عقل بڑی یا بھینس
اسپیشل فیچر
عقل بڑی یا بھینس ؟ اس کا جواب معلوم کرنے کے لیے ہم نے مختلف طریقے سوچے ایک تو یہ کہ ریفرنڈم کرایاجائے یا پھر سروے کرکے عوام کی رائے معلوم کی جائے لیکن عوام تک پہنچنے سے پہلے ہماری چھوٹی سی عقل نے یہ فیصلہ دیا کہ بھینس بڑی ہے ۔ اب اس بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل بھی دینا ضروری ہیں کیوںکہ قانون ثبوت مانگتا ہے لہذا دلائل حاضر ہیں۔عقل انسانی کھوپڑی کے کسی بھی کونے میں مقیم رہتی ہے اور اسی عقل کے ساتھ انسان سائیکل اور موٹر سائیکل دوڑاتا پھرتا ہے ۔ آپ کسی بھینس کو سائیکل یا موٹر سائیکل پر بٹھا کر دکھادیں تو جانیں۔ ثابت ہوا کہ کون بڑی ہے… عقل رکھنے والے تین سومسافر ہوائی جہاز میں ہزاروںفٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں آپ تین سو تین کیا، تیس بھینسوں کوہوائی جہاز میں بٹھا کر دکھادیں۔ نہیں اٹھاسکتے تو ماننا پڑتا ہے کہ بھینس بڑی ہے۔کھلے مین ہولز میں آئے دن کوئی نہ کوئی معصوم بچہ گر کر ہلاک ہوجاتا ہے کبھی آج تک کوئی بھینس مین ہول میںگر کر ہلاک نہیں ہوئی اگر بھینس بڑی اور عقل چھوٹی نہ ہوتی تو ان مین ہولز میںبچوں کے گرنے سے پہلے ڈھکن لگادیے جاتے۔بھینس بڑی ہونے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ چھوٹی عقل رکھنے والے ہم لوگ محض جائیداد اور دولت کی خاطر اپنے ان بوڑھے ماں باپ کو پاگل قرار دے پاگل خانے چھوڑ آتے ہیں۔ جنہوںنے پال پوس کر آج ہمیں اس مقام تک پہنچایا ۔ ایسی چھوٹی عقل رکھنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کل ہمیں بھی ماں باپ بننا ہے اور ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک کرے گی جو ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ کیا ایسی چھوٹی عقل کے مقابلے میں تو بھینس بہت بڑی ہے جو کم سے کم اپنے جنم دینے والوںکواگر سکھ نہیں دیتی تو دکھ بھی نہیں پہنچاتی۔اگر کسی کے پاس عقل بڑی ہونے کی یہ دلیل ہے کہ عقل سے انسان بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیتا ہے تو کارنامے تو وہ بھی انجام دیتے ہیں جن کے پاس عقل نہیں ہوتی اور جنہیں ہم نے پاگل قرار دے کر پاگل خانے میں رکھاہوا ہے۔ آئیے ایک نظربغیر عقل والوں کے کارناموں پر بھی ڈال لیں۔ایک شخص کی کار پاگل خانے کے سامنے پنکچر ہوگئی ۔ اس نے ٹائر کھول کر نٹ زمین پر رکھے مگر ڈھلان کی وجہ سے نٹ لڑھکتے ہوئے نیچے گر کر گم ہوگئے ۔ وہ آدمی سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔ پاگل خانے کی کھڑکی سے ایک پاگل یہ منظر دیکھ رہاتھا۔ پاگل نے اس آدمی کو پاگلانہ مشورہ دیا کہ باقی تین ٹائروں میں سے ایک ایک نٹ کھول کر اس ٹائر میںلگائو اور مزے سے گھر جائو۔آدمی نے حیرت سے کہا تم پاگل ہوگئے تم نے ایسا بہترین مشورہ کیسے دیا؟ تو پاگل نے جواب دیا میںپاگل ضررو ہوں مگر بے وقوف نہیں۔ہزاروں فٹ کی بلندپرپرواز کرتے ہوئے ہوائی جہاز کے پائلٹ نے اچانک زور زور سے ہنسناشروع کیا تو مسافروں نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا بھائی اس طرح کیوں ہنس رہے ہو؟ پائلٹ بولا جب پاگل خانے والوںکو یہ پتہ چلے گا کہ میں وہاں سے فرار ہو کر ہوائی جہاز اُڑا رہا ہوں تو کتنا مزہ آئے؟اب تو آپ مان لیں کہ عقل سے بھینس بڑی ہوتی ہے۔بھینسیںتو ہمیںدودھ اور بچے دونوں دیتی ہے جب کہ عقل کیا دیتی ہے؟ یہی عقل بھینس کے دودھ کو مہنگا کرادیتی ہے ۔ عقل دکھ دیتی ہے ز‘خم دیتی ہے۔بے وفائی کے داغ دیتی ہے۔ کم سے کم بھینس یہ سب تو نہیں دیتی۔ توپھر کیا فیصلہ کیا آپ نے...عقل بڑی یا بھینس!