پاکستان ریلوے میں نجی سرمایہ کاری کی اجازت،ٹریک اور انفراسٹرکچر تک رسائی ہوگی
ریلوے ڈویژن کو ٹریک ایکسس اورڈویلپمنٹ معاہدے کرنے کا اختیار دے دیا گیا ،نگرانی کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنائی جائیگی اتھارٹی کو معاہدے منسوخ یا تبدیل کرنیکااختیار حاصل نہیں ہوگا،ترمیم فریقین کی رضامندی ، بورڈ کی منظوری سے مشروط
اسلام آباد (حریم جدون) حکومت نے پاکستان ریلوے کے نظام میں بڑی اصلاحات کرتے ہوئے ریلوے قوانین میں نیا آرٹیکل 4Aشامل کر دیا جس کے تحت پہلی بار نجی اور غیر ملکی اداروں کو فیس کے عوض پاکستان ریلوے نیٹ ورک تک رسائی اور ریلوے انفراسٹرکچر کی ترقی کی اجازت دے دی گئی ۔اس فیصلے سے مال بردار اور مسافر ٹرین سروسز میں مسابقت بڑھے گی، آمدن میں اضافہ ہوگا اور ریلوے کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے ۔ترمیم کے مطابق ٹریک ایکسس ایگریمنٹ کے تحت نجی یا دیگر ادارے پاکستان ریلوے ٹریک اور انفراسٹرکچر کو استعمال کر سکیں گے جبکہ ریل ڈویلپمنٹ ایگریمنٹ کے ذریعے ریلوے نیٹ ورک اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی ترقی ممکن ہوگی۔ یہ معاہدے ایک ہی دستاویز یا علیحدہ علیحدہ معاہدوں کے ذریعے کیے جا سکیں گے ۔قانونی ترمیم میں واضح کیا گیا ہے کہ ریلوے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام تک تمام نگرانی اور ریگولیٹری اختیارات ریلوے بورڈ کے پاس ہوں گے جبکہ ریلوے ریگولیٹری اتھارٹی کو پرانے یا نئے معاہدے منسوخ یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
ترمیم کے تحت پاکستان ریلوے ڈویژن کو ٹریک ایکسس اور ریل ڈویلپمنٹ کے معاہدے کرنے کا باقاعدہ اختیار دے دیا گیا ہے ۔ سرمایہ کاری بین الحکومتی معاہدوں کے تحت یا فارن انویسٹمنٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2022 کے مطابق اہل سرمایہ کاروں کے ذریعے کی جا سکے گی۔ قوانین کے مطابق نجی ادارے اپنی انجن اور بوگیوں کے ساتھ مال بردار اور مسافر ٹرینیں چلا سکیں گے جبکہ ٹریک ایکسس کا مقصد مسابقت کو فروغ دینا، آمدن میں اضافہ، حفاظتی معیار بہتر بنانا اور سٹرٹیجک سرمایہ کاری کو یقینی بنانا قرار دیا گیا ہے ۔ معاہدوں میں کسی بھی قسم کی ترمیم فریقین کی رضامندی اور ریلوے بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگی جبکہ فیس، چارجز اور ریونیو شیئرنگ بھی بورڈ کی منظوری سے معاہدوں کا حصہ بنائی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر پاکستان ریلوے ٹرین عملہ اور مینٹی ننس سہولیات بھی فراہم کر سکے گا۔مزید برآں ریلوے نیٹ ورک کے استعمال اور ٹائم ٹیبل کی منظوری ریلوے بورڈ دے گا جبکہ ٹرین آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی انسپکٹر ریلوے باقاعدہ معائنہ کرے گا۔