جدید ٹیکنالوجی، ترقی کا راستہ
اسپیشل فیچر
17مئی کو دنیا بھر میں ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے منایا جاتا ہے
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تعلیم، صحت، تجارت، بینکاری، میڈیا، زراعت اور حکومتی امور سمیت کوئی میدان ایسا نہیں رہا جہاں جدید معلوماتی نظام اور انٹرنیٹ نے اپنی جگہ نہ بنائی ہو۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ہر سال 17 مئی کو ''ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے‘‘ (world information Society Day) منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا جا سکے اور لوگوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا ہو۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد یہ باور کرانا ہے کہ جدید معلوماتی ذرائع انسانی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی رابطوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ کورونا وبا کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ تعلیم، کاروبار، دفتری امور اور سماجی رابطے آن لائن نظام کے ذریعے جاری رکھے گئے۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی بحران کے وقت بھی انسانی زندگی کو رواں رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
آج دنیا میں معلومات تک رسائی بے حد آسان ہو گئی ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے کی خبر، تحقیق یا تعلیمی مواد تک پہنچنا ممکن ہے۔ طلبہ گھر بیٹھے عالمی جامعات کے کورسز سے استفادہ کر رہے ہیں، جبکہ کاروباری ادارے آن لائن تجارت کے ذریعے اپنی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا نے ابلاغ کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرتے ہوئے ہر فرد کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو گزشتہ چند برسوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ای کامرس کا رجحان بڑھا ہے اور نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستانی نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن شعبوں میں خدمات انجام دے کر ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس ترقی کے باوجود کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولیات محدود ہیں۔ بہت سے طلبہ اور شہری جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کر پاتے۔ ڈیجیٹل خواندگی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے افراد جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے واقف نہیں، وہ جدید دور کی ترقی سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے شہریوں کو ڈیجیٹل تعلیم فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کریں۔
سائبر جرائم بھی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سامنے آنے والا ایک اہم مسئلہ ہیں۔ آن لائن فراڈ، ہیکنگ، جعلی معلومات اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال نے معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے۔ نوجوان نسل خصوصاً سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے متاثر ہو رہی ہے۔ جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کی تیزی سے ترسیل معاشرتی انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری اور شعور کو بھی فروغ دیا جائے۔
ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت اور مثبت مقاصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تعلیم، تحقیق، صحت، ماحولیات اور معاشی ترقی کیلئے بروئے کار لایا جائے تو یہ دنیا میں خوشحالی اور استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر اس کا استعمال نفرت، جھوٹ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے کیا جائے تو اس کے منفی اثرات پوری معاشرت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنی معیشت کا اہم ستون بنا لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبے مستقبل کی دنیا کی تشکیل کر رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرے اور تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی کرے۔ تعلیمی اداروں میں آئی ٹی تعلیم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جائے۔
اس دن کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دنیا ایک ڈیجیٹل معاشرے میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں معلومات ہی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ جس قوم کے پاس جدید معلومات اور ٹیکنالوجی ہو گی وہی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دیں، نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کریں اور ایسا ڈیجیٹل ماحول پیدا کریں جہاں ترقی کے مساوی مواقع سب کو میسر ہوں۔ مختصر یہ کہ ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ یہ انسانیت کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معلوماتی ٹیکنالوجی اگر ذمہ داری، شعور اور مثبت سوچ کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ معاشی ترقی، تعلیمی بہتری اور سماجی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک باشعور، ترقی یافتہ اور بااختیار معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔