بسنت کو سیاسی رنگ دینے پر کارروائی ہوگی:پنجاب حکومت

بسنت کو سیاسی رنگ دینے پر کارروائی ہوگی:پنجاب حکومت

پی ٹی آئی ارکان گھروں میں بسنت منائیں ،کوئی مداخلت نہیں ہوگی :مجتبیٰ شجاع پنجاب اسمبلی اجلاس میں سیکرٹری ہاؤسنگ کی عدم موجودگی پر ڈپٹی سپیکر برہم

لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب کے پارلیمانی وزیر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف نے بسنت کے تہوار کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی تو سخت کارروائی کی جائے گی تاہم اگر بسنت کو تہوار ہی رہنے دیا گیا تو کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا۔ پارلیمانی سیکرٹری سلطان باجوہ نے کہا کہ جون 2026 تک واسا کا دائرہ کار پورے پنجاب میں تحصیل سطح تک بڑھا دیا جائے گا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز تین   گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان اگر اپنے گھروں میں بسنت منانا چاہتے ہیں تو شوق سے منائیں، کسی ادارے کی جانب سے مداخلت نہیں ہوگی لیکن اگر امن و امان خراب کرنے یا بسنت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی تو کارروائی ناگزیر ہوگی،اس دوران اپوزیشن نے شور شرابا اور نعرے بازی شروع کر دی۔

میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ اگر اسمبلی کو جلسہ گاہ بنایا گیا تو ہمیں بھی اس سیاست کا بخوبی تجربہ ہے ، ہم نے آمرانہ ادوار بھی دیکھے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر والی پتنگوں پر پابندی لگا رکھی ہے حالانکہ تصاویر کی کوئی حیثیت نہیں، بانی پی ٹی آئی عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران محکمہ کے سیکرٹری کی عدم موجودگی پر ڈپٹی سپیکر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کو طلب کر لیا اور رولنگ دی کہ آئندہ سیکرٹری یا کم از کم سپیشل سیکرٹری کی ایوان میں موجودگی کے بغیر کارروائی شروع نہیں کی جائے گی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ دوپہرکے بعد شروع ہوگا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں