108سال پرانی جائیداد میں حصہ ،درخواست پر فیصلہ محفوظ

108سال پرانی جائیداد میں حصہ ،درخواست پر فیصلہ محفوظ

1909میں وساوا سنگھ کے 2 بیٹوں کے نام وراثتی انتقال ہوا :وکیل درخواستگزار 2026 میں ٹرائل کورٹ نے عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیدیا :ہائیکورٹ میں مو قف

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ میں 108سال پرانی وراثتی جائیداد میں حصہ دینے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ۔ عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے صادق مسیح کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران  سماعت درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ 1909میں وساوا سنگھ کے دونوں بیٹوں کے نام وراثتی انتقال ہوا ،1918 میں ریونیو ریکارڈ میں ایک بیٹے کو غیر شادی شدہ ڈکلیئر کیا گیا اور تمام پراپرٹی دوسرے بیٹے کے نام کردی ۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ آپ 1918 میں ہونے والی انٹری کو کیسے  درست ثابت کریں گے ۔ وکیل نے بتایا کہ فروری 1947 میں ساری پراپرٹی دوسرے بیٹے بڈھا سنگھ کے ورثا کے نام ٹرانسفر ہوئی ۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ666 ایکڑ زمین اور انہوں نے پہلے چیلنج کیوں نہیں کی۔

وکیل نے بیان دیا کہ 1947 کے بعد ہجرت کر کے آنے والوں کو سینٹرل گورنمنٹ نے یہ زمین الاٹ کردی تھی، 1965 کی جنگ کے دوران ان کے باقی خاندان نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ عدالت نے کہا کہ پہلے اولاد والا معاملہ دیکھ لیں ،مذہب والے کو بعد میں دیکھیں گے ۔ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار نے 2018 میں پراپراٹی اپنے نام منتقل کرنے کا دعویٰ دائر کیا ،سول کورٹ قصور نے 2025 میں درخواست گزار کے حق میں فیصلہ کیا ، فروری 2026 میں ٹرائل کورٹ نے سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،عدالت ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر وراثتی پراپرٹی میں حصہ دینے کا حکم دے ۔عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں