نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- فوٹیج میں کالعدم تنظیم کےکارکنوں کواسلحہ اٹھائےدیکھاجاسکتاہے
  • بریکنگ :- فائرنگ کرنےوالوں کی گرفتاری کیلئےنادراسےمددلی جارہی ہے،پولیس ذرائع
  • بریکنگ :- گزشتہ روزفائرنگ سے 2پولیس اہلکارشہید اورمتعددزخمی ہوئےتھے
  • بریکنگ :- لاہور: کالعدم تنظیم اورپولیس کےدرمیان جھڑپ بدستورجاری
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم کےمبینہ کارکنوں کی پولیس پر فائرنگ
  • بریکنگ :- مبینہ کارکنوں نے سادھوکی کے مقام پر پولیس پر فائرنگ کی
  • بریکنگ :- گزشتہ روز کالعدم تنظیم کے 4 سے 5 کارکنوں نےفائرنگ کی
  • بریکنگ :- ویڈیومیں کالعدم تنظیم کے کارکنوں کو فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے
Coronavirus Updates

امام احمد رضا اور ترک موالات

امام احمد رضا اور ترک موالات

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد


پاک و ہندو کا وہ عبقری جس نے فرنگی تہذیب و تمدّ ن اور فرنگی افکار وخیالات کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔جس نے تحریک خلافت اور تحریک ترک ِ موالات کے اند ر دوڑنے والی سورج کی برقی لہروں اور مسٹر گاندھی کی سیاسی حکمتِ عملی کا راز اس وقت پایاجب کسی نے نہ پایا۔ماسوائے چند بزرگوں کے۔جس نے اسلامی نشاۃِثانیہ کے لیے بھر پو ر کوشش کی۔ہرفردکوملی تشخص کااحساس دیااورتحریکِ پاکستان کے لیے فکری راہیںہموار کیں۔ہاں اُس نے صرف اسلام کی خاطرہندومسلم اشتراکِ عمل کو کسی قیمت پر قبول نہ کیا۔وہ کوہِ استقامت تھا،اُس نے حق کی خاطر ہر بے راہ سے ٹکر لی اور اپنی ناموس وعزت کواسلام اور پیغمبر اسلام ؐ کی ناموس پرقربان کردیا۔وہ اسلام کے متوالوں،فداکاروںاور جانثاروں کاسرتاج تھااُس کاکوئی حریف نہ تھا۔ اُس نے ہر فکر کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا ،کھوٹا اور کھرا الگ کر دکھایا۔اس کو دیوانہ کہا گیا مگر وہ تو فرزانوں کی آبرو تھا۔اسے’’مفکرالمسلمین‘‘ کہاگیا،مگروہ تو اسلام اور مسلمانو ں کا محافظ تھااسے’’مبتدع ‘‘کہاگیامگروہ تو سنت رسول ؐ کاپاس دارتھا،اسے فرنگیوں کادمساز کہا گیا مگر وہ تو اسلامیوں کا خیر خوا ہ تھا۔وہ ۱۹۲۱؁میں جب پورا مُلک کفر، شرک وبدعت کی لپیٹ میں تھا نعرہ ٔ مستانہ لگاتا ہوا خوابیدہ قوم کو جگا تا ہوا اپنے مولا کے حضور حاضر ہوگیا۔اس کی آواز نے اپنی تاثیر دکھائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم جاگ اٹھی۔اس کا ذہن برق رفتار تھا۔اس کی آنکھ عر ش نگاہ تھی۔اس کا سینہ بحرناپیدا کنار تھا ۔اس کا ہاتھ صبا رفتار تھا،وہ کیا تھا؟وہ کون تھا؟ اس نے کیاکیاکیا؟وہ سراپا حرکت تھا۔اس کی زندگی جامد نہیںتھی۔اس کی حرکت وعمل کے ایک نہیں بیسیوں پہلوہیں۔جس پہلو سے دیکھیے وہ متحرک نظر آتاہے۔حرکت و عمل کے ان مختلف پہلوؤں کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ امام احمدرضاؒنہایت ہی فعال تھے ۔ان پر کام کرنے کے لیے ایسی ہی فعال اکیڈمی کی ضرورت ہے۔امام احمد رضا نے محسوس کیا کہ اصل جنگ انگر یز سے نہیں بلکہ ہنودسے ہے چنا ں چہ تقسیمِ ہند کے بعد امام احمد رضا کے اس خیا ل کی تو ثیق ہو گئی۔کسی انگر یز نے پاکستا ن سے جنگ نہ کی نہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی،ہولی کھیلنے والے اور جنگ کرنے والے یہی ہنود تھے،جنہوں نے کبھی ’’ہندومسلم بھائی بھائی ‘‘کے دل پذیر نعرے لگائے تھے،یہ وہ حقیقت ہے جسے زمانے نے نصف صدی بعد ظاہر کیا،لیکن امام احمد رضاؒ نے 1920ء میں بلکہ اس سے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اسی لیے اُنہوں نے فلسفۂ گا ندھی کے سامنے اسلامی فلسفے کی بات کی، اپنو ں اور بیگانو ں میں جس نے فلسفۂ گا ند ھی کی بات کی اُس کا شدت سے تعاقب کیا اور مؤثر ردکیا۔جہاں تک اما م احمد رضا ؒکے مذہبی افکار کا تعلق ہے وہ سُنی حنفی اور پکے و سچے مسلمان تھے،ایمان میں کسی لچک کے قائل نہ تھے اسی لیے اُنہو ں نے اپنے معاصرین کے اقوال واعمال پر سخت تنقید کی اور کفر کے فتوے بھی لگائے چناں چہ ان کے مخالفین نے مشہو ر کر دیا کہ تفکیر مسلم امام احمد رضاؒکا محبو ب مشغلہ تھا لیکن حقیقت واقعہ یہ ہے کہ کلمۃالحق ان کا مسلک تھا اوراحیاء اسلام ان کا مقصد۔اس مسلک کا جو مخالف ہو تااوراس مقصد کی راہ میں جو حائل ہوتا خواہ اپنا ہو یا بیگانہ ،وہ پوری شدت سے اس کی مخالفت فرماتے اوراس کے لیے اپنی تمام فطری وعملی تو انائیاں صرف کرتے۔وہ اپنے مخالفین کے بر عکس اپنوں کی کبھی رعایت نہ کرتے۔یہی ان کی عدل گستری اورانصاف پسندی کا طُرّۂ امتیاز تھا جو محسوس کیا جاناچاہییے۔انگر یز وں کے زیر ِاثر قدیم وجد ید درس گا ہوں اور علمی اداروں سے آزاد خیالی اور فکر ی کج روی کا جو ایک سیلاب امڈا ا مام احمد رضا اس سیلا ب بے پناہ کے لیے بند ثابت ہوئے۔بے شک اگر یہ بند نہ ہوتا تو آزاد خیا لی اور بے راہ روی کا سیلاب نہ معلوم کتنوں کو بہا کرلے جاتا اور مستقبل کاکیا حال ہو تا؟س حقیقت پر گہرے غورفکر کی ضرورت ہے اور یہ بات مؤرخین کے لیے قابل تو جہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ کو ن تھا جس نے پوری قوم کو غارِ ہلاکت میںگر نے سے بچا یا اور اُسے شعورِ جان وایمان بخشا۔امام احمد رضانے اوائل بیسویں صدی عیسوی میں جس اسلامی غیر ت اورمومنانہ بصیر ت کا ثبوت دیا اس پران کے بعض مخالفین نے انگریزدوستی پر محمو ل فرمایاحالاں کہ اواخر انیسوی صدی ہجری میں انگریز کے حامی قلم کاروں اور رہنماؤں کے اقوا ل واعمال پر وہ پہلے ہی تنقید کر چکے تھے۔جس کے دل میں محبت مُصطفیٰ ؐ جا گز یں ہو چکی ہو اُس کے دل میں نہ انگریز کی محبت جگہ پا سکتی ہے اور نہ کسی اور کافر مشرک و مرتد کی۔امام احمد رضاکے بعض اشعار تیر و نشتر سے کم نہیں مگر یہ وہی تیر ہیں جو چادرِمصطفی ؐ پر بیٹھ کر حضرت حسان بن ثابتؓ نے چلائے تھے اوررسول اللہ ؐ نے دعاؤں کے پھول نچھاور کئے تھے۔بہت سے اشعاربظاہر نامعقول نظر آتے ہیں لیکن جب اُن کا پس ِ منظر سامنے آتا ہے تو ہر نا معقول شعر ،معقول نظر آنے لگتا ہے۔امام احمد رضا کے ان اشعار کی روح کفار ومشرکین ہند سیاسی اور تہذیبی تعاون سے پیدا ہونے والی کج خیالیوں اور بے راہ رویوں کی اصلاح ہے،یہی روح حضرت مجدد الف ثانی ؒکے مکتوبات شریف میں نظر آتی ہے۔جنہوں نے عہد جہانگیری میںایک عظیم الشان پُر امن انقلاب برپاکیا۔امام احمد رضا کے مخالفین کے لٹریچر کا اچھا خاصہ حصہ اس رو ح سے خالی ہے۔بلکہ اس کے بر عکس ان کی تاریخوں اور تذکروں میں ہندو زُعماکا نہایت ادب و احترام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جب کہ امام احمد رضا اور ان کے متبعین کا نفرت وحقارت کے ساتھ۔گویا ان کی نظر میں ان کا درجہ کفارومشرکین سے بھی گیا گزرا تھا۔امام احمد رضا کے مخالفین سے مؤدبانہ عر ض ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے امام احمد رضاکے افکار وخیالات اور تنقیدات کا مطالعہ کریں اور جذباتی انداز ِ فکر تر ک کردیں اور ان کے افکار سے اسی طرح استفادہ کریں جس طرح وسیع القلبی کے سا تھ مولانامحمد انور شاہ کشمیری نے استفادہ کیا تھا۔امام احمد رضا کے اُس جذبۂ صادق کو پہچاننے کی کوشش کریں جس نے اُنہیں وطن میں غریب الوطن بنادیاتھا۔آخر وطن میں انہوںنے غربت کیوں اختیار کی؟ کیا اپنے نفس کے لیے یہ سب کچھ کیایااسلام کے لیے؟کوئی دیوانہ ایسا نظر نہیں آتاجو خوا ہ مخواہ خود کو ہلاکت میں ڈالے اور زمانے بھر کی رسوائیاں مول لے،دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ اسلام کے ایسے سچے شیدائی کے احوال و واقعات ہر تعصب سے بالاتر ہوکر مطالعہ کئے جائیں جس طرح جامع ازہر (قاہرہ)کے اہل حدیث فاضل ڈاکٹر محی الدین الوائی(جواَب مدینہ یونیورسٹی میں ہیں)نے مطالعہ کیے اور ایک قیمتی مقالہ قلم بندکیاجوصوتالشرق(قاہرہ ، فروری 1970) میں شائع ہو ا۔ اور اب پروفیسر جے،ایم ،ایس،بلیان،صدرشعبہ علوم اسلامیہ لیڈن یونیورسٹی (ہالینڈ)اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔اسی طرح لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر حنیف اختر فاطمی نے انگریزی میں ایک مقالہ بعنوان’’اسلام کاتصورِ علم‘‘امام احمد رضا کی تصانیف کے حوالے سے لکھاہے۔امام احمد رضا نے جو کردار اداکیا وہ وہی تھا جو ایک ماہر سرجن کو اداکرنا چاہییے تھا پھر دوسروں کا فرض ہے کہ مریض کی کماحقہ‘تیماداری کریں اور اصلاح کی کوشش کریں ۔پروفیسرفاضل زیدی صدرشعبہ اُردو،گورنمنٹ کالج ،سکرنڈ (نواب شاہ سندھ)لکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت حجۃُالاسلام امام احمد رضابریلوی ؒ کی بابرکات ہستی ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتی تھی جس سے اپنو ں اور غیر وں سب نے اکتساب ِ نور کیا۔دین متین کی خدمت کے لیے انہوں نے اپنی ہستی وقف کردی تھی،انہیں اسلام اور بانی اسلام سرور دوجہاں احمد مجتبیٰ محمدمصطفی ؐسے جومحبت تھی وہ محتاج ِ بیان نہیں،ان کا نعتیہ کلام اس پر برہان ِقاطع ہے۔امام احمد رضاؒنے اپنی گراں قدر تصنیفات سے دین کی بڑی خدمت کی اور سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ دشمنانِ اسلام کا تعاقب کیا اور جو مسلمان اپنی سادہ لوحی سے دشمنوں کے فریب میں آئے انہیںفہمائش کی اور انہیں دشمنوں کے فریب سے آگاہ کیا۔امام احمد رضاؒایک مستند عالمِ دین ہی کی حیثیت سے عوام میں روشناس ہیں اور مسلمان سیاست دان کی حیثیت سے اُن کی ہستی ہنوز پردہ ٔ خفامیںہے۔ مسٹر گاندھی کے سحر سامری میں بڑے بڑے مسلمان علماء آگئے تھے،مولانا شوکت علی ،مولانا حسرت موہانی ،مولاناابولکلام آزاداورمولانا عبد الباری اُن کے ہم نو ا ہو گئے تھے،یہاں تک کہ ان حضرات نے گاؤ کُشی پر پابندی لگانے کے حق میں آوا زاٹھائی ،اُس وقت علمائے ہند میں صرف امام احمد رضا ہی کی وہ تنہا ذات تھی جس نے مسٹر گاندھی اور ان کے مسلمان ہم نوائوںکے خلاف قلمی جہاد کیا،اور مسلمان علماء کو اپنی مومنانہ فراست سے بر وقت متنبہ کیا۔اعلیٰ حضرت ؒ نے گاندھوی الحادوارتدادکے خلاف تادم آخر یں مسلسل جہاد فرمایا،غیرت اسلامیہ کے امین بن کر’’قوم پرست علمائے سوء ‘‘کے سیاسی فریب سے اُمّت مسلمہ کو بچانے کے لیے اپنی زندگی تَج دی،ملت مسلمہ تشخص کو ایک قومیت کے پر چار کرنے والے نام نہاد مسلم رہنماؤں کے ہتھکنڈوں کا برابر توڑ کرتے رہے اور اہل ہنود کے مقابلے میں ملت اسلامیہ کی شان دوبالارکھنے اور اسے’’ہندوسوراج‘‘کے ہاتھوں پامال ہونے سے مامون رکھنے کی خاطر ہمہ دم سینہ سپر رہے۔اعلیٰ حضرتؒ نے حق گوئی ،بے باکی،دینی حمیّت اور ملی غیرت اُجاگر کرتے ہوئے تحریک خلافت ترک موالات،گاندھوی فلسفے اور اس کے سحرمیںگرفتار نام نہاد مسلمان رہنماؤں پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے،گاندھی نے تحریک خلافت میں گھس کر ،ہندودھرم،ہندوثقافت اور ہندوسوراج کو جنوبی ایشیاکے مسلمانوں پر مسلط کرنے کاجوناپاک منصوبہ بنایاتھا،اسے منظر عام پرلاکرناکام بنانے کاسہرااعلیٰ حضرتؒ کے سر ہے،آپ نے جدل وجدال،مناظرے یا مناقشے کا سہارانہیں لیا بلکہ عدل ومیانہ روی پر گامزن رہتے ہوئے افہام وتفہیم کی راہ اختیارکی اور سُنت سنیہ کی پیروی کرتے ہوئے ہندو زدہ مسلمانوں کو’’براہین قاطعہ‘‘ سے قائل کرنے کی کوشش فرمائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
انٹرنیٹ کا آغاز کیسے ہوا؟،موجد کون تھا ؟آئی ایم پی مشین نے دنیا کو کیسے کنٹرول میں لیا

انٹرنیٹ کا آغاز کیسے ہوا؟،موجد کون تھا ؟آئی ایم پی مشین نے دنیا کو کیسے کنٹرول میں لیا

انٹر نیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ دنیا کی تمام ٹیکنالوجی اور ارتقاء انٹرنیٹ کی مرہون منت ہے تو غلط نہیں ہو گا۔اربوں ڈالر کی موبائل فون انڈسٹری ہو یا ورچوئل ورلڈسب انٹر نیٹ کے شاہکار ہیں۔انٹرنیٹ کی ایجاد کو 50سال سے زائدکا عرصہ گزر چکاہے۔1969ء کے اختتام میں، چاندپرانسانی قدم پڑنے کے کچھ ہفتوں بعد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسرلیونارڈ کلائن روک کے دفتر میں ایک سرمئی رنگ کادھاتی باکس موصول ہوا۔اس باکس کا سائز ایک ریفریجریٹر جتنا تھا۔یہ بات عام لوگوں کے لئے حیران کن تھی لیکن کلائن روک اس سے بہت خوش تھااور پرجوش نظر آرہا تھا۔60کی دہائی میںگہرے خاکی رنگ میں لی گئی اس کی تصویر اس کی خوشی کی بخوبی ترجمانی کررہی ہے۔وہ تصویر میں کھڑا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی باپ اپنی باصلاحیت اور قابل فخر اولاد کے ساتھ کھڑا ہو۔کلائن روک نے اپنی خوشی کی وجہ اپنے قریبی احباب کے علاوہ کسی کو سمجھانے کی کوشش کی ہوتی تو شائدوہ سمجھ نہ پاتے۔کچھ لوگ جنہیں اس باکس کی موجودگی کا علم تھا وہ بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ آخر یہ ہے کیا اور اس کا نام کیا ہے۔ یہ'' آئی ایم پی‘‘ تھاجسے انٹرفیس میسج پروسیسر بھی کہا جاتا ہے۔کچھ دیر قبل بوسٹن کی ایک کمپنی نے اسے بنانے کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔بوسٹن کے سنیٹر ٹیڈ کینیڈی نے ایک ٹیلی گرام کے ذریعے اس کی افادیت اور ماحول دوست ہونے کا اظہار کیا تھا۔کلائن کے دفتر کے باہر موجود مشین صرف دنیا میں رہنے والے مختلف لوگوںکے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم کام کرسکتی تھی۔دنیا میں انٹرنیٹ پہلی مرتبہ کب استعمال ہوا او ر اس کا باقاعدہ آغاز کس وقت ہوا اس کے متعلق یقینی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ بہت سے لوگ اس کی تخلیق میں شامل تھے اور کئی لوگوں نے اس کی تخلیق میںکلیدی کردار ادا کیا تھا۔اس لئے بہت سے لوگ اس کاا عزاز اپنے نام کرنا چاہتے تھے۔ 29اکتوبر1969ء میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوا، یہ کلائن روک کا مضبوط وعویٰ ہے کیونکہ اسی تاریخ کو پہلی مرتبہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے پیغام ایک سے دوسرے سرے پر بھیجا گیا تھا۔29اکتوبر1969ء رات 10بجے جب کلائن، اس کے ساتھی پروفیسر اور طلباء ہجوم کی صورت میں اس کے گرد جمع تھے تو کلائن روک نے کمپیوٹر کو آئی ایم پی کے ساتھ منسلک کیاجس نے دوسرے آئی ایم پی سے رابطہ کیا جوسیکڑوں میل دور ایک کمپیوٹر کے ساتھ منسلک تھا۔چارلی کلین نامی ایک طالب علم نے اس پر پہلا میسج ٹائپ کیا اور اس کے الفاظ وہی تھے جو تقریباً135برس قبل سیموئیل مورس نے پہلا ٹیلی گراف پیغام بھیجتے ہوئے استعمال کئے تھے۔کلائن روک کو جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اسے لاس اینجلس میں بیٹھ کر سٹینفرڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں موجود مشین میں لاگ ان کرنا ہے لیکن ظاہر طور پر اس کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے تھے۔کلائن نے جو بھی کیا وہ ایک تاریخ ہے اور اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ایسا کہنا حماقت ہو گی کیونکہ کلائن روک کے پہلا پیغام بھیجنے کے 12سال بعد اس سسٹم پر صرف213کمپیوٹر موجود تھے۔ 14سال بعد اسی سسٹم پر ایک کروڑ 60لاکھ لوگ آن لائن تھے اورای میل دنیا کے لئے نئے دروازے کھول رہی تھی۔حیران کن بات یہ ہے کہ1993ء تک صارفین کے پاس کوئی قابل استعمال ویب براؤزر موجود نہیں تھا۔1995ء میں ہمارے پاس ایمزون تھا،1998ء میں گوگل اور2001ء میں وکی پیڈیاموجود تھااور ُاس وقت تک 513 ملین لوگ آن لائن ہو چکے تھے۔ اس رفتار سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ انٹر نیٹ نے کتنی تیزی سے کامیابی کی منازل طے کیں اور اب انٹرنیٹ اپنی اگلی جنریشن میں داخل ہونے کو تیار ہے، جسے میٹاورس کہا جاتا ہے۔تاحال میٹا ورس ابھی ایک تصور سے زیادہ کچھ نہیں لیکن اس میٹا ورس کی ورچوئل ورلڈ میں آپ ہیڈ سیٹ کا استعمال کرتے ہوئے دیجیٹل دنیا میں قدم رکھ پائیں گے اور اپنے روز مرہ کے کام سر انجام دے دسکیں گے ۔انٹر نیٹ کے ارتقاء کا عمل اتنا برق رفتا رتھا کہ یہ بہت سے نشیب و فراز جو اس دنیا نے دیکھے ان کا ''گواہ‘‘ بن گیا۔ آج انٹرنیت اپنی ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔کلائن نے پہلا پیغام بھیجتے وقت یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ 50برس بعد یہ دنیا انٹر نیٹ کے ذریعے، فیس بک، ٹوئٹر ،وٹس ایپ اور انسٹا گرام جیسی ورچوئل ورلڈسے متعارف ہو گی ،جس کا استعمال دنیا کی سپر پاورز کے وزرائے اعلیٰ اور صدور بھی کیا کریں گے۔انٹر نیٹ نے دنیا کی سیاست کو بھی یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے یہی انٹرنیٹ کئی انقلاب اور بغاوتوں کا بھی گواہ ہے اور کسی حد تک وجہ بھی۔جس انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے کلائن روک سٹینفرڈ انسٹیٹیوٹ میں موجود کمپیوٹر پر لاگ ان کرنے کے لئے پریشان تھا وہی انٹرنیٹ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آج اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ پوری دنیا صرف135سے150گرام کے موبائل میں قید کر کے آپ کے ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے۔ آج دنیا کے 4 ارب66کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔(تنزیل الرحمن ایک نوجوان لکھاری ہیں اور تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں)

موٹاپے کے اسباب ، نتائج اور ان کا حل ۔۔۔

موٹاپے کے اسباب ، نتائج اور ان کا حل ۔۔۔

آج اپنے ارد گرد بیشتر افرادکو دیکھیں ہر کوئی اسی کوشش میں ہو گا کہ کسی نہ کسی طرح خود کو سمارٹ اور سلم رکھا جائے۔ لیکن ہمارے ہاں آبادی کا 10سے 15 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ دنیا میں 70فیصد افراد کو موٹاپے کا سامنا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ موٹاپے کا تعلق زیادہ کھانے سے ہے۔ عمر کے لحاظ سے وزن زیادہ بڑھ جانا موٹاپا شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ہمارے ہاں لوگ موٹاپے کو سیریس نہیں لیتے لیکن اس کے باعث مستقبل میں موٹاپے کے شکار افراد کو کئی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انگلینڈ کے شعبہ صحت کے ماہرین کے مطابق زیادہ وزن یا موٹاپا انسان کو ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں بھیجنے تک کا سبب بن سکتا ہے۔ موٹاپے کی اصل وجہ کیلوریز میں ضرورت سے زیادہ اضافہ ہے۔موٹاپے کے اسبابجنک فوڈ کا استعمال وزن کو بڑھاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ٹرینڈ بن چکا ہے کہ لوگ گھر کے کھانے کے بجائے فاسٹ فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اکثر رات کے اوقات میں لوگ پیزا، برگر، شوارما وغیرہ کھانے میںاستعمال کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ میں موجوداجزاء کیلوریز میں اضافہ کرتے ہیں جس سے جسم میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے جوموٹاپے کا سبب بنتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ریڈ میٹ (سرخ گوشت)کا زیادہ استعمال بھی وزن میں اضافے کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ ایک حد سے زیادہ سرخ گوشت کا استعمال جسم میں چربی کی مقدار کو بڑھاتا ہے جسم میں چربی کی زیادتی کسی بھی صورت صحت کے لیے موزوں نہیں۔فرائیڈ آلو کے چپس، سموسے پکوڑے اور دیگر گھی میں تلی ہوئی اشیا بھی وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔بعض انسانوں کے جینز بھی ایسے ہوتے ہیں جو جسم کو فربا کرتے ہیں اور وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی نہ کرنا اور خاص طور مستقل بیٹھے رہنا یا فوراً لیٹ جانے کے باعث بھی وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ذہنی دباؤ بھی موٹاپے کا سبب ہے، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ذہنی دباؤ وزن بڑھا دے۔ ماہرین کے مطابق جب انسان ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہا ہوتا ہے یا کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو نیند میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ مکمل نیند نہ لینے سے وقت بے وقت بھوک لگتی ہے اور پھر سکون تب ہی ملتا ہے جب کھانا کھا لیا جائے۔ جب وقت بے وقت کھانا کھایا جائے تو انسانی جسم میں شوگر لیول بڑھ جاتا ہے جو کہ وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ایک برطانوی ریسرچ کے مطابق نیند پوری نہ ہونے پر ہم ایک دن میں ضرورت سے زیادہ 385 کیلوریز اپنے جسم میں ڈالتے ہیں۔ورزش یا جسمانی آزمائشوں میں حصہ نہ لینے سے وزن بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ماہرین صحت نے تجربات کی روشنی میں بتایا ہے کہ صبح ناشتہ نہ کرنا بھی وزن بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح رات کا کھانا نہ کھانے سے بھی وزن بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ رات کا کھانا نہ کھانے سے ذہنی خلفشار پیدا ہوتا ہے اور پھر نیند ڈسٹرب ہوتی ہے اور نیند پوری نہ ہونے سے وزن بڑھنے کے اسباب اوپر بیان کیے گئے ہیں۔وزن بڑھنے سے پیداہونیوالے مسائلجب ایک شخص کا وزن اس کی عمر اور جسم کے تناسب سے زیادہ تجاوز کر جائے تو اسے کئی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں کولیسٹرول میں اضافہ ، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کے امراض، سانس کے مسائل، نیند کی خرابی، ذہنی عارضے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سستی کا طاری رہنا بھی مشاہدے میں آیا ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی ریسرچ کے مطابق زیادہ وزن کے حامل افراد میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے جس کے باعث کورونا وائرس کا جلد شکار ہو سکتے ہیں۔موٹاپے سے کیسے بچا جائے؟سب سے پہلے تو ضروری یہ ہے کہ ورزش کو معمول بنایا جائے۔ صبح کے اوقات میں ورزش کے بے شمار فوائد ہیں۔ ایک تو جسم چست و توانا ہو گا دوسرا یہ کہ چربی پگھلے گی، جب جسم میں چربی کی مقدار کم ہو گی تو وزن میں کمی ہو گی اور موٹاپے سے چھٹکارا ملے گا۔ تلی اور مرغن غذاؤں سے اجتناب کیا جائے۔ کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی کی جائے ۔گاجر کا جوس: گاجر کا جوس فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ چینی کے بغیر پینے سے وزن میں حیرت انگیز حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔مالٹے کا جوس: مالٹے کے جوس کو منفی کیلوریز جوس قرار دیا جاتا ہے۔ مالٹے کا جوس جسم میں موجود کیلوریز کو جلانے میں مدد دیتا ہے ۔تربوز کا جوس: تربوز کا جوس جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے ،جوس میں موجود امائینوایسڈز کیلوریز جلانے میں مددگارہے ۔

 جیجو آئی لینڈ، جزیرہ نما کوریا کا جنت نظیر علاقہ

جیجو آئی لینڈ، جزیرہ نما کوریا کا جنت نظیر علاقہ

جزیرہ نما کوریا کا ایک حسین علاقہ جیجو آئی لینڈ اس خط ٔ ارض کے سینے پر دمکتا ہوا ایک ایساہیرا ہے جسے بلاشبہ اس کی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس جزیرے کا نیم بارانی موسم، جھیلیں اور چشمے ،انتہائی لذیذ اور روایتی کھانے اور اس کی ثقافت اسے کوریا کے دیگر علاقوں سے ممتاز کرتی ہے،اس جزیرے پر موجود آتش فشاں پہاڑ(Hall Asan)بھی اس خسین خطے کی ایک اہم یادگار ہے۔موسم بہار میں اس علاقے کی سیر سیاحوں پر ایک سحر طاری کر دیتی ہے۔اس وقت یہ وادی رنگا رنگ پھولوں سے ڈھک جاتی ہے۔جزیزہ جیجوصرف قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال نہیں ہے بلکی یہاں فائیو سٹار ہوٹل بھی ہیں۔ اس جزیرے پر صرف عالمی معیار کے ریسٹورنٹ ہی نہیں بلکی اس کے ساحل بھی اتنے خوبصورت ہیں کہ یہاں ہر لخظہ سمندری لہریں ٹکراتی رہتی ہیں۔جیجو کے قریب یوڈوآئی لینڈ ہے۔''UDO‘‘ کے معنی مقامی زبان میں '' گائے‘‘ کے ہیں۔یہاں بڑے پیمانے پر فش فارمنگ کی جاتی ہے۔اس جزیرے پر ایک بلند و بالا پہاڑ بھی ہے ۔اس پہاڑ پر سے اس کے پڑوسی جزیرے جیجو کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔جیجو کی مشہور و معروف آبشار کا نظارہ بھی سیاحوں پر جادو طاری کر دیتا ہے۔ اس آبشار کی تین دھاریں الگ الگ سمندر میں گرتی ہیں اور یہ نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اس جزیرے کے حوالے سے کوریا میں کئی دیو مالائی کہانیاں بھی مشہور ہیں۔یہاں پر موجود 5کلومیٹربلند چٹان بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اقتباسات،محبت

اقتباسات،محبت

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی عمل سے وابستہ نہیں ہوتا ۔ اچھائی، برائی ، کمی بیشی ، اونچ نیچ محبت کے سامنے یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ۔محبت کرنے والا محبوب کی خوبیاں خرابیاں نہیں دیکھ پاتابلکہ محبوب کی خرابیوں کو اپنی کج ادائیوں کی طرح قبول کر لیتا ہے ۔ڈیروں پر اسی محبت کاعکس نظر آتا ہے اور غالباً اسی محبت کی تلاش خلق کو بابوں کے پاس لے جاتی رہی ۔مشکل یہ ہے کہ کچھ لوگ محبت کے اہل نہیں ہوتے ۔انہیں اپنی ذہانت پر اس قدر مان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں میں کیڑے نکال کر ، کسی اور کا قد چھوٹا کر کے ، کسی دوسری کی خوبیوں میں خرابی کا پہلو نکال کر اپنی عظمت کی کلا جگاتے ہیں ۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ خان صاحب فرشتہ تھے ۔ان میں انسان ہونے کے ناطے خوبی اور خرابی کے دریا ساتھ ساتھ بہتے ہونگے ۔ان میں بھی حب جاہ کی طلب ہوگی ۔لیکن ان کے چاہنے والوں کی توجہ کبھی ادھر نہیں گئی ۔وہ کبھی ان کی بشریت کی طرف دھیان نہ دے پائے ۔ اورانہیں ایک بہت بڑا آدمی ، برگزیدہ صوفی اور انمول ادیب سمجھتے رہے ۔لیکن سوسائٹی میں کچھ نکتہ چیں قسم کے لوگ رہتے ہیں جو محبتی طریقہ نہیں اپنا سکتے ۔اور پکڑ پکڑ کر سینت سینت کے خان صاحب کی غلطیاں نکالنے کے درپے رہتے ہیں ۔دونوں قسم کے لوگوں میں صرف رویے کا فرق ہے ۔مہربان لوگوں کا رویہ ماں کی طرح ستر پوشی کا ہے اور عیب ڈھونڈھنے والے اپنے سچ پر اپنی ذہانت پر اعتماد کرتے ہیں ۔(از بانو قدسیہ راہ رواں)

حکائیت ِ سعدیؒ، کنجوسی کا انجام

حکائیت ِ سعدیؒ، کنجوسی کا انجام

ایک شخص کافی مالدار تھا لیکن کنجوس مکھی چوس تھا ایسا کہ نہ اپنے اوپر خرچ کرتا تھا نہ اپنے بال بچوں پر ۔ گو یا مال جمع کرنے کی ہوس نے اسے اپنا قیدی بنا لیا تھا اور روپیہ پیسہ اس کی قید میںپھنس کر رہ گیا تھا۔جس کی رہائی کوئی صورت نہ تھی۔اس شخص کا بیٹا ہمیشہ اس کی فکر میں رہتا تھا کہ کسی طرح اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا باپ دولت کس جگہ جمع کرتا ہے۔ بالآخر ایک دن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو گیا۔اس نے کنجوس کے خزانے کا سراغ لگا لیا اور جب وہ باہر گیا ہوا تھا تو سارا سونا اور چاندی نکال کر ان کی جگہ پتھر رکھ دئیے۔باپ جس درجے کا کنجوس تھا ،بیٹا اس درجے کا بدعقل اور عیاش تھا۔مال ہاتھ آیا تو اس نے راگ رنگ کی محفلیں آراستہ کیں اور یہ مفت کا مال بہت بے رحمی سے خرچ کرنے لگا۔کنجوس پر یہ راز کھلا تو اس نے اپنا سر پیٹ لیا،لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔اب تو صورت حال یہ تھی کہ باپ فکر اور غم کی وجہ سے ساری رات جاگتا رہتا تھا اور بیٹارقص و سرور کی محفل میں مدہوش رہتا تھا۔مال ضائع ہونے سے پہلے اگر وہ کنجوس یہ بات سمجھ لیتاتواسے یقینا فائدہ پہنچ سکتا تھا کہ مال تو اس لئے ہوتا ہے کہ انسان اپنے بال بچوں کی جائز ضرورتوں اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے۔ کنجوس کی مثال خزانے کے سانپ جیسی ہے کہ نہ وہ اس سے خود کسی طرح کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے دیتاہے۔وہ کوڑی کوڑی جوڑتا ہے اور بھرا خزانہ دوسروں کے لئے چھوڑ جاتا ہے۔شیخ سعدی شیرازیؒ نے اس حکایت میں بخیل کی مذمت کی ہے اور ایسے لوگوں کو ان کے اس انجام کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے وہ لازمی طور پر دوچار ہوتے ہیں۔ایک دن موت کا فرشتہ اچانک نمودار ہوتا ہے اور انہیں ان کے مال و متاع سے جدا کر کے قبر کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔

نقطہ نظر کیا ہے؟انسان کی اپنے بارے میں رائے آئینے میں عکس کی طرح ہوتی ہے

نقطہ نظر کیا ہے؟انسان کی اپنے بارے میں رائے آئینے میں عکس کی طرح ہوتی ہے

ہر شخص کا کسی مسئلے پر ذاتی نقطہ نظر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ کے اس ذاتی نقطہ نظر سے تمام لوگ اتفاق کریں۔کچھ آپ کے ذاتی نقطہ نظر سے اتفاق کریں گے جبکہ کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہیں آپ کے نقطہ سے اختلاف ہوگا۔ یہ نقطہ نظر ایسے ہی قائم نہیں ہو جاتا۔ اس کے لئے پہلے آپ کی بصارت کام کرتی ہے۔ چیزوں کو پرکھنے کے لئے آپ کی دماغی قوت بھی آپ کا ساتھ دیتی ہے پھر کہیں جا کر آپ کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ جب آپ خوب غور و غوض کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں تو آپ کے لئے اس سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ وہ ایک ایسا نتیجہ ہوتا ہے جس سے آپ فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ اسے انگریزی میں Inescapable Conclusion کہتے ہیں۔نقطہ نظر بنانے کے لئے سب سے پہلے آپ کو یہ چیک کرنا چاہئے کہ آپ کا موڈ کیا ہے؟ کیا آپ اپنے موڈ کو درست طریقے سے سمجھ سکتے ہیں؟ آپ کے احساسات کیا ہیں؟ آپ اپنی ذہانت کو صحیح طریقے سے بیان کر سکتے ہیں یا نہیں؟کیا آ پ کا دماغ مستعد ہے؟ آپ جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کی صلاحیت انسانوں میں موجود ہے۔ جانوروں میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔ ہم اسے خود آگاہی کہتے ہیں یہ وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پرآپ کے سوچنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کو دنیا کی ہر چیز پر فوقیت حاصل ہے اور یہی وہ سبب ہے جس کے بارے میں مشہور مفکر ہنری ڈیوڈ کہتا ہے ''میں اس حوصلہ افزا حقیقت سے زیادہ نہیں جانتا کہ انسانی قابلیت اور صلاحیت ہر شک و شبے سے بالاتر ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت ہم دوسروں کے تجربوں سے سیکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے تجربوں سے بھی سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور یہی صلاحیت ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ آپ کوئی عادت اپنا بھی سکتے ہیں اور پھر اسے ترک بھی کر سکتے ہیں اور یہی وہ قابلیت ہے جو آپ کی زندگی کو شعوری کوشش سے بہت اوپر لے جا سکتی ہے‘‘۔اگر ہمارے نقطہ نظر کی تشکیل سماجی آئینے(Social Mirror) کی مر ہون منت ہے تویہ نقطہ نظر کئی حوالوں سے ناقص ہو سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نقطہ نظر کی تشکیل میں لوگوں کی رائے اور نظریات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یعنی آپ کی اپنے بارے میں رائے یا خیال آئینے میں عکس کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے مطابق آپ کے ذہن میں جو سوالات اُبھر سکتے ہیں وہ کچھ اس طرح کے ہوں گے۔1۔آپ کبھی وقت پر اپنا کام نہیں کرتے۔2۔آپ کبھی کبھی اپنی چیزوں کوترتیب سے نہیں رکھتے۔3۔آپ کے لئے ایک فنکار ہونا بہت ضروری ہے۔4۔آپ گھوڑوں کی طرح کھاتے ہیں۔5۔میں یہ یقین نہیں کر سکتا کہ آپ جیت گئے۔6۔یہ بہت سادہ سی بات ہے آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟یہ نقطہ نظر کسی تناسب کے بغیر ہیں اور منقطع ہیں۔ اس بات کو فراموش مت کیجئے کہ آپ کے رویے اور مزاج میں جینیاتی جبریت (Genetic Determinism) اہم کر دار ادا کرتی ہے۔زیادہ تر لغات میں آپ کو لٹریچر کا مطلب نہیں ملے گا۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی حیثیت سے ہم اپنی زندگی کے ذمہ دار خود ہیں۔ نہایت اہم بات یہ ہے کہ ہمارا رویہ ہمارے فیصلوں کا تعین کرتا ہے یعنی ہمارے فیصلوں کے پیچھے ہمارے رویوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ہم اپنے احساسات کو اقدار کے تحت ماتحت کر سکتے ہیں۔اب ایک اورلفظ پر یقین کیجئے۔یہ ہے ذمہ داری۔ذمہ داری کا دراصل مطلب یہ ہے کہ آپ جواب یا ردعمل کا انتخاب کیسے کرتے ہیں۔بہت زیادہ لوگ ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا یہ موقف ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی چیز کی ذمہ داری لیتے ہیں وہ حالات کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے اور نہ ہی وہ اپنے رویے کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس بات کا بھی ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کام کرنے کے ماحول کے مطابق ڈھال نہیں سکے۔کچھ لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ فوری طور پر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو انگریزی میں Reactiveکہتے ہیں۔ ردعمل کا اظہار ایک حد تک ٹھیک ہے لیکن اگر آپ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا اظہار کریں گے تو یہ عمل آپ کے نقطہ نظر کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ان کا رویہ ان کے شعوری انتخاب کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ ردعمل رکھنے والے لوگوں پر سماجی ماحول کا بھی اثر پڑتا ہے۔ جب لوگ ان سے اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو انہیں بہت اچھا محسوس ہوتا ہے اور جب ایسے لوگوں سے اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تو پھر وہ دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں یا پھر اپنی حفاطت کرنے کی سعی کرتے ہیں۔یہ بات بھی نوٹ کر لیں کہ فعال لوگ (Pro-Active People)کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتے۔نہیں جناب ایسا نہیں ہے ان لوگوں پر بیرونی محرکات بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔چاہے محرکات طبعی ہوں، سماجی ہوں یا نفسیاتی۔ لیکن بیرونی محرکات کو یہ لوگ جو جواب دیتے ہیں ان کی بنیاد اقدار پر ہوتی ہے۔سابق امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا ''آپ کو آپ کی مرضی کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘۔مذکورہ بالا تمام اوصاف آپ کو اپنے نقطہ نظر کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں یعنی یہ خوبیاں اپنا کر آپ اپنے اصولوں کی عمارت تعمیر کر سکتے ہیں جس کی بنیاد آپ کے نقطہ نظر کی اینٹوں پر رکھی ہو۔ اگر آپ ان اصولوں کو نہیں اپناتے تو یقین رکھیں کسی بھی معاملے پر آپ کا نقطہ نظر خامیوں سے پاک نہیں ہوگا۔(مصنف سٹیفن آر کووے کی بیسٹ سیلر بک ''دی سیون ہیبٹسآف ہائلی افیکٹیو پیپل‘‘ سے اقتباس)