سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاک بھارت کشیدگی بڑھاسکتی:ماہرین

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاک بھارت کشیدگی بڑھاسکتی:ماہرین

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر،نامہ نگار)سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے نے خطے میں پانی، امن اور مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔۔۔

 آبی ماہرین، قانونی ماہرین اور حکومتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ چھ دہائیوں پرانے اس معاہدے سے یک طرفہ طور پر پیچھے ہٹنے کی روش نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھا سکتی ہے بلکہ دنیا میں پانی کی تقسیم کے دیگر معاہدوں کے لئے بھی ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے ۔یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار بحران میں گھرا معاہدہ:سندھ طاس معاہدہ، آبی سفارت کاری اور علاقائی امن میں مقررین نے کہی۔وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے اپنے کلیدی خطاب میں دریائے سندھ کو پاکستان کی زندگی کی دھڑکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریا گھروں کو پانی دیتا، کھیتوں کو سیراب کرتا اور ملک کے بچوں کے مستقبل سے جڑی امیدوں کو زندہ رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان بھارت کے پانی کے جائز اور پرامن استعمال کے خلاف نہیں، تاہم پانی سے متعلق تمام اقدامات بین الاقوامی معاہدوں اور قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے ، مستقل سندھ طاس کمیشن کے اجلاس دوبارہ شروع کرے اور پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ بحال کرے کیونکہ یہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...