امام احمد رضا اور ترک موالات

امام احمد رضا اور ترک موالات

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد


پاک و ہندو کا وہ عبقری جس نے فرنگی تہذیب و تمدّ ن اور فرنگی افکار وخیالات کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔جس نے تحریک خلافت اور تحریک ترک ِ موالات کے اند ر دوڑنے والی سورج کی برقی لہروں اور مسٹر گاندھی کی سیاسی حکمتِ عملی کا راز اس وقت پایاجب کسی نے نہ پایا۔ماسوائے چند بزرگوں کے۔جس نے اسلامی نشاۃِثانیہ کے لیے بھر پو ر کوشش کی۔ہرفردکوملی تشخص کااحساس دیااورتحریکِ پاکستان کے لیے فکری راہیںہموار کیں۔ہاں اُس نے صرف اسلام کی خاطرہندومسلم اشتراکِ عمل کو کسی قیمت پر قبول نہ کیا۔وہ کوہِ استقامت تھا،اُس نے حق کی خاطر ہر بے راہ سے ٹکر لی اور اپنی ناموس وعزت کواسلام اور پیغمبر اسلام ؐ کی ناموس پرقربان کردیا۔وہ اسلام کے متوالوں،فداکاروںاور جانثاروں کاسرتاج تھااُس کاکوئی حریف نہ تھا۔ اُس نے ہر فکر کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا ،کھوٹا اور کھرا الگ کر دکھایا۔اس کو دیوانہ کہا گیا مگر وہ تو فرزانوں کی آبرو تھا۔اسے’’مفکرالمسلمین‘‘ کہاگیا،مگروہ تو اسلام اور مسلمانو ں کا محافظ تھااسے’’مبتدع ‘‘کہاگیامگروہ تو سنت رسول ؐ کاپاس دارتھا،اسے فرنگیوں کادمساز کہا گیا مگر وہ تو اسلامیوں کا خیر خوا ہ تھا۔وہ ۱۹۲۱؁میں جب پورا مُلک کفر، شرک وبدعت کی لپیٹ میں تھا نعرہ ٔ مستانہ لگاتا ہوا خوابیدہ قوم کو جگا تا ہوا اپنے مولا کے حضور حاضر ہوگیا۔اس کی آواز نے اپنی تاثیر دکھائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم جاگ اٹھی۔اس کا ذہن برق رفتار تھا۔اس کی آنکھ عر ش نگاہ تھی۔اس کا سینہ بحرناپیدا کنار تھا ۔اس کا ہاتھ صبا رفتار تھا،وہ کیا تھا؟وہ کون تھا؟ اس نے کیاکیاکیا؟وہ سراپا حرکت تھا۔اس کی زندگی جامد نہیںتھی۔اس کی حرکت وعمل کے ایک نہیں بیسیوں پہلوہیں۔جس پہلو سے دیکھیے وہ متحرک نظر آتاہے۔حرکت و عمل کے ان مختلف پہلوؤں کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ امام احمدرضاؒنہایت ہی فعال تھے ۔ان پر کام کرنے کے لیے ایسی ہی فعال اکیڈمی کی ضرورت ہے۔امام احمد رضا نے محسوس کیا کہ اصل جنگ انگر یز سے نہیں بلکہ ہنودسے ہے چنا ں چہ تقسیمِ ہند کے بعد امام احمد رضا کے اس خیا ل کی تو ثیق ہو گئی۔کسی انگر یز نے پاکستا ن سے جنگ نہ کی نہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی،ہولی کھیلنے والے اور جنگ کرنے والے یہی ہنود تھے،جنہوں نے کبھی ’’ہندومسلم بھائی بھائی ‘‘کے دل پذیر نعرے لگائے تھے،یہ وہ حقیقت ہے جسے زمانے نے نصف صدی بعد ظاہر کیا،لیکن امام احمد رضاؒ نے 1920ء میں بلکہ اس سے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اسی لیے اُنہوں نے فلسفۂ گا ندھی کے سامنے اسلامی فلسفے کی بات کی، اپنو ں اور بیگانو ں میں جس نے فلسفۂ گا ند ھی کی بات کی اُس کا شدت سے تعاقب کیا اور مؤثر ردکیا۔جہاں تک اما م احمد رضا ؒکے مذہبی افکار کا تعلق ہے وہ سُنی حنفی اور پکے و سچے مسلمان تھے،ایمان میں کسی لچک کے قائل نہ تھے اسی لیے اُنہو ں نے اپنے معاصرین کے اقوال واعمال پر سخت تنقید کی اور کفر کے فتوے بھی لگائے چناں چہ ان کے مخالفین نے مشہو ر کر دیا کہ تفکیر مسلم امام احمد رضاؒکا محبو ب مشغلہ تھا لیکن حقیقت واقعہ یہ ہے کہ کلمۃالحق ان کا مسلک تھا اوراحیاء اسلام ان کا مقصد۔اس مسلک کا جو مخالف ہو تااوراس مقصد کی راہ میں جو حائل ہوتا خواہ اپنا ہو یا بیگانہ ،وہ پوری شدت سے اس کی مخالفت فرماتے اوراس کے لیے اپنی تمام فطری وعملی تو انائیاں صرف کرتے۔وہ اپنے مخالفین کے بر عکس اپنوں کی کبھی رعایت نہ کرتے۔یہی ان کی عدل گستری اورانصاف پسندی کا طُرّۂ امتیاز تھا جو محسوس کیا جاناچاہییے۔انگر یز وں کے زیر ِاثر قدیم وجد ید درس گا ہوں اور علمی اداروں سے آزاد خیالی اور فکر ی کج روی کا جو ایک سیلاب امڈا ا مام احمد رضا اس سیلا ب بے پناہ کے لیے بند ثابت ہوئے۔بے شک اگر یہ بند نہ ہوتا تو آزاد خیا لی اور بے راہ روی کا سیلاب نہ معلوم کتنوں کو بہا کرلے جاتا اور مستقبل کاکیا حال ہو تا؟س حقیقت پر گہرے غورفکر کی ضرورت ہے اور یہ بات مؤرخین کے لیے قابل تو جہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ کو ن تھا جس نے پوری قوم کو غارِ ہلاکت میںگر نے سے بچا یا اور اُسے شعورِ جان وایمان بخشا۔امام احمد رضانے اوائل بیسویں صدی عیسوی میں جس اسلامی غیر ت اورمومنانہ بصیر ت کا ثبوت دیا اس پران کے بعض مخالفین نے انگریزدوستی پر محمو ل فرمایاحالاں کہ اواخر انیسوی صدی ہجری میں انگریز کے حامی قلم کاروں اور رہنماؤں کے اقوا ل واعمال پر وہ پہلے ہی تنقید کر چکے تھے۔جس کے دل میں محبت مُصطفیٰ ؐ جا گز یں ہو چکی ہو اُس کے دل میں نہ انگریز کی محبت جگہ پا سکتی ہے اور نہ کسی اور کافر مشرک و مرتد کی۔امام احمد رضاکے بعض اشعار تیر و نشتر سے کم نہیں مگر یہ وہی تیر ہیں جو چادرِمصطفی ؐ پر بیٹھ کر حضرت حسان بن ثابتؓ نے چلائے تھے اوررسول اللہ ؐ نے دعاؤں کے پھول نچھاور کئے تھے۔بہت سے اشعاربظاہر نامعقول نظر آتے ہیں لیکن جب اُن کا پس ِ منظر سامنے آتا ہے تو ہر نا معقول شعر ،معقول نظر آنے لگتا ہے۔امام احمد رضا کے ان اشعار کی روح کفار ومشرکین ہند سیاسی اور تہذیبی تعاون سے پیدا ہونے والی کج خیالیوں اور بے راہ رویوں کی اصلاح ہے،یہی روح حضرت مجدد الف ثانی ؒکے مکتوبات شریف میں نظر آتی ہے۔جنہوں نے عہد جہانگیری میںایک عظیم الشان پُر امن انقلاب برپاکیا۔امام احمد رضا کے مخالفین کے لٹریچر کا اچھا خاصہ حصہ اس رو ح سے خالی ہے۔بلکہ اس کے بر عکس ان کی تاریخوں اور تذکروں میں ہندو زُعماکا نہایت ادب و احترام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جب کہ امام احمد رضا اور ان کے متبعین کا نفرت وحقارت کے ساتھ۔گویا ان کی نظر میں ان کا درجہ کفارومشرکین سے بھی گیا گزرا تھا۔امام احمد رضا کے مخالفین سے مؤدبانہ عر ض ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے امام احمد رضاکے افکار وخیالات اور تنقیدات کا مطالعہ کریں اور جذباتی انداز ِ فکر تر ک کردیں اور ان کے افکار سے اسی طرح استفادہ کریں جس طرح وسیع القلبی کے سا تھ مولانامحمد انور شاہ کشمیری نے استفادہ کیا تھا۔امام احمد رضا کے اُس جذبۂ صادق کو پہچاننے کی کوشش کریں جس نے اُنہیں وطن میں غریب الوطن بنادیاتھا۔آخر وطن میں انہوںنے غربت کیوں اختیار کی؟ کیا اپنے نفس کے لیے یہ سب کچھ کیایااسلام کے لیے؟کوئی دیوانہ ایسا نظر نہیں آتاجو خوا ہ مخواہ خود کو ہلاکت میں ڈالے اور زمانے بھر کی رسوائیاں مول لے،دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ اسلام کے ایسے سچے شیدائی کے احوال و واقعات ہر تعصب سے بالاتر ہوکر مطالعہ کئے جائیں جس طرح جامع ازہر (قاہرہ)کے اہل حدیث فاضل ڈاکٹر محی الدین الوائی(جواَب مدینہ یونیورسٹی میں ہیں)نے مطالعہ کیے اور ایک قیمتی مقالہ قلم بندکیاجوصوتالشرق(قاہرہ ، فروری 1970) میں شائع ہو ا۔ اور اب پروفیسر جے،ایم ،ایس،بلیان،صدرشعبہ علوم اسلامیہ لیڈن یونیورسٹی (ہالینڈ)اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔اسی طرح لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر حنیف اختر فاطمی نے انگریزی میں ایک مقالہ بعنوان’’اسلام کاتصورِ علم‘‘امام احمد رضا کی تصانیف کے حوالے سے لکھاہے۔امام احمد رضا نے جو کردار اداکیا وہ وہی تھا جو ایک ماہر سرجن کو اداکرنا چاہییے تھا پھر دوسروں کا فرض ہے کہ مریض کی کماحقہ‘تیماداری کریں اور اصلاح کی کوشش کریں ۔پروفیسرفاضل زیدی صدرشعبہ اُردو،گورنمنٹ کالج ،سکرنڈ (نواب شاہ سندھ)لکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت حجۃُالاسلام امام احمد رضابریلوی ؒ کی بابرکات ہستی ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتی تھی جس سے اپنو ں اور غیر وں سب نے اکتساب ِ نور کیا۔دین متین کی خدمت کے لیے انہوں نے اپنی ہستی وقف کردی تھی،انہیں اسلام اور بانی اسلام سرور دوجہاں احمد مجتبیٰ محمدمصطفی ؐسے جومحبت تھی وہ محتاج ِ بیان نہیں،ان کا نعتیہ کلام اس پر برہان ِقاطع ہے۔امام احمد رضاؒنے اپنی گراں قدر تصنیفات سے دین کی بڑی خدمت کی اور سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ دشمنانِ اسلام کا تعاقب کیا اور جو مسلمان اپنی سادہ لوحی سے دشمنوں کے فریب میں آئے انہیںفہمائش کی اور انہیں دشمنوں کے فریب سے آگاہ کیا۔امام احمد رضاؒایک مستند عالمِ دین ہی کی حیثیت سے عوام میں روشناس ہیں اور مسلمان سیاست دان کی حیثیت سے اُن کی ہستی ہنوز پردہ ٔ خفامیںہے۔ مسٹر گاندھی کے سحر سامری میں بڑے بڑے مسلمان علماء آگئے تھے،مولانا شوکت علی ،مولانا حسرت موہانی ،مولاناابولکلام آزاداورمولانا عبد الباری اُن کے ہم نو ا ہو گئے تھے،یہاں تک کہ ان حضرات نے گاؤ کُشی پر پابندی لگانے کے حق میں آوا زاٹھائی ،اُس وقت علمائے ہند میں صرف امام احمد رضا ہی کی وہ تنہا ذات تھی جس نے مسٹر گاندھی اور ان کے مسلمان ہم نوائوںکے خلاف قلمی جہاد کیا،اور مسلمان علماء کو اپنی مومنانہ فراست سے بر وقت متنبہ کیا۔اعلیٰ حضرت ؒ نے گاندھوی الحادوارتدادکے خلاف تادم آخر یں مسلسل جہاد فرمایا،غیرت اسلامیہ کے امین بن کر’’قوم پرست علمائے سوء ‘‘کے سیاسی فریب سے اُمّت مسلمہ کو بچانے کے لیے اپنی زندگی تَج دی،ملت مسلمہ تشخص کو ایک قومیت کے پر چار کرنے والے نام نہاد مسلم رہنماؤں کے ہتھکنڈوں کا برابر توڑ کرتے رہے اور اہل ہنود کے مقابلے میں ملت اسلامیہ کی شان دوبالارکھنے اور اسے’’ہندوسوراج‘‘کے ہاتھوں پامال ہونے سے مامون رکھنے کی خاطر ہمہ دم سینہ سپر رہے۔اعلیٰ حضرتؒ نے حق گوئی ،بے باکی،دینی حمیّت اور ملی غیرت اُجاگر کرتے ہوئے تحریک خلافت ترک موالات،گاندھوی فلسفے اور اس کے سحرمیںگرفتار نام نہاد مسلمان رہنماؤں پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے،گاندھی نے تحریک خلافت میں گھس کر ،ہندودھرم،ہندوثقافت اور ہندوسوراج کو جنوبی ایشیاکے مسلمانوں پر مسلط کرنے کاجوناپاک منصوبہ بنایاتھا،اسے منظر عام پرلاکرناکام بنانے کاسہرااعلیٰ حضرتؒ کے سر ہے،آپ نے جدل وجدال،مناظرے یا مناقشے کا سہارانہیں لیا بلکہ عدل ومیانہ روی پر گامزن رہتے ہوئے افہام وتفہیم کی راہ اختیارکی اور سُنت سنیہ کی پیروی کرتے ہوئے ہندو زدہ مسلمانوں کو’’براہین قاطعہ‘‘ سے قائل کرنے کی کوشش فرمائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

اقوام متحدہ نے خبر دار کر دیامصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے حالیہ کچھ عرصے میں دنیا کو حیران کن رفتار سے بدل دیا ہے۔ تعلیم، طب، صنعت، تجارت، صحافت اور تحقیق سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی کے محققین کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر AI کا پھیلاؤ اسی طرح جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز اتنا پانی استعمال کر سکتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مجموعی پینے کے پانی کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گا۔ یہ پیشگوئی ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔مصنوعی ذہانت اور پانی کا تعلقعام طور پر جب ہم AI کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور جدید الگورتھمز آتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس کا قدرتی وسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے ہزاروں طاقتور سرورز پر مشتمل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں۔ یہ سرورز مسلسل کام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس حرارت کو کم کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جن میں پانی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان مراکز کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس بھی پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی دباؤدنیا بھر میں AI کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ کروڑوں افراد مختلف AI ٹولز کے ذریعے سوالات پوچھتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ویڈیوز تیار کرتے ہیں اور پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہر پرامپٹ کے پیچھے طاقتور کمپیوٹرز کی ایک وسیع دنیا کام کر رہی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر AI کے استعمال میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ انفراسٹرکچر کھربوں لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تخمینہ ہے لیکن اس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ٹیکنالوجی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ فوائد اور نقصانات دونوں لاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک طرف AI بیماریوں کی تشخیص بہتر بنا رہی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہے اور کاروباری کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے، تو دوسری طرف اس کے ماحولیاتی اثرات نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر اور سستی ہو جاتی ہے تو اس کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً مجموعی وسائل کی کھپت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی رجحان AI کے معاملے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔پانی کی کمی اور چیلنجپانی کی قلت پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر مؤثر آبی انتظام اور زرعی ضروریات پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایسے حالات میں اگر عالمی سطح پر AI انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی اور توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات بالواسطہ طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔کیا اس مسئلے کا حل موجود ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز تیار کر رہی ہیں جو کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر سمندری پانی، ری سائیکل شدہ پانی اور جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کرنے والے AI ماڈلز اور زیادہ مؤثر کمپیوٹر چپس پر بھی کام جاری ہے۔حکومتیں بھی ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہیں۔ اگر صنعت، حکومت اور سائنسی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو AI کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت بلاشبہ اکیسویں صدی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے اور اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں تاہم اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر تکنیکی انقلاب کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہوتی ہے؛چنانچہ AI کے بڑھتے استعمال کے ساتھ پانی، توانائی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اس انداز میں فروغ دیا جائے کہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ زمین کے وسائل بھی محفوظ رہ سکیں۔ اگر آج سے منصوبہ بندی کی جائے تو AI مستقبل کی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور ماحول کے لیے خطرہ بننے سے بھی بچ سکتی ہے۔

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

قومی یاداشت کے تحفظ کا عالمی دنہر قوم کی تاریخ اس کی شناخت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماضی کے واقعات، سرکاری دستاویزات، تاریخی تصاویر، اخبارات، نقشے، عدالتی ریکارڈز اور اہم شخصیات کے خطوط کسی بھی ملک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان قیمتی تاریخی ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے آرکائیوز کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 9 جون کو بین الاقوامی یومِ آرکائیوز (International Archives Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد تاریخی اور سرکاری ریکارڈز کے تحفظ، ان کی افادیت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ان کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ یومِ آرکائیوز ، پس منظربین الاقوامی یومِ آرکائیوز پہلی بار 2008ء میں منایا گیا۔ اس تاریخ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ 9 جون 1948ء کو انٹرنیشنل کونسل آن آرکائیوز (ICA) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ آرکائیوز کے تحفظ، ترقی اور پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اس دن کو سیمینارز، نمائشوں، کانفرنسوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مناتے ہیں تاکہ لوگوں کو تاریخی دستاویزات کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔آرکائیوز اور ان کی اہمیتآرکائیوز ایسے ریکارڈز اور دستاویزات کا منظم ذخیرہ ہوتے ہیں جنہیں تاریخی، قانونی، انتظامی یا ثقافتی اہمیت کی وجہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان میں سرکاری فائلیں، مردم شماری کے ریکارڈ، عدالتی فیصلے، تاریخی تصاویر، اخبارات، صوتی و بصری مواد اور اہم شخصیات کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔اگر آرکائیوز موجود نہ ہوں تو قومیں اپنے ماضی سے محروم ہو جا ہیں۔ تاریخ کے بہت سے اہم واقعات، حکومتی فیصلے اور سماجی تبدیلیاں صرف انہی محفوظ ریکارڈز کے ذریعے ہمارے علم میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آرکائیوز کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور انہیں قومی ورثے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان میں آرکائیوزپاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی تاریخ برصغیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی اور سیاسی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریک پاکستان ، قراردادِ لاہور، تقسیمِ ہند اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد سے متعلق بے شمار تاریخی دستاویزات آج بھی قومی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ صرف محققین بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی قومی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔پاکستان میں قومی آرکائیوز، صوبائی ریکارڈ دفاتر، یونیورسٹی لائبریریاں اور تحقیقی ادارے اہم تاریخی مواد محفوظ کر رہے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت سی قیمتی دستاویزات، مخطوطات اور مقامی تاریخ سے متعلق ریکارڈ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آرکائیوز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔تعلیم، تحقیق اور شفافیت میں کردارآرکائیوز صرف پرانی دستاویزات کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم اور تحقیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ، صحافی اور تاریخ دان تحقیق کے لیے انہی محفوظ ریکارڈز سے استفادہ کرتے ہیں۔ اصل دستاویزات کی موجودگی تحقیق کو مستند اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔اس کے علاوہ آرکائیوز جمہوری نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سرکاری فیصلوں اور پالیسیوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے تو عوام اور محققین ان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح حکومتی اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ ممکن ہوتا ہے اور شفاف حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور آرکائیوز کا مستقبلٹیکنالوجی کی ترقی نے آرکائیوز کے شعبے میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک اپنے تاریخی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیوز کے ذریعے قیمتی دستاویزات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر کے محققین ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بھی اس سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر قومی اور صوبائی سطح پر آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کو تیز کیا جائے تو تاریخی ورثے کے تحفظ اور تحقیق و تعلیم کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں صرف کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنا کافی نہیں، انہیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ چیلنجزآرکائیوز کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نمی، آگ، سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات تاریخی دستاویزات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح مناسب وسائل، تربیت یافتہ عملے اور جدید آلات کی کمی بھی آرکائیوز کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہے۔پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث آرکائیوز کے شعبے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ تاہم قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔بین الاقوامی یومِ آرکائیوز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آرکائیوز نہ صرف تاریخی دستاویزات کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت، ثقافت اور قومی ورثے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہماری تاریخ، تحریکِ پاکستان سے متعلق قیمتی ریکارڈز محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

چارلس ڈکنز کا انتقال9 جون 1870ء کو انگریزی ادب کے عظیم ناول نگار چارلس ڈکنز کا انتقال ہوا۔چارلس ڈکنز نے صنعتی انقلاب کے دور میں غربت، سماجی ناانصافی اور طبقاتی فرق کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں,Oliver Twist David Copperfieldاور A Tale of Two Citiesشامل ہیں۔ان کی تحریروں نے نہ صرف ادب کو متاثر کیا بلکہ سماجی اصلاحات کی تحریکوں کو بھی تقویت دی۔ ڈکنز کی وفات کے وقت وہ اپنے آخری ناولThe Mystery of Edwin Drood پر کام کر رہے تھے جو نامکمل رہ گیا۔نیرو کی خودکشی9 جون 68ء کو رومی سلطنت کے مشہور اور متنازع حکمران نیرو نے خودکشی کر لی۔ نیرو 54ء سے روم کا شہنشاہ تھا اور اسے تاریخ کے سب سے متنازع حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے دور میں فنونِ لطیفہ کو فروغ ملا لیکن ظلم، سیاسی مخالفین کے قتل اور عیش و عشرت کی وجہ سے اس کی شہرت خراب ہوئی۔64ء میں روم میں لگنے والی آگ کے بعد نیرو پر الزام لگایا گیا کہ اس نے شہر کو جلانے میں کردار ادا کیا، اگرچہ مؤرخین اس بارے میں متفق نہیں ہیں۔ بعد ازاں اس نے عیسائیوں کو اس آتش زدگی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر سخت مظالم ڈھائے۔ سینیٹ نے اسے عوام کا دشمن قرار دے دیا۔ گرفتاری اور ممکنہ ذلت آمیز سزا سے بچنے کے لیے نیرو نے روم کے قریب ایک مقام پر خودکشی کر لی۔ویانا کانگریس معاہدہ9 جون 1815ء کو یورپ کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی واقعات میں سے ایک یعنی ویانا کانگریس کے حتمی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ کانگریس نپولین بوناپارٹ کی شکست کے بعد یورپ کے سیاسی نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس میں آسٹریا، برطانیہ، روس، پروشیا(جرمنی)، فرانس، پرتگال اور سویڈن سمیت بڑی طاقتوں نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یورپ میں طاقت کا توازن قائم کرنا اور مستقبل میں کسی ایک ریاست کو اتنا طاقتور نہ ہونے دینا تھا کہ وہ پورے براعظم کے امن کو خطرے میں ڈال سکے۔ کانگریس کے نتیجے میں متعدد سرحدیں تبدیل کی گئیں، کئی ریاستوں کو ازسرِ نو منظم کیا گیا اور فرانس کو واپس یورپی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ جارجیا کا چارٹر9 جون 1732ء کو برطانیہ کے بادشاہ جارج دوم نے شمالی امریکہ میں جارجیا کالونی کے قیام کا شاہی چارٹر جاری کیا۔جارجیا برطانوی امریکہ کی تیرہویں اور آخری کالونی تھی۔ اس کے قیام کا مقصد غریب برطانوی شہریوں کو نئی زندگی فراہم کرنا اور ہسپانوی فلوریڈا کے خلاف ایک حفاظتی بفر قائم کرنا تھا۔کالونی کے بانی نے ابتدا میں سماجی اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کی۔ غلامی اور شراب نوشی پر پابندی لگائی گئی، اگرچہ بعد میں ان پابندیوں کو ختم کر دیا گیا۔جارجیا بعد میں امریکی انقلاب میں شامل ہونے والی کالونیوں میں سے ایک بنی اور آج امریکہ کی ایک اہم ریاست ہے۔براڈ پیک سر کی گئی9 جون 1957ء کو چار آسٹرین کوہ پیماؤں ، ہرمن بول، مارکس شمک، فرٹز ونٹرسٹیلر اور کرٹ ڈیمبرگر نے پہلی مرتبہ براڈ پیک کی چوٹی سر کی۔ براڈ پیک دنیا کا بارہواں بلند ترین پہاڑ ہے جس کی بلندی 8051 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب قراقرم کے سلسلے میں واقع ہے۔ 1950ء کی دہائی کو ہمالیہ اور قراقرم کی عظیم مہمات کا دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں دنیا کے کئی بلند ترین پہاڑ پہلی مرتبہ سر کیے جا رہے تھے براڈ پیک بھی ان میں شامل ہے۔یہ مہم اس لحاظ سے منفرد تھی کہ کوہ پیماؤں نے نسبتاً ہلکے سامان اور محدود وسائل کے ساتھ چوٹی سر کی۔ شدید سردی، برفانی طوفانوں اور آکسیجن کی کمی کے باوجود ان کوہ پیماؤں نے غیر معمولی ہمت اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

20ارب ڈالر کا قمری شہر،ناسا کا انقلابی منصوبہامریکی خلائی ادارہ ناسا آئندہ چند برسوں میں چاند کی سطح پر ایک مستقل انسانی بستی یا ''قمری شہر‘‘ (Lunar City)بسائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد چاند پر طویل المدت انسانی موجودگی کو ممکن بنانا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور مستقبل میں مریخ سمیت مزید دور دراز خلائی مشنوں کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ 2032ء تک 20 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا ناسا کا چاند پر اڈہ کیسا نظر آئے گا؟ اس منصوبے کے تحت چاند کی سطح پر رہائش، سائنسی تحقیق اور وسائل کے استعمال کیلئے جدید سہولیات پر مشتمل مستقل ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قمری بستی رہائشی ماڈیولز، تحقیقی لیبارٹریوں، توانائی کے مراکز اور زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ سائنس فکشن کی کسی کہانی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن ناسا نے صرف چھ سال کے اندر چاند پر ایک شہر نما اڈہ تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین(Jarred Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ 20 ارب ڈالر مالیت کے اس قمری اڈے کے ابتدائی مشن رواں سال ہی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو ''انسانی تاریخ کی سب سے جرات مندانہ انجینئرنگ اور تحقیقی کوششوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوبارہ چاند کی طرف لوٹ رہا ہے، لیکن اس بار وہاں مستقل قیام کیلئے۔آئزک مین نے قمری کالونی کے قیام کیلئے ایک تفصیلی لائحہ عمل بھی پیش کیا، جس میں تین مراحل پر مشتمل ٹائم لائن دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا ہدف 2032ء تک چاند پر ایک مستقل انسانی بستی قائم کرنا ہے۔ بالآخر اس اڈے میں متعدد عمارتیں شامل ہوں گی جو سیکڑوں مربع میل کے رقبے پر پھیلی ہوں گی۔ یہ سب کچھ ایسے ماحول میں تعمیر کیا جائے گا جسے دنیا کے انتہائی دشوار اور خطرناک ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔چاند جیسے غیر موافق حالات میں انسانی بستی تعمیر کرنے کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے آئزک مین نے کہا کہ یہ قمری اڈہ جتنا خوبصورت ہو گا، اتنا ہی خطرناک بھی ہوگا۔ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک مشکل ہے۔ نصف صدی قبل اپالو مشنز کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح پر مجموعی طور پر صرف 80 گھنٹے گزارے تھے، اس لیے ہم اب بھی چاند کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔پہلا مرحلہقمری اڈے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ، جسے ''سیکھو، آزماؤ اور تعمیر کرو‘‘کا نام دیا گیا ہے، رواں سال کے آخر میں شروع ہوگا اور 2029 ء تک جاری رہے گا۔آئندہ تین برسوں کے دوران ناسا کا ہدف تجارتی نوعیت کے قمری مشنز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ممکنہ لینڈنگ مقامات کا جائزہ لیا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔قمری تحقیق کا یہ نیا دور اس سال خزاں کے موسم سے پہلے شروع نہیں ہوگا، جب جیف بیزوس کی کمپنی ''بلیو اوریجن‘‘ اپنا ''بلیو مون مارک1‘‘ لینڈر ''اینڈیورنس‘‘ (Endurance) چاند کی جانب روانہ کرے گی۔یہ لینڈر چاند کے جنوبی قطب کے قریب واقع شیکلٹن کریٹر کے کنارے پر اترے گا، جہاں یہ سائنسی آلات پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی لینڈنگ صلاحیتوں کا بھی عملی امتحان دے گا۔اس کے بعد 2026ء کے آخری مہینوں میں ناساایک روور کو چاند پر بھیجے گا۔اس ابتدائی مرحلے کے اختتام تک ناسا کا منصوبہ ہے کہ مون فال ہیلی کاپٹر ڈرونز اور بغیر انسان کے چلنے والے روورز کے ایک بیڑے کو استعمال کرتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی، برف اور دیگر قدرتی وسائل کی تلاش کی جائے۔دوسرا مرحلہ2029ء سے 2032ء کے دوران ناسا منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گا، جسے ''ابتدائی رہائش‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پہلی مرتبہ انسانی عملے کو چاند کی سطح پر رہنے کیلئے بھیجا جائے گا۔اس دوران 24 چکروں میں تقریباً 60 ٹن سامان اور آلات چاند تک پہنچائے جائیں گے، جن کی مدد سے مجوزہ قمری اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی سہولیات کی تعمیر مکمل کی جائے گی، جو مستقبل میں انسانی بستی کی بنیاد بنیں گی۔ناسا کے مطابق قمری اڈے کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے کیلئے وہاں ایٹمی پلانٹ بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ نظام چاند پر قائم ہونے والی بستی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا بازوں کو ایسی روورز بھی فراہم کی جائیں گی جن کی مدد سے وہ اپنے خلائی لباس اتار کر 30 دن تک آرام دہ ماحول میں رہتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے کی کھوج کر سکیں گے۔تیسرا مرحلہ2032ء میں ناسا منصوبے کے آخری مرحلے ''مستقل انسانی موجودگی‘‘ میں داخل ہوگا، جس کے تحت چاند پر ایک مستقل اڈہ قائم کیا جائے گا۔ جہاں باقاعدگی سے عملے کی تبدیلی، مستقل رہائش اور مکمل بنیادی ڈھانچہ موجود ہو گا۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ہم مہارت، عزم اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ مشن مکمل کر سکیں جو صرف ناسا ہی انجام دے سکتا ہے۔ناسا کے مطابق چاند پر قائم کیا جانے والا یہ اڈہ آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں کیلئے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا، جہاں طویل مدت تک قیام، جدید روبوٹک اور انسانی سرگرمیوں کا فروغ اور چاند کی سطح پر مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔مون بیس کے قیام کے بعد آرٹیمس مشن کے خلا باز زیادہ عرصے تک چاند پر رہ سکیں گے، مزید دور دراز علاقوں کی کھوج کر سکیں گے اور ایسی سائنسی تحقیق انجام دے سکیں گے جو خود خلائی تحقیق کو نئی جہتیں فراہم کرے گی۔

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ کرہ ارض پر موجود آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ سمندری نباتات کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر انسانی زندگی، موسمی نظام اور عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کے جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ مچھلیاں، وہیل، ڈولفن، کچھوے، مرجان اور بے شمار دیگر آبی مخلوقات سمندروں میں زندگی گزارتی ہیں۔ دنیا کے کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کیلئے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، بحری نقل و حمل، سیاحت اور معدنی وسائل کی فراہمی میں سمندروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔بدقسمتی سے آج سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری حیات کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا پہنچتا ہے، جس سے آبی جانور متاثر ہوتے ہیں اور ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندے اور مچھلیاں پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی سمندروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور کئی آبی انواع کے قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال انفرادی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہیں۔سمندروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گے۔

برین ٹیومر کا عالمی دن

برین ٹیومر کا عالمی دن

دماغی رسولی: خاموش مگر سنگین بیماریجدید طبی سائنس کی بے شمار ترقیوں کے باوجود برین ٹیومر آج بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ بیماری تصور کی جاتی ہے، جس کے علاج اور تشخیص کیلئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔برین ٹیومر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، اس بیماری کی بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کیلئے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔برین ٹیومر دراصل دماغ یا اس کے ارد گرد موجود بافتوں میں غیر معمولی خلیات کی نشؤونما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رسولی سومی (Benign) بھی ہو سکتی ہے اور سرطانی (Malignant) بھی۔ اگرچہ ہر برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا اثر نہ صرف مریض کی جسمانی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔برین ٹیومر کی علامات رسولی کے سائز، نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلسل یا شدید سر درد، بینائی میں دھندلا پن، چکر آنا، متلی، یادداشت کی کمزوری، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن ہونا اور دورے پڑنا اس بیماری کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ ان علامات کو عام بیماریوں سے منسوب کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق برین ٹیومر کی بروقت تشخیص مریض کے علاج اور صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جدید دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی طریقوں کی مدد سے دماغی رسولیوں کا نسبتاً جلد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاج کیلئے سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیمو تھراپی اور بعض جدید ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ برین ٹیومر کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ماہرین بعض جینیاتی عوامل، تابکاری کے زیادہ اثرات اور خاندانی طبی تاریخ کو ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔برین ٹیومر کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف طبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد مریض اکثر خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔