سپر ٹیکس کی یکمشت وصولی تباہ کن ثابت ہوگی،کراچی چیمبر

سپر ٹیکس کی یکمشت وصولی تباہ کن ثابت ہوگی،کراچی چیمبر

کراچی(این این آئی)کراچی چیمبر نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے حالیہ فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کی جارحانہ وصولی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ۔۔۔

 ایک ہی بار بھاری ٹیکس ادائیگی کا تقاضا کاروباری سرگرمیوں کو شدیدمتاثر کرے گا اور پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت کو مزید نقصان پہنچائے گا۔صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف نے عدالتی فیصلے اور حکومت کی محصولات کی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے زور دیا کہ سپر ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار اور وقت نہایت اہم ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان بھر بالخصوص کراچی میں صنعتیں پہلے ہی شدید مالی دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ سپر ٹیکس کی مد میں سینکڑوں ارب روپے کی اچانک ادائیگی کا مطالبہ ورکنگ کیپٹل کو ختم کر دے گا، کیش فلو کو متاثر کرے گا اور بہت سے کاروباروں کے لیے تنخواہوں، یوٹیلیٹی بلوں، خام مال کی درآمدات اور بینکوں کی ادائیگیوں جیسے روزمرہ واجبات کی تکمیل ناممکن بنا دے گا۔صدر کے سی سی آئی نے اس امر پر زور دیا کہ کاروبار کو ایک ہی قسط میں بھاری سپر ٹیکس جمع کرانے پر مجبور کرنا نہ عملی ہے اور نہ ہی پائیدار۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپر ٹیکس کی واجبات کو طویل عرصے سے زیر التوا انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے ، جنہوں نے برسوں سے برآمدکنندگان اور صنعتکاروں کو انتہائی ضروری لیکویڈٹی سے محروم کر رکھا ہے ۔متبادل کے طور پر انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک واضح، منظم اور کاروبار دوست اقساطی سہولت کا اعلان کرنا چاہیے جس کے تحت ٹیکس دہندگان مناسب مدت میں اپنی سپر ٹیکس کی ذمہ داریاں ادا کر سکیں، بغیر اس کے کہ ان کے کاروباری آپریشن مفلوج ہوں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں