نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان
اسپیشل فیچر
سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے آئزک نیوٹن کے مشہور قانونِ کششِ ثقل کو اب تک کے سب سے بڑے کائناتی پیمانے پر پرکھا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ قانون ایک بار پھر درست ثابت ہوا ہے، چاہے اسے زمین یا نظامِ شمسی کی حدود سے نکال کر کروڑوں نوری سال دور کہکشاؤں پر آزمایا گیا ہو۔
کششِ ثقل کا بنیادی تصور
نیوٹن نے 1687 میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات کا ہر جسم دوسرے جسم کو اپنی کمیت کے مطابق اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کشش کی طاقت فاصلے کے مربع کے الٹے تناسب سے کم ہوتی ہے۔ یعنی اگر دو اجسام کے درمیان فاصلہ دوگنا ہو جائے تو ان کے درمیان کشش چار گنا کم ہو جاتی ہے۔یہ سادہ سا اصول صدیوں سے فزکس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور آج بھی روزمرہ زندگی سے لے کر خلائی تحقیق تک استعمال ہوتا ہے۔
کائناتی پیمانے پر نیا تجربہ
حال ہی میں سائنسدانوں نے اس قانون کو صرف سیاروں اور ستاروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انتہائی بڑے پیمانے پر آزمایا۔ انہوں نے کہکشاؤں کے بڑے بڑے جھرمٹوں (Galaxy clusters) کا مشاہدہ کیا جو ایک دوسرے سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔جدید دوربینوں اور فلکیاتی سرویز کے ذریعے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس میں کہکشاؤں کی حرکت، ان کے درمیان کششِ ثقل کے اثرات اور کائنات کی مجموعی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔تحقیق کے نتائج نہایت واضح اور دلچسپ تھے۔ نیوٹن کا قانون اس وسیع کائناتی پیمانے پر بھی درست ثابت ہوا۔مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی کہ کہکشاؤں کے درمیان کشش اسی اصول کے مطابق کام کر رہی ہے۔فاصلے بڑھنے پر کشش کم ہونے کا قانون ویسا ہی برقرار ہے۔کسی بھی مرحلے پر اس بنیادی اصول میں تضاد یا تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سطح پر اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ روایتی قوانین میں تبدیلی یا نئی طبیعیات (New physics)سامنے آئے گی۔یہ تحقیق جدید طبیعیات کے لیے ایک مضبوط توثیق سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے دو بڑے نظریات کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے کہ ایک طرف نیوٹن کی کلاسیکی فزکس ہے جو روزمرہ اور بنیادی حساب کتاب کے لیے اہم ہے، اور دوسری طرف آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹوٹی ہے جو کششِ ثقل کو زیادہ جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔یہ نیا مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ آئن سٹائن کا نظریہ زیادہ گہرا اور وسیع ہے، پھر بھی نیوٹن کا سادہ قانون بڑے پیمانے پر ایک بہترین اور درست اندازہ فراہم کرتا ہے۔
اس تحقیق سے کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کو اس بات کا مزید یقین ہوا ہے کہ کائنات کے بنیادی قوانین نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ انتہائی بڑے فاصلے اور وقت کے باوجود یکساں طور پر کام کرتے ہیں۔یہ نتائج ڈارک میٹر ، کہکشاؤں کی تشکیل اور کائنات کی توسیع جیسے اہم موضوعات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ نیوٹن کا کششِ ثقل کا قانون، جو تقریباً 400 سال پہلے پیش کیا گیا تھا، آج بھی کائنات کے سب سے بڑے پیمانوں پر درست ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کے بنیادی اصول حیرت انگیز طور پر مستقل اور قابلِ اعتماد ہیں، چاہے ہم انہیں زمین پر دیکھیں یا اربوں نوری سال دور کہکشاؤں میں۔