محمد افراھیم

محمد افراھیم

اسپیشل فیچر

تحریر : شہنشاہ حسین


زمیں کی گود رنگ سے اُمنگ سے بھری رہےخُدا کرے، خُداکرے سدا ہری بھری رہےیہ وہ ملّی نغمہ ہے، جب کراچی ٹیلی ویژن سے نشر ہوتا تھا تو لوگ اِسے شوق سے سنتے تھے۔ بہت سے مقبول ملّی نغموں میں اس نغمہ کا الگ ہی حُسن ہے۔ اس کو گانے والے محمد افراہیم، کراچی کا حوالہ بن چکے ہیں۔ کراچی میں کوئی ادبی تقریب ہویا فلمی تقریب محمد افراہیم کی موجودگی کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ محمد افراہیم کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ ان تقریبات کی جان ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ ان تقریبات میں گزشتہ 47 برس سے شرکت کررہے ہیں۔ ریڈیو، فلم، ٹیلی ویژن اور اسٹیج غرض چاروں ہی شعبوں سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ انہوںنے متعدد یاد گار گیت، غزلیں، قومی نغمے اور فلمی گانے گائے ہیں۔ بھارت کے معروف گلوکار محمد رفیع (مرحوم) کی آواز کی جھلک رکھنے والی ان کی آواز نے سُننے والوں کو ہمیشہ محفوظ کیا۔ یہی نہیں بل کہ وہ رفیع (مرحوم) کے باقاعدہ شاگرد بھی رہے ہیں۔ محمد افراہیم سے ایک ملاقات میں ان سے بات چیت کی گئی جو ’’دنیا‘‘ کے قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ اپنی پیدائش اور بچپن کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔ وہ 14 اگست 1947ء کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے لوگ کاروباری تھے۔ میرے والد کا بھی کاروبار تھا جس کی وجہ سے بچپن سے ہی آسودگی دیکھی۔ ہم نو بھائی اور تین بہنیں ہیں لیکن پاکستان صرف میں ہی آیا۔ اپنے نام کے بارے میں افراہیم نے کہا۔ میری والدہ ’’داستانِ یوسفؑ‘‘ پڑھتی تھیں۔ افراہیم، حضرت یوسفؑ کے بڑے صاحب زادے کا نام ہے۔ جب میں پیدا ہُوا تو میرا نام ’’محمد افراہیم‘‘ رکھا گیا۔ اس کا مطلب ہے۔ فراہم کرنے والا، ملانے والا اور اﷲ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ میرے نام سے میری ذات جُڑی ہوئی ہے اگر میں کسی مسئلے میں پڑتا ہوں تو دونوں فریق مان جاتے ہیں۔کب محسوس ہُوا کہ آپ کی آواز میں محمد رفیع کی جھلک ملتی ہے اور آپ گابھی سکتے ہیں؟ افراہیم نے کہا، اُس دور میں ریڈیو ہی گھر میں تفریح ہوتا تھا، جو مجھے سننے کا بڑا شوق تھا، خاص کر فلمی گانے اور غزلیں سننے سے میرا دل بھی گنگنانے کو چاہتا تھا۔ بہت سے مقبول گلوکاروں کی آوازمیں گانے اچھے لگتے تھے لیکن محمد رفیع کا گانا ریڈیو پر ہمیشہ مُحو ہو کر سنتا تھا اور ان کے ہی گانے گنگنانے لگتا تھا۔ ہم نے جب افراہیم سے پوچھا کہ آپ کا گھرانہ بڑا مذہبی تھا۔ تو پھر گانے بجانے کی طرف کیسے آگئے؟ ان کا جواب تھا، میرے والد مزاجاً سخت ضرور تھے لیکن انہیں شعرو شاعری میں تصوف سے رغبت حاصل تھی۔ جب پہلی بار محلّے کے پروگرام میں، میں نے کئی غزلیں سنائیں، مجھے نہیں معلوم تھا کہ والد بھی اس میں شریک ہیں۔مجمع نے میری گائیکی پر کُھل کر داد دی تو والد صاحب کا رویہ میرے لیے نرم ہوگیا۔ محمد رفیع کی شاگردی اختیار کرنے کے جواب میں ان کا کہنا تھا، دہلی میں میرے محلّے کا ایک شخص اقبال تھا جو محمد رفیع کے گانوں میں ڈھولک بجاتا تھا۔ رفیع صاحب دہلی آئے تو اقبال کے کہنے پر انہوںنے میرا گانا سُنا اور پسند کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد اقبال ہی نے رفیع صاحب سے مجھے شاگردی اختیار کرنے کا کہا اس سلسلے میں پہلے تو رفیع صاحب نے مجھے نظر انداز کیا لیکن میرا شوق دیکھتے ہوئے آخر کار مجھے شاگرد بنالیا۔ میں چوں کہ پہلے سے طے کرکے گیا تھا کہ ان کا شاگرد ضروربنوں گا اس لیے ان کے لیے مٹھائی، سوٹ کا کپڑا، گُڑ اور چنے لے کر گیا تھا۔ رفیع صاحب، میرے والد سے ملے اور میری تعریف کی۔پاکستان آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔ 1965ء کا ذکر ہے، جب دہلی میں موسیقار ناشاد سے ملاقات ہوگئی، وہ پاکستان آچکے تھے اور یہاں فلم ’’میخانہ‘‘ کی موسیقی دے چکے تھے۔ انہوںنے مجھے کہا کہ بھارت میں محمد رفیع موجود ہے، اب اگر تم پاکستان آجائو تو وہاں کے محمد رفیع بن سکتے ہو، تمہاری آواز اس عمر میں محمد رفیع کی آواز جیسی ہے، حالاں کہ میں صرف 18 برس کا تھا لیکن محمد رفیع کے گانے گاگا کر میری آواز وقت سے پہلے مردانہ ہوگئی تھی۔ یہاں میں لاہور آیا۔ناشاد صاحب سے مِلا انہوں نے مجھے کہا، میرے پاس اس وقت کوئی فلم نہیں ہے جیسے ہی دوسری فلم ملتی ہے میں تمہیں چانس دوں گا۔ وہاں میری دوستی مجیب عالم سے ہوگئی جو ناشاد کی فلم ’’میخانہ‘‘ کے گانے سے شہرت حاصل کرچکے تھے۔ اس طرح سلطان راہی اور پھر موسیقار کمال احمد کو بھی میری آواز پسند آئی۔ اتفاق سے کراچی کے معروف موسیقار بلند اقبال جو اپنے ساتھی لال محمد کے ساتھ موسیقی دیتے تھے، انہوںنے مجھے کہا میری فلم ’’جاگ اُٹھا انسان‘‘ کا ایک گانا ریکارڈ ہونا ہے اگر تم کراچی آجائو تو میں اسے تمہاری آواز میں ریکارڈ کرلوں گا۔ بس پھر کیا تھا۔ میں ان کے کراچی پہنچنے سے پہلے یہاں آگیا۔ فلم کے لیے میرا پہلا گانا ڈوئٹ تھا جس کے بول تھے، ’’گوری ذرا پھر سے بجا پائلیا، پیپل کی چھائوں میں‘‘ اس ڈوئٹ میں دوسری آواز نسیمہ شاہین کی تھی۔ اس فلم کے تمام گانے مشہور ہوئے۔ میرے اس گانے میں ڈانڈیا بھی کسی فلم میں پہلی بار شامل ہُوا۔ اس کی مقبولیت اتنی زیادہ ہوئی، میں جب لاہور گیا تو ناشاد صاحب کے پاس مٹھائی لے کر چلا گیا۔ میں سیدھ سادھا آدمی ہوں مجھے اس وقت بھی اتنی عقل نہیں تھی، ناشاد صاحب نے بظاہر تو مجھے مبارک باد دی لیکن مجھے احساس ہُوا کہ میرے گانے سے وہ خوش نہیں ہوئے۔ وہ پہلی بار میری آواز میں گانا ریکارڈ کرکے اس کا کریڈٹ خود لینا چاہتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں اگر میرا پہلا گانا ہٹ نہ ہوتا تو مجھے بہت سے گانے مل جاتے۔ ناشاد صاحب مجھ پر مہربان نہیں رہے۔ انہوں نے میرے بجائے دوسرے گلوکاروں کو گانے کا موقع دیا جن میں کئی گلوکار ایک آدھ گانا ہی گاسکے۔ کئی موقعوں پر ناشاد صاحب نے مجھے نقصان پہنچایا، لیکن میں نے ان سے کبھی کچھ نہیں کہا۔ ایک دُکھ مجھے ضرور ہوا۔ فلم ساز اقبال بٹ جن سے میری دوستی ہوگئی تھی وہ مجھے اپنی فلم ’’رشتہ ہے پیار کا‘‘ میں ہیرو لینا چاہتے تھے، لیکن میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے بڑی مشکل سے گانے کی اجازت دی ہے۔ اداکاری تو وہ کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ خیر اس فلم میں میرا رونا لیلیٰ کے ساتھ ایک گانا ریکارڈ ہوا۔ اس کے بول تھے ’’معصوم سا چہرہ ہے ہم جس کے ہیں دیوانے، نظروں سے ملیں نظریں، کیا ہوگا خدا جانے‘‘ یہ گانا ناشاد، احمد رشدی سے گوانا چاہتے تھے لیکن فلم ساز کے مجبور کرنے پر انہوں نے مجھ سے گوایا۔ یہ گانا رفیع صاحب کے گانے کی طرح تھا، لیکن پھر ناشاد نے میرا یہ گانا فلم میں شامل نہیں کیا اور دوبارہ رونا لیلیٰ اور احمد رشدی کی آواز میں ریکارڈ کرلیا۔ رشدی کو معلوم نہیں تھا میری ان سے سلام دعا کے علاوہ بے تکلفی بھی تھی لیکن جب یہ بات ہوئی تو میں ان سے کٹ گیا۔ رُشدی صاحب کو احساس ہوا ایک دن میرے دوست شاہد دہلوی نے رُشدی کو بتادیا تو وہ شرمندہ ہوئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ بیٹا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ گانا تم نے گایا ہے تو میں دوبارہ ریکارڈ نہ کراتا۔ میری ان سے ناراضی ختم ہوگئی۔ پھر زندگی یوں ہی چلتی رہی۔ میں نے ایک درجن سے زائد فلموں کے لیے گانے گائے۔ ان فلموں میں ہمدم، پاپی، گھروندا، آشیاں جل گیا، جال، جلے نہ کیوں پروانہ، ایک رات، وفا، نشیمن، شیریں فرہاد وغیرہ شامل ہیں۔ افراہیم نے بتایا کہ ستّر کی دہائی میں کراچی میں ہر شام تقریبات ہوتیں تھیں اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں لائیو پرفارمنس دوں تو زیادہ سراہا جائوں گا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ مجھے جب ریڈیو، ٹی وی اور فلم والے بُلاتے تھے تو میں چلا جاتا تھا۔ میں نے خود کبھی ان سے گانے کا نہیں کہا۔ یہ میری عادت نہیں تھی۔ لائیو پروگرام میں داد فوری مل جاتی ہے اس لیے محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کراچی اور لاہور دونوں شہروں سے بڑا پیار ملا، اپنے قومی نغموں کے بارے میں افراہیم کا کہنا تھا۔ میں نے بہت زیادہ قومی نغمے گائے ہیں۔ ٹی وی پر پہلا قومی نغمہ، جہاں پیار چراغ جلاتا ہے، جہاں دریا دریا گاتا ہے‘‘ تھا۔ لیکن ’’زمیں کی گود رنگ سے، امنگ سے بھری رہے‘‘ آج بھی سننے والوں میں میری پہچان ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دیو ہیکل سبزیاں

دیو ہیکل سبزیاں

انگلینڈ میں منفرد مقابلہ، غیر معمولی حجم اور وزن والی سبزیاں توجہ کا مرکزسبزیوں کا شمار عام طور پر روزمرہ خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن برطانیہ کے شہر مالورن میں ہونے والا ایک منفرد مقابلہ انہیں غیر معمولی شہرت بخش دیتا ہے۔ یہاں کاشت کار اور شوقیہ باغبان ایسی سبزیاں اگانے کیلئے برسوں محنت کرتے ہیں جو اپنے غیر معمولی حجم اور وزن کے باعث دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ دیوہیکل کدو، گاجر، گوبھی اور دیگر سبزیوں کی نمائش نہ صرف باغبانی کے شوق کی عکاسی کرتی ہے بلکہ محنت، تجربے اور قدرت کے ساتھ انسان کے تعلق کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس سال بھی مالورن میں کئی ''دیوہیکل سبزیوں‘‘ نے سبقت حاصل کی ہے۔برطانیہ میں خزاں کا موسم آچکا ہے اور کینا یو کے نیشنل جائنٹ ویجیٹیبلز چیمپئن شپ کا وقت آگیا ہے۔یہ انتہائی متوقع مقابلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مالورن آٹمن شو میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس غیر معمولی جسامت کی سبزیوں کو دیکھنے کیلئے اس شو کا رخ کرتے ہیں۔ 25 سے 27 ستمبر تک منعقد ہونے والے اس سال کے مقابلے میں آنے والے شائقین کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ ہفتے کے اختتام پر پانچ باغبانوں کی اگائی ہوئی مجموعی طور پر سات غیر معمولی جسامت کی سبزیوں اور پھلوں نے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی تصدیق حاصل کی۔یہ سات ریکارڈ توڑنے والی سبزیوں اور پودوں میں ایک دیوہیکل چقندر بھی شامل تھا، جس کا ریکارڈ 2019ء سے ناقابلِ شکست چلا آ رہا تھا۔ اس کے علاوہ بٹرنٹ اسکواش کی ایک انتہائی طویل قسم ''ٹرومبونچینو‘‘ بھی شامل تھی، جبکہ شاید بہت سے لوگوں کیلئے سب سے حیران کن چیز وہ پودا تھا جسے عام طور پر باغیچے کی ایک ناپسندیدہ جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں ریکارڈ قائم ہونا اس لحاظ سے بھی خاصا متاثر کن ہے کہ رواں موسمِ گرما کے دوران برطانیہ کو کئی مرتبہ طویل اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ثابت قدم باغبانوں سے گفتگو کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس انتہائی موسم کا بھی حوصلے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔مقابلے میں شامل تمام امیدواروں کی چیف جج اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے دیوہیکل سبزیوں کے ماہر سیباسٹین سوسکی نے انتہائی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے ہر زمرے کے مقررہ قواعد کے مطابق شرائط پوری ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد سبزیوں اور پودوں کی پیمائش اور وزن کرنے کا اہم مرحلہ مکمل کیا گیا۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کامیاب نمونوں کا قریب سے معائنہ کیا اور ان کے کاشت کاروں کو سرٹیفکیٹس پیش کیے۔کیون فورٹی، جنہیں ''مسٹر جائنٹ ویج‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس سال ان دو کاشت کاروں میں شامل تھے جنہوں نے دو، دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ دوسرے کاشت کار ونسنٹ سجوڈن تھے۔ کیون فورٹی کے خاندان میں دیوہیکل سبزیاں اگانے کی روایت تین نسلوں سے چلی آ رہی ہے اور اب تک خاندان کے افراد مجموعی طور پر 17 عالمی اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔فورٹی کا کہنا ہے کہ ان کی نگاہیں 20 عالمی ریکارڈز کا سنگ میل عبور کرنے پر ہیں۔سب سے پہلے فورٹی نے سب سے بھاری لوفا کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ لوفا ایک بیل دار گرم خطے کا پودا ہے، جس کے خشک ہونے کے بعد اس کے پھل کو عموماً باتھ روم میں استعمال ہونے والے قدرتی اسفنج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فورٹی نے ایک بالکل نئے زمرے میں بھی پہلا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا، جو سب سے لمبی ٹرومبونچینو کا تھا۔ شمالی اٹلی سے تعلق رکھنے والی یہ لمبی اور خمدار اسکواش کی زیادہ سے زیادہ لمبائی حاصل کرنے کیلئے باغبان کے سامنے اصل چیلنج یہ تھا کہ پھل کو سیدھا رکھا جائے۔ ٹرومبونچینو بھی بحیرہ روم کے خطے کی ایک ایسی سبزی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ کے باغبانوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔2026ء میں عالمی ریکارڈ کیلئے ایک اور نیا زمرہ سب سے لمبی ڈینڈیلائن کی جڑ کا متعارف کرایا گیا۔ اگرچہ مقابلے میں نمائش کیلئے پیش کی جانے والی دیگر سبزیوں کے مقابلے میں ڈینڈیلائن شاید زیادہ معروف نہ ہو، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پودے کے تمام حصے قابلِ خوراک ہیں۔ اس کے پتے اور پھول سلاد میں استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ جڑ کو چائے کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے بھون کر کافی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔واروک شائر سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے باغبانی کے شعبے سے وابستہ ماہر اور یوٹیوبر ٹیری کنگ کئی برسوں سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بالآخر اپنا پہلا گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنا ان کیلئے ایک خواب پورا ہونے کے مترادف تھا۔

بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن

بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہےدنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانوں میں جانوروں کے حقوق، ان کے تحفظ، فلاح و بہبود اور قدرتی ماحول میں ان کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ جانور قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور زمین پر زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان صدیوں سے مختلف جانوروں سے خوراک، لباس، زراعت، نقل و حمل اور دیگر ضروریات کیلئے فائدہ اٹھاتا آیا ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا انسانی معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سال یہ دن ''ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھئے‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔جانوروں کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1925ء میں جرمنی کے شہر برلن میں منایا گیا تھا۔ بعدازاں یہ دن دنیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ 4اکتوبر کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ مسیحی روایت میں جانوروں اور قدرتی ماحول کے سرپرست سمجھے جانے والے سینٹ فرانسس آف اسیسی سے منسوب دن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج مختلف ممالک میں جانوروں کے تحفظ، جنگلی حیات اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔جانوروں کی دنیا انسانوں سے کہیں زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ جنگلات، پہاڑوں، صحراؤں، دریاؤں اور سمندروں میں لاکھوں اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ہر نوع قدرتی ماحول میں ایک مخصوص کردار ادا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیاں اور تتلیاں پودوں کی بارآوری میں مدد دیتی ہیں، پرندے بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جبکہ بہت سے جانور قدرتی خوراکی سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔ کسی ایک نوع کی تعداد میں غیر معمولی کمی بھی پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے متعدد جانوروں کو بقا کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، قدرتی مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار، آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت نے کئی انواع کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بعض جانوروں کی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں جبکہ کئی دیگر معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بہت سے جانوروں کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔شہری علاقوں میں بھی جانوروں کے ساتھ رویہ معاشرے کی اخلاقی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پالتو جانوروں کو مناسب خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ان کے مالک کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آوارہ کتوں اور بلیوں کے ساتھ تشدد کے بجائے انسانی اور سائنسی طریقوں سے ان کی تعداد کو منظم کیا جانا چاہیے۔ زخمی یا بیمار جانور کو تکلیف پہنچانے کے بجائے متعلقہ اداروں یا ماہرین حیوانات سے مدد حاصل کرنا زیادہ ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔اسلامی تعلیمات میں بھی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں مخلوقات خدا کے ساتھ رحم، شفقت اور ذمہ داری کا درس ملتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں جانوروں کے ساتھ رحم کرنے کو اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔جانوروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف انسانوں کیلئے نہیں۔ قدرت نے تمام جانداروں کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جس میں ہر مخلوق کا اپنا مقام اور کردار ہے۔ جانوروں کے قدرتی مسکن کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد اور عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انسان ترقی کے ساتھ رحم، ذمہ داری اور ماحول دوستی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف جانور محفوظ رہیں گے بلکہ ہماری اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک متوازن اور صحت مند دنیا برقرار رہ سکے گی۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)

٭... 9 جون 1938ء کو سندھ کے شہر میرپور خاص میں پیدا ہوئے، پورا نام مسعود احمد رانا تھا۔ ٭...1955ء میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے گانا شروع کیا۔٭...60ء کے عشرے میں میوزک بینڈ بنایا، جس میں اداکار ندیم اور اخلاق احمد بھی شامل تھے۔٭...1962ء میں فلم ''انقلاب‘‘ سے فلمی گیت گانے کی خواہش پوری ہوئی۔٭...ہلکے پھلکے رومانوی گیت ہوں، المیہ دھنیں ہوں، شوخ یا پھر لمبی تانیں وہ ہر قسم کے گیت گانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ٭...پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں جنہوں نے اردو اور پنجابی فلموں اور گیتوں کی سینچریاں بلکہ ڈبل سینچریاں بنائیں۔٭... فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے، جنھوں نے 600 سے زائد فلموں کیلئے نغمہ سرائی کی۔٭... پہلی فلم ''انقلاب‘‘ سے لے کر اپنی آخری فلم ''سناٹا‘‘ تک فلمی صنعت کی ضرورت بنے رہے۔٭...34سالہ کریئر میں ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا جب ان کی کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔ ٭...ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں ''پاکستانی رفیع‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ٭...منفرد لہجے کے حامل اس گلوکار نے مشکل طرز کے گانے بھی ریکارڈ کرائے جو سننے والوں کو آج بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔٭...ان کے گیتوں سے سجی فلموں میں ''آئینہ، دھڑکن، مجاہد، نائلہ، کون کسی کا، بھیّا، سنگ دل، پاک دامن، احساس، دامن اور چنگاری، میرا ماہی، مرزا جٹ، دھی رانی،دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی،چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام‘‘ نمایاں ہیں۔٭... تین موسیقاروں کے ساتھ سو، سو سے زائد گیت بھی گائے، جن میں بابا جی اے چشتی، ایم اشرف اور وجاہت عطرے شامل تھے۔٭...دنیائے موسیقی کا یہ روشن ستارہ 4 اکتوبر1995ء کو غروب ہو گیا۔حمد،نعت ، قوالی٭...مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا٭...وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے٭...کرم کی اک نظر ہم پر خدارا، یا رسول اللہﷺ ٭...مدینے والے کو میرا سلام کہہ دینا ٭...مولا تیرا کرم ہے ، ہمیں مصطفیﷺ ملے٭...داتا ،میرے، جھولی بھر دے، میں سوالی تیرے در کاملی نغمے٭...ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ٭...سوہنی دھرتی، اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے٭...ساتھیو، مجاہدو، جاگ اْٹھا ہے سارا وطن ٭...اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں٭...اے وطن، اسلام کی امید گاہ آخری، تجھ پر سلاممقبول گیت٭...تمہی ہو محبوب میرے،میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں٭...ٹانگے والا خیر منگدا ٭...عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی، سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی٭...تیری یاد آگئی، غم خوشی میں ڈھل گئے٭...برا مان کر کہاں چل دیئے،٭...حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتا ہے٭...دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری٭...میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا٭...اک سانولی سی لڑکی میرے دل کو بھا گئی ٭...نہ جا میرے دلربا، سن لے دل کی صدا

آج کا دن

آج کا دن

اسپیس شپ ون کی تاریخی کامیابی4اکتوبر 2004ء کو نجی خلائی پرواز کے شعبے میں اسپیس شپ ون نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ''انصاری ایکس پرائز‘‘ جیتا۔ یہ انعام ایسی نجی ٹیم کیلئے مقرر کیا گیا تھا جو انسان بردار خلائی پرواز کی مخصوص شرائط کامیابی سے پوری کرے۔ اسپیس شپ ون نے کامیاب پروازوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ نجی شعبہ بھی انسانوں کو خلا کی حدود تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں تاریخی ڈکیتی کی واردات1997ء میں آج کے روز امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ملک کی تاریخ کی دوسری بڑی ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واردات میں لومِس فارگو نامی سکیورٹی اور نقد رقم منتقل کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا۔ بڑی مقدار میں نقد رقم لوٹ لیے جانے کے باعث یہ واقعہ امریکی تاریخ کی نمایاں ترین ڈکیتیوں میں شمار ہوا۔ رومی امن معاہدہ''روم جنرل پیس ایکارڈز‘‘ ایک امن معاہدہ تھا جو موزمبیق اوررینیامو کی حکومت کے درمیان طے پایا تھا، جس سے 4 اکتوبر 1992ء کو موزمبیقن خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔اس امن معاہدہ کی وجہ سے 16برسوں سے جاری سول جنگ کا خاتمہ ہوا۔یہی وجہ تھی کہ اس معاہدے کو عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔سانحہ ایسٹرن ایئر لائنز 1960ء میں آج کے روز ایسٹرن ایئر لائنز کی پرواز 375 بوسٹن کو حادثہ پیش آیا۔ ٹیک آف کے فوراً بعد جہاز کا سامنا پرندوں کے جھنڈ سے ہوا،کچھ پرندے انجن میں داخل ہوگئے۔ انجن بند ہوتے ہی جہاز بے قابو ہوکر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں72افراد ہلاک جبکہ62افراد زخمی ہوئے۔

ایپل کے مہنگے ترین موبائل

ایپل کے مہنگے ترین موبائل

جدید ٹیکنالوجی، قیمتی دھات اور منفرد ڈیزائنآئی فون ڈیو تقریباً59لاکھ روپے کا ،''پالمیٹ18کے‘‘ ہیروں سے مزینٹیکنالوجی کی دنیا میں جدید سمارٹ فونز جہاں نت نئے فیچرز اور منفرد ڈیزائن کے باعث صارفین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں، وہیں بعض کمپنیاں اور لگژری برانڈز ان آلات کو محض ضرورت کے بجائے شان و شوکت کی علامت بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایپل کے فولڈ ایبل ''آئی فون ڈیو‘‘ کے ''لیکوئیڈ میٹل‘‘ ورژن نے اپنی غیر معمولی قیمتوں کے باعث ٹیکنالوجی کی دنیا میں خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔ ایپل کے اس خصوصی فون کی قیمت تقریباً 59لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جو اسے عام اسمارٹ فونز سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، قیمتی دھات اور منفرد ڈیزائن کے امتزاج سے تیار کیا گیا یہ ماڈل اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ صارفین جدید موبائل فون کیلئے آخر کتنی بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ایپل کا اب تک کا سب سے مہنگا آئی فون رواں ماہ کے آغاز میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں اس فولڈ ایبل ڈیوائس کی قیمت 1,999 سے 3,199 پاؤنڈ کے درمیان ہے، جو ایپل کے جدید ترین فلیگ شپ فونز ''آئی فون 18 پرو‘‘ اور ''آئی فون 18 پرو میکس‘‘ سے بھی زیادہ ہے، جن کی ابتدائی قیمت 1,199 پاؤنڈ ہے۔آئی فون ڈیو کا یہ نرخ بھی اس کے ایک خصوصی ماڈل کے مقابلے میں معمولی دکھائی دیتا ہے۔ اسے لگژری کمپنی کیویار (Caviar) نے تیار کیا ہے۔''لیکوئیڈ میٹل‘‘ (Liquid Metal) کے نام سے متعارف کرایا گیا خصوصی فون مکمل طور پر اسٹرلنگ سلور (خالص چاندی کی مخصوص قسم) سے تیار کیا گیا ہے۔ کیویار کے مطابق ''اس کی سطح حرکت میں منجمد دھات کا تاثر دیتی ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عکس فون کی ساخت میں گہرائی اور سیال پن کو مزید نمایاں کرتے ہیں‘‘۔ تاہم، اگر آپ یہ منفرد فون حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے خاصی بڑی رقم خرچ کرنا ہوگی۔ لیکوئیڈ میٹل آئی فون ڈیو کی قیمت 21,340 ڈالر (تقریباً 59لاکھ روپے) تک ہے، جو ایپل کے پیش کردہ آئی فون ڈیو سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔کیویار کے مطابق، لیکوئیڈ میٹل ورژن ایپل آئی فون میں موجود تبدیلی کے تصور کو آگے بڑھاتا ہے اور اسمارٹ فون کو ایک ہموار دھاتی ساخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے مطابق، ''مجسمہ نما سیال لکیریں فون کی نئی ساخت کو نمایاں کرتی ہیں اور مسلسل حرکت کا احساس پیدا کرتی ہیں، گویا ڈیوائس کے ساتھ اس کی سطح بھی خود تبدیل ہو رہی ہو‘‘۔جہاں تک اس میں استعمال ہونے والے مواد کا تعلق ہے، کمپنی نے آئینے جیسی چمک رکھنے والی اسٹرلنگ سلور کا انتخاب کیا ہے۔ کیویار نے مزید بتایا کہ اسٹرلنگ سلور کو مجسمہ نما ابھری ہوئی ساخت میں ڈھالا گیا ہے اور اسے آئینے جیسی چمک کے ساتھ پالش کیا گیا ہے۔ کیویار کے مطابق، اس خصوصی فون کے صرف 17 یونٹ تیار کیے گئے ہیں۔ 256 جی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 18,840 ڈالر جبکہ 512 جی بی ورژن کی قیمت 19,200 ڈالر ہے۔ اسی طرح 1 ٹی بی اسٹوریج والا ماڈل 19,910 ڈالر میں دستیاب ہے۔ دوسری جانب سب سے مہنگا 2 ٹی بی ورژن 21,340 ڈالر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کیویار نے ایپل کے فلیگ شپ ڈیوائسز آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کو بھی لگژری انداز میں پیش کیا ہے۔ کمپنی نے ان دونوں فونز کے 76 خصوصی کسٹم ورژنز تیار کیے ہیں، جن کی قیمت 7,130 ڈالر سے شروع ہو کر 8890 ڈالر تک جاتی ہے۔ان میں مہنگے ترین ماڈلز میں ''پالمیٹ 18کے‘‘ بھی شامل ہے، جسے آرٹ ڈیکو طرز کے ڈیزائن میں 18 قیراط سونے اور ہیروں سے تیار کیا گیا ہے۔ کیویار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ''اس فون کا باڈی 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے اور اسے کھجور کے پتوں کے نقش سے سجایا گیا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی مشہور کھجوروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔‘‘ کمپنی کے مطابق، 100 سے زائد ہیرے ہاتھ سے نصب کیے گئے ہیں، جو اس آرائشی ڈیزائن کو مزید خوبصورت بناتے ہیں، جبکہ قیمتی پتھروں سے مزین ایپل کا لوگو ڈیزائن کی سادگی اور متناسب ساخت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب کیویار نے ایپل کی مصنوعات کے غیر معمولی اور لگژری ورژن متعارف کرائے ہوں۔ رواں سال اپریل میں بھی کمپنی نے آئی فون 17 پرو میکس کا ایک خصوصی لگژری ورژن تیار کیا تھا، جس میں ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کے مشہور سیاہ ٹرٹل نیک لباس کا ایک ٹکڑا شامل کیا گیا تھا۔

بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘

بڑی آنکھوں والے تیرتے ڈراوے ’’لومنگ آئی بوائے‘‘

آبی پرندوں کو بھگانے کیلئے سائنسدانوں کا انوکھا و دلچسپ تجربہسمندری ساحلوں پر سی گلز کی بڑی تعداد بعض اوقات شہریوں اور ماہی گیروں کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں یہ پرندے انسانوں کے قریب آ جاتے ہیں اور بعض مقامات پر کچرے اور خوراک کے مقامات کے گرد جمع ہو کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انہیں دور رکھنے کیلئے سائنسدانوں نے اب ایک دلچسپ اور غیر معمولی طریقہ آزمایا ہے۔ برطانیہ کے کارن وال کے ساحل پر بڑے بڑے گوگلی آنکھوں والے ''تیرتے ڈراؤے‘‘ پانی میں چھوڑے گئے ہیں، جن کا مقصد سی گلز کو خوفزدہ کرکے مخصوص علاقوں سے دور رکھنا ہے۔سائنس دانوں نے برطانیہ کے علاقے کارن وال کے ساحل کے قریب سمندر میں ایک ''تیرتا ڈراؤنا مجسمہ‘‘ نصب کیا ہے۔یہ تیرتا ہوا ڈراؤنا مجسمہ ''لومنگ آئی بوائے‘‘ (LEB) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے سمندری پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے سے بچانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔فِش ٹیک میرین کے سینئر فشریز سائنس دان ٹام ہوپر کے مطابق ''لومنگ آئی بوائے بنیادی طور پر ایک گھومتا ہوا سر ہے جس پر ایک آنکھ بنی ہوئی ہے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی متحرک یا ابھرتی ہوئی آنکھ پرندوں کو دیکھ رہی ہو، جس کے باعث پرندے ماہی گیری کے جالوں کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔ اگرچہ یہ طریقہ سننے میں قدرے مزاحیہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تکنیک انتہائی مؤثر ہے۔ اس تیرتے ڈراؤنے مجسمے کو نصب کرنے کے بعد گِلِموٹ اور ریزربِل نامی سمندری پرندوں کے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد تک کم ہوگئے۔ہر سال یورپ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 95 ہزار سمندری پرندے غیر ارادی طور پر ماہی گیری کے جالوں میں پھنس کر ڈوب جاتے ہیں۔ اس عمل کو ''بائی کیچ‘‘ (Bycatch) کہا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی اقسام کے سمندری پرندوں کو متاثر کرتا ہے، جن میں گِلِموٹ اور ریزربِل بھی شامل ہیں۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین نے اپنی نئی تحقیق میں پرندوں کو ماہی گیری کے جالوں سے دور رکھنے کیلئے دو طریقوں کا تجربہ کیا۔ ان میں ''لومنگ آئی بوائز‘‘ (LEBs) اور ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شامل تھیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ''اسکیری برڈ‘‘ پتنگیں شکاری پرندوں کی شکل میں تیار کی جاتی ہیں، تاکہ دوسرے پرندے انہیں دیکھ کر اس علاقے سے دور رہیں۔دو سال تک جاری رہنے والے تجربے کے دوران کارن وال کے 10 ماہی گیروں کی کشتیوں پر کیمرے نصب کیے گئے، جن کے ذریعے یہ جائزہ لیا گیا کہ ان طریقوں سے جالوں میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی طور پر پھنسنے کی شرح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔ ''لومنگ آئی بوائز‘‘ کے استعمال سے پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کے امکانات 59 فیصد جبکہ شکاری پرندوں کی شکل والی پتنگوں کے ذریعے 71 فیصد کم ہوگئے۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے تحقیق کے مرکزی مصنف ٹام ہورٹن نے کہا کہ یہ مطالعہ اب تک کے مضبوط ترین شواہد میں سے ایک فراہم کرتا ہے کہ سادہ اور عملی حفاظتی طریقے گل نیٹ فشریز میں سمندری پرندوں کے غیر ارادی شکار کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کن اوقات اور مقامات پر پرندوں کے جالوں میں پھنسنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کی مدد سے اب حفاظتی اقدامات کو ان مقامات اور اوقات پر مرکوز کیا جاسکتا ہے جہاں کمزور سمندری پرندوں کی آبادی کے تحفظ کیلئے ان کا سب سے زیادہ فائدہ ہو، جبکہ پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔مسٹر ہوپر نے مزید کہا کہ سمندر میں استعمال ہونے والی کوئی بھی ٹیکنالوجی سادہ اور مضبوط ہونی چاہیے۔ اسی لیے ماہی گیروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا کہ یہ آلات عملی طور پر کس طرح استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس تجربے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اب ہم ان آلات کو مزید بہتر اور مؤثر بنا سکتے ہیں تاکہ وہ ماہی گیروں کی عملی ضروریات کے مطابق ہوں‘‘۔یہ پہلا موقع نہیں کہ سائنس دانوں نے سمندری پرندوں کو دور رکھنے کیلئے بڑی بڑی ''گوگلی آنکھوں‘‘ کا سہارا لیا ہو۔رواں سال کے آغاز میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے سائنسدانوں نے شرارتی سی گلز کو کھانے کی اشیا سے دور رکھنے کیلئے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر بڑی بڑی آنکھیں چسپاں کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے ٹیک اوے کھانے کے ڈبوں پر گوگلی آنکھیں چسپاں کرکے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا ان کا بھوکے سی گلز کیلئے کھانے کی کشش پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔حیرت انگیز طور پر تحقیق میں معلوم ہوا کہ آنکھوں کی موجودگی سے سی گلز بدک جاتے ہیں۔ وہ ایسے ڈبوں کی طرف نسبتاً دیر سے بڑھتے اور ان پر چونچ مارنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔تحقیق کی مرکزی مصنف ڈاکٹر لورا کیلی نے ''دی کنورسیشن‘‘ کیلئے لکھے گئے ایک مضمون میں وضاحت کی کہ بہت سے جانور، خواہ جنگلی ہوں یا پالتو، آنکھوں کی موجودگی کے بارے میں خاصے حساس ہوتے ہیں۔ آنکھیں کسی شکاری کی موجودگی کی علامت ہوسکتی ہیں یا ارادے کے اظہار کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست آنکھوں میں دیکھنا اکثر جارحیت کا اظہار سمجھا جاتا ہے، جبکہ نظریں چرانا خطرہ نہ ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق جانور عموماً اس وقت دفاعی ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ کوئی آنکھیں گاڑ کر انہیں دیکھ رہا ہے۔سی گلز کو دور رکھنے کے سائنسی طریقے٭...سی گلز کو ڈانٹیں یا بلند آواز میں چلائیں۔٭...زیبرا کی دھاریوں یا چیتے کی کھال جیسے نمایاں اور متضاد ڈیزائن والے کپڑے پہنیں۔٭...جو سی گلز بہت قریب آنے لگیں، ان سے آنکھوں کا رابطہ برقرار رکھیں۔٭...کھانا پیراسول، چھتری، چھت یا قریب قریب فاصلے پر لگی جھنڈیوں کے نیچے بیٹھ کر کھائیں، یا دیوار سے پشت لگا کر کھائیں۔٭...اپنا بیگ کبھی کھلا نہ چھوڑیں اور اس کی زِپ ضرور بند رکھیں۔٭...محض تفریح کیلئے سی گلز کو کبھی کھانا نہ کھلائیں۔٭...اپنے کھانے کے ڈبے یا پیکنگ پر گوگلی آنکھیں چسپاں کریں۔