پاکستان کیلئے سعودی عرب کی سکیورٹی حڑمین شریفین کے تقدس کیساتھ لازم وملزوم : سکیورٹی ذرائع

 پاکستان کیلئے سعودی عرب کی سکیورٹی حڑمین شریفین کے تقدس کیساتھ لازم وملزوم : سکیورٹی ذرائع

عوام اور مسلح افواج کومقدس مقامات کے محافظ کے طور پراپنے تاریخی کردار پر فخر ،یہ عزم جغرافیائی و سیاسی معاہدوں سے بالاتر برطانوی خبر رساں ایجنسی کی سٹوری جانبدارانہ ،برادر ممالک کے تعلقات،سٹریٹجک شراکت داری کی حقیقی روح کو مسخ کرتی ہے

اسلام آباد(دنیا رپورٹ)سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی کے حوالے سے برطانوی خبر رساں ایجنسی کی حالیہ سٹوری جانبدارانہ ہے اور دو برادر ممالک کے مابین تاریخی تعلقات اورسٹریٹجک شراکت داری کی حقیقی روح کو مسخ کرتی ہے ،سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں اور لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کے بارے میں حالیہ رپورٹنگ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب (KSA) کے مابین دیرینہ، شفاف اور ادارہ جاتی دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ سکیورٹی ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی قیاس آرائیوں پر مبنی منظرکشی، جو ان معمول کے اور معاہدے کے پابند روابط کو مخصوص، بدلتے ہوئے علاقائی تنازعات سے جوڑتی ہے ، پاکستان اورسعودی عرب کی سٹریٹجک شراکت داری کے بنیادی اصولوں کو غلط رنگ دیتی ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوستی کوئی ردِعمل کے طور پر قائم ہونے والا اتحاد نہیں ہے جو عارضی جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی)تبدیلیوں کے تابع ہو۔اس کے برعکس یہ ایک وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے والا، گہرا برادرانہ رشتہ ہے جو مشترکہ مذہبی، ثقافتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی ہم آہنگی سے جڑا ہوا ہے۔

دہائیوں پر محیط باہمی اعتماد اس رشتے کی بنیاد ہے ، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ علاقائی منظرنامے کی تبدیلیوں سے قطع نظر دوطرفہ تعاون مستقل مزاجی سے جاری رہے ۔ سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی سکیورٹی حرمین شریفین کے تقدس کے ساتھ لازم و ملزوم ہے ۔ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ان مقدس مقامات کے محافظ کے طور پر اپنے تاریخی کردار پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ عزم عام جغرافیائی و سیاسی معاہدوں سے بالاتر ہے ، یہ پوری پاکستانی قوم کے لیے گہرے ایمان اور فخر کا معاملہ ہے ۔ پاکستان سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA)کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور دفاع کے حوالے سے اپنی ادارہ جاتی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے ۔ کوئی بھی دوطرفہ تعیناتی، تربیتی مشقیں یا دفاعی تعاون کے اقدامات سختی سے ان پہلے سے موجود دفاعی فریم ورک کے دائرہ کار میں کیے جاتے ہیں۔یہ اقدامات دفاعی اور استحکام لانے والی نوعیت کے ہیں نہ کہ جارحانہ یا اشتعال انگیز۔پاکستان کا باضابطہ موقف اعلیٰ ترین سطحوں پر بارہا اور واضح طور پر پہنچایا جا چکا ہے۔

جیسا کہ 7 مئی کو اپنی پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر باور کرایا تھا کہ سعودی عرب کی سکیورٹی پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ ریاستِ پاکستان نے کھلے طور پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حرمین شریفین کی سکیورٹی براہِ راست سعودی عرب کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے اور پاکستان مملکت کی علاقائی خودمختاری کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف اس کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے تاریخی عہد کو پورا کرے گا۔ پاکستان کی سکیورٹی اور استحکام مملکتِ سعودی عرب کے لیے بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے جو دونوں ممالک کے مابین گہری باہمی اور تزویراتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے ۔ سعودی عرب نے پاکستان کے مشکل وقت میں ہمیشہ اہم مالیاتی مدد، توانائی کی سکیورٹی میں معاونت اور اقتصادی سرمایہ کاری فراہم کر کے اس عزم کا مستقل مظاہرہ کیا ہے ۔ دونوں ممالک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا سکیورٹی ڈھانچہ ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑا ہوا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے استحکام کو لاحق کوئی بھی خطرہ خطے میں سعودی عرب کے سٹریٹجک اور معاشی مفادات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں