مجید امجد، فطرت سے ہم کلام
مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے،ہرے بھرے میدان، ابلتے قرینے، باسمتی کی باس،سانسیں، عمریں، قدریں سب کچھ سکے، پیسے، چربی، ماس
مٹی ہی سب کچھ ہے۔ سب مٹی کی سطح پر ایک ہو جاتے ہیں ، نور بھی، وقت بھی۔ سبزہ، خوشبوئیں اور ان کے ساتھ انسانوں کی قدریں اور تہذ یبیں۔ مجید امجد جدید اردو نظم کا منفرد شاعر ہے جس کی نظم واقعاتی اور سماجی حقیقتوں کے بیان کے لیے فطرتی عناصر کا سہارا لیتی ہے۔انسانی عقل اشیا کی حقیقت جاننے کے لیے اس کے کُل کو اجزا میں بانٹتی ہے۔ اس دوران میں انسان تجزیاتی نتائج اخذ کرتا ہے۔ یاد رہے کہ انسان میں سوچنے اور پرکھنے کی صلاحیت بھی اس کی فطرت کا حیاتیاتی عمل ہے۔ اس تجزیاتی قوت کے علاوہ تخلیقی قوت بھی انسان کا خاصہ ہے جس کی مدد سے انسان عقل کے نتائج مربوط کرتا ہے۔ مجید امجد فطرت سے عقلی سطح پر نبرد آزما ہوتا ہے تو تخلیقی سوالات اٹھائے بغیر نہیں رہ پاتا۔ اس کے ہاں فطرت سے مکالمے کا پورا نظام موجود ہے جو زندگی کو سمجھنے اور اس کو بہتر بنانے کا اہتمام کرتا ہے۔ مجید امجد کے ہاں چھوٹے چھوٹے سماجی مسائل بھی ازلی سوالوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ کائناتی تشکیل کو معرض ِسوال میں لاتا ہے۔ اس تگ و دو میں اسے اپنے وجود کی تنگ دامانی کا شدید احساس گھیر لیتا ہے مگر وہ فوراً اس کش مکش اور بے بسی سے نکلنے کا سامان بھی پیدا کر لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ تنگ دامانی اور محدودیت صرف انسان سے مخصوص نہیں بلکہ پوری فطرت اسی تشکیل میں بند ہے۔ فطرت کا سارا کھیل ابد کے سمندر کی موجوں میں اُبھرتے اور ڈوبتے رہنے کا نام ہے۔ کسی کو دوام نہیں۔ ہر شے فنا پذیر ہے۔ فطرت زندگی کی تخلیق کے لیے تو سازگار ہے مگر ہمیشگی کسی کو حاصل نہیں۔ فطرت کا عمل لافانیت سے نا آشنا ہے۔ فطرت کا پورا وجود ہی سازگار عناصر کے ترتیب پانے اور بکھرنے کا نام ہے۔ ایک وجود ایک وقت میں، کچھ مدت کے لیے ہستی پاتا ہے اور جلد اس میں توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ فطرت کی اس خاصیت کی وجہ سے کسی وجود کو بھی دائمی حیات نہیں مل سکتی۔ ہر چیز اسی بے سروسامانی میں اپنے وجود کو ابد کے سمندر میں کچھ دیر کے لیے ظاہر کرتی اور پھر غائب ہو جاتی ہے:
دیکھ سکے تو دیکھ؍ جیون کے یہ لیکھ؍لے کر اس جگ میں؍سونے کا کشکول؍سب اک پل کے مول؍ اپنے من کی سگندھ؍بیچنے آئے ہیں؍ کیا تو اور کیا میں انسان نے سماجی تشکیل کا عمل ایک دن میں حاصل نہیں کر لیا۔ انسان نے اپنی عقل سے اپنے اردگرد کو بدلنے اور اس میں تحریف کرنے کی کوشش کی تو سماج نے جنم لیا۔ سماجوں نے تہذیبوں کو تشکیل دیا۔ کائناتی تاریخ میں تہذیب کا عمل فطرت کے پہلو بہ پہلو سفر کرتا ہوا ملتا ہے۔ ایک وقت تھا جب انسان پورے کا پورا فطرت کے سہارے جیتا تھا۔ فطرت اسے چاہتی تو زندہ رکھتی، جب چاہتی اسے مار دیتی۔ پھر ایک خاص وقت آیا جب اس نے فطرت سے علیحدہ ہو کے اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کی۔ مجید امجد نے کسی مخصوص فرد کے خالص نجی سوالوں کو پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس کے ہاں جذباتی شدت کا اظہار ملتا ہے۔ مجید امجد کی نظم زندگی کے اُس پروٹو ٹائپ کی تخلیقی حیثیت کو دریافت کرنے کی کوشش میں نظر آتی ہے جو کائنات کی وسعتوں میں مجبور ومحکوم ہی رہتا ہے، لامحدود نہیں ہو پاتا۔ وہ اپنے ارد گرد کرداروں کو دریافت کرتا ہے جو اس جمال آفرینی کا حصہ نہیں بن پاتے اور جو حیات سازی کے مرحلے میں ہی مر جاتے ہیں۔ وہ انسان کی ازلی محدودیت پر سوال اٹھاتے ہیں جنہیں کچھ ناقدین نے اُن کی ناامیدی یا قنوطیت پسندی سمجھ لیا ہے۔ اصل میں زندگی خود سوالات کی کھوج میں سرگرداں ہے جس کی تقدیر ہمیشہ تشنہ رہناہے۔