سنہرے لفظوں کی بارش میں بھیگتا شاعر
اسپیشل فیچر
خالد احمد کی رفعتوں کا راز ان کی نعت کے مقطع میں مضمر ہے:خالد احمد تریؐ نسبت سے ہے خالد احمدتُو نے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھیآپ انہیں ملنا چاہتے ہیں تو وہ شاعری کے طلسم کدہ میں رہتے ہیں۔ جہاں آئنہ در آئنہ تصویریں جھلملاتی ہیں۔ نگارخانۂ دل کی رعنائیاں‘ رسوائیاں اور پہنائیاں جہاں نما ہیں۔ احساسِ جمال درِ احساس پر دستک دیتا‘ خیال یار پردۂ چشم پر اترتا اور ذہنِ رسا لوحِ دل پر نقش بناتا ہے۔ وہ ہرگز ہرگز عام سخن ور نہیں ہیں۔ سخن آثار فضا انہیں گھیرے رکھتی ہے‘ فکر و تدبر کے لمحے انہیں جگائے رکھتے ہیں اور حیرت انہیں ٹک کر بیٹھنے نہیں دیتی۔ وہ ہمہ وقت ریشم بننے میں مصروف ہیں‘ ان کے سنہرے الفاظ ان کے کیمیا گر ہونے کی گواہی دیتے ہیںاور وہ خود بھی تجربے کی بھٹی میں تپ کر کندھن ہوئے ہیں۔ دھنک کے رنگ‘ گلاب کی خوشبو اور صبا کا لمس سب کے لیے نہیں ہوتا۔ پانی صرف H2O نہیں‘ یہ آبشار‘ جھرنا‘ دریا سمندر اور آنسو بھی ہے۔ یہ تخلیق کا جوہر بھی ہے اور منبع بھی جس کو اس بوقلمونی کا ادراک ہے وہ نم گرفتہ کیوں نہ ہوگا۔ زندہ تو وہی ہے جس کی آنکھ میں آنسو ہیں۔ شعر ہوتا نہیں ہر کسی کے لیے۔میں کم مایہ و تہی دست خالد احمد کی ہنر مندی اور مرصع سازی پر کیا بات کروں گا۔ وہ تو لفظوں کے نباض ہیں‘ شعر کی پرکھ میں جوہری ہیں اور اظہار خیال میں نکتہ سنج۔ ان کا اسلوبِ زبان و بیاں ارفع و بلند حدوں کو چھوتا ہے۔ اوپر کے سروں میں جا کر آواز کی لے کو قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ میتھو آرنلڈ نے یہی تو کہا تھا کہ Content اور Diction کا ہم آہنگ ہونا ہی شاہکار تخلیق کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ بلند موضوع اور اعلیٰ زبان کا امتزاج خالد احمد کے ہاں معجز نما نظر آتا ہے۔ انہوں نے حضرت علیؓ کی منقبت میں بلند آہنگی اور معنی آفرینی کے تال میل سے عجیب فضا پیدا کی ہے:قرطاس و قلم چھوڑ کے لے دل کی گواہیپھر مانگ نگاہِ کرمِ لامتناہیپھر رنگِ رخِ ذکر کر اسمائے الٰہیپھر دیکھ بہارِ اثرِ نیم نگاہیپھرسطر کر اے مدح گر آنکھوں کی سیاہیپوری منقبت میں یہی اچھوتا اور نادر اسلوب برابر استعمال ہوا ہے۔ یہاں شاعر کا تبحرِ علم‘ فنکارانہ چابکدستی اور بلا کی قادر الکلامی نظر آتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میر اور غالب کی سطح سے بول رہا ہے اور پورے اعتماد کے ساتھ ا پنا سکۂ سخن جما رہا ہے۔ یہ خالد احمد کا جہانِ فن ہے۔ خالداحمد کے سخن کا لہجہ غزل میں بھی جابجا اسی اُپج پر اپنی پہچان کرواتا ہے:دف بھی تھی نوحہ نشاں‘ نغمہ بھی نالہ تھا مراعجب آہنگِ گلو گیر حوالہ تھا مراروح بھی دہکائی مری‘ فکر بھی پگھلائی مریآنچ دے دے کے نیا روپ نکالا تھا مراہاتھ سے لے نکل گئی‘ شور میں ضربِ ذات کےہم ہی تو گُر تھے ہم ہی سَم‘ زمزمۂ حیات کےکوئی مہک نہ چن سکا‘ کوئی چٹک نہ سن سکاپھول بھلا دکھائے کیا بھائو سبھائو ذات کےروم ایک دن میں نہیں بنا۔ جو شہرِ سخن خالد احمد نے بسایا ہے وہ سالہا سال کی ریاضت‘ تپسیا اور مجاہدے کا ثمر ہے۔ اس کے در شہر سخن کی کلید فکر و تدبر کے سوا کچھ نہیں۔ اس شہر کے اندر ایک قصر بھی ہے جس میں ہر اینٹ خالد احمد کے نام کی ہے اور جس کے بام و در اسی کو پہچانتے ہیں۔ ہم نے تو سن رکھا تھا کہ ہرنی اپنے بچے کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت بناتی ہے اور یہی عمل غزل کے لیے درکار ہے۔ خالد احمد کی شاعری اس امر کی گواہی ہے۔ مصرع سازی میں ایسی تراش خراش اختر حسین جعفری میں بھی نظر آتی ہے شاید اک تعلق خاطر خالد احمد کا ان کے ساتھ تھا۔ دونوں کے ہاں لفظ لفظ آرائشِ سخن نظر آتی ہے۔ خالد احمد کا رہوار سخن کئی میدانوں میں دوڑتا ہے۔ خالد احمد نے قصیدہ‘ نظم‘ غزل‘ قطعہ‘ ترائلے اور سخن کی دوسری ہئیتوں میں سخن آرائی کی اور اپنی قدرتِ کلام سے دشوار کام کو سہل بنا دیا۔ بعض اوقات تو وہ طرح دار اور انوکھے اشعار نہایت سہولت سے کہہ جاتے ہیں یا وہ اشعار اپنی ملائمت کے سبب ایسے لگتے ہیں۔ یہ کس کا دیدار ہوا ۔ آئینہ گلزار ہوافرطِ حیا سے تپتا بدن ۔ ہم رنگِ گلزار ہواآنکھیں پار نہ دیکھ سکیں ۔ پانی بھی دیوار ہواہر مشکل آسان ہوئی ۔ اک جینا دشوار ہواخالد احمد کی سخن آرائی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ’’عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں‘‘ وہ سر تا پا سخن ور ہیں۔ ہر لمحے اپنی موج میں مست‘ اپنے خیال میں گم اور اپنے آپ سے برسرپیکار۔ فکر کے بوجھ سے سر نیوڑائے ہوئے وہ خرام کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کا ذہن تو کسی مصرع کے تعاقب میں سرگرمِ سفر ہوتا ہے۔ کہیں ترکیب سازی ہے تو کہیں صنائع بدائع کا اہتمام‘ کہیں ایمائیت کاری ہے تو کہیں تلازمہ کاری۔ کہیں تعقید سے بچنا ہے تو کہیں حشو و زوائد سے۔ یہ سب کچھ وہی کرے گا جو شعر کے رموز و اسرار سے واقف ہوگا۔ خالد احمد صاحب کے ہاں یہ خوبصورتیاں جا بجا دکھائی دیتی ہیں۔ ان سے خزینۂ الفاظ سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ بحرِ علم میں غواصی کرکے وہ موتی ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور پھر ان موتیوں کو زیورِ سخن میں جڑتے جاتے ہیں۔ رنگ پیرا نم نمو تھے ڈال ڈال اس کے لیے عشقِ خاکستر تھے رسوا خال خال اس کے لیے ہم گلِ راہِ محبت‘ ہم پرِ کاہِ لحدسرکشیدہ اس کی خاطر‘ پائمال اس کے لیے ان کے کلام میں فارسی کا رنگ درویشی کا آہنگ جھلک دکھاتا ہے‘ بلند آہنگی کے ساتھ ساتھ موضوعات کا تنوع انہیں ممتاز بناتا ہے۔ وہ تہہ داری سے شعر کہتے ہیں جس کی کئی سطحیں ہوتی ہیں۔ لفظوں کا انتخاب ان کی دانشمندی اور دانائی کا پتہ دیتا ہے۔ مثلاً میں ایک شعر مثال کے لیے رکھ سکتا ہوں:کھلا مجھ پر درِ امکان رکھنامرے مولا مجھے حیران رکھنااب یہ اتنا سیدھا سادا شعر نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ اس دعا پر غور کریں تو حکمت و دانائی کے در کھلتے ہیں۔ درِ امکان کا کھلے رہنا اصل میں ارتقا کا عمل جاری رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ کیفیت وسعتوں کا پتہ دیتی ہے اور یہ طلب انسان کو بے کنار بناتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ تکمیل موت ہے اور پختہ کاری بے برکت۔ یہ ساری گنجائش اور وسعتیں تو حیرت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی حیرت کا نتیجہ علم کا حصول ہے۔ یہی حیرت کائنات کو مسخر کرنے کا شوق دلاتی ہے یا دعوت دیتی ہے۔ خالد نے عجیب دعا کی ہے۔ سب کچھ مانگ لیا ہے۔ ہر ایجاد اور دریافت کے پیچھے یہی حیرت ہے وگرنہ سیب گرتے تو سب نے دیکھے ہوں گے۔ غور کریں نیوٹن نے دیکھا اور وہ زمین سے کشش ثقل نکال لایا۔ اللہ خالد احمد پر مہربان ہے کہ ان کا پہلا حوالہ نعت بنا کہ اس پہچان پر وہ خود بھی فاخر ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے نعتیہ قصیدہ اشاعت پذیر کیا حالانکہ اس وقت تک ان کے دو تین شعری مجموعے بھی آ سکتے تھے۔ تشبیب ۱۹۸۴ء میں شائع ہوا اور یہ نعتیہ قصیدہ اپنی اہمیت کے حوالے سے نعت کے ضمن میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ارمغانِ نعت عقیدت‘ محبت اور مؤدت سے کشیدکیا گیا ہے۔ یہ تین نظموں‘ اٹھان‘ رودِ نبرات اور بادِنوال پر مشتمل ہے۔ انتہائی مختصر بحر انتخاب کی گئی مگر اس میں دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہے۔ یہ قصیدہ اس تعریف پر پورا اترتا ہے Brevity is the soil of wit۔ اختصار حسنِ بیان کی روح ہے۔ مصرع مصرع نور کا ایک ہالہ ہے۔ مختلف زبانوں کے الفاظ نہایت ہنرمندی سے صحیح جگہ پر بٹھائے گئے ہیں۔ بندش نہایت چست کہ جیسے تسبیح میں پروئے ہوئے دانے۔ ساتھ ہی ساتھ احتیاط کا دامن بھی تھام رکھا ہے:آپؐ ہیں غربِ جنوب۔ آپؐ ہیں شرقِ شمالبس بس اے گستاخ۔ چپ اے شہد مقالرنگ میں رنگ ملا۔ بات سے بات نکالمدح کو حمد نہ کر۔ آگ میں ہاتھ نہ ڈالآپ اس قصیدہ کو پڑھتے جائیے اور نور کی بارش میں بھیگتے جائیے۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے جیسے خالد احمد سنہری لفظوں کی بارش میں بھیگتے جاتے ہیں۔ ۱۹۸۷ء میں خالد احمد نے ’’ہتھیلیوں پر چراغ‘‘ جلائے۔ یہ بہت بھرپور شعری مجموعہ تھا۔ اس سے بہت پہلے ہم متعدد نظمیں پڑھ چکے تھے۔ ان کا ابتدائی حوالہ جو نوجوانوں تک پہنچا تھا وہ ان کا معروفِ زمانہ شعر تھا:ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تُو نہ میںلیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تُو نہ میںایک اور شعر سماعتوں سے چپکتا گیا:کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سےاسی لیے تو وہ بچوں کو مائیں دیتا ہےدیکھا جائے تو خالد احمد کا اصل میدان جہاں ان کے جوہر زیادہ کھلتے ہیں‘ نظم ہے اور وہ بھی طویل نظم۔ طویل نظم کہنے کی اول تو کوئی جرأت نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو جگہ جگہ سانس اکھڑتی نظر آتی ہے۔ خالد احمد نظم کے ممکنہ امکانات روشن کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً ’مٹھی بھر ہوا‘اور ’مادھو لال حسین کے لیے‘۔ انہوں نے شروع میں ایسی غزلیں بھی کہیں جن پر ساری عمر مشاعرے کمائے جا سکتے ہیں اور شہرت پائی جا سکتی ہے مگر ان کی نظر بلند تھی اور وہ زندگی کو قید کرنے میں مصروف رہے۔ سچائی تلاشنا سہل نہیں۔ انہوں نے نم گرفتہ و دل گرفتہ اپنی روایات و اقدار کو ان گئے گزرے حالات میں بھی نبھائے رکھا۔ اپنے لہو سے ایسی شاعری کون کشید کرے گا‘ قناعت اور صبر کس کے بس کی بات ہے۔ مولانا رومؒ نے کہا تھا:کوزۂ چشمِ حریصاں پُر نہ شدتاصدف قانع نہ شد پر دُر نہ شدنم گرفتہ مٹی تو بڑی زرخیز ہوتی ہے۔ خالد احمد کی ریاضت‘ محنت اور قناعت ایسے ہی رنگ لاتی ہے جیسے مہندی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رنگ گوڑھا کرتی جاتی ہے۔ ’مادھو لال حسین کے لیے‘ جیسی نظم ایک انعام ہی تو ہے اس تپسیا کا۔ روح جدا کر تن سے‘ تن سے الگ پرچھائیاںچورا چورا کر دے‘ توڑ مروڑکلائیاںپلکیں نوچ لے سجناں‘ آنکھ میں پھیر سلائیاںکھال ادھیڑ دے لیکن طعنے مار نہ سائیاںخون میں جلتے چہرے تن میں سلگتی ہڈیاںساون ویہڑے آیا دیکھوں چک چک اڈیاںاچھی ہوں مندی ہوں ڈھولن یار کی مانگ ہوںبندے کی بندی ہوں اک دلدار کی مانگ ہوںدل چاہتا ہے کہ نقل کرتا جائوں اور اس کی تفسیر لکھوں مگر ایک مختصر مضمون میں ممکن کہاں۔ اس نظم میں پنجاب کی مٹی کی باس اور ثقافت کی مٹھاس اردو کے باطن کو مہکا رہی ہے۔ خالد احمد‘ حاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کے برادر خورد ہیں۔ ان کے والد بھی قادرالکلام شاعر تھے۔ احمد ندیم قاسمی ان کے گھر کے نہایت محترم فرد تھے۔ ان کا گھر ادب کا ایک گہوارہ تھا۔ سب سے بڑھ کر ان کی اپنی صلاحیت جو خدا نے انہیں ودیعت کی تھی بروئے کار آئی۔ وہ گھر سے ایک تہذیب لے کر چلے۔ اسی نے انہیں تحریک دی۔ ان کے جوہر کو اجالا اور ان کے شوق کو انگیخت لگائی۔ انہوں نے کیسے کیسے موسم دیکھے ہوں گے۔ پلکوں کی ہتھیلیوں پہ خالدیادوں کے چراغ جل رہے ہیںمجھے ان کے شعری مجموعے ’’دراز پلکوں کے سائے سائے‘‘ کی تقریب پذیرائی یاد ہے جب احمد ندیم قاسمی نے صدارتی مضمون میں کہا تھا ’’آج اگر میں اعلان کر دوں کہ خالد احمد دورِ رواں کا یکسر مختلف‘ سراسر منفرد اور مسلمہ طور پر بڑا شاعر ہے تو کتنی جبینوں پر بل پڑ جائیں گے اور اپنے بارے میں کتنی ہی خوش فہمیوں میں مبتلا کتنے ہی آسودہ مزاجوں کی نیندیں اڑ جائیں گی مگر اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ خالد مختلف بھی ہے‘ منفرد بھی ہے اور بڑا بھی ہے‘‘۔ خالد احمد کے ہاں وسعت مطالعہ‘ جذبے کا وفور‘ زبان و بیان کا شعور اور گہرے مشاہدے کے رنگ نظر آتے ہیں وہ وجدانی کیفیت میں اس وقت تک رہتے ہیں جب خیال خود ہی شعر میں نہ ڈھل جائے۔ ان کے اندر ایثار‘ خلوص اور محبت کارفرما ہے۔ وہ دوسروں کے لیے آسانی سے جگہ چھوڑ دینے کے عادی ہیں۔ یہ وصف انہوں نے احمد ندیم قاسمی سے حاصل کیا۔ کسی کو بڑا بنانا حوصلے کی بات ہے یہ ایک بڑا آدمی ہی کر سکتا ہے۔ میں برادر عمران منظور سے صدفی صد متفق ہوں کہ لوگ ہاتھی کو دیکھتے رہے اور اس پر بیٹھا شخص نظر انداز ہوگیا جس نے ہاتھی کو اپنی مہارت سے سدھایا تھا۔ خالد احمد اپنی پوری آب و تاب سے سامنے آئے تو تنقید کے لیے اٹھنے والی انگلی دانتوں میں چلی گئی۔ لوگ حیرت سے انگشت بدنداں ہیں کہ شاعری اسے کہتے ہیں۔ خالد احمد جانتے ہیں کہ دوستوں کی توصیف سے دشمنوں کا اعتراف زیادہ اہم ہوتا ہے:دیکھا نہ ہمیں تُو نے خط و خال سے آگےاک شہر تھا اس شہرِ مہ و سال سے آگےاک دشتِ رضا تھا‘ اسی رستے کے کنارےاے راست روو! اس رہِ پامال سے آگے…ظاہر نہ کسی کور نظر پر بھی ہوا میںکیا فرق پڑا تجھ پہ کھلا یا نہ کھلا میںپتھر کی طرح اپنی جگہ سے نہ ہلا میںشوریدہ سری کا ابھی لیتا تھا مزہ میںخالد احمد کے ہاں عجز و انکسار اور درویشی انہیں بڑا بنا گئی۔ بقول خورشید رضوی ’’میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت کا‘‘۔ ان کے مزاج میں ایک ٹھہرائو اور بردباری اور برداشت ہے۔ انسانیت سے محبت ان کا خاصہ ہے کہ ’’انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو‘‘۔ دنیا ایک ہمارے پائوں کی زنجیر ہوئیلوگ دلوں پر پائوں دھرتے کر گئے دنیا پارخالد احمد صرف اپنے ملک کے سماجی‘ معاشرتی اور سیاسی حالات سے آگہی نہیں رکھتے وہ عالمِ اسلام اور عالمی منظر نامے سے بھی آگاہ ہیں۔ کالم بھی انہوں نے اس لیے لکھے کہ ’’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘‘۔ تاہم ان کی احمد آباد اور سری نگر کے حوالے سے لکھی گئی نظمیں ان کی مظلوم اور پسے ہوئے مسلمانوں کے لیے تشویش کا پتہ دیتی ہیں۔ ان کی نظمیں ’ٹریفک پھنس گئی ہے اور ’مکالمہ‘ اپنے معاشرے کی شکست و ریخت کا آئنہ ہیں۔ نم گرفتہ میں موجود ایک نعتیہ قصیدہ کے دو اشعار نقل کرنا سعادت سمجھوں گا:چہرہ تمام رنگ تھا‘ پیکر کرن تمامکجلا کے رہ گئے مہ و پروین تن تمامکس رخ کروں قصیدۂ شاہِ زمن تمامتشبیب ہی میں ہوگئی تابِ سخن تمام(چوتھے مصرعے میں خوبصورتی یہ کہ یہاں ان کے پہلے نعتیہ مجموعے ’تشبیب‘ کی طرف اشارہ ہے اور قصیدے میں پہلا حصہ بھی تو تشبیب کہلاتا ہے‘ نکتہ یہ کہ آقاؐ کی توصیف میں کہا گیا قصیدہ تشبیب سے آگے نہیں جاتا) میرا دل چاہتا ہے کہ جہاں سے بات شروع کی تھی وہیں ختم کی جائے۔ میرا مطلب ہے خالد احمد کی اس زندگی افروز اور رہنما نعت کے دو اشعار آپ کو تحفہ کروں جس کا مقطع خالد احمد کی شاعری اور اس مضمون کا مطلع ہے:تُو نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھیآخری خطبے کی صورت میں وصیّت لکھیتیرے اوصاف فقط تجھ سے ادا ہوتے ہیںنعت خود لکھی بہ پیرایۂ سیرت لکھی٭٭٭