ایران تنازع سے پاکستان پر سنگین معاشی اثرات کا خدشہ:ماہرین

 ایران تنازع سے پاکستان پر سنگین معاشی اثرات کا خدشہ:ماہرین

حکومت فوری طور پر توانائی، مالیاتی اور تزویراتی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرے

 اسلام آباد(نامہ نگار) ایران تنازع کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی، خوراک اور مالیاتی بحران کے پاکستان پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر توانائی، مالیاتی اور تزویراتی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرے ، قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی یقینی بنائے اور مہنگائی سے متاثرہ طبقات کے لیے سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرے ۔ گول میز مذاکرے میں مقررین نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی رسد کو لاحق خطرات، بڑھتی مہنگائی اور محدود مالی گنجائش کے باعث پاکستان کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل پر انحصار کم کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں جبکہ خلیجی خطے کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت بھی غیر یقینی ہو رہی ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی روابط اور چین کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کی حمایت بھی کی۔ڈاکٹر احسان نے کہا کہ پاکستان کو داخلی سطح پر بھی معاشی اور حکمرانی کے نظام میں بہتری لانا ہوگی۔ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے خبردار کیا کہ یہ بحران توانائی، خوراک اور مالیاتی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے اور پاکستان میں مہنگائی 11 سے 13 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس ڈھانچے پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں