ضرر رساں کیڑے اور بیماریوں کی یلغار
اسپیشل فیچر
اکیسویں صدی میں سائنس اور طب نے بیشمار ترقی کر لی ہے، مگر اس کے باوجود انسان آج بھی ضرر رساں کیڑوں اور مہلک بیماریوں کے خلاف اسی طرح نبرد آزما ہے جیسے صدیوں پہلے تھا۔ طاعون ، ٹائیفائیڈ، ٹی بی، ہیپاٹائٹس، کینسر اور حالیہ عالمی وبا کرونا نے یہ ثابت کر دیا کہ معمولی نظر آنے والے جراثیم، وائرس اور کیڑے بھی پوری دنیا کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ برصغیر میں قیامِ پاکستان سے قبل طاعون جیسی بیماری نے ہزاروں جانیں نگل لیں اور خوف کی فضا اس قدر شدید تھی کہ لوگ اپنے عزیزوں کے جنازوں سے بھی دور رہنے لگے تھے۔
آج بھی ہسپتالوں، گنجان آبادیوں اور گندگی سے بھرے علاقوں میں کھٹمل، کاکروچ، مکھیاں اور مچھر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ کیڑے نہ صرف مریضوں بلکہ صحت مند افراد کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ ہسپتال میں خوراک کی فراوانی، مناسب درجہ حرارت اور صفائی کے ناقص انتظامات ان کی افزائش کے بڑے اسباب ہیں۔
ہسپتالوں میں کھٹمل بڑی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو انسانی خون پر زندہ رہتا ہے۔ ہسپتالوں میں کھٹمل کو مریض اور ان کے لواحقین کا خون وافر مقدار میں میسر ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے کھٹمل اپنی نسل خوب بڑھاتا ہے۔ یہ کیڑا سال میں سے چار نسلیں بڑھا لیتا ہے۔ اس کی مادہ 300سے 400انڈے دراڑوں، بیڈز اور فرنیچر کے جوڑوں میں محفوظ جگہوں میں دیتی ہے اور تمام انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں اور نکلتے ہی انسانوں کو کاٹ کر خون چوسنے لگ جاتے ہیں۔اس کے کاٹنے سے جلدی امراض، الرجی اور بے خوابی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اسی طرح جرمن کاکروچ بھی ہسپتالوں میں عام پایا جاتا ہے جو وائرس اور جراثیم پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ سائز میں امریکن کاکروچ سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مادہ 200سے 300 انڈے دیتی ہے۔ یہ کاکروچ 290دن تک زندہ رہتا ہے۔
عام گھریلو مکھی مختلف گندگیوں پر بیٹھ کر خوراک کو آلودہ کرتی ہے اور ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور ٹی بی جیسی بیماریوں کے جراثیم انسانوں تک منتقل کرتی ہے۔عام گھریلوں مکھیاں تقریباً 4ہفتے تک زندہ رہتی ہیں اور ہر ہفتہ100سے 200انڈے دیتی ہے۔ گرمیوں میں 12نسلیں پیدا کر لیتی ہے۔ بیس قسم کی انسانی بیماریاں پھیلاتی ہیں ۔
سب سے خطرناک کیڑا مچھر ہے جو ملیریا اور ڈینگی بخار جیسی جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ مادہ مچھرکو انڈے دینے کیلئے خون کی ضرورت ہے اس لئے وہ انسان کو کاٹتی ہے اور گندے پانی میں افزائش پا کر اپنی تعداد میں تیزی سے اضافہ کرتی ہے۔ مچھر کا لاروا اور پیوپا پانی میں پلتا ہے۔ پیوپا کے بعد مچھر بن جاتا ہے اور پانی کی سطح پر نر اور مادہ ملاپ کرتے ہیں۔ اس کے بعد مادہ مچھر خون کی تلاش میں پرواز کرکے انسانوں اور جانوروں کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
ان ضرر رساں کیڑوں کے علاوہ ہسپتالوں میں چوہے، بلیوں اور کتوں کی بھر مار ہے۔ چوہوں کا ایک جوڑا سال میں 250چوہوں کی تعداد بنا دیتا ہے۔ چوہے ہر قسم کی خوراک کھا لیتے ہیں۔ مریض کے لواحقین فالتو خوراک ثواب کیلئے کھڑکیوں میں رکھ دیتے ہیں تاکہ پرندے کھائیں۔ پرندوں کے علاوہ ان پر چوہے اور بلیاں بھی پلتی ہیں۔ چوہے مشینوں کی تاریں کاٹ دیتے ہیں ان پر موجود پسو طاعون جیسی بیماری پھیلاتے ہیں۔
ہسپتالوں میں بلیوں اور آوارہ کتوں کی موجودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بلیوں کے بال اور پسو الرجی اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، جبکہ آوارہ کتے ریبیز یعنی بائولا پن جیسی خطرناک بیماری پھیلاتے ہیں۔ یہ بیماری انسان کو انتہائی اذیت ناک موت کی طرف لے جاتی ہے۔ مریض کتے کی طرح بھونکتا ہے اور مریض کو شدت سے پیاس لگتی ہے اور پانی سے ڈرتا بھی ہے اور پانی پی نہیں سکتا۔ اس طرح پیاس سے بلک بلک کر مر جاتا ہے۔ پیاری جان کی وجہ سے رشتہ دار مریض کے پاس پہنچتے ہیں تو ان کو کتے کی طرح کاٹتا ہے اور اس طرح بیماری اور پھیلتی ہے۔بائولا پن کی بیماری سے اللہ تعالیٰ سب کو بچائے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ کئی سرکاری ہسپتال آج بھی باقاعدہ فیومیگیشن اور جراثیم کش انتظامات سے محروم ہیں۔ بعض مقامات پر مریض اور ان کے لواحقین کھٹملوں اور کاکروچوں سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کے جسم پر زخم نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال متعلقہ اداروں کی غفلت اور ناقص انتظامیہ کی عکاسی کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ہسپتال انتظامیہ اور عوام سب مل کر صفائی، جراثیم کش مہمات اور مؤثر فیومیگیشن کے نظام کو یقینی بنائیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ ہسپتالوں اور گھروں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں اور خوراک کو کھلا چھوڑنے سے گریز کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ضرر رساں کیڑے اور بیماریاں انسانی صحت کیلئے مزید بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔اس وقت بھی کئی ہسپتال فیومیگیشن کنٹریکٹ کے بغیر گزارہ کر رہی ہیں جو کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بہت زیادتی ہے۔