صاف بالوں کو صابن شیمپو کی ضرورت نہیں!
اسپیشل فیچر
اچھے بالوں کے لیے صفائی شرط ہے۔ لیکن عورتیں صفائی کے طریقوں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں رکھتیں۔ ان کا تو بس ایک ہی دستور ہے جب نہاتی ہیں تو صابن یا شیمپو سے بال مل مل کر دھوتی ہیں۔ گائوں کی عورتیں دہی ملتی ہیں۔ یہ عمدہ طریقہ ہے۔ بعض پرانی وضع کی بیبیاں رات کو سوکھے آملے تھوڑے سے پانی میں بھگو لیتی ہیں۔ صبح انہیں بالوں میں لگا لیتی ہیں اور پھر پانی سے بال دھو لیتی ہیں۔ یہ طریقہ اور بھی اچھا ہے۔ بالوں کی صفائی پورے بدن کی صفائی میں شامل ہے۔ صفائی داخل عبادت ہے۔ پورا بدن صاف ہو تو نماز ادا ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔ بدن یا کپڑوں کا کوئی حصہ نجس رہ جائے تو عبادت نہیں ہوسکتی۔ بالوں کی صفائی اور باقی بدن کی صفائی میں نمایاں فرق ہے۔ بالوں کی صفائی میں زیادہ وقت لگتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ نہانے کے ساتھ ہر باربال بھی دھوئے جائیں۔ اس طرح بالوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بال کب دھوئے جائیں، کتنی بار دھوئے جائیں۔ اس کا دارومدار عورت یا مرد کے کاروبار، پیشے، مصروفیت کی نوعیت اور ماحول پر ہے۔ ایک عورت بہ نفس نفیس گھر بھر میں جھاڑو دیتی ہے، جالے اتارتی ہے، فرنیچر کی جھاڑ پونچھ کرتی ہے۔ اس کے بال جلدی میلے ہوجائیں گے لیکن اگر وہ دھول مٹی کا کام کرتے وقت بالوں پر رومال باندھ لیتی ہے تو اس کے بال کام کے بعد بھی صاف رہیں گے۔ ایک عورت دھول مٹی کا کام سرے سے کرتی ہی نہیں اس کے یہاں کام کرنے کیلئے خادمہ ہے جب خادمہ صفائی کرتی ہے تو وہ دھول مٹی سے دور رہتی ہے۔ اس کے بال صاف رہتے ہیں۔ اسی طرح مر د وں کا معاملہ ہے۔ رنگ و روغن، سپرے اور دھول مٹی کے کاموں میں بال آلودہ ہوجاتے ہیں جس کے باعث انہیں بار بار نہانا اور بال دھونا پڑتے ہیں وہ چاہیں تو بالوں کو آلودگی سے بچا سکتے ہیں۔ صاف بالوں کو صابن، شیمپو سے دھونے کی ضرورت نہیں۔ گرمی کے موسم میں پسینہ خارج ہوتا ہے اس کے ساتھ اندرونی نمکیات بھی باہر نکل آتے ہیں۔ بالوں کو سادہ پانی سے دھو لیں تو نمکیات بھی دھل جائیں گے۔بصورت دیگر مہینے میں دو تین بار بال دھو لیے جائیں تو کافی ہے۔ جب تک بال میلے نہ ہوجائیں انہیں دھونا نہیں چاہیے۔ بعض امراضِ گیسو کے معالج اور ماہر کہتے ہیں کہ بار بار بال دھونا ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے سر کی جلد خراب ہوجاتی ہے لیکن یہ بات تجربے سے ثابت ہو نہیں سکی۔ تجربے سے تو بس اتنا پتہ چلا ہے کہ صابن کے زیادہ استعمال سے ضرور نقصان پہنچتا ہے۔ صابن میں کاسٹک سوڈا ڈالتے ہیں جو بڑی تیز چیز ہے اور جلد کو کاٹتا ہے۔ کم صابن سے بال دھوئیں تو کوئی حرج نہیں۔ سر کی جلد اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ قیاس کیا گیا ہے کہ دھونے سے بالوں کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں کیونکہ اس طرح ان کی قدرتی چکناہٹ زائل ہوجاتی اور چمک ماری جاتی ہے۔ یہ بات بھی تجربے سے ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی کتنی ہی خواتین ہیں جو وہم کا شکار ہیں۔ انہیں ہر وقت یہی خیال رہتا ہے کہ ان کے بال صاف نہیں حالانکہ وہ صاف ہوتے ہیں اور سر کی جلد بھی صاف ہوتی ہے لیکن وہ جب تک سر نہ دھولیں انہیں چین نہیں ملتا۔ بہر حال کثرت سے بال دھونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مرد کم از کم ہفتے میں ایک بار اور خواتین دس دن میں ایک باربال دھوئیں۔ہر ایک ذہن میں یہ سوال آتا ہے ’’کب بال دھوئیں جائیں۔‘‘ اس کا جواب آسان ہے۔ سر کی جلد بتا دیتی ہے کہ کب بال دھوئے جائیں۔ گردسے بال چکٹ ہوجاتے ہیں، طبیعت بوجھل لگتی ہے۔ سر بھاری ہوجاتا ہے۔ انگلیاں پھیریں تو بالوں کا ہلکا پھلکا پن غائب ہوتاہے۔ بال صاف ہوں تو پھول کی طرح ہوتے ہیں۔ بال دھو لیے جائیں تو طبیعت کی گرانی جاتی رہتی ہے۔ جلد کے مسام کھل جاتے ہیں۔ خون آزادی سے دورہ کرنے لگتا ہے۔ فرحت سی محسوس ہوتی ہے۔ یوں لگتاہے جیسے سر سے کوئی بوجھ ٹلا۔