چھو ٹو گینگ کے 3 مجرموں کی سزائے موت برقرار ، یہ علاقے میں بادشاہ تھے: سپریم کورٹ

 چھو ٹو گینگ کے 3 مجرموں کی سزائے موت برقرار ، یہ علاقے میں بادشاہ تھے: سپریم کورٹ

ذاتی دشمنی کے کیسز کو چھوٹو گینگ کے جرائم سے نہیں ملایا جا سکتا:جسٹس اشتیاق،انکے باعث تھانے بندکرناپڑتے ،جسٹس پنہور صلح کون کریگا ؟ ملزموں نے تو خاندان ہی ختم کر دیا:جسٹس صلاح الدین،تہرے قتل میں عمرقیدکے مجرم کی اپیل فیصلہ محفوظ

 اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے راجن پور میں پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغواء کے مقدمے میں چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو ، اسحاق اور خالد کوسنائی گئی چھ چھ بار سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں مسترد کر دیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دئیے کہ ذاتی دشمنی کے مقدمات کو چھوٹو گینگ جیسے منظم جرائم سے نہیں ملایا جا سکتا،جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا یہ گینگ اپنے علاقے میں بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے باعث پولیس سٹیشنز تک بند کرنا پڑے ۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب رائے اختر حسین نے عدالت کو بتایا کہ 2016 میں راجن پور کے تھانہ اچھ کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف کارروائی کے دوران 24 پولیس اہلکاروں کو اغواء کیا گیا،ان کی بازیابی کے لیے پاک فوج کو طلب کرنا پڑا۔

ملزمان کے وکیل نے کہا پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے اور کسی اہلکار کو خراش تک نہیں آئی۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیئے کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کسی فیسٹیول میں گئے تھے ؟ عدالت نے وکیل کے دلائل کو مسترد کر دیا۔ مقدمے میں 6 پولیس اہلکاروں کے قتل، 7 کو زخمی کرنے اور 24 اہلکاروں کو 8 گھنٹے تک اغوا میں رکھنے کی دفعات شامل تھیں، ٹرائل کورٹ نے مجموعی طور پر 22 ملزمان کو سزائیں سنائیں جن میں سے 20 کو سزائے موت جبکہ 2 کم عمر ملزمان کو عمر قید دی گئی۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے شناخت پریڈ میں نقائص کی بنیاد پر 8 ملزمان کو بری کیا اور دیگر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حتمی فیصلے میں غلام رسول عرف چھوٹو سمیت تین مجرمان کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں، جبکہ دیگر مجرمان کی عمر قید کی سزائیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے دو خواتین سمیت تین افراد کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس میں ایک کو سزائے موت دی جا چکی ہے جبکہ تین ملزمان عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں،مدعی کے ساتھ صلح نامہ بھی طے پا چکا ہے ،جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دئیے کہ صلح کون کرے گا ؟ ملزمان نے تو پورا خاندان ہی ختم کر دیا ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر صلح نامہ کرنا تھا تو ٹرائل کورٹ میں دائر کیا جاتا، اسے سپریم کورٹ پر کیوں ڈالا جا رہا ہے ؟۔ وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ مدعی عدالت میں پیش نہیں ہو سکی، سپریم کورٹ صلح نامہ کی ہدایت جاری کرے ۔ اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صلح کرنا فریقین کا کام ہے ، عدالت کیوں اس میں مداخلت کرے ۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دئیے کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود نہ بیان حلفی جمع کروایا گیا نہ مدعی پیش ہوئی اور نہ ہی بائیو میٹرک تصدیق موجود ہے ، ایسے میں صلح نامہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کس قانون کے تحت صلح نامہ منظور کیا جائے جبکہ ایک ملزم کو سزائے موت دی جا چکی ہے ۔ عدالت نے ملزم رمضان کی عمر قید کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں چار پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں ایم کیو ایم کے رکن آصف کٹو کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر سزائے موت برقرار نہیں رکھی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ کمزور شواہد کے پیش نظر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ فاضل بینچ نے باپ کے قتل میں عمر قید کی سزا کے خلاف ملزم صفدر کی اپیل صلح نامہ کی بنیاد پر منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ہم باپ کے قاتل کو سزا دینا چاہتے تھے مگر قانون کو دیکھنا ہو گا بعد ازاں عدالت نے قرار دیا کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے صلح نامہ کو تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ 2013 میں جلال پور کے رہائشی صفدر نے زمین کے تنازع پر اپنے والد کو قتل کیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں