حرکات و سکنات میں چھپا ذہنی رویوں کا راز!
اسپیشل فیچر
جدید معاشرے میں انسانی رویوں اور نفسیاتی کیفیات کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ بظاہر نارمل نظر آنے والے افراد کے اندر چھپی پیچیدہ شخصیتیں اکثر ہمارے اندازوں کو غلط ثابت کر دیتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بعض اوقات جسمانی حرکات و سکنات اور مخصوص انداز نشست و برخاست ایسے راز افشا کر دیتے ہیں جو الفاظ بیان نہیں کر پاتے۔ حالیہ تحقیق میں ایک معروف ماہر نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک خاص جسمانی انداز اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ کوئی شخص بظاہر عام ہونے کے باوجود خطرناک نفسیاتی رجحانات رکھتا ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف سماجی رویوں کو سمجھنے میں مددگار ہے بلکہ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کو پرکھنے کیلئے ایک نیا زاویہ بھی فراہم کرتا ہے۔
نفسیاتی مریضوں کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی دلکشی، لوگوں کو قابو میں کرنے کی صلاحیت اور عام انسانی جذبات کی نقل کرنے کی غیر معمولی مہارت کے باعث اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ تاہم ایک ممتاز ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک خاص اور باریک جسمانی انداز اس شخصیت کے عارضے کے بارے میں اشارہ دے سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف میساچوسٹس میں نفسیاتی اور دماغی علوم کی پروفیسر ایمیریٹا سوسن کراوس وِٹبورن کے مطابق تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ وہ افراد جو کھلے اور پھیلے ہوئے انداز اختیار کرتے ہیں، دوسروں کا استحصال کرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ مبالغہ آمیز انداز،کھڑے ہونے یا بیٹھنے کو سائیکوپیتھی، چالاکی، مقابلہ بازی اور سماجی درجہ بندی جیسے رجحانات سے بھی جوڑا گیا ہے۔
اپنی رپورٹ میں وِٹبورن نے کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کی تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں مخصوص جسمانی انداز اور سائیکوپیتھک رجحانات سے جڑی شخصی خصوصیات کے درمیان تعلق پایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان اندازوں میں مٹھیاں بلند کرنا، دھڑ کو پیچھے کی طرف لے جانا، کمر کے نچلے حصے کو خم دینا (لارڈوٹک پوزیشن)، مادہ جانوروں میں قبولیت کا انداز اور کمر کو پیچھے کی طرف موڑنا شامل ہیں۔
وِٹبورن کے مطابق ایک اہم اشارہ جو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کوئی شخص آپ پر حاوی ہونا چاہتا ہے، وہ اس کا کھلا، سیدھا اور پھیلا ہوا جسمانی انداز ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص کسی دوسرے کے سامنے جھکنے یا ہار ماننے کیلئے تیار ہوتا ہے، وہ عموماً جھکا ہوا نظر آتا ہے اور خود کو سمیٹ لیتا ہے۔
سائیکوپیتھ(نفسیاتی مریض) ان افراد کو کہا جاتا ہے جن میں معاشرتی اصولوں کی خلاف ورزی، چالاکی اور بے حسی جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں، مثلاً بے خوفی، سطحی دلکشی اور ہمدردی کا فقدان۔اکثر ڈرامائی یا مجرمانہ رویّوں کے حوالے سے انہیں سرد مزاج، خطرہ مول لینے والے اور ضمیر سے عاری افراد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جنہیں بعض اوقات اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے یا مجرمانہ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کے محققین نے جسمانی انداز (پوسچر) اور شخصی خصوصیات کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کیلئے پانچ مطالعات پر مشتمل ایک سلسلہ انجام دیا۔ ان میں سے چار مطالعات میں شرکاء نے اپنی قدرتی حالت میں کھڑے ہونے کی تصاویر فراہم کیں، جبکہ پانچویں مطالعے میں رضاکار لیبارٹری آئے جہاں محققین نے ان کے جسمانی پیمائشیں ریکارڈ کیں۔ ''ٹوڈے سائیکولوجی‘‘ کے مطابق اس تحقیق میں مجموعی طور پر 608 نوجوان افراد شامل تھے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو لوگ زیادہ سیدھے اور اکڑے ہوئے انداز میں کھڑے ہوتے ہیں، ان میں نفسیاتی مرض میں مبتلا ہونے والی خصوصیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ یہ جسمانی انداز وقت کے ساتھ مستقل رہتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رویّہ اتفاقی نہیں بلکہ ایک مستحکم خصوصیت ہے۔
مطالعے کے ایک اور مرحلے میں شرکاء کو ہدایت دی گئی کہ وہ یا تو غالب (dominant) یا فرمانبردار (submissive) انداز اختیار کریں۔ جن افراد کو فرمانبرار انداز اپنانے کو کہا گیا، وہ جھکے ہوئے کندھوں اور آگے کی طرف مڑی ہوئی حالت میں کھڑے ہوئے، جبکہ غالب نظر آنے کی ہدایت پانے والے افراد سیدھے کھڑے ہوئے، کولہوں کو آگے کی طرف نکالا اور دھڑ کو قدرے پیچھے کی جانب جھکایا۔ تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ محض جسمانی انداز بدلنے سے کسی شخص کی ذہنی کیفیت میں تبدیلی کے شواہد نہیں ملے۔
تحقیق کے آخری مرحلے میں سائنس دانوں نے اپنے ابتدائی نتائج کی تصدیق کی اور زیر مطالعہ شخصی خصوصیات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا۔ ان خصوصیات میں سائیکو پیتھی، چالاکی، مقابلہ بازی اور سخت سماجی درجہ بندی پر یقین شامل تھے، ایسے رجحانات جنہیں محققین نے دوسروں پر برتری حاصل کرنے کی کوششوں سے جوڑا۔ محققین کے مطابق وہ افراد جو زیادہ غالب انداز اپناتے ہیں، ممکن ہے اس کے پیچھے یہ خواہش کارفرما ہو کہ وہ کمزور یا ماتحت نظر نہ آئیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سیدھا کھڑا ہونا اور خود اعتمادی کا اظہار دوسروں کے ردِعمل کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ غالب رویوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
وِٹبورن نے کہا کہ اگر آپ فطری طور پر سیدھے کھڑے ہونے والے انسان ہیں تو کیا ہوگا؟ شاید آپ کو بچپن میں رقص سیکھنے یا کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ہو، اور مضبوط جسمانی انداز اسی کا ایک فائدہ ہو۔
اس تحقیق کے تناظر میں اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ اس غالب رجحان کے حامل نہیں ہوتے، وہ اپنے جسمانی انداز میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وہ شرکاء جو ان ناپسندیدہ خصوصیات میں کم نمبر حاصل کرتے تھے، مختلف انداز اپناتے نظر آئے، بجائے اس کے کہ وہ ہمیشہ خود کو طاقتور اور سخت ظاہر کر کے دوسروں پر حاوی ہونے کی کوشش کریں۔