھ افغانستان کے مستقبل کے حوالہ سے اہم قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ جس بنیاد پر افغان طالبان کو قبول کیا گیا تھا اور ان سے اچھی توقعات باندھی گئی تھیں طالبان اس پر پورا نہیں اترے ، بلکہ ان کے برسراقتدار آنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ۔پاکستان اور ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے عمل میں کمی نہیں آئی اور نہ ہی افغان طالبان اس حوالہ سے ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ لہٰذا اگر افغان طالبان اپنی حکومت کا جواز کھو بیٹھے تو پھر ان کے برسراقتدار میں کسی کی دلچسپی نہیں ہوگی اور ایسے حالات میں صرف بھارت کی تائید افغان طالبان کو قائم نہیں رکھ پائے گی۔