حج کی فضیلت خانہ کعبہ پہنچ کر حجاج فنا فی اللہ ہوجاتے ہیں

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


کعبۃاللہ میں اللہ تعالٰی نے ایسی رعنائی ودل کشی رکھی ہے کہ وہ منظر آنکھوں اور دل میں سما جاتا ہے’’عبدیت‘‘ انسانیت کا نہایت افضل و اعلٰی مقام ہے یہ اللہ تعالٰی کے منتخب اور مخصوص بندوں کا وصفِ خاص ہے

حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ’’ہم رحمتِ عالمﷺ کے ساتھ (سفرِ حج میں) اس طرح روانہ ہوئے کہ ہم حج کیلئے (دیوانہ وار) پڑھتے تھے (یعنی حج کیلئے بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے تھے)۔ (مسلم، مشکوٰۃ)

حج‘ اللہ سے محبت کی تکمیل اور عبدیت کی تصویر ہے 

’’عبدیت‘‘ انسانیت کا نہایت افضل و اعلیٰ مقام ہے، جو اللہ تعالیٰ کے منتخب اور مخصوص بندوں کا وصفِ خاص ہے، اسی وجہ سے شبِ معراج میں رب العالمین نے رحمۃ للعالمین ﷺ کو اسی وصف سے یاد فرمایا (أَسْریٰ بِعَبْدِہ) کلمہ ٔ شہادت میں بھی رسالت سے قبل عبدیت کا ذکر ہے، جس سے مقامِ عبدیت کی عظمت واضح ہوتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ عبدیت کی حقیقت کیا ہے؟ مختصر لفظوں میں اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ عبدیت تسلیم و رضا یعنی حکمِ خدا اور مرضی مولیٰ کے سامنے فنائیت اختیار کرنے کا نام ہے۔ ایک بندے کا سب سے بڑا وصف اور وظیفہ عبدیت ہی ہے، جس میں عبدیت نہیں وہ عبد کامل نہیں، اس کا رب اس سے راضی نہیں، اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں، عبادتوں، ریاضتوں اور مجاہدوں کا مطلوب و مقصود یہی ہے کہ بندوں میں عبدیت اور فنائیت کا جذبہ پیدا ہو جائے، اللہ تعالیٰ کے آگے سراپا تسلیم و رضا بن جائیں، اور جب جو حکم ہو اسے بے چوں و چرا مان لیں۔ تمام اسلامی احکام، اعمال اور عبادات میں یہ شان موجود ہے کہ ان کی صحیح ادائیگی سے ایک بندے میں عبدیت پیدا ہوجاتی ہے، بالخصوص حج، جو اسلام کے پانچ ارکان میں آخری اور تکمیلی رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فنائیت کی تصویر ہے، اگر حج و حاجی کے حالات، ارکان، اعمال، افعال اور عبادات میں غور کیا جائے، بلکہ ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی تکمیل اور عبدیت کی وہ تصویر نظر آتی ہے کہ اس کیلئے کسی تفصیل و تشریح کی بھی حاجت وضرورت نہیں ۔

حج کا سفر عبدیت اور اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت ہے 

چنانچہ دیکھئے! جو شخص حجِ بیت اللہ کا ارادہ اور عزم کرکے گھر سے نکلتا ہے توسفرِ حج کی ابتداء ہی میں وہ گھر بار، کارو بار اور جمیع احباب و رشتہ داروں کو خیر باد کہتا ہے، اور رب کے لیے سب کو چھوڑتا ہے، تو عازمِ سفر حج کے سر میں جو سودا سمایا ہے وہ  اللہ تعالیٰ کی رضا ہی تو ہے، جس کے حصول کے لیے وہ سفر کی مشقت بخوشی برداشت کرتا ہے، اور سفر بھی وہ جس میں جسم و جان، دل و ایمان اور بحر و بر (خشکی و تری) کے اندیشے موجود ہیں، جن کی وجہ سے بعض اوقات بڑے بڑے حلیم و بردبار بھی صبر و ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں، اسی لیے تو سفر کو سقر کہا گیا، کہ سفر بھی ایک اعتبارسے امتحان کا ایک حصہ ہے، پھر سفرِ حج کا حال یہ ہے کہ اگر کامیابی کے ساتھ ادا ہو گیا، یعنی حج قبول ہو گیا تو اس سے بڑی کامیابی اور سعادت نہیں’’رَجَعَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہ أُمُّہ‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ) 

حدیث میں ہے کہ کامیابی کے ساتھ اس سفر سے لوٹنے والا اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے کہ دھویا دھلایا اور گویا ماں کے پیٹ سے آج ہی دنیا میں آیا۔ حج کا سفر سعادت، عبدیت اور اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت ہے اور جس میں عبدیت اور اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں وہ حج سے محروم رہ جاتا ہے، اسے حدیث میں وارد وعید شدید سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں حج سے محرومی آخری وقت میں ایمان سے محرومی کا ذریعہ نہ بن جائے۔ (اللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْہُ، آمین) اس سفر سے قصداً محروم رہنے والے بدنصیب ہیں، اور آگے بڑھنے والے خوش نصیب ہیں۔

حج کی میقات پر عبدیت کا منظر 

پھر سعادت مند لوگ حج میں منزلِ مقصود سے پہلے اس مرحلہ پر پہنچتے ہیں جہاں سے احرام کے بغیر گذرنا جائز نہیں، یہاں پہنچ کر عبدیت کا منظر نظر آتا ہے کہ حج کا یہ مسافر اپنی ساری ظاہری زینت چھوڑ دیتا ہے، خوشبو استعمال نہیں کرتا، وہ مانوس اور سلا ہوا کپڑا نہیں پہنتا، نہ سر پر ٹوپی اور پگڑی، نہ جسم پر کوٹی و شیروانی، شاہ و گدا، رئیس و رعایا، حکام و عوام، نامی و عامی، امیر و فقیر دیکھتے ہی دیکھتے سب کے ہی پوشاک و لباس اور سارے امتیازات مٹ جاتے ہیں، کیوںکہ حج کی اس میقات سے اب سب سے بڑے مہاراجہ اور شہنشاہِ مطلق کی راجدھانی کی حدود شروع ہو گئی ہیں، اب کوئی راجہ ہے نہ رعایا، بلکہ سب کے سب اسی کی رعایا ہیں اور سارے کے سارے اس مالک الملک، احکم الحاکمین کے غلام ہیں، یہ ان کی غلامی کا منظر ہے:

ایک ہی لباس میں ہو گئے اب سب کے سب 

اور حاضر ہو رہے ہیں اس طرح در بارِ رب 

بندہ و صاحب، محتاج و غنی ایک ہوئے 

تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے 

سب کے بدن پر ایک ہی قسم کا کپڑا اور زبان پر ایک ہی پکار   

’’لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ)

زبانوں پر یہ صدائیں ہیں، تومردوں کے  جسم پر دو سادہ چادریں ہیں، (مردوں کے لیے ) گویا دربارِ الٰہی کی حاضری کا یہی لباس ہے، جو کفن، قبر اور حشر کی یاد دلاتا ہے، اس حالت میں اس لیے بلایا گیا ہے کہ یہاں طلب ہے تو کفن پوشوں کی یا ان کی جو انہیں کی وضع قطع اختیار کر چکے ہیں، ان کی جو جیتے جی مُردوں کا لباس پہن چکے ہیں، آج اس میقاتِ حج سے حجاج کا صرف لباس ہی مردوں کا لباس نہیں بنا، بلکہ کہنا چاہیے کہ نفس بھی مُردہ بن چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ حج کا منظر جو قرآن نے پیش کیا وہ یہ ہے کہ: فلَاَ رَفَثَ وَلَا فُسُوْقََ وَلاَ جِدَالَ فِیْ الْحَجَّ (البقرۃ) یعنی حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے، نہ کوئی گناہ، نہ کوئی جھگڑا۔ خواہشاتِ نفسانیہ میں مبتلا ہونا زندوں کا کام ہے، مُردوں کو بھی کبھی کسی نے ایسا کرتے دیکھا ہے؟ احرام کا یہ لباس اور اس کی ساری پابندیاں بندوں کی بندگی، بے حیثیتی اور عیش دنیوی سے بے رغبتی کا حقیقی منظر ہے۔

کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر 

اس کے بعد سفرِ سعادت کی اگلی بنیادی منزل اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا گھر ہے، یہاں پہنچ کر حجاجِ بیت اللہ فنا فی اللہ ہو جاتے ہیں، انہیں عبدیت کے سوا کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا، اور کعبۃ اللہ پر نظر پڑتے ہی کچھ یاد نہیں رہتا، بالکل وہی منظر جو کسی نے یوں بیان کیا:

کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر

کیا چیز ہے دنیا؟ بھول گیا

یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے 

دل ذوقِ تماشا بھول گیا

پھر روح کو اذنِ رقص ملا

خوابیدہ جنوں بیدار ہوا 

جلوؤں کا تقاضا یاد رہا

نظروں کا تقاضا بھول گیا 

احساس کے پردے لہرائے 

ایمان کی حرارت تیز ہوئی 

سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ

سر اپنا سجدہ بھول گیا 

جس وقت دعا کو ہاتھ اٹھے 

یاد آنہ سکا جو سوچا تھا 

اظہارِ عقیدت کی دُھن میں

اظہارِ تمنا بھول گیا 

پہنچا جو حرم کی چوکھٹ تک

اک ابر کرم نے گھیر لیا 

باقی نہ رہا یہ ہوش مجھے 

کیا مانگ لیا؟ کیا بھول گیا؟

ہر وقت برستی ہے رحمت

کعبہ میں جمیل اللہ اللہ 

خاطی ہوں میں کتنا؟ بھول گیا

عاصی ہوں میں کتنا ؟ بھول گیا 

 کعبۃ اللہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی رعنائی و دل کشی رکھی ہے کہ وہ منظر آنکھوں اور دل میں سما جاتا ہے، وہاں کے حقیقی انوار کا ادراک تو اہلِ قلب و نظر کرتے ہیں، لیکن وہاں کے جلال و جمال کا منظر تو ہم جیسے کم ظرفوں کو بھی نظر آجاتا ہے، روایتوں میں آتا ہے کہ کعبۃ اللہ پر نظر کرنا عبادت ہے، اس عاجز کا خیال ہے کہ اجر وعبادت سے قطع نظر کرکے ذوق و شوق، ولولہ اور والہانہ جذبہ سے کون سا دل خالی ہو گا؟ بس نظر پڑتے ہی دل بے تاب ہو جاتا ہے! جی چاہتا ہے کہ دیکھتے ہی رہیں، اس کے دیکھنے سے ایک طرف آنکھوں کا نور، دل کا سرور بڑھتا ہے، اور دل کی بے چینی کافوراورجسم کی تکان دور ہو جا تی ہے ۔

مطاف کا منظر 

اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے مولیٰ کی طرف منسوب مقدس چیزوں سے بھی محبت بلکہ و الہانہ کا تعلق رکھے، اسی بنیاد پر حجاج بیت اللہ بھی خانۂ کعبہ اور اس کے مقدس مقامات سے عقیدت و عظمت کا معاملہ کرتے ہیں، خانۂ خدا کا دیوانہ وار چکر لگاتے ہیں، مطاف کا حال یہ ہے کہ ایامِ حج ہی میں نہیں، بلکہ فتحِ مکہ مکرمہ سے آج تک فرض نمازوں کے علاوہ دن رات کے کسی گھنٹہ یا گھڑی میں خالی نہیں رہتا، ہر آن اور ہر لمحہ مطاف میں طواف کا چکر مسلسل جاری رہتا ہے، صبح وشام کے ٹھندے وقتوں کی بات نہیں، رات کے ایک دو بجے جا کر دیکھئے، ٹھیک دو پہر کی تیز گرمی میں جا کر دیکھئے، ہر وقت مشتاقانِ بیت اللہ طواف میں مشغول ہیں، اورایک دو نہیں، سیکڑوں کی تعداد میں شمع پر پروانوں کی طرح برابر بیت اللہ کا طواف کرتے نظر آئیںگے ، سبحان اللہ،مگر یہ عجیب پروانے ہیں کہ آگ میں جلنے کے بجائے ہمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلنے سے محفوظ ہو جاتے ہیں ۔

بہر کیف! جس کعبہ کو ربِ کعبہ نے خود ہی ’’مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ‘‘(البقرۃ) لوگوں کے بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ بنایا ہو وہ عشاق سے کیسے خالی رہ سکتا ہے ؟ 

منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کا منظر 

طوافِ بیت اللہ کے علاوہ حج کے دیگر ارکان واعمال کی ادائیگی کے لیے حجاج بحکمِ خدا کعبہ کو خیر باد کہتے ہوئے ۸/ ذی الحجہ کو منیٰ،۹ /ذی الحجہ کو عرفات جہاں اپنے سارے گناہوں کا کیا جاتا ہے اعتراف، پھر رات میں مزدلفہ اور ۱۰ /ذی الحجہ کو پھر منیٰ کا رُخ کرتے ہیں، تو وہاں کا منظر بھی نہایت پر کیف کہ بظاہر تو جنگل ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہے، جس کی وجہ سے جنگل میں منگل نظر آتا ہے، لاکھوں کی تعداد میں حجاج و عشاق موجود! اور جسے دیکھئے وہی (مرد) دو سادہ سفید چادروں میںملبوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ا للہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق فرشتوں نے آج منیٰ، عرفات و مزدلفہ کی یہ زمین بسائی ہے، نورانی صورتیں، ہر وقت ذکر الٰہی سے تر زبانیںاور زبان پر لبیک لبیک کی صدائیں! آج سے ہزار سال پہلے کا جو منظر حدیث میں بیان ہوا ’’نَصْرُخُ بِالحَجِّ صُرَاخًا‘‘ آج صدیوں کے بعد بھی بحمد اللہ! حج کا وہی پر کیف منظر بیت اللہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں نظر آتا ہے، افعالِ حج کے یہ مناظر اور حجاج کی یہ ساری ادائیں بتلاتی ہیں کہ عشق و محبت کی صحیح اور حقیقی حقدار صرف اور صرف وہی ذاتِ پاک ہے جس نے ہمیں اور کائنات کے ذرّہ ذرّہ کو پیدا کیا ، اگر چاہنا ہو تو اسی کو چاہو، پکارنا ہو تو اسی کو پکارو، مانگنا ہو تو اسی سے مانگو، ماننا ہو تو اسی کو مانو، کسی کی یاد میں سر گرداں پھرنا ہو تو اسی کی یاد میں سر گرداں پھرو ! سب کچھ وہی ہے، اور ہم سب اسی کے بندے ہیں، بندگی ہمارا مقصد زندگی ہے، ایک بندہ کا سب سے بڑا کمال عبدیت پیدا کرنا ہے،  جس کا ذریعہ عبادت ہے، بالخصوص حج! جیساکہ واضح ہو گیا۔

حق تعالیٰ ہم سب کو یہ سعادت بار بار نصیب فرمائے (آمین)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

رحم کرنے والوں پر رحمٰن کی رحمت!

’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘(صحیح بخاری) معاشی مشکلات میں اسلام انسان کو خود غرضی نہیں بلکہ صلہ رحمی کا درس دیتا ہے ’’بخل اور حرص سے بچو، کیونکہ یہی چیزیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر گئیں‘‘ (صحیح مسلم)’’ جو شخص اپنے بھائی کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف دور کرے گا‘‘(صحیح مسلم)

پردہ پوشی :اسلامی معاشرت کا حسین اصول

دوسروں کی عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے جو شخص دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔ (صحیح مسلم)

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر

’’پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘(زلزال:07) سلام میں پہل کرنا، پیاسے کو پانی پلا نا، بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا، خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں جن کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں

مسائل اور ان کا حل

کریڈٹ کارڈ کا استعمال سوال :کیا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے شاپنگ کرنا جائز ہے؟(انعام الحق ،کراچی)

وفاقی بجٹ 27-2026

وفاقی بجٹ بالآخر کل پیش کر دیا جائے گا۔ بجٹ کی تاریخ دو مرتبہ تبدیل کی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑا ایشو این ایف سی فارمولا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھے۔

آٹا سستا روٹی مہنگی، انتظامی مشینری کہاں ہے؟

پنجاب کو پاسکو سے گندم خریداری کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟