حجاج بن یوسف
اسپیشل فیچر
جس وقت حجّاج بن یوسف، عبدالمالک بن مروان کے دربار میں پہنچا تو اموی خلافت چند روز کی مہمان نظر آرہی تھی، اس کی بنیادیں کم زور ہوچکی تھیں۔ ہر طرف بغاوتیں، شورشیں بپا تھیں وہ حجّاج ہی تھا جس نے اپنی بے پناہ تلوار سے اور بے روک سفّاکی سے ازسرِ نو اس کی گری ہوئی عمارت مستحکم کردی۔ مورخّین کا اِس بات پر اتفاق ہے اِس ظالم نے حالتِ جنگ کے علاوہ حالتِ امن میں ایک لاکھ 25 ہزار آدمی قتل کیے تھے۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے تھے ’’حجاّج اللہ کا عذاب ہے اسے اپنے ہاتھوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اللہ سے تضرّع و زاری کرو‘‘۔ یہی سبب ہے کہ جب اِن کو حجاّج کی موت کی خبر ملی تو حسن بصری ؒ اور عمر بن عبدالعزیز سجدے میں گر پڑے اور بے اختیار ان کی زبانوں سے نکل گیا ’’آج اس امّت کا فرعون مر گیا‘‘۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہزاروں انسانوں کو اپنے ہاتھوں سے موت کا جام پلانے والا جابر اور قہرمان حجاّج کے سامنے جب موت کا جام پیش کیا گیا تو اُس وقت اس کی کیا کیفیت تھی۔ اس کے احساسات کیا تھے؟ یہ ہماری تاریخ کا انتہائی عبرتناک باب ہے جس میں ہمارے لیے عبرت بھی ہے اور نصیحت بھی۔حجاّج بن یوسف کے معدے میں بے شمار کیڑے پیدا ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے وہ ہر وقت بے چین رہتا تھا اور جسم کو ایسی سخت سردی لگ گئی تھی کہ آگ کی بہت سی انگیٹھیاں بدن سے لگا کر رکھ دی جاتی تھیں پھر بھی سردی میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔ جب وہ زندگی سے مایوس ہوگیا تو اس نے گھر والوں سے کہا، ’’مجھے بٹھا دو اور لوگوںکو جمع کرو‘‘ لوگ آئے تو اس نے حسبِ عادت ایک بلیغ تقریر کی، موت اور اس کی سختیوں کا ذکر کیا، قبر اور اس کی تنہائی کا بیان کیا دنیا اور اس کی بے ثباتی یاد کی۔ آخرت اور اس کی ہولناکیاں بیان کیں، اپنے گناہوں اور مظالم کا اعتراف کیا، پھر یہ شعر اس کی زبان پر جاری ہوگئے۔’’میرے گناہ آسمان اور زمین کے برابر بھاری ہیں مگر مجھے اپنے خالق سے امید ہے کہ رعایت کرے گا‘‘’’اگر اپنی رضا مندی کا احسان مجھے دے تو یہی میری امید ہے، لیکن اگر وہ عدل کرکے میرے عذاب کا حکم دے‘‘’’تو اُس کی طرف سے ہر گز ظلم نہیں ہوگا، کیا یہ ممکن ہے کہ وہ رب ظلم کرے جس سے صرف بھلائی کی توقّع کی جاتی ہے‘‘۔پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔پھر اس نے کاتب طلب کیا اور خلیفہ ولید بن عبدالمالک کو حسب ذیل خط لکھوایا۔’’اما بعد! میں تمہاری بکریاں چراتا تھا، ایک خیرخواہ گلّہ بان کی طرح آقا کے گلّے کی حفاظت کرتا تھا، اچانک شیر آیا گلّہ بان کو طمانچہ مارا اور چراگاہ خراب کر ڈالی، آج تیرے غلام پر وہ مصیبت نازل ہوئی ہے جو سیّدنا ایوبؑ جیسے صابر پر نازل ہوئی تھی، مجھے امید ہے کہ جبّار و قہّار اس طرح اپنے بندے کی خطائیں بخشنا اور گناہ دھونا چاہتا ہے‘‘۔پھر خط کے آخر میں یہ شعر لکھنے کا حکم دیا:’’اگر میں نے اپنے خدا کو راضی پایا تو بس میری مراد پوری ہوگئی‘‘’’سب مرجائیں مگر خدا باقی رہنا میرے لیے کافی ہے، سب ہلاک ہوجائیں مگر خدا کی زندگی میرے لیے کافی ہے‘‘’’ہم سے پہلے یہ موت کا مزہ چکھ چکے ہیں ہم بھی ان کے بعد موت کا مزہ چکھیں گے‘‘’’اگر میں مرجائوں تو مجھے محبت سے یاد رکھنا کیوں کہ تمہاری خوش نودی کے لیے میری راہیں بے شمار تھیں‘‘’’یہ نہیں تو کم از کم ہر نماز کے بعد دعا میں یاد رکھنا کہ جس سے جہنم کے قیدی کو کچھ نفع پہنچے‘‘’’تجھ پر ہر حال میں اللہ کی سلامتی ہو، جیتے جی میرے پیچھے اور جب دوبارہ زندہ کیے جائو‘‘حسن بصریؒ حجّاج کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو حجّاج نے ان سے اپنی تکلیفوں کا شکوہ کیا۔ حسن بصریؒ نے کہا، ’’میں تجھے منع نہیں کرتا تھا کہ خلقِ خدا کو نہ ستا مگر افسوس! تونے نہیں سنا اور اپنی غلط روش پر چلتا رہا‘‘۔ حجّاج نے غصّے سے جواب دیا۔’’ میں تجھ سے یہ نہیں کہتا کہ اس مصیبت کے دور کرنے کی دعا کر میں تجھ سے یہ دعا چاہتا ہوں کہ خدا جلد میری روح قبض کرے اور اب زیادہ عذاب نہ دے‘‘۔ اسی دوران ابو منذر یعلیٰ منحلہ حجّاج کی عیادت کے لیے آئے اور کہا ’’اے حجّاج! موت کے سکرات اور سختیوں میں تیرا کیا حال ہے؟‘‘۔ حجّاج نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا، ’’کیا پوچھتے ہو؟ سفر دراز، توشہ قلیل، آہ۔ میری ہلاکت، آہ میری ہلاکت، اگر اُس جبّار و قہّار نے مجھ پر رحم نہ کھایا‘‘۔حجاّج کے جواب میں بے کسی اور مایوسی پوری طرح نمایاں تھی، اس کا جواب سُن کر ابو منذر یعلیٰ نے کہا۔ ’’اے حجاّج ! اللہ اپنے اُن بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل اور نیک نفس ہوتے ہیں، اُس کی مخلوق سے حُسنِ سلوک کرتے ہیں‘ محبت کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو فرعون اور ہامان کا ساتھی تھا، کیوں کہ تیری سیرت بگڑی ہوئی تھی تو نے اپنی ملّت ترک کردی تھی اورصراط مستقیم سے ہٹ گیا تھا۔ صالحین کے طور طریقے سے دُور ہوگیا، تو نے نیکو کاروں کو قتل کرکے اُن کی جماعت فنا کر ڈالی، تابعین کی جڑیں کاٹ کر ان کا پاک درخت اکھاڑ پھینکا، افسوس صد افسوس تو نے خالق کی نافرمانی کی اور مخلوق کی اطاعت کی۔ تُو نے خون کی ندیاں بہادیں ان کی جانیں لیں۔ آبروئیں برباد کیں، کبر وجبر کی روش اختیار کی تو نے نہ اپنا دین بچایا نہ دنیا ہی پائی۔ تونے خاندان مروان کو عزّت دی مگر اپنے نفس کو ذلیل کیا، ان کا گھر آباد کیا اور اپنے گھر کو ویران کرلیا۔ آج تیرے لیے نجات ہے نہ فریاد۔ کیوں کہ تو آج کے دن اور اس کے بعد سے غافل تھا اور تو اس امت کے لیے مصیبت اور قہر تھا۔ اللہ کا ہزار ہزار شکر کہ اُس نے تیری موت سے امّت کو راحت بخشی اور تجھے مغلوب کرکے اس کی آرزو پوری کردی‘‘۔ابومنذر یعلیٰ کی بے لاگ تقریر سن کر حجّاج سکتے میں آگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے اس پر جادو کردیا ہو۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ابو منذر یعلیٰ کو دیکھ رہا تھا، چند ثانیے بعد اُس نے خود کو سنبھالا لیا، پھر اس کے بعد اُس نے ٹھنڈی سانس لی آنکھوں میںآنسو بھرآئے اور آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر کہا۔’’الٰہی! اپنے اس گناہ گار بندے کو بخش دے کیوں کہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھے نہیں بخشے گا‘‘۔ پھر یہ شعر پڑھا’’الٰہی! بندوں نے مجھے ناامید کر ڈالا، حالاں کہ میں تجھ سے بڑی ہی امید رکھتا ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کرلیں۔