3ارب ڈالر قرض رول اوور کیلئے وزیراعظم اماراتی صدر کوخط لکھیں گے: وزارت خزانہ کی ورکنگ مکمل
2ارب ڈالر رواں ماہ ، 1ارب ڈالر قرض جولائی میں میچور، تینوں اقساط اپنے ٹائم سے قبل رول اوور ہو جائینگی:ذرائع آئی ایم ایف کو قرض پروگرام دورانیے تک رول اوورکی یقین دہانی ،رواں سال 12ارب ڈالررول اوورکرائے جائینگے
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید بن النہیان کو خط لکھنے کیلئے وزارت خزانہ نے ورکنگ مکمل کر لی ۔ باوثوق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف یو اے ای کو 3ارب ڈالر قرض کو رول اوور کرنے کی درخواست کریں گے ، یو اے ای نے مجموعی طور پر 3ارب ڈالر مرکزی بینک میں ڈیپازٹ کرائے ہوئے ہیں جو کہ بیلنس آف پیمنٹ کیلئے استعمال کیے ہیں ۔ یو اے ای سے 1 ارب ڈالر کا قرض جنوری کے دوسرے ہفتے کے دوران میچور ہو رہا ہے اور 1 ارب ڈالر کی ایک اور قسط جنوری کے تیسرے ہفتے میں میچور ہو جائے گی جس کو رول اوور کرنے کیلئے درخواست کی جائے گی،1 ارب ڈالر کا جولائی میں میچورٹی ٹائم ہے ۔
یو اے ای حکام سے جو درخواست کی جائے گی اس میں 3 ارب ڈالر کی تینوں اقساط کو رول اوور کرنے کی درخواست ہو گی اور 3 ارب ڈالر ایک سال کیلئے رول اوور کرایا جائے گا ۔ 3 ارب ڈالر رول اوور کرانے کیلئے تمام ورکنگ مکمل ہو گئی ہے ، 1 ارب ڈالر کا میچورٹی ٹائم جنوری کے دوسرے ہفتے کے دوران مکمل ہو جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ یو اے ای کی جانب سے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس سٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے ہیں ، جو تین اقساط میں موصول ہوئے تھے ، تاہم ایک ارب ڈالر کا 17 جنوری اور ایک ارب ڈالر کا 23 جنوری کو ڈپازٹ ٹائم مکمل ہونے کے بعد رول اوور ہو جائیں گے جبکہ 1 ارب ڈالر کی تیسری قسط کو میچورٹی ٹائم قریب آنے پر رول اوور کرایا جائے گا۔ باوثوق ذرائع نے دنیا نیوز کے اس نمائندے کو بتایا کہ یو اے ای سے تین ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹس پر مختلف شرح سود ادا کرنا ہو گی جو تقریباً 6.5 فیصد سے زائد ہو سکتی ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف یو اے ای حکام کو خط لکھ کر درخواست کریں گے جس کے بعد یو اے ای کی جانب سے 2 ارب ڈالر کا ڈیپازٹ جو جنوری میں میچور ہو رہا ہے وہ جلد رول اوور ہونے کا امکان ہے ، اہم ڈویلپمنٹ کیلئے حکومت پاکستان یو اے ای حکام رابطے میں رہیں گے ، مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر سیف ڈپازٹس کو رول اوور کرانے کیلئے وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کی یو اے ای حکام سے بات چیت جاری ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر یو اے ای کو جو خط لکھا جائے گا اس میں یو اے ای کے تعاون کا شکریہ ادا کیا جائے گا اور ملکی موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا کیونکہ یو اے ای کی جانب سے مشکل معاشی صورتحال میں پاکستان کے مرکزی بینک اکاؤنٹ میں تین ارب ڈالر ڈپازٹ کرائے گئے تھے ، وزیراعظم کی جانب سے جو خط صدر یو اے ای شیخ محمد بن زاید بن النہیان کو لکھا جائے گا اس کو یو اے ای میں پاکستان کے سفیر یو اے ای حکام تک پہنچائیں گے ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم خط میں یو اے ای حکام کو 3 ارب ڈالر کو موجودہ ٹرم اینڈ کنڈیشنز پر رول اوور کرنے کی درخواست کریں گے ، آئی ایم ایف کو بھی قرض پروگرام کے دورانیے تک رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہوئی ہے ۔ گزشتہ ماہ کے دوران سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ نے بھی 3 ارب ڈالرز کے ڈیپازٹس کی مدت میں مزیدایک سال کی توسیع کی ہے ، سعودی عرب کے 3 ارب ڈالرز سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ رواں مالی سال مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر قرض رول اوور کرایا جائے گا جس میں سعودی عرب اور چین سے 9 ارب ڈالر سیف ڈیپازٹ کو رول اوور کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر ڈپازٹ اور چین سے 4 ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹ کو رول اوور کرایا جائے گا ، یو اے ای کے بھی 3 ارب ڈالر کو ملا کر 12 ارب ڈالر رول اوور ہو گا۔