ایران نے پراکسی ردعمل دیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا

ایران نے پراکسی ردعمل دیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا

ٹرمپ ایران پر جارحیت کے بعد نئی اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

ایران کیخلاف امریکی نفسیاتی جنگ عروج پر ہے مگر ایرانی قیادت کسی طور بھی امریکی جارحانہ عزائم کے سامنے پسپائی پر تیار نہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایک اور امریکی بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے ۔لہذا یہ جانچنا ضروری ہے کہ امریکی براہِ راست جارحیت کے امکانات کیا ہیں۔امریکی حملے کی صورت میں ایران براہِ راست جواب دینے کے بجائے پراکسیز کے ذریعے ردِعمل دے گا، جس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ  میں آ سکتا ہے ۔ چین اور روس بظاہر ایران کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آ رہے ، مگر انکی خاموشی معنی خیز ہے ۔مزید یہ کہ امریکہ کا ابتک کی جنگوں کا تجربہ بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا، جبکہ یورپ بھی ایک اور بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

لہذا امریکہ دباؤ تو بڑھا سکتا ہے ، نفسیاتی جنگ جاری رکھ سکتا ہے ، مگر اسکے عزائم پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے ۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ دباؤ، پابندیاں، محدود کارروائیاں اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلیں گے ، کیونکہ کھلی جنگ خود واشنگٹن کیلئے بھی منافع بخش نہیں ہوگی۔علاقائی صورتحال پر ممکنہ جارحیت کے اثرات کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بظاہر خاموشی ہے مگر اندرونی تشویش واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے ۔ انہیں بخوبی علم ہے کہ ایران کے ردِعمل کا پہلا نشانہ خلیجی اڈے اور توانائی کی تنصیبات ہو سکتی ہیں۔خطے میں صرف اسرائیل ایسا ملک ہے جو ایران کیخلاف فوری کارروائی کا حامی ہے ،تاہم اسرائیل اکیلا ایران کو کوئی بڑا سبق سکھانے کی پوزیشن میں نہیں۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ جنگ کے بجائے سفارتکاری اور توازن کا حامی ہے ۔

وہ نہیں چاہتا کہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہو۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کسی ایسی جنگ میں کسی بلاک کا ایندھن بننے پرتیار نہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ حملہ کب کرے گا، ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ مکمل جنگ کا آغاز نہیں کرے گا بلکہ دباؤ برقرار رکھتے ہوئے محدود فوجی کارروائی کر سکتا ہے ۔ مکمل حملہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ایران نیوکلیئر سطح پر کسی ریڈ لائن کو عبور کرے ۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک اور امریکی بیڑے کی پیش قدمی کا اعلان دباؤ سے زیادہ عملی تیاری کی علامت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ جنگ کا اعلان نہیں کیا جاتا بلکہ اسکی تیاری ہی اعلان بن جاتی ہے ۔ آبنائے ہرمز کو ایران اپنی اصل سٹرٹیجک قوت سمجھتا ہے تاہم اسکی مکمل بندش کا امکان کم ہے ۔

ایران ایسی حکمتِ عملی اختیار کرے گا جس سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔ ایران کی کوشش ہوگی کہ امریکی جانی نقصان محدود رہے تاکہ امریکہ مکمل جنگ کی طرف نہ بڑھے ۔جنگی صورتحال میں ابتدائی 72 گھنٹے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انہی سے یہ طے ہوتا ہے کہ جنگ پھیلے گی یا رکے گی۔دنیا وقتی طور پر امریکی اقدام کو ہضم کر لے گی مگر اسکی قیمت عالمی قوانین، ریاستی خودمختاری اور علاقائی عدم استحکام کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔عالمی میڈیا میں یہ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ جو آٹھ جنگوں کے خاتمے کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے ، ایران پر جارحیت کے بعد نئی اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں، عالمی سیاست میں اصل جنگ بیانیے کی ہوتی ہے ، بموں کی نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں