عورتوں کے الفاظ جن کے ہم معنی موجود نہیں
اسپیشل فیچر
جس طرح امور خانہ داری میں سینکڑوں الفاظ عورتوں نے وضع کیے اسی طرح گھریلو بول چال میں بھی عورتوں کی زبان پر اب بھی بیسیوں الفاظ ایسے ملتے ہیں جن کے مترادف یعنی ہم معنی اردو ادب میںموجود نہیں ہیں۔ اسی لئے اب اردو ادب ان کو اپنا چکا ہے۔الکسانا: (الکس آنا) کاہلی آنا، ،سستی آنافقرہ:آج کل دوپہر کے کھانے کے بعد طبیعت ایسی الکساتی ہے کہ شام تک کوئی کام نہیں ہوتا۔بکل مارنا: دوپٹے کو سر سے کس کر اوڑھنا، دامنی مارنا۔فقرہ: اے بی سنو تو یہ الٹی بکل مار کر کہاں چلیں۔بکھاننا: کسی خاندان کے گن گن کر عیب کھولنا، پرانے اعمال کا حوالہ دے دے کربدنام کرنا۔محاورہ ہے سات پشتیں بکھاننا۔جان اس میں اب رہے نہ رہے میں نہ مانونگیگن گن کے ان کے ننھے بڑوں کو بکھانوں گی تتوتھمبو کرنا: جھگڑے کی روک تھام کرنا، لڑائی کو روکنانہ بنی ساس سے نہ بننا تھیتتو تھیمبو، ہزار کی میں نےللو پتو کرنا: خوشامد کرنا۔باتیں بنانا۔ کسی کے عیب ڈھانکنا، ان کو میری کیا پڑی ہے۔ دن بھر بھاوج کی للو پتو میںرہتی ہیں۔المبا: وہ سختی جوکسی پھوڑے کے گرد ہوتی ہے۔فقرہ: پھوڑے کا منہ تو کچھ نہیں ہے لیکن المبا دور تک ہے۔اٹنگا: وہ کپڑاجو جسم سے اونچا ہو۔ پاجامہ جو ٹخنوں سے اوپر ہو، کرتا جو لمبائی میںکم ہے۔یہ اٹنگا اٹنگاپاجاماجس طرح سے غریب کی مامارونا: وہ لڑکاجو گھر میں کام کاج کے لئے ملازم ہوخبر کوزنانی کے بھیجا تھا میں نےگیااور کے گھر دو انا رونا بھوئیاں: وہ عورت جو رستہ دکھانے کیلئے آگے چلے،جو شہر کی گلیوں سے واقف ہے۔کوئی کٹنی ملے اس شہرکی ایسی بھوئیاںمیرے بیری کا جو گھر ڈھونڈ نکالے گوئیاںجڑاول: لحاف، رزائی، دلائی،مرزائی، فرغل، شال، توشک وہ تمام کپڑے جو سردیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔مجھے دم مارنے کی فرصت ملے تو جڑاول نکال کر دھوپ دکھائوں۔جھینکنا: کسی بات کا دکھڑا رونا، شکوے شکایت کرنا۔لوگ کیا ان کا جھینکنا جھینکیںبات کب کرنے دیتی ہیں چھینکیںچھی جانا: کان یا ناک کے بہہ ( سوراخ جس میں زیور پہناجائے) کا بڑھ جانا۔تم نے اتنے وزنی کرن پھول کیوں پہنے جو کان چھی گئے۔ڈھلیا:برتن ڈھالنے والافقرہ، ڈھلیا آئے تو لوٹے میں ٹانکا لگوالو۔انوٹھی:جھوٹی کی ضد وہرکابی یا برتن جس میں سے کھانا چھکا نہ گیا ہو۔آپ اس میں سے کھائیں یہ رکابی ابھی انوٹھی ہے۔انگھڑکھنگڑ: کاٹ کباڑ، فالتو سامانفقرہ:ذرا میں یہ انگھڑ گھنگڑ سمیٹ لوں تو اطمینان سے بیٹھوں۔جھپکان: مزوری کی وجہ سے آنکھیں جھپکنا، غنودگی بوجہ ضعف۔خدا کا شکر ہے آج اس نے آنکھیں کھولی ہیں کل جھپکان بہت تھی۔ چھب تختی:گات، اعضا کی بناوٹ (Figure)فقرہ: دلہن کی صورت زیادہ اچھی نہیں ہے مگر چھب تختی غضب کی ہے۔لاگن یا اچھے کی لاگن:ایسی معمولی شکل و صورت کی عورتیں جو پہن اوڑھ کر اچھی لگیں۔ جامہ زیب۔فقرہ: میں نے مانا کہ بیگماکالی ہے لیکن بلا سے لاگن تو ہیں پہن اوڑھ کر بری نہیں لگتی۔بھدرک، سلیقہ، خوبی، شعورکیا کہوں مرچ ہے نہ ادرک ہےاس مچھندرمیں کچھ بھی بھدرک ہےبھدرک ہونا:بھدرک ڈالنا،بھدرک لگانا، مختلف علاقوں میں بولا جاتا ہے۔بھٹور:جلی ہوئی لال مٹی،جس سے چولہا جمایا جائے۔دو پیسے کی بٹھور ہو تو چولہے کا منہ درست کروں اس پر ہنڈیا جمتی ہی نہیں۔سنور: زچہ خانہ ، بچہ کی پیدائش کے بعد چھلے تک کا زمانہتمہاری شکایت سچ ہے میں بخار میں پڑی تھی۔ دلہن اگر سنور میں نہ ہوتی تو کھڑے کھڑے اسی کو تمہارے یہاں بھیج دیتی۔گلتھا دینا: (گال ہاتھ پر رکھ کر بیٹھنا) خاموشی سے کسی بات کاپی جانا، حیران ہونا۔میں بھری محفل میں جوکہنا تھا کہتی رہتی۔ بنو تو خیر سے کیا مرے منہ لگتی اس کی ماں بھی گلتھا دیئے خاموش بیٹھی رہی۔اکھل کھرا۔ مردم بیزار، تنہائی پسند، کم آمیزہے یہ عادت تری بری بنوبن نہ اتنی اکھل کھری بنوہوازدگی: لگنے والی بیماری،عورتیں نزلے زکام کے معنوں میں بھی بولتی ہیں۔(Infection) آج کل گھرگھر نزلہ زکام پھیلا ہے ہوازدگی سے بچو۔گھولوا،گھلا ہوا۔ لگدی یا لبدی۔ بطور طنز ایسے کھانے کو کہتی ہیںجس میں مزہ نہ ہو۔فقرہ: یہ تم نے کڑھی پکائی ہے کہ بین کا گھولوا۔ نہ نمک ہے نہ مرچ۔گھولواگھولنا: کسی کام میں تاخیرکرنا میں نے تم سے پان بنانے کو کہا تھا اندر جا کر تم کیا گھولوا گھول رہی ہو۔ اس کے دوسرے معنی اندر ہی اندر جلنے اور کڑھنے کے ہیں۔ کسی بات کا دل پر اثر لینا منہ سے کچھ نہ کہنا۔فقرہ: ایک بات ہونا تھی ہوگئی۔ کب تک اس کا گھولواگھولوگی ختم بھی کرو۔(’’عورت اور اردو زبان‘‘ از وحیدہ نسیم)