نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی سیالکوٹ واقعہ کی مذمت
  • بریکنگ :- سیالکوٹ واقعہ افسوسناک اورشرمناک ہے،صدرمملکت
  • بریکنگ :- وزیراعظم اورحکومت کی جانب سےکیےگئے اقدام کوسراہتاہوں،صدر
Coronavirus Updates

امام احمد رضا اور ترک موالات

امام احمد رضا اور ترک موالات

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد


پاک و ہندو کا وہ عبقری جس نے فرنگی تہذیب و تمدّ ن اور فرنگی افکار وخیالات کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔جس نے تحریک خلافت اور تحریک ترک ِ موالات کے اند ر دوڑنے والی سورج کی برقی لہروں اور مسٹر گاندھی کی سیاسی حکمتِ عملی کا راز اس وقت پایاجب کسی نے نہ پایا۔ماسوائے چند بزرگوں کے۔جس نے اسلامی نشاۃِثانیہ کے لیے بھر پو ر کوشش کی۔ہرفردکوملی تشخص کااحساس دیااورتحریکِ پاکستان کے لیے فکری راہیںہموار کیں۔ہاں اُس نے صرف اسلام کی خاطرہندومسلم اشتراکِ عمل کو کسی قیمت پر قبول نہ کیا۔وہ کوہِ استقامت تھا،اُس نے حق کی خاطر ہر بے راہ سے ٹکر لی اور اپنی ناموس وعزت کواسلام اور پیغمبر اسلام ؐ کی ناموس پرقربان کردیا۔وہ اسلام کے متوالوں،فداکاروںاور جانثاروں کاسرتاج تھااُس کاکوئی حریف نہ تھا۔ اُس نے ہر فکر کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا ،کھوٹا اور کھرا الگ کر دکھایا۔اس کو دیوانہ کہا گیا مگر وہ تو فرزانوں کی آبرو تھا۔اسے’’مفکرالمسلمین‘‘ کہاگیا،مگروہ تو اسلام اور مسلمانو ں کا محافظ تھااسے’’مبتدع ‘‘کہاگیامگروہ تو سنت رسول ؐ کاپاس دارتھا،اسے فرنگیوں کادمساز کہا گیا مگر وہ تو اسلامیوں کا خیر خوا ہ تھا۔وہ ۱۹۲۱؁میں جب پورا مُلک کفر، شرک وبدعت کی لپیٹ میں تھا نعرہ ٔ مستانہ لگاتا ہوا خوابیدہ قوم کو جگا تا ہوا اپنے مولا کے حضور حاضر ہوگیا۔اس کی آواز نے اپنی تاثیر دکھائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم جاگ اٹھی۔اس کا ذہن برق رفتار تھا۔اس کی آنکھ عر ش نگاہ تھی۔اس کا سینہ بحرناپیدا کنار تھا ۔اس کا ہاتھ صبا رفتار تھا،وہ کیا تھا؟وہ کون تھا؟ اس نے کیاکیاکیا؟وہ سراپا حرکت تھا۔اس کی زندگی جامد نہیںتھی۔اس کی حرکت وعمل کے ایک نہیں بیسیوں پہلوہیں۔جس پہلو سے دیکھیے وہ متحرک نظر آتاہے۔حرکت و عمل کے ان مختلف پہلوؤں کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ امام احمدرضاؒنہایت ہی فعال تھے ۔ان پر کام کرنے کے لیے ایسی ہی فعال اکیڈمی کی ضرورت ہے۔امام احمد رضا نے محسوس کیا کہ اصل جنگ انگر یز سے نہیں بلکہ ہنودسے ہے چنا ں چہ تقسیمِ ہند کے بعد امام احمد رضا کے اس خیا ل کی تو ثیق ہو گئی۔کسی انگر یز نے پاکستا ن سے جنگ نہ کی نہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی،ہولی کھیلنے والے اور جنگ کرنے والے یہی ہنود تھے،جنہوں نے کبھی ’’ہندومسلم بھائی بھائی ‘‘کے دل پذیر نعرے لگائے تھے،یہ وہ حقیقت ہے جسے زمانے نے نصف صدی بعد ظاہر کیا،لیکن امام احمد رضاؒ نے 1920ء میں بلکہ اس سے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اسی لیے اُنہوں نے فلسفۂ گا ندھی کے سامنے اسلامی فلسفے کی بات کی، اپنو ں اور بیگانو ں میں جس نے فلسفۂ گا ند ھی کی بات کی اُس کا شدت سے تعاقب کیا اور مؤثر ردکیا۔جہاں تک اما م احمد رضا ؒکے مذہبی افکار کا تعلق ہے وہ سُنی حنفی اور پکے و سچے مسلمان تھے،ایمان میں کسی لچک کے قائل نہ تھے اسی لیے اُنہو ں نے اپنے معاصرین کے اقوال واعمال پر سخت تنقید کی اور کفر کے فتوے بھی لگائے چناں چہ ان کے مخالفین نے مشہو ر کر دیا کہ تفکیر مسلم امام احمد رضاؒکا محبو ب مشغلہ تھا لیکن حقیقت واقعہ یہ ہے کہ کلمۃالحق ان کا مسلک تھا اوراحیاء اسلام ان کا مقصد۔اس مسلک کا جو مخالف ہو تااوراس مقصد کی راہ میں جو حائل ہوتا خواہ اپنا ہو یا بیگانہ ،وہ پوری شدت سے اس کی مخالفت فرماتے اوراس کے لیے اپنی تمام فطری وعملی تو انائیاں صرف کرتے۔وہ اپنے مخالفین کے بر عکس اپنوں کی کبھی رعایت نہ کرتے۔یہی ان کی عدل گستری اورانصاف پسندی کا طُرّۂ امتیاز تھا جو محسوس کیا جاناچاہییے۔انگر یز وں کے زیر ِاثر قدیم وجد ید درس گا ہوں اور علمی اداروں سے آزاد خیالی اور فکر ی کج روی کا جو ایک سیلاب امڈا ا مام احمد رضا اس سیلا ب بے پناہ کے لیے بند ثابت ہوئے۔بے شک اگر یہ بند نہ ہوتا تو آزاد خیا لی اور بے راہ روی کا سیلاب نہ معلوم کتنوں کو بہا کرلے جاتا اور مستقبل کاکیا حال ہو تا؟س حقیقت پر گہرے غورفکر کی ضرورت ہے اور یہ بات مؤرخین کے لیے قابل تو جہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ کو ن تھا جس نے پوری قوم کو غارِ ہلاکت میںگر نے سے بچا یا اور اُسے شعورِ جان وایمان بخشا۔امام احمد رضانے اوائل بیسویں صدی عیسوی میں جس اسلامی غیر ت اورمومنانہ بصیر ت کا ثبوت دیا اس پران کے بعض مخالفین نے انگریزدوستی پر محمو ل فرمایاحالاں کہ اواخر انیسوی صدی ہجری میں انگریز کے حامی قلم کاروں اور رہنماؤں کے اقوا ل واعمال پر وہ پہلے ہی تنقید کر چکے تھے۔جس کے دل میں محبت مُصطفیٰ ؐ جا گز یں ہو چکی ہو اُس کے دل میں نہ انگریز کی محبت جگہ پا سکتی ہے اور نہ کسی اور کافر مشرک و مرتد کی۔امام احمد رضاکے بعض اشعار تیر و نشتر سے کم نہیں مگر یہ وہی تیر ہیں جو چادرِمصطفی ؐ پر بیٹھ کر حضرت حسان بن ثابتؓ نے چلائے تھے اوررسول اللہ ؐ نے دعاؤں کے پھول نچھاور کئے تھے۔بہت سے اشعاربظاہر نامعقول نظر آتے ہیں لیکن جب اُن کا پس ِ منظر سامنے آتا ہے تو ہر نا معقول شعر ،معقول نظر آنے لگتا ہے۔امام احمد رضا کے ان اشعار کی روح کفار ومشرکین ہند سیاسی اور تہذیبی تعاون سے پیدا ہونے والی کج خیالیوں اور بے راہ رویوں کی اصلاح ہے،یہی روح حضرت مجدد الف ثانی ؒکے مکتوبات شریف میں نظر آتی ہے۔جنہوں نے عہد جہانگیری میںایک عظیم الشان پُر امن انقلاب برپاکیا۔امام احمد رضا کے مخالفین کے لٹریچر کا اچھا خاصہ حصہ اس رو ح سے خالی ہے۔بلکہ اس کے بر عکس ان کی تاریخوں اور تذکروں میں ہندو زُعماکا نہایت ادب و احترام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جب کہ امام احمد رضا اور ان کے متبعین کا نفرت وحقارت کے ساتھ۔گویا ان کی نظر میں ان کا درجہ کفارومشرکین سے بھی گیا گزرا تھا۔امام احمد رضا کے مخالفین سے مؤدبانہ عر ض ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے امام احمد رضاکے افکار وخیالات اور تنقیدات کا مطالعہ کریں اور جذباتی انداز ِ فکر تر ک کردیں اور ان کے افکار سے اسی طرح استفادہ کریں جس طرح وسیع القلبی کے سا تھ مولانامحمد انور شاہ کشمیری نے استفادہ کیا تھا۔امام احمد رضا کے اُس جذبۂ صادق کو پہچاننے کی کوشش کریں جس نے اُنہیں وطن میں غریب الوطن بنادیاتھا۔آخر وطن میں انہوںنے غربت کیوں اختیار کی؟ کیا اپنے نفس کے لیے یہ سب کچھ کیایااسلام کے لیے؟کوئی دیوانہ ایسا نظر نہیں آتاجو خوا ہ مخواہ خود کو ہلاکت میں ڈالے اور زمانے بھر کی رسوائیاں مول لے،دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ اسلام کے ایسے سچے شیدائی کے احوال و واقعات ہر تعصب سے بالاتر ہوکر مطالعہ کئے جائیں جس طرح جامع ازہر (قاہرہ)کے اہل حدیث فاضل ڈاکٹر محی الدین الوائی(جواَب مدینہ یونیورسٹی میں ہیں)نے مطالعہ کیے اور ایک قیمتی مقالہ قلم بندکیاجوصوتالشرق(قاہرہ ، فروری 1970) میں شائع ہو ا۔ اور اب پروفیسر جے،ایم ،ایس،بلیان،صدرشعبہ علوم اسلامیہ لیڈن یونیورسٹی (ہالینڈ)اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔اسی طرح لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر حنیف اختر فاطمی نے انگریزی میں ایک مقالہ بعنوان’’اسلام کاتصورِ علم‘‘امام احمد رضا کی تصانیف کے حوالے سے لکھاہے۔امام احمد رضا نے جو کردار اداکیا وہ وہی تھا جو ایک ماہر سرجن کو اداکرنا چاہییے تھا پھر دوسروں کا فرض ہے کہ مریض کی کماحقہ‘تیماداری کریں اور اصلاح کی کوشش کریں ۔پروفیسرفاضل زیدی صدرشعبہ اُردو،گورنمنٹ کالج ،سکرنڈ (نواب شاہ سندھ)لکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت حجۃُالاسلام امام احمد رضابریلوی ؒ کی بابرکات ہستی ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتی تھی جس سے اپنو ں اور غیر وں سب نے اکتساب ِ نور کیا۔دین متین کی خدمت کے لیے انہوں نے اپنی ہستی وقف کردی تھی،انہیں اسلام اور بانی اسلام سرور دوجہاں احمد مجتبیٰ محمدمصطفی ؐسے جومحبت تھی وہ محتاج ِ بیان نہیں،ان کا نعتیہ کلام اس پر برہان ِقاطع ہے۔امام احمد رضاؒنے اپنی گراں قدر تصنیفات سے دین کی بڑی خدمت کی اور سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ دشمنانِ اسلام کا تعاقب کیا اور جو مسلمان اپنی سادہ لوحی سے دشمنوں کے فریب میں آئے انہیںفہمائش کی اور انہیں دشمنوں کے فریب سے آگاہ کیا۔امام احمد رضاؒایک مستند عالمِ دین ہی کی حیثیت سے عوام میں روشناس ہیں اور مسلمان سیاست دان کی حیثیت سے اُن کی ہستی ہنوز پردہ ٔ خفامیںہے۔ مسٹر گاندھی کے سحر سامری میں بڑے بڑے مسلمان علماء آگئے تھے،مولانا شوکت علی ،مولانا حسرت موہانی ،مولاناابولکلام آزاداورمولانا عبد الباری اُن کے ہم نو ا ہو گئے تھے،یہاں تک کہ ان حضرات نے گاؤ کُشی پر پابندی لگانے کے حق میں آوا زاٹھائی ،اُس وقت علمائے ہند میں صرف امام احمد رضا ہی کی وہ تنہا ذات تھی جس نے مسٹر گاندھی اور ان کے مسلمان ہم نوائوںکے خلاف قلمی جہاد کیا،اور مسلمان علماء کو اپنی مومنانہ فراست سے بر وقت متنبہ کیا۔اعلیٰ حضرت ؒ نے گاندھوی الحادوارتدادکے خلاف تادم آخر یں مسلسل جہاد فرمایا،غیرت اسلامیہ کے امین بن کر’’قوم پرست علمائے سوء ‘‘کے سیاسی فریب سے اُمّت مسلمہ کو بچانے کے لیے اپنی زندگی تَج دی،ملت مسلمہ تشخص کو ایک قومیت کے پر چار کرنے والے نام نہاد مسلم رہنماؤں کے ہتھکنڈوں کا برابر توڑ کرتے رہے اور اہل ہنود کے مقابلے میں ملت اسلامیہ کی شان دوبالارکھنے اور اسے’’ہندوسوراج‘‘کے ہاتھوں پامال ہونے سے مامون رکھنے کی خاطر ہمہ دم سینہ سپر رہے۔اعلیٰ حضرتؒ نے حق گوئی ،بے باکی،دینی حمیّت اور ملی غیرت اُجاگر کرتے ہوئے تحریک خلافت ترک موالات،گاندھوی فلسفے اور اس کے سحرمیںگرفتار نام نہاد مسلمان رہنماؤں پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے،گاندھی نے تحریک خلافت میں گھس کر ،ہندودھرم،ہندوثقافت اور ہندوسوراج کو جنوبی ایشیاکے مسلمانوں پر مسلط کرنے کاجوناپاک منصوبہ بنایاتھا،اسے منظر عام پرلاکرناکام بنانے کاسہرااعلیٰ حضرتؒ کے سر ہے،آپ نے جدل وجدال،مناظرے یا مناقشے کا سہارانہیں لیا بلکہ عدل ومیانہ روی پر گامزن رہتے ہوئے افہام وتفہیم کی راہ اختیارکی اور سُنت سنیہ کی پیروی کرتے ہوئے ہندو زدہ مسلمانوں کو’’براہین قاطعہ‘‘ سے قائل کرنے کی کوشش فرمائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
زرد پتے

زرد پتے

چند برس پہلے مجھے جرمنی جانے کا اتفاق ہوا اور یہ اتفاق بھی ایک اور اتفاق کی وجہ سے ہوا کہ میرا ''شین جن ویزا‘‘ (Schengen Visa) لگ گیا، میری فلائٹ اسلام آباد سے کراچی، کراچی سے استنبول، استنبول سے ہیلسنکی(فن لینڈ)، ہیلسنکی سے دو گھنٹے مزید بس کا سفر تھا۔ ہیلسنکی ایئر پورٹ پر مجھے میرا دوست احمدلینے آگیاجووہاں پی ایچ ڈی کرنے گیا ہوا تھا اور سکینڈی نیوئین ممالک کا یہ اصول ہے کہ جب کوئی پی ایچ ڈی کا سٹوڈنٹ اُن ممالک میں جاتا ہے تو اُس کو فیملی ویزہ دے دیا جاتا ہے۔میرا بچپن کا شوق تھا کہ میں یورپ دیکھوں مگر ظاہری طور پر مجھے کبھی نہیں لگتا تھا کہ میں کسی یورپی ملک جا سکوں گا۔ پھر ایک ایسا اتفاق ہوا کہ احمد فن لینڈ چلا گیا تو میں نے اُسے کہا کہ یار میرا بھی ویزا لگوا دے۔ اُس نے کہا کہ میں تجھے سپانسر لیٹر بھیج دیتا ہوں تم اپنا پاسپورٹ، اپنی بینک اسٹیٹمنٹ اور اپنے آفس سے این او سی لے کر اسلام آباد میں فن لینڈ کے سفارتخانہ میں ویزہ کے لئے اپلائی کردو۔ میں نے احمد کے کہنے کے مطابق سارے کاغذات مکمل کئے اور جا کرسفارتخانہ میں جمع کروا دیئے اور اُس کے بعد انتظار شروع ہو گیا۔ تقریباً ایک ہفتے کے بعد سفارتخانہ سے فون آیا کہ کل صبح 10بجے آجائیں، آپ کا انٹرویو ہے۔ 10بجے سفارتخانہ کے اندر داخل ہوا، سکیورٹی والوں نے کلئیر کر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا دیا، تقریباً 15منٹ کا انٹر ویو ہوا، اُس کے بعد اُنھوں نے کہا کہ آپ جا سکتے ہیں۔ ہم آپ کو فون پر اطلاع دے دیں گے کہ پاسپورٹ کب واپس ملے گا۔تقریباً دو ہفتے بعد ٹیلی فون آیا کہ اپنا پاسپورٹ لے جائیں، جب میں سفارتخانہ کے اندر گیا تو کاؤنٹر کی دوسری طرف سے سفارتخانہ کے ایک ملازم نے جو کہ پاکستانی تھا نے مجھے میرا پاسپورٹ واپس کر دیا۔ میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے جب اپنا پاسپورٹ کھولا تو اُس پر شینجن ویزا لگ چکا تھا۔احمد مجھے ہیلسنکی سے اپنے گھر لے گیا۔ فن لینڈ مجھے بہت اچھا لگا، پُرسکون صاف ستھرا، خاموش، کسی شخص کو کسی دوسرے شخص سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں، سب اپنی اپنی دھن میں مگن۔ کسی کی ہمسائے کے ساتھ کوئی بات چیت، لین دین یا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ میں تقریباً دو ہفتے احمد کے ساتھ رہا۔ میرے پاس ''شینجن‘‘ تھا، میں پورا یورپ بغیر ویزہ کے گھوم سکتا تھا۔ دو ہفتے کے بعد میں نے احمد سے کہا یار میرا ایک دوست جرمنی میں رہتا ہے، میں نے وہاں جانا ہے۔ اُس نے کہا تمہیں یہاں سے فلائٹ نہیں ملے گی، تمہیں تامپرے جانا پڑے گا۔ جس کے لئے میں نے ٹرین کا ٹکٹ لیا اورساتھ ہی احمد نے مجھے ایک بہت ہی سستی ایئر لائن ''رائل ایئر لائن‘‘ کا ٹکٹ 50 یورو میں لے دیا۔ رائل ایئر کے جہاز نے مجھے دوگھنٹے کی فلائٹ میں جرمنی ایئر پورٹ پر اُتار دیا۔ وہاں پر میرا دوست مجھے لینے آیا ہوا تھا۔جب ہیمبرگ کی بڑی شاہراہ پر میرا دوست گاڑی چلا رہا تھا تو مجھے ایسے لگا کہ جیسے میں لاہور کے مال روڈ پر آ گیا ہوں۔ ستمبر کے آخری دن چل رہے تھے۔ گھر پہنچ کر میرے دوست خالد نے مجھے اپنی بیوی سے ملوایا اور مجھے اپنے فلیٹ میں ایک کمرہ دیا کہ یار تو نے اِس کمرے میں رہنا ہے۔ میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی کہ میں سوچ رہا تھا کہ وقت کیا ہے کچھ دن پہلے میں اسلام آباد میں تھا، کشمکش میں تھا کہ ویزہ ملے گا کہ نہیں اور آج جرمنی میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میں دو دن کے لئے آیا تھا مگر خالد نے اصرار کیا کہ نہیں یار تو پورا ایک ہفتہ میرے ساتھ رہے گا۔ ایک ہفتہ قیام کے دوران خالد نے وہاں پر تمام تفریحی مقامات کی مجھے سیر کروائی۔ وہاں پر سپیشل جو تھا، وہ تھے ترکش ریسٹورنٹ، جہاں پر حلال کھانا آسانی سے دستیاب تھا۔ ترکش کھانے بہت لذیذ، بہت ذائقہ دار تھے۔ وہ اپنے کھانوں میں زیادہ تر LAMBکا گوشت استعمال کرتے تھے۔ ترکش آئس کریم ایک اسپیشل آئٹم تھی جوکہ وہاں سیاح بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ کھانے کے آخر میں ایک اسپیشل قہوہ پیش کیا جاتا تھا۔جس دن میں نے واپس جرمنی سے فن لینڈجانا تھا اُس دن میں نے خالد کے دیئے ہوئے کمرے میں کھڑے ہوکر کھڑکی سے صحن میں جھانکا تو بے شمار زرد پتے لان میں گرے ہوئے تھے۔ ایک اُداسی کا سماں محسوس ہورہا تھا۔بڑے بڑے درختوں سے پتے مسلسل گر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی ختم ہو رہی ہو۔ پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ زرد پتوں کا درختوں سے گرنا دراصل یہ بھی زندگی کی علامت ہے۔ اِن زرد پتوں کے بعد انھی درختوں پر نئے پتے، نئے شگوفے، نئے پھو ل، نئے پھل آجائیں گے اور زندگی میں بہار لوٹ آئے گی۔ میں کافی دیر اُس آنے والی بہار کے منظر میں کھویا رہا کہ اچانک مجھے خالد نے آواز دی کہ یار چلنا نہیں، فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے، تجھے پتا نہیں کہ دو گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پر پہنچنا ہے۔ میں نے جلدی سے اپنا ہینڈ کیری اُٹھایا اور خالد کے ساتھ ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوگیا۔امین کنجاہی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں،ملک کے موقر جریدوں میں ان کے مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

مرگی کے دوران غذا کا استعمال

مرگی کے دوران غذا کا استعمال

مرگی، جسے انگریزی میں ''ایپی لیپسی‘‘ کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر یہ ایک دماغی اور اعصابی مرض ہے جو طویل دورانئے تک بھی رہ سکتا ہے۔ اس مرض میں اچانک بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے اور مریض کو دورے یا جھٹکے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے۔ اس کی وجوہات اس قدر ہیں کہ ان پر حتمی رائے دینا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم ممکنہ وجوہات میں دماغی انفیکشن، دماغی چوٹ، پیدائش کے دوران نومولود کو آکسیجن کی مناسب مقدار کا نہ ملنا اور موروثی وجوہات شامل ہیں۔مرگی کی متعدد اقسام ہیں ان میں سے کچھ اقسام مختصر دورانئے کی اور بعض طویل دورانئے کی ہوتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس مرض کی شرح ایک فیصد کے لگ بھگ دیکھی گئی ہے جبکہ دنیا بھر میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 کروڑ بیان کی جاتی ہے۔ عام طور پر اس کا علاج ادویات اور متوازن غذا کے ذریعے کیا جاتا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق اس مرض کا 30 فیصد علاج ہی ادویات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے جب کہ اس مرض کی سنگینی کی صورت میں ماہرین طب سرجری بھی تجویز کرتے ہیں۔اس مرض کا علاج چونکہ عمومی طور پر طویل دورانئے کا ہوتا ہے اس لئے اس میں ادویات کے ساتھ ساتھ متوازن خوراک کی اہمیت دیگر امراض کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔یوں تو متوازن غذا ہر بیماری میں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن مرگی کی بیماری کے دوران صحیح غذا کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مرگی کے مرض میں اس بنیادی نقطے کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مریض کی خوراک میں کاربوہائیڈریٹس کی شرح جس قدر کم اور چکنائی کی شرح جس قدر زیادہ ہوگی مرگی کے دوروں کی شرح بھی اتنی ہی کم ہوگی۔ اس کے علاوہ اس مرض کے دوران اگر مریض پر ادویات کا اثر کم ہونا شروع ہو جائے یا Refractory Epilepsy یا Focal Seizures (یہ دونوں ایپی لیپسی کی اقسام ہیں) ہو تو ان کو کیٹو جینک ڈائٹ تجویز کی جاتی ہے جس سے مرگی کے دورں میں 50فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ کیٹو ڈائیٹ میں عام طور پر مکھن، میونیز، کریم اور ایم سی ٹی آئل استعمال ہوتے ہیں۔ کیٹو ڈائیٹ عام طور پر 70 سے 80 فیصد چکنائی، 10 سے 20 فیصد پروٹین اور 5 سے 10 فیصد کاربو ہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ ڈائیٹ زیادہ تر بچوں کو تجویز کی جاتی ہے لیکن اسے بڑے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس غذا کو اپنے معالج یا ماہر غذائیات کے مشورے سے ہی استعمال کرنا زیادہ سود مند ہوتا ہے۔کیٹو ڈائیٹ عام طور پر تین ماہ سے دو سال تک استعمال کرائی جاتی ہے جبکہ اسے معالج یا ماہر غذائیات کے مشورے سے بتدریج بند کیا جانا چاہئے۔ بصورت دیگر بیماری کے دوبارہ بڑھنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔مرگی کے مریضوں کے لئے غذا اپنے معالج یا ماہر غذائیات کے مشورے سے لینا یا چھوڑنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ غذا کے کسی بھی عنصر کی زیادتی کی وجہ سے مرض کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید براں جن ادویات میں چینی کی مقدار زیادہ ہو اس طرح کے مریضوں کو ان سے اجتناب برتنا چاہئے کیونکہ کسی بھی خوراک یا ادویات میں چینی کی زیادہ مقدار سے مرگی کے دوروں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کیٹو ڈائٹ کے اثرات زائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے مریضوں کو چائے اور کافی کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ہی کرنا چاہئے۔Topiramate (ایپی لیپسی کی ایک دوا کا نام) استعمال کرنے والے مریضوں کو چائے اور کافی کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے کیونکہ یہ ادویات کے اثر کو متاثر کر سکتی ہے ساتھ ہی ساتھ کیٹو ڈائیٹ کا استعمال بھی اپنے معالج اور ماہر غذائیات کے مشورے سے ہی کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر تحریم نیازی ایک ماہر غذائیات (نیو ٹریشنسٹ) ہیں، خوراک کے حوالے سے ملک کے موقر جریدوں میں ان کے آرٹیکل چھپتے رہتے ہیں، لاہور کے تین کلینکس اور ہیلتھ سنٹرز میں جز وقتی کام کرتی ہیں۔

کافی موسم سرما کا ہردلعزیز مشروب

کافی موسم سرما کا ہردلعزیز مشروب

ہماری دنیا اور آج کے اس جدیددور میں زیادہ تر لوگوں کے لیے کافی ایک پسندیدہ ترین چیز ہے۔ آپ کے جاننے والے تقریباً سبھی لوگ تھوڑی مقدار میں یا زیادہ مقدار میں کافی پیتے ہوں گے، لیکن ہم سب کو اس فرحت انگیز مشروب کے بارے میں کتنا پتہ ہے؟ اس تحریر میں ایسی دلچسپ باتیں شامل ہیں جو آپ کو شاید پہلے معلوم نہیں ہوں گی۔کافی کی دانے دار پھلیاں اصل میں کافی کے بیج: کافی کی پھلیاں درحقیقت پھلیاں نہیں ہیں بلکہ یہ کافی کے بیج ہی ہیں جن سے کافی کے نئے پودے اگائے جا سکتے ہیں۔کافی کی پھلیوں کی الگ الگ شکل کی وجہ سے انہیں کافی بینز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں کافی کے بیجوں کے لیے یہی نام مشہور ہے۔کافی کی تاریخ:لاکھوں لوگوں کے اس پسندیدہ مشروب یعنی کافی کی ابتداء سے متعلق بہت ساری کہانیاں مشہور ہیں، لیکن سب سے مشہور کہانی نویں صدی میں ایتھوپیا کے ایک بکریوں کے چرواہے کے بارے میں ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نوجوان چرواہے نے کئی بار مشاہدہ کیا کہ مقامی پودوں کو لگنے والی ان پھلیوں کو کھانے کے بعد اس کی بکریاں کتنی زیادہ متحرک اور فعال ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ان چیری نما پھلیوں کو گھر لے آیا اور خود انہیں آزمایا۔ جس کے بعد کافی کو مشروب کی طرح پینے کی ابتدا ہوئی۔ایسپریسو کافی: دنیا میں کافی کا شوقین شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جسے یہ نہ پتہ ہو کہ ایسپریسو کافی دنیا بھر میں بہترین مانی جاتی ہے، مگر یہ بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ ایسپریسو مشینوں کا آغاز اٹھارہویں صدی میں ہوا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اصطلاح دراصل اطالوی ہے اور اس سے کسی چیز پر دباؤ ڈالنے کی کارروائی سے مراد لی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسپریو مشین نیچے موجود کافی بینز کو پانی سے دباتی ہے اور اس سے کافی کی تھوڑی تھوڑی مقدار لیتی رہتی ہے تاکہ کافی کے باریک ذرات کے ذریعے زیادہ گاڑھا اور مزیدار مشروب تیار کیا جاسکے۔کافی طویل زندگی کی ضامن:کافی کے بارے میں آپ نے جو بھی سنا ہو، مگر حقیقت میں کافی پینے کے لیے صحت بخش مشروبات میں سے ایک ہے جس میں بڑی مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔جب آپ اپنے روز مرہ معمولات میں صحتمند غذا کو شامل رکھتے ہیں اور ساتھ میں کافی سے بھی لطف اندوز ہوں تو اس بات کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے کہ کافی آپ کو ایک طویل عرصہ تک زندہ رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔کافی کی اقسام:کافی کے کاشت کار دو طرح کی کافی عربیبا اور روبستا اگاتے ہیں۔ اس میں پہلی قسم جو کہ عربیہ کافی ہے دنیا بھر میں پائی جانے والی کافی کی دیگر اقسام سے بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے اور اسے کافی کے شوقین خواتین و حضرات بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقت میں روبستا کافی کاشتکاروں میں کم مقبول ہے۔سب سے زیادہ کافی پیدا کرنے والا ملک:برازیل میں دنیا کو فراہم کی جانے والی کافی کا ایک تہائی حصہ تیار ہوتا ہے اور اس طرح برازیل دنیا کو کافی فراہم کرنے والے ممالک سے دگنی مقدار میں کافی پروڈیوس کرتا ہے۔

کیا آپ سائبر حملے سے محفوظ ہیں؟ کمپیوٹر سکیورٹی کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

کیا آپ سائبر حملے سے محفوظ ہیں؟ کمپیوٹر سکیورٹی کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

ٹیکنالوجی کے جس دور کے ہم عینی شاہد ہیں ،ہم سے پہلے لوگ نہیں تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ ہمارا تعلق اس خوش قسمت نسل انسانی سے ہے جس نے ٹائپ رائٹر کو کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،پام ٹاپ اور موبائل میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ آج سے 20برس قبل ٹیلی فون کو بھی ایک آسائش سمجھا جاتا تھا اور اکثر افراد اسے فضول خرچی تصور کرتے تھے،لیکن ٹیکنالوجی نے جس برق رفتاری سے ترقی کی اس کی مثال اس کرۂ ارض پر پہلے موجود نہ تھی۔اگر آپ بھی سمارٹ فون یا کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں اور اس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کا تعلق بھی جدت پسند نظریہ رکھنے والی اس کلاس سے ہے جو ہر آنے والی نئی تحقیق اور ایجاد پر نظر رکھتی ہے اور کھلے دل سے اس کا استقبال کرتی ہے۔ اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ جب کوئی ایجاد یا مشین ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہو اور ہمارے روز مرہ کے معاملات کو آسان بنانے میں ہماری مدد کر رہی ہو تو ان تمام فوائد کے ساتھ اس کے کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کواس وقت ہی بہترین قرار دیا جا سکتا ہے جب ہم اسے احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔یہ دنیا جہاں ہم رہتے ہیں ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور ایک ڈیجیٹل بک ہے جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے ۔آج ہم میلوں دور بیٹھے کسی بھی شخص سے کچھ سیکنڈ میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ میں جائیں یا اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزاریں ،موبائل پر تصاویر لازماً لی جاتی ہیں اوراکثر لوگ اپنا انتہائی قیمتی اور ذاتی ڈیٹا بھی محفوظ کرنے کے لئے موبائل یا کمپیوٹر کو سب سے '' محفوظ ‘‘ سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ کمپیوٹر ایک بہتریں ایجاد اور اس نے دنیا کو ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن کیا ہے، لیکن یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ کمپیوٹر ہمیں انٹرنیٹ کے ذریعے اسی گلوبل ویلج سے منسلک کرتا ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ جب پوری دنیا آپ کے ایک کلک پر دستیاب ہے تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کا ڈیٹا بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے اس دنیا سے بچا رہے؟آج بھی دنیا بھر کی ہیکنگ یا ڈیجیٹل چوریاں کمپیوٹر کے ذریعے ہی کی جاتی ہیں ۔ آج کل دنیا ٹینک اور بندوق سے لڑنے سے پرہیز کرتی ہے اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر لڑنا زیادہ فائدہ مند سمجھتی ہے۔ اس لڑائی کو جدید زبان میں (5th generation war)بھی کہا جاتا ہے اور اس جنگ میں شریک سپاہیوں کو کی بورڈ وارئیر(Keyboard Warriors) کہا جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل جنگجو آسانی سے آپ کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور آپ کا قیمتی ڈیٹا چوری کر کے انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں۔ آج30نومبر کو دنیا بھر میں ''کمپیوٹر سکیورٹی کا عالمی دن‘‘ منایا جا رہاہے۔دنیا میں بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے پیش نظر ایسوسی ایشن فار کمپیوٹر سکیورٹی نے 1988ء میں ہر سال 30نومبر کو کمپیوٹر سکیورٹی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو کمپیوٹر سکیورٹی کے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ کس طرح وہ اپنے کمپیوٹر کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور اپنی قیمتی معلومات کو چوری ہونے سے بچا سکتے ہیں۔کچھ دیر کیلئے تصور کیجئے کہ آپ ایک بینک میں کام کرتے ہیں اور ذمہ دار پوسٹ کے حامل ہیں ۔ آپ کے پاس بینک اور صارفین کا انتہائی حساس ڈیٹا کمپیوٹر میں موجود ہے جسے آپ دنیا کی سب سے محفوظ جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی ماہر ہیکر کو آپ کے کمپیوٹر تک پہنچنے اور وہ قیمتی معلومات چرانے کے لئے زیادہ سے زیادہ5منٹ درکار ہوں گے۔جب تک آپ کو اس کارروائی کا علم ہو گا چڑیاں کھیت چگ چکی ہو ں گی۔ ایسی صورتحال میں آپ نہ صرف اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ شاید زندگی بھر اس نقصان کو پورا نہ کر پائیں۔ اگر آپ کمپیوٹر سکیورٹی کا علم نہیں رکھتے اور اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ کمپیوٹر کو سائبر حملے سے محفوظ بنانے کے لئے ضروری اقدامات کون سے ہیں تو یقین جانیے آپ کا ڈیٹا اور آپ بالکل محفوظ نہیں ہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل آپ کے ساتھ چلتے پھرتے وہ اکائنٹس ہیں جو آپکی زندگی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔اس لئے جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ جس بینک میں آپکی رقم موجود ہے وہ زیادہ سے زیادہ حفاظتی اقدامات اٹھائے اسی طرح یہ قانون آپ پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ آپ بھی اپنے کمپیوٹر کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری اور بروقت اقدامات کریں۔تنزیل الرحمن نوجوان صحافی ہیں اورتحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیںیہ صرف آپ کی ذاتی سکیورٹی کے لئے نہیں بلکہ آپ سے منسلک تمام لوگوں کی سکیورٹی کے لئے ضروری ہے۔

 تبرکات اور نو ادرات سے مالا مال ’’ فقیر خانہ‘‘

تبرکات اور نو ادرات سے مالا مال ’’ فقیر خانہ‘‘

شہر لاہور کی عظمت و شوکت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں اسلامی تبرکات کے آثار بھی موجود ہیں۔ تبرکات مقدسہ کا ذکر خیر بھی ان ہی بیش قیمت آثار کے ذیل میں آتا ہے ۔ لاہور میں یہ آثار دو مقامات پر ہیں بازار حکیماں کے فقیر سید مغیث الدین بخاری کے دارالنور میں اور بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی گیلری میں۔ ان تبرکات مقدسہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ بھاٹی دروازے سے قدیم لاہور میں داخل ہوں تو کچھ فاصلے پر دائیں جانب ایک بڑی سی حویلی نظر آتی ہے اسے ''فقیر خانہ‘‘ کہا جاتا ہے اس عمارت کو لاہور کا دوسرا بڑا عجائب خانہ تسلیم کیا گیا ہے ۔ یہیں دربار عالی ہے جو کہ فقیر خانہ کا ایک حصہ ہے جہاں تبرکات اپنی اصلی حالت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان تبرکات کی تعداد27 ہے۔ متولی فقیر سید مغیث الدین بخاری مرحوم نے ہزاروں روپے کے تصرف سے دربار عالی تعمیر کیا۔ ان تبرکات میں حضور نبی کریم ﷺ کا موئے مبارک، چادر، تسبیح، مسواک اور جائے نماز شامل ہیں۔ کچھ تبرکات حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسینؓ، حضرت امام حسن ؓ، حضرت امام زین العابدین ؓ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرۃؓ اور حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے منسوب ہیں۔ یہاں چار تبرکات ایسے ہیں جو خاندان فقرا کو اپنے مورث اعلیٰ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاری ؒسے ورثے میں ملے ہیں باقی تمام تبرکات وہ ہیں جو شاہ محمد باز سے فقیر سید نور الدینؒ نے تین لاکھ روپے کے عوض حاصل کرکے انہیں ایک خاص عمارت میں محفوظ رکھا اور ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے تقریباً آٹھ لاکھ کی جائیداد بھی وقف کی۔فقیر خانہ عجائب گھر، میں سات ہزار نوادرات موجود ہیں اس کے علاوہ چھ ہزار سکے بھی ہیں۔ سکوں کو ملا کر ان کی تعداد 13 ہزار کے لگ بھگ بن جاتی ہے تبرکات اور نوادرات کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ خاندانی فقراء کے بزرگ وزیر فقیر سید نور الدینؒ نے 1853ء میں لارڈ لارنس کی فرمائش پر ان تبرکات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور ان کی تفصیل فارسی زبان میں قلمبند کی۔ یہ سادات خاندان اٹھارویں صدی میں اوچ شریف سے چونیاں اور پھر لاہور آکر آباد ہوا۔ اس دور میں انہوں نے بھاٹی گیٹ سے باہر ایک مدرسہ قائم کیا جہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ تکیہ غلام شاہ کے نام سے مشہور تھا۔ لاہور کے معززین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو خط لکھا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اس کے بعد ان بزرگوں میں طبیب بھی تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آنکھیں خراب ہوئیں اور اس بیماری سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی، جب دوسری آنکھ خراب ہونے لگی تو اس نے شاہی حکماء کو علاج کیلئے طلب کیا ان میں خاندان سادات کے بزرگ حکیم فقیر سید غلام محی الدین بھی تھے جنہوں نے رنجیت سنگھ کو بتایا کہ ان کے بیٹے فقیر سید عزیز الدین ان کا علاج کریںگے ان کے ہمراہ حکیم حاکم رائے اور حکیم بشن داس بھی تھے۔ جب مہاراجہ کا علاج شروع ہوا تو فقیر سید عزیز الدین کی شخصیت سے متاثر ہو کر مہاراجہ نے ان سے کہا کہ وہ حکومتی معاملات میں بھی اس کی معاونت کریں۔ سید عزیز الدین دیوان تھے وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی عدالت میں رہے مہاراجہ ان کی خدمت سے متاثر ہوا۔ فقیر سید عزیز الدین کے ساتھ ان کے دو چھوٹے بھائی فقیر سید امام الدین اور فقیر سید نور الدین بھی تھے۔ سید نور الدین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں پینٹنگز کی ایک نمائش کرائی جس میں لکھنئوکانگڑہ اور جموں و کشمیر کے علاقہ سے بے شمار مصوروں کی پینٹنگز لائی گئیں آج بھی کئی پینٹنگز انہی سے منسوب ہیں۔ اس کے علاوہ کتابیں، ظروف بہت اہم شاہکار ہیں۔ گندھارا تہذیب کے نوادرات میں تاریخی سکے بھی موجود ہیں۔ لکڑی کے ہاتھی دانت کی مصنوعات، پیتل اور تانبے کے کئی شاہکار بھی موجود ہیں۔ فرنیچر کے علاوہ اسلامک آرٹ یا کیلی گرافی کے بہت سے نمونے اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں لاہور میں107 خطاطی کے سکول تھے۔ اس لئے ہر قسم کی پینٹنگز اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔ نوادرات کا یہ خزانہ نسل درنسل منتقل ہونے کے باوجود بالکل محفوظ ہے۔ نوادرات سے محبت ان کے خاندان کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے۔ فقیر سید نور الدین کے بعد یہ نو ادرات جس کے حوالے ہوئے اس نے نہ صرف پوری ذمہ داری سے ان کی حفاظت کی بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا۔ اس طرح تقریباً اڑھائی سو سال سے یہ خاندان ان تبرکات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔1901ء میں فقیر خانہ کو عام لوگوں کیلئے کھول دیا گیا۔ آج بھی دنیا بھر سے لوگ اس کو دیکھنے آتے ہیں۔ فقیر خانہ میں سیاحوں کی جو ڈائری رکھی گئی ہے اس کے مطابق اب تک تین لاکھ سے زائد افراد اس عجائب گھر کو دیکھ چکے ہیں۔ فقیر سید سیف الدین نے بتایا کہ ان کے والد فقیر سید مغیث الدین کے پاس نوادرات کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا، جگہ نہ ہونے کے باعث بیشتر سامان آج بھی بند پڑا ہے۔1974ء میں سید مغیث الدین نے 500سے زائد نوادرات لاہور عجائب گھر کو بطور امانت دے دیئے تاکہ محفوظ رہیں اور خاص و عام ان سے مستفید ہو سکیں۔ فقیر سید مغیث الدین کے انتقال کے بعد ان کی بیگم کشور جہاں نے فقیر خانہ عجائب گھر کی اپنے بچوں کی طرح حفاظت کی۔ ایک ایک چیز کو اس کی اصلی حالت میں رکھنا، موسمی اثرات اور دیمک سے محفوظ رکھنا بڑے بڑے اداروں کے بس میں نہیں لیکن بیگم فقیر سید مغیث الدین نے بڑی جانفشانی سے ایک ایک چیز کی حفاظت کی اور ان کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ فقیر خانہ عجائب گھر ہر خاص و عام کیلئے کھلا ہے۔ سکالر، محقق، سیاح، طالب علم اور مورخ بھی اس عجائب گھر کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہ پاکستان میں ذاتی نوعیت کا واحد عجائب گھر ہے ۔تبرکات کے علاوہ یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں ہونے والی عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات اور ان کے فرامین بھی موجود ہیں۔ چار سو سال قبل از مسیح کے سکے اور گندھارا آرٹ کے نمونے بھی موجود ہیں۔ فقیر سید سیف الدین نے بتایا کہ آج بھی اگر انہیں پتہ چلے کہ نوادرات کہیں سے مل سکتے ہیں تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اسے فقیر خانہ کی زینت بنایا جائے۔شیخ نوید اسلم متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور تاریخی موضوعات پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں

حکائیت ِ سعدیؒ، مقام احسان

حکائیت ِ سعدیؒ، مقام احسان

کسی بستی میں ایک عالی حوصلہ اور شریف آدمی رہتا تھا جو تنگدست ہونے کے باوجود ہر وقت دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ ایک دن اس کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے سخی! میں نے ایک شخص سے قرض لیا تھا وقت پر ادائیگی نہ کر سکا اور اب وہ مجھے قید کروا دینے پر بضد ہے۔اس سوالی نے جتنی رقم مانگی تھی وہ کچھ زیادہ نہ تھی لیکن اس وقت اس شخص کے پاس یہ معمولی سی رقم بھی نہ تھی۔ ایسے لوگوں کے پاس سرمایہ جمع بھی کہاں رہتا ہے۔ ان کی مثال تو بلند پہاڑوں کی سی ہے کہ جو پانی ان پر برستا ہے اسی وقت ڈھلانوں پر بہہ جاتا ہے۔سوالی کو رقم نہ ملی تو قرض خواہ نے اسے قید کرا دیا۔ مردِ سخی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ قرض خواہ کے پاس گیا اور اس سے درخواست کی کہ آپ نے اپنے جس مقروض کو قید کرایا ہے اسے کچھ دنوں کیلئے آزاد کر دیجئے۔ اگر وہ پھر بھی آپ کی رقم ادا نہ کر سکا تو اس کی جگہ میں قید بھگتنے کو موجود ہوں۔ میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔قرض خواہ نے یہ درخواست قبول کرکے مقروض کو آزاد کر دیا۔ سخی مرد نے اس سے کہا کہ خدا نے تجھے قید سے رہائی بخش دی۔تو یہاں سے بھاگ جا، چنانچہ وہ فرار ہو گیا اور معاہدے کے مطابق قرض خواہ نے اس کی جگہ سخی مرد کو قید کرا دیا۔جب وہ قید کی سختیاں جھیل رہا تھا تو اس کے دوستوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ یہ بات تو دانائی کے مطابق معلوم نہیں ہوتی کہ تم نے پرائی مصیبت اپنے گلے میں ڈال لی جو خطا کار تھا وہ خود اپنے کئے کی سزا بھگتتا۔ سخی مرد نے جواب دیا تم اپنی جگہ ٹھیک سوچ رہے ہو لیکن میں نے جو کچھ کیا ٹھیک ہی کیا۔ وہ بے چارہ سوالی بن کر میرے پاس آیا تھا اور اس کی رہائی کی اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ میں اس کی جگہ قید ہو جائوں۔بیان کیا جاتا ہے کہ وہ مرد سخی قید خانے میں ہی مر گیا۔ اس کی رہائی کی کوئی سبیل پیدا نہ ہو سکی۔ بظاہر یہ کوئی اچھا انجام نہ تھا لیکن حقیقت میں اس نے حیات جادواں پا لی۔اس حکایت میں حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے مقام احسان کا حال بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں محسنین کا بہت بڑا درجہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے احسان کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ قاعدے قانون کے مطابق اور عام اخلاق کی رو سے انسان پر جو فرض عائد ہوتا ہو اس سے بڑھ کر نیکی کی جائے۔ مثلاً اگر کوئی قرض دار قرض کی رقم ادا نہ کر سکے تو اسے معاف کر دینا نیکی ہے، لیکن اگر معاف کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ کچھ اور سلوک بھی کیا جائے تو یہ احسان ہے۔