سکیورٹی خدشات : پنکی کی سینٹرل جیل میں سماعت ، ریمانڈ میں 4 روز کی توسیع

 سکیورٹی خدشات : پنکی کی سینٹرل جیل میں سماعت ، ریمانڈ میں 4 روز  کی توسیع

ملزمہ کا پھر شور شرابہ ، دھمکیاں،عدالت کا مدعی مقدمہ کا بیان ریکارڈ کرانیکی درخواست منظور،طبی معائنہ کی ہدایت مجھ پر تشدد کیا جارہا،100 دن کا ریمانڈ لینا ہے تولے لیں، منیب بٹ اور راجہ پرویز کا نام لینے کا کہا جارہا،پنکی کی گفتگو سیشن عدالت جنوبی نے درخشاں، گزری میں درج مقدمات میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے احکامات کالعدم قرار دیدئیے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو سکیورٹی خدشات، پولیس نے سیشن عدالت سے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں قائم جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم نامہ حاصل کرکے ملزمہ کو سخت سکیورٹی میں جیل کمپلیکس میں پیش کیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے قتل کے مقدمے میں پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4روز کی توسیع کردی۔ بغدادی تھانے کے تفتیشی افسر نے سیشن عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ملزمہ کو ریمانڈ کے لیے سٹی کورٹ میں پیش کرنے کے دوران امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے ، لہٰذا سینٹرل جیل میں قائم جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی اجازت دی جائے ۔ درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ ملزمہ کو براہ راست سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں قائم عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ سکیورٹی انتظامات بہتر انداز میں یقینی بنائے جا سکیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بچا جا سکے۔ سیشن عدالت نے حکم نامے میں قرار دیا کہ سٹی کورٹ میں روزانہ سیکڑوں مقدمات کی سماعت ہوتی ہے ، جہاں وکلا، کورٹ اسٹاف اور سائلین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

ایسی صورتحال میں ملزمہ کی پیشی سے سکیورٹی رسک بڑھ سکتا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا خدشہ موجود ہے ،موجودہ حالات میں سکیورٹی اور امن و امان کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ درخواست کے مندرجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کو ریمانڈ کے لیے سٹی کورٹ کے بجائے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا جائے ، جہاں متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کریں۔ بعد ازاں ملزمہ پنکی کو سخت سکیورٹی اور خاتون پولیس اہلکاروں کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا۔ پیشی کے موقع پر ملزمہ نے بات کرنے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے شور کرکے ملزمہ کی آواز دبانے کی کوشش کی۔ جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے دوران سادہ لباس اہلکاروں اور صحافیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ بعض اہلکاروں نے صحافیوں کو دھکے بھی دیے ، سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے کمرہ عدالت میں شور شرابہ بھی کیا گیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی پر انمول عرف پنکی نے میڈیا کو دیکھ کر شور شرابہ کیا، تاہم پولیس نے میڈیا نمائندوں کو دھکیل کر قریب آنے سے روک دیا اور جیسے ہی ملزمہ نے بولنا شروع کیا پولیس کی جانب سے شور مچایا گیا۔جوڈیشل کمپلیکس آمد پر ملزمہ نے تفتیشی افسر کو کمرہ عدالت میں دھمکیاں بھی دیں۔

پنکی نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایس آئی او نے تھپڑ مارا ہے ، مجھے آئی او نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ منیب بٹ اور راجہ پرویز کا نام لینا ہے ،مجھ سے کہا جا رہا ہے ان کا نام لو، مجھے 20دن سے اٹھایا ہوا ہے ۔سماعت سے قبل ملزمہ پنکی نے اپنے وکیل سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دوران حراست اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایک نہیں بلکہ کئی تفتیشی افسران نے اس پر تشدد کیا، تفتیشی افسران نے اسے ہدایت دی کہ ویڈیوز کا ذکر نہ کرے ورنہ مزید ریمانڈ لیا جائے گا، ملزمہ کے بقول اگر سو دن کا ریمانڈ لینا ہے تو لے لیں۔ اس دوران خاتون تفتیشی افسر نے ملزمہ کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا وہ صرف اپنے وکیل سے بات کرے ، جبکہ یہ بھی کہا کہ ملزمہ پولیس ریمانڈ میں ہے اور باہر نکل کر جس سے چاہے بات کر سکتی ہے ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے صورتحال کے پیش نظر صحافیوں اور غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس مقدمے سے متعلق وکلا کو ہی عدالت میں رہنے کی اجازت ہوگی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت بند کمرے میں شروع ہوئی۔ عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ اگر اس پر تشدد ہوا ہے تو کیا اس سے قبل کسی عدالت میں شکایت کی گئی تھی۔ عدالت نے وکیل صفائی سے بھی پوچھا کہ کیا ملزمہ کے طبی معائنے کی درخواست دائر کی گئی ہے ۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر شکیل عباسی نے موقف اختیار کیا کہ مقتول سے برآمد اشیا کیمیکل ایگزامنر کو بھیجی جانی ہیں جبکہ ملزمہ کے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگانا بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا ملزمہ اپنے کارندوں کے نام ظاہر نہیں کر رہی اور وہ پہلے ہی منشیات کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے ، اس لیے مزید 9روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ پراسیکیوٹر نے مزید کہا مقتول کا موبائل فون فارنزک تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے جس میں ملزمہ کا رابطہ نمبر موجود تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا ملزمہ فوڈ اور دیگر ڈلیوری سروسز کے رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی سپلائی میں ملوث رہی ہے اور ان رائیڈرز کو بطور گواہ شامل کرنا ضروری ہے ۔ وکیل صفائی لیاقت گبول نے عدالت کو بتایا ملزمہ کو 25 روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ سرکاری وکیل نے کہا اگر لاہور سے گرفتاری ظاہر کی گئی ہے تو اس سے متعلق درخواستیں بھی عدالت میں پیش کی جائیں۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ خاتون ہے اس لیے جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔ سرکاری وکیل نے جواب دیا قتل، دہشت گردی کی مالی معاونت اور نارکوٹکس مقدمات میں جسمانی ریمانڈ قانونی طور پر دیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ ملزمہ کا نام مقدمے میں موجود ہے ، اس لیے ابتدائی طور پر الزامات قابل غور ہیں۔ عدالت نے ملزمہ کو مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیا کہ دوران تفتیش صرف خواتین پولیس اہلکار موجود ہوں گی۔ عدالت نے خاتون میڈیکولیگل افسر کے ذریعے ملزمہ کا طبی معائنہ کرانے اور رپورٹ 22 مئی کو پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے مدعی مقدمہ کا دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست بھی منظور کرلی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ملزمہ کو اس موقع پر پیشی سے استثنیٰ دیا جاتا ہے جبکہ مدعی کا بیان ملزمہ کے وکلا کی موجودگی میں 21 مئی کو جیل جوڈیشل کمپلیکس میں ریکارڈ کیا جائے گا۔

کراچی (عبدالحسیب خان) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے انمول عرف پنکی کے خلاف تھانہ درخشاں اور گزری میں درج منشیات کے مقدمات میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے جوڈیشل ریمانڈ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسران کی نظرثانی درخواستیں منظور کرلیں۔ عدالت نے تھانہ درخشاں کے 5اور تھانہ گزری کے 4مقدمات سمیت مجموعی طور پر 9 مقدمات میں دائر فوجداری نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اسپیشل ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مختلف مقدمات میں متضاد آرڈر جاری کرکے غیر قانونی اقدام کیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے تھانہ بغدادی کے قتل مقدمے میں ملزمہ کو پولیس ریمانڈ پر دیا جبکہ دیگر مقدمات میں جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج دیا، جو قانون کے مطابق درست اقدام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہی وقت میں ملزمہ کو ایک مقدمے میں پولیس تحویل اور دیگر مقدمات میں جیل بھیجنے کا حکم کنفیوزنگ ہے۔

فیصلے کے مطابق ملزمہ کو تھانہ بغدادی کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا جبکہ تھانہ درخشاں اور گزری کے منشیات مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ دے دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ نے اختیارات کا درست استعمال نہیں کیا، اس لیے جوڈیشل ریمانڈ کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ سیشن عدالت نے حکم دیا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کا جوڈیشل ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم تصور کیا جائے اور ملزمہ کو 17 مئی تک پولیس ریمانڈ پر تصور کیا جائے ۔ عدالت نے تفتیشی افسران کو ہدایت کی کہ ملزمہ کو متعلقہ مجسٹریٹ کے روبرو مزید ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے ۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ مجسٹریٹ تفتیشی افسران کی نئی درخواستوں پر قانون کے مطابق مناسب حکم جاری کریں۔ عدالت نے حکم نامے کی نقول متعلقہ مجسٹریٹس، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ زون اور تفتیشی افسران کو ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام نظرثانی درخواستیں نمٹا دیں۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں