شرعی عدالت :خودکشی کی کوشش کو جرم قراردینے کاقانون بحال

شرعی عدالت :خودکشی کی کوشش کو جرم قراردینے کاقانون بحال

خودکشی کی کوشش جرم نہیں تو اس میں مدددینے والا ملزم کیسے ہوسکتاہے ؟ بطور جرم قانون سے حذف کرنا اسلام کے منافی،2022ء کاایکٹ کالعدم قرار

اسلام آباد(رضوان قاضی)وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی قانون سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو جرم اورحکومتی قانون سازی کو وفاقی شرعی عدالت  نے غیر اسلامی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا، وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان ، جسٹس سیدڈاکٹر محمد انور اورجسٹس امیر خان نے دو الگ الگ درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا،ایڈووکیٹ حماد حسن ڈار اور ایڈووکیٹ اعظم ملک نے کیسز کی پیروی کی، عدالت نے 2022 ئکے ایکٹ کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔2022 ئکی قانون سازی میں خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے کی شق ڈیلیٹ کر دی گئی تھی،قانون سازی میں ضابطہ فوجداری کا جو سیکشن ایکٹ سے ڈیلیٹ ہوا تھا شریعت کورٹ نے بحال کر دیا۔بعد ازاں عدالت نے 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا، جس میں قرآن و حدیث کے حوالے بھی شامل کیے گئے ہیں اور کہاگیا ہے کہ بلاشک و شبہ خودکشی اسلام میں گناہ کبیرہ ہے ،خودکشی کو زندگی کے خلاف ایک عمل کو فروغ دینا بھی کہہ سکتے ہیں۔

اسلام زندگی کی حفاظت کرنے والا مذہب بھی ہے ،پی پی سی کی شق 325 کو قانون سے حذف کرنے کے قانونی اثرات بھی موجود ہیں،خود کشی کی کوشش کو جرم قرار نہ دینے سے اس ملزم کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی جس نے خودکشی میں کسی کی مدد کی،کیونکہ اگر خود کشی کی کوشش کرنے والے کو قانون میں رعایت دے دی جائے تو جس نے مدد کی اس کے خلاف کارروائی کیسے آگے بڑھے گی ؟،خودکشی کی کوشش کو بطور جرم قانون سے حذف کرنا اسلام اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ،کرمنل لاء ترمیمی ایکٹ 2022 ئقرآن و سنت کے خلاف ہے ،کرمنل لا ایکٹ کے ذریعے پی پی سی کی شق 325 کو قانون سے حذف کردیا گیا تھا،کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 ئکالعدم قرار دیا جاتا ہے ،خود کشی کو جرم قرار دینے کی پی پی سی کی شق 325 کو بحال کیا جاتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں