محمد افراھیم

محمد افراھیم

اسپیشل فیچر

تحریر : شہنشاہ حسین


زمیں کی گود رنگ سے اُمنگ سے بھری رہےخُدا کرے، خُداکرے سدا ہری بھری رہےیہ وہ ملّی نغمہ ہے، جب کراچی ٹیلی ویژن سے نشر ہوتا تھا تو لوگ اِسے شوق سے سنتے تھے۔ بہت سے مقبول ملّی نغموں میں اس نغمہ کا الگ ہی حُسن ہے۔ اس کو گانے والے محمد افراہیم، کراچی کا حوالہ بن چکے ہیں۔ کراچی میں کوئی ادبی تقریب ہویا فلمی تقریب محمد افراہیم کی موجودگی کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ محمد افراہیم کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ ان تقریبات کی جان ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ ان تقریبات میں گزشتہ 47 برس سے شرکت کررہے ہیں۔ ریڈیو، فلم، ٹیلی ویژن اور اسٹیج غرض چاروں ہی شعبوں سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ انہوںنے متعدد یاد گار گیت، غزلیں، قومی نغمے اور فلمی گانے گائے ہیں۔ بھارت کے معروف گلوکار محمد رفیع (مرحوم) کی آواز کی جھلک رکھنے والی ان کی آواز نے سُننے والوں کو ہمیشہ محفوظ کیا۔ یہی نہیں بل کہ وہ رفیع (مرحوم) کے باقاعدہ شاگرد بھی رہے ہیں۔ محمد افراہیم سے ایک ملاقات میں ان سے بات چیت کی گئی جو ’’دنیا‘‘ کے قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ اپنی پیدائش اور بچپن کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔ وہ 14 اگست 1947ء کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے لوگ کاروباری تھے۔ میرے والد کا بھی کاروبار تھا جس کی وجہ سے بچپن سے ہی آسودگی دیکھی۔ ہم نو بھائی اور تین بہنیں ہیں لیکن پاکستان صرف میں ہی آیا۔ اپنے نام کے بارے میں افراہیم نے کہا۔ میری والدہ ’’داستانِ یوسفؑ‘‘ پڑھتی تھیں۔ افراہیم، حضرت یوسفؑ کے بڑے صاحب زادے کا نام ہے۔ جب میں پیدا ہُوا تو میرا نام ’’محمد افراہیم‘‘ رکھا گیا۔ اس کا مطلب ہے۔ فراہم کرنے والا، ملانے والا اور اﷲ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ میرے نام سے میری ذات جُڑی ہوئی ہے اگر میں کسی مسئلے میں پڑتا ہوں تو دونوں فریق مان جاتے ہیں۔کب محسوس ہُوا کہ آپ کی آواز میں محمد رفیع کی جھلک ملتی ہے اور آپ گابھی سکتے ہیں؟ افراہیم نے کہا، اُس دور میں ریڈیو ہی گھر میں تفریح ہوتا تھا، جو مجھے سننے کا بڑا شوق تھا، خاص کر فلمی گانے اور غزلیں سننے سے میرا دل بھی گنگنانے کو چاہتا تھا۔ بہت سے مقبول گلوکاروں کی آوازمیں گانے اچھے لگتے تھے لیکن محمد رفیع کا گانا ریڈیو پر ہمیشہ مُحو ہو کر سنتا تھا اور ان کے ہی گانے گنگنانے لگتا تھا۔ ہم نے جب افراہیم سے پوچھا کہ آپ کا گھرانہ بڑا مذہبی تھا۔ تو پھر گانے بجانے کی طرف کیسے آگئے؟ ان کا جواب تھا، میرے والد مزاجاً سخت ضرور تھے لیکن انہیں شعرو شاعری میں تصوف سے رغبت حاصل تھی۔ جب پہلی بار محلّے کے پروگرام میں، میں نے کئی غزلیں سنائیں، مجھے نہیں معلوم تھا کہ والد بھی اس میں شریک ہیں۔مجمع نے میری گائیکی پر کُھل کر داد دی تو والد صاحب کا رویہ میرے لیے نرم ہوگیا۔ محمد رفیع کی شاگردی اختیار کرنے کے جواب میں ان کا کہنا تھا، دہلی میں میرے محلّے کا ایک شخص اقبال تھا جو محمد رفیع کے گانوں میں ڈھولک بجاتا تھا۔ رفیع صاحب دہلی آئے تو اقبال کے کہنے پر انہوںنے میرا گانا سُنا اور پسند کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد اقبال ہی نے رفیع صاحب سے مجھے شاگردی اختیار کرنے کا کہا اس سلسلے میں پہلے تو رفیع صاحب نے مجھے نظر انداز کیا لیکن میرا شوق دیکھتے ہوئے آخر کار مجھے شاگرد بنالیا۔ میں چوں کہ پہلے سے طے کرکے گیا تھا کہ ان کا شاگرد ضروربنوں گا اس لیے ان کے لیے مٹھائی، سوٹ کا کپڑا، گُڑ اور چنے لے کر گیا تھا۔ رفیع صاحب، میرے والد سے ملے اور میری تعریف کی۔پاکستان آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔ 1965ء کا ذکر ہے، جب دہلی میں موسیقار ناشاد سے ملاقات ہوگئی، وہ پاکستان آچکے تھے اور یہاں فلم ’’میخانہ‘‘ کی موسیقی دے چکے تھے۔ انہوںنے مجھے کہا کہ بھارت میں محمد رفیع موجود ہے، اب اگر تم پاکستان آجائو تو وہاں کے محمد رفیع بن سکتے ہو، تمہاری آواز اس عمر میں محمد رفیع کی آواز جیسی ہے، حالاں کہ میں صرف 18 برس کا تھا لیکن محمد رفیع کے گانے گاگا کر میری آواز وقت سے پہلے مردانہ ہوگئی تھی۔ یہاں میں لاہور آیا۔ناشاد صاحب سے مِلا انہوں نے مجھے کہا، میرے پاس اس وقت کوئی فلم نہیں ہے جیسے ہی دوسری فلم ملتی ہے میں تمہیں چانس دوں گا۔ وہاں میری دوستی مجیب عالم سے ہوگئی جو ناشاد کی فلم ’’میخانہ‘‘ کے گانے سے شہرت حاصل کرچکے تھے۔ اس طرح سلطان راہی اور پھر موسیقار کمال احمد کو بھی میری آواز پسند آئی۔ اتفاق سے کراچی کے معروف موسیقار بلند اقبال جو اپنے ساتھی لال محمد کے ساتھ موسیقی دیتے تھے، انہوںنے مجھے کہا میری فلم ’’جاگ اُٹھا انسان‘‘ کا ایک گانا ریکارڈ ہونا ہے اگر تم کراچی آجائو تو میں اسے تمہاری آواز میں ریکارڈ کرلوں گا۔ بس پھر کیا تھا۔ میں ان کے کراچی پہنچنے سے پہلے یہاں آگیا۔ فلم کے لیے میرا پہلا گانا ڈوئٹ تھا جس کے بول تھے، ’’گوری ذرا پھر سے بجا پائلیا، پیپل کی چھائوں میں‘‘ اس ڈوئٹ میں دوسری آواز نسیمہ شاہین کی تھی۔ اس فلم کے تمام گانے مشہور ہوئے۔ میرے اس گانے میں ڈانڈیا بھی کسی فلم میں پہلی بار شامل ہُوا۔ اس کی مقبولیت اتنی زیادہ ہوئی، میں جب لاہور گیا تو ناشاد صاحب کے پاس مٹھائی لے کر چلا گیا۔ میں سیدھ سادھا آدمی ہوں مجھے اس وقت بھی اتنی عقل نہیں تھی، ناشاد صاحب نے بظاہر تو مجھے مبارک باد دی لیکن مجھے احساس ہُوا کہ میرے گانے سے وہ خوش نہیں ہوئے۔ وہ پہلی بار میری آواز میں گانا ریکارڈ کرکے اس کا کریڈٹ خود لینا چاہتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں اگر میرا پہلا گانا ہٹ نہ ہوتا تو مجھے بہت سے گانے مل جاتے۔ ناشاد صاحب مجھ پر مہربان نہیں رہے۔ انہوں نے میرے بجائے دوسرے گلوکاروں کو گانے کا موقع دیا جن میں کئی گلوکار ایک آدھ گانا ہی گاسکے۔ کئی موقعوں پر ناشاد صاحب نے مجھے نقصان پہنچایا، لیکن میں نے ان سے کبھی کچھ نہیں کہا۔ ایک دُکھ مجھے ضرور ہوا۔ فلم ساز اقبال بٹ جن سے میری دوستی ہوگئی تھی وہ مجھے اپنی فلم ’’رشتہ ہے پیار کا‘‘ میں ہیرو لینا چاہتے تھے، لیکن میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے بڑی مشکل سے گانے کی اجازت دی ہے۔ اداکاری تو وہ کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ خیر اس فلم میں میرا رونا لیلیٰ کے ساتھ ایک گانا ریکارڈ ہوا۔ اس کے بول تھے ’’معصوم سا چہرہ ہے ہم جس کے ہیں دیوانے، نظروں سے ملیں نظریں، کیا ہوگا خدا جانے‘‘ یہ گانا ناشاد، احمد رشدی سے گوانا چاہتے تھے لیکن فلم ساز کے مجبور کرنے پر انہوں نے مجھ سے گوایا۔ یہ گانا رفیع صاحب کے گانے کی طرح تھا، لیکن پھر ناشاد نے میرا یہ گانا فلم میں شامل نہیں کیا اور دوبارہ رونا لیلیٰ اور احمد رشدی کی آواز میں ریکارڈ کرلیا۔ رشدی کو معلوم نہیں تھا میری ان سے سلام دعا کے علاوہ بے تکلفی بھی تھی لیکن جب یہ بات ہوئی تو میں ان سے کٹ گیا۔ رُشدی صاحب کو احساس ہوا ایک دن میرے دوست شاہد دہلوی نے رُشدی کو بتادیا تو وہ شرمندہ ہوئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ بیٹا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ گانا تم نے گایا ہے تو میں دوبارہ ریکارڈ نہ کراتا۔ میری ان سے ناراضی ختم ہوگئی۔ پھر زندگی یوں ہی چلتی رہی۔ میں نے ایک درجن سے زائد فلموں کے لیے گانے گائے۔ ان فلموں میں ہمدم، پاپی، گھروندا، آشیاں جل گیا، جال، جلے نہ کیوں پروانہ، ایک رات، وفا، نشیمن، شیریں فرہاد وغیرہ شامل ہیں۔ افراہیم نے بتایا کہ ستّر کی دہائی میں کراچی میں ہر شام تقریبات ہوتیں تھیں اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں لائیو پرفارمنس دوں تو زیادہ سراہا جائوں گا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ مجھے جب ریڈیو، ٹی وی اور فلم والے بُلاتے تھے تو میں چلا جاتا تھا۔ میں نے خود کبھی ان سے گانے کا نہیں کہا۔ یہ میری عادت نہیں تھی۔ لائیو پروگرام میں داد فوری مل جاتی ہے اس لیے محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کراچی اور لاہور دونوں شہروں سے بڑا پیار ملا، اپنے قومی نغموں کے بارے میں افراہیم کا کہنا تھا۔ میں نے بہت زیادہ قومی نغمے گائے ہیں۔ ٹی وی پر پہلا قومی نغمہ، جہاں پیار چراغ جلاتا ہے، جہاں دریا دریا گاتا ہے‘‘ تھا۔ لیکن ’’زمیں کی گود رنگ سے، امنگ سے بھری رہے‘‘ آج بھی سننے والوں میں میری پہچان ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

یہ منصوبہ کرہ ارض کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے: ماہرین خلائی ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے انسان کیلئے کائنات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب خلا صرف سائنسی تحقیق، سیاروں کی کھوج یا مصنوعی سیاروں کی تنصیب تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے مستقبل کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مرکز بنانے کے خواب بھی دیکھ رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ارب پتی کاروباری شخصیات ایلون مسک اور جیف بیزوس کی جانب سے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے تصور نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں کا خیال ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں پورا کر سکتے ہیں، جبکہ زمین پر توانائی کے دباؤ اور گرمی کے اخراج میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین ماحولیات اور خلائی سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس منصوبے پر بغیر جامع منصوبہ بندی کے عمل کیا گیا تو راکٹ لانچز میں اضافے، خلائی ملبے، کاربن اخراج اور ماحولیاتی اثرات کے باعث یہ منصوبہ کرہ ارض اور خلائی ماحول دونوں کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا یہ تصور جہاں ٹیکنالوجی کے مستقبل کی ایک انقلابی جھلک پیش کرتا ہے، وہیں اس کے ممکنہ خطرات نے بھی دنیا بھر کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایلون مسک کی کمپنی ''سپیس ایکس‘‘ (SpaceX) اور جیف بیزوس کی ''بلیو اوریجن‘‘ ان نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں جو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کو مدار میں بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز کے کئی فوائد ہیں، جن میں سورج سے مفت اور تقریباً لامحدود توانائی کا حصول، کم آپریٹنگ اخراجات اور زیادہ مؤثر کارکردگی شامل ہیں۔تاہم تمام ماہرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ارتھ جسٹس کی نمائندگی میں سائنسدانو ں کے ایک گروپ نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) سے درخواست کی ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے وابستہ ماحولیاتی خطرات کا جامع اور تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر لاکھوں مصنوعی سیاروں کو زمین کے گرد مدار میں بھیجا گیا تو اس سے نہ صرف زمین کے ماحول میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں بلکہ جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ رات کا قدرتی آسمان ہمیشہ کیلئے اپنی موجودہ شکل کھو سکتا ہے۔''پبلک ایمپلائز فار انوائرنمنٹل ریسپانسبلٹی‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹِم وائٹ ہاؤس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ماحولیاتی جائزے کے بغیر مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی اجازت دینا صرف غیر ذمہ دارانہ اقدام نہیں بلکہ انتہائی خطرناک اور لاپرواہی پر مبنی فیصلہ ہو گا۔ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، خلائی ملبہ اور فضا کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان، نیز جنگلی حیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات، ایسے اہم مسائل ہیں جن پر ان منصوبوں کو لائسنس جاری کرنے سے پہلے نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔حالیہ برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے میں دلچسپی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کا تیزی سے فروغ ہے، جس نے کمپیوٹنگ طاقت اور ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی ضرورت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال جیف بیزوس نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ 10 سے 20 برسوں کے دوران خلا میں ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ایلون مسک نے مختصر الفاظ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسپیس ایکس یہ کام ضرور کرے گی۔اس منصوبے کے حامیوں کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے بجائے مدار میں منتقل کرنے سے دو بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، جن میں توانائی کی فراہمی اور ماحولیاتی اثرات سرفہرست ہیں۔ زمین پر قائم ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کیلئے بے پناہ مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ خلا میں انہیں سورج سے تقریباً لامحدود اور مسلسل توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح زمینی ڈیٹا سینٹرز کے قریب رہنے والے افراد اکثر ان کے ماحولیاتی اثرات، توانائی کے زیادہ استعمال، شور اور حرارت کے اخراج پر اعتراض کرتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مراکز خلا میں منتقل کر دیے جائیں تو ان مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد کمپنیوں نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن سے زمین کے نچلے مدار میں لاکھوں مصنوعی سیارے تعینات کرنے کیلئے لائسنس کی درخواستیں دی ہیں۔ تاہم اپنی نئی درخواست میں ماحولیاتی سائنس دانوں نے ایف سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر فوری پیشرفت کرنے کے بجائے احتیاط سے کام لے اور منظوری دینے سے پہلے اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا مکمل اور جامع جائزہ لیا جائے۔ماحولیاتی خدشات رکھنے والے ماہرین کے مطابق مصنوعی سیاروں کے ماحول پرسنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق راکٹوں کی لانچنگ اور مشن مکمل ہونے کے بعد ان کی زمین کی فضا میں واپسی کے دوران ہونے والے اخراج انتہائی زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ یہ عمل اوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

کنگز کالج چیپل

کنگز کالج چیپل

چھ صدیوں سے قائم علم، فن تعمیر اور تاریخ کا عظیم شاہکارتاریخ انسانی تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہے، اور دنیا میں بے شمار ایسی تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو اپنے اندر صدیوں پر محیط ثقافت، علم، مذہب اور فن تعمیر کی داستانیں سموئے ہوئے ہیں۔ انہی عظیم یادگاروں میں انگلینڈ کی معروف کنگز کالج چیپل بھی شامل ہے، جس کی بنیاد 1441ء میں انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ششم نے رکھی۔ آج یہ عمارت نہ صرف کیمبرج یونیورسٹی کی شناخت سمجھی جاتی ہے بلکہ برطانیہ کے بہترین تاریخی اور مذہبی ورثوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔15ویں صدی یورپ میں علمی، مذہبی اور ثقافتی تبدیلیوں کا دور تھا۔ اسی زمانے میں بادشاہ ہنری ششم نے کیمبرج میں ایک ایسے تعلیمی ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا جو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور مذہبی اقدار کا مرکز بن سکے۔ اس مقصد کیلئے 1441ء میں کنگز کالج کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ اس کے ساتھ تعمیر ہونے والے عظیم عبادت خانے، کنگز کالج چیپل، کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ بادشاہ کا خواب تھا کہ یہ عمارت نہ صرف عبادت کیلئے استعمال ہو بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے علم اور تہذیب کی علامت بھی بنے۔کنگز کالج چیپل کی تعمیر اگرچہ 1441ء میں شروع ہوئی، لیکن سیاسی تبدیلیوں، جنگوں اور مالی مشکلات کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ مختلف بادشاہوں نے اس تعمیر کو آگے بڑھایا اور بالآخر سولہویں صدی کے اوائل میں یہ شاہکار مکمل ہوا۔ تقریباً ستر برس تک جاری رہنے والی یہ تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ عظیم منصوبے وقت، محنت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتے ہیں۔اس عمارت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا شاندار فن تعمیر ہے۔ یہ گوتھک طرزِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔ چیپل کی بلند و بالا چھت، نفیس پتھروں پر کی گئی نقش و نگاری، دلکش محرابیں اور رنگین شیشوں سے مزین بڑی بڑی کھڑکیاں دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ ماہرین تعمیرات کے مطابق اس کی چھت پر بنایا گیا ''فین والٹ‘‘ دنیا کے خوبصورت ترین پتھریلے ڈیزائنوں میں شمار ہوتا ہے، جو آج بھی انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ سمجھا جاتا ہے۔کنگز کالج چیپل صرف ایک تاریخی عبادت گاہ نہیں بلکہ علم و تحقیق کی علامت بھی ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی دنیا کی ممتاز جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے سائنس، ادب، فلسفہ، معاشیات اور دیگر شعبوں میں بے شمار نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی۔ ان میں کئی نوبیل انعام یافتہ سائنس دان بھی شامل ہیں۔ اس طرح چیپل اور کالج مل کر اس علمی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے دنیا بھر میں تحقیق اور تعلیم کو فروغ دیا۔یہ عمارت اپنی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ موسیقی کی دنیا میں بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ہر سال کرسمس کے موقع پر یہاں ہونے والی دعائیہ تقریب اور مذہبی نغمے دنیا بھر میں نشر کئے جاتے ہیں۔ کنگز کالج کا کوائر (Choir)اپنی خوبصورت آواز اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے، جسے سننے کیلئے ہزاروں افراد ہر سال یہاں کا رخ کرتے ہیں۔وقت گزرنے کے باوجود کنگز کالج چیپل اپنی اصل خوبصورتی اور تاریخی وقار کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ برطانوی حکومت اور متعلقہ ادارے اس تاریخی ورثے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم شاہکار سے مستفید ہو سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عمارت کی مرمت، صفائی اور تحفظ کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔سیاحت کے اعتبار سے بھی کنگز کالج چیپل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں سیاح ہر سال کیمبرج آتے ہیں تاکہ اس تاریخی عمارت کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اس سے نہ صرف برطانیہ کی ثقافتی شناخت مضبوط ہوتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے۔ تاریخی مقامات دنیا کو اس ملک کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت سے روشناس کراتے ہیں۔کنگز کالج چیپل کی عمارت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ عظیم قومیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ قدیم عمارتیں صرف پتھروں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ماضی کی کہانیاں، تہذیبی اقدار اور قومی شناخت اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ اگر ان کی حفاظت کی جائے تو یہ آنے والی نسلوں کیلئے علم، تحقیق اور سیاحت کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں۔آج، تقریباً چھ صدیوں بعد بھی کنگز کالج چیپل کی عمارت اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ عمارت اس بات کی زندہ مثال ہے کہ علم، فن تعمیر اور ثقافت جب ایک دوسرے سے مل جائیں تو ایسی لازوال یادگاریں وجود میں آتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنگز کالج چیپل صرف انگلینڈ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے تاریخی اور تعلیمی ورثے کا ایک روشن باب سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان کا نوجوان: مستقبل کا معمار

پاکستان کا نوجوان: مستقبل کا معمار

کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ ان میں توانائی، صلاحیت، تخلیقی سوچ اور نئے راستے تلاش کرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ پاکستان بھی نوجوانوں کا ملک ہے اور اس کی نوجوان نسل ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو درست سمت، بہتر تعلیم اور اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائنس، تحقیق، آن لائن کاروبار اور جدید مہارتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان بھی ان شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم اور دیگر جدید شعبوں میں نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کر رہے ہیں بلکہ ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستانی نوجوان ذہانت اور صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی نوجوان تعلیم، طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، کاروبار، کھیل اور دیگر شعبوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر یہی مواقع پاکستان کے اندر بھی وسیع پیمانے پر فراہم کیے جائیں تو نوجوان نسل ملکی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ہنر سیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ آج کامیابی کیلئے صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ عملی مہارت، تخلیقی سوچ، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق مختلف شعبوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ہر نوجوان کیلئے کامیابی کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی میں کامیاب ہو سکتا ہے، کوئی کاروبار میں، کوئی فنون میں، کوئی کھیل میں اور کوئی تحقیق کے میدان میں۔ پاکستان میں نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنے میں حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر نوجوانوں کو بہتر رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملازمت حاصل کرنے والے بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ بھی نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کو سمجھنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ ہر نوجوان میں کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف اسے پہچاننے اور بہتر انداز میں نکھارنے کی ہے۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو صرف تفریح کیلئے نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، کاروبار اور معلومات کے حصول کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کامیاب ہونے والے بہت سے نوجوانوں نے محدود وسائل سے آغاز کیا، لیکن مسلسل محنت، سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کا نوجوان صرف ملک کا مستقبل نہیں بلکہ آج بھی ملک کی ترقی کا اہم حصہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، تحقیق، کھیل اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔

 گدھے شماری

گدھے شماری

''یرقان بھائی‘‘''ہاں فرقان بھائی‘‘''بھائی بہت اداس اوررنجیدہ اورملول وغیرہ دکھائی دے رہے ہو، کیا ہوگیا؟‘‘''جو ہونا تھا ہوگیا۔ برا ہوا یا بھلا ہوا۔‘‘''یرقان بھائی تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگتی جواتنے پرانے فلمی گانے الاپ رہے ہو۔‘‘''یہ گانا نہیں میرے دل کی آواز ہے۔۔۔ اورآواز دے تو کہاں ہے‘‘۔''لیکن ہوا کیا ہے۔۔۔؟‘‘''ہم بڑھ گئے ہیں۔۔۔‘‘''ہم کدھر بڑھ گئے ہیں؟‘‘''ہم تعداد میں بڑھ گئے ہیں۔‘‘''وہ تواللہ تعالیٰ کے نظام میں تمام چرند پرند اورانسان بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ اس میں فکرکی کون سی بات ہے؟‘‘''اس لیے کہ اورکچھ نہیں بڑھا، صرف ہم بڑھے گئے ہیں۔‘‘''یعنی؟‘‘''یعنی یہ کہ پاکستان میں گدھے بڑھ گئے ہیں۔‘‘''اوہو۔۔۔ یعنی گدھے۔۔۔ یعنی ڈنکیز؟‘‘''گدھے کوڈنکی کہاجائے توبھی وہ گدھا ہی رہتا ہے۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ پندرہ برسوں میں گدھوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق 1971-72ء میں گدھوں کی تعداد دس لاکھ نوے ہزار تھی جو کہ اب بڑھ کر بیس لاکھ اٹھتر ہزار ہوگئی ہے۔‘‘''کمال ہے۔۔۔ اس خبر میں حیرت کا مقام یہ ہے کہ پاکستان میں ایک محکمہ شماریات کا بھی ہے۔۔۔ یہ کیا شمارکرتے ہیں؟‘‘''ظاہر ہے یہ گدھے شمار کرتے ہیں‘‘''گدھے شمار کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟‘‘''مجھے کیا معلوم کہ کیا طریقہ کار ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے تمام گدھوں کے کام شمار کر لیے جاتے ہیں۔اور پھر ان کی چار ٹانگیں، اور اس کے بعد کل کو چھ پر تقسیم کرلیا جاتا ہوگا اور یوں گدھوں کی تعداد پتہ چل جاتی ہوگی‘‘''نہیں بھئی کوئی اورطریقہ ہوگا، یہ تو ذرا پیچیدہ ہے‘‘۔''تو پھرشاید وہ ہر پاکستانی سے پوچھتے ہوں گے کہ آپ کیا ہیں۔‘‘''نہیں، نہیں اس طرح تو تعداد کروڑوں میں ہوجائے گی۔ خیرکوئی بھی طریقہ ہو یہ ان کا ڈنکی سیکرٹ ہے۔ لیکن ایک اورسوال ذہن میں آتا ہے کہ محکمہ شماریات کو گدھوں سے اتنی رغبت کیوں ہے؟‘‘''یعنی؟‘‘''یعنی یہ کہ انہوں نے پاکستان کے مگرمچھوں کوکیوں شمار نہیں کیا۔ یہاں ایک سے ایک بڑا مگرمچھ پڑا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں پائے جانیوالے لگڑ بگڑ، لدھر، نیولے، گیدڑ، سور اور دیگر حیوان کیوں نہیں گنے۔ صرف گدھے کیوں۔‘‘''اس لیے کہ گدھے آپ کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں، اُف تک نہیں کرتے، روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔''یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔ ویسے ایک اور سوال ہے!‘‘''میں محکمہ شماریات میں تو نہیں، فرقان بھائی! سوال ان سے پوچھو‘‘''ان سے جاکر پوچھوں کہ آپ نے پاکستان میں صرف گدھوں کو کیوں شمارکیا ہے، گدھیوں کوکیوں شمارنہیں کیا۔‘‘''یارانہوں نے شمارکیا ہوگا‘‘''نہیں اخبارمیں صرف یہ چھپا ہے کہ پاکستان میں گدھے بڑھ گئے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ پاکستان میں گدھے اور گدھیاں بڑھ گئے۔‘‘''بھئی وہ جوشمارکرنیوالے ہونگے، ان کو نہیں پتہ ہوگا گدھے اورگدھی میں کیا فرق ہوتا ہے۔‘‘''ایک اورسوال ہے‘‘''محکمہ شماریات سے دریافت کرو‘‘''نہیں یہ ہمارے بارے میں ہے۔ اگر پاکستان میں گدھے بڑھ گئے ہیں توتم کیوں فکرمند ہو، تم یہ کیوں کہتے ہو کہ ہم بڑھ گئے ہیں؟‘‘''بھئی گدھے وہی ہوتے ہیں ناں جو بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جن کوکھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ اور ہمیں سب بے وقوف سمجھتے ہیں، میں بذات خود ایک گدھا ہوں۔‘‘''خیریہ توتم گدھوں کے ساتھ زیادتی کررہے ہو۔ ویسے میں پھر یہی پوچھوں گا کہ محکمہ شماریات پاکستان میں صرف گدھوں کو کیوں شمار کرتا ہے۔ اوراس کو کیسے معلوم ہے کہ پچھلے چند برسوں میں گدھے دو گنے ہوگئے ہیں۔‘‘''بالکل درست۔۔۔ تم گدھے وغیرہ تونہیں ہو،کیونکہ اگرتم ہوتے توہم بھی ہوتے۔اورہم نہیں ہیں۔۔۔ بتاؤ کیوں فکرمند ہو۔۔۔‘‘''کولمبیا کا آتش فشاں جو پھٹ پڑا ہے۔‘‘''کولمبیا کا آتش فشاں۔۔۔ اس کا پاکستانی گدھوں سے کیا تعلق ہے؟‘‘''ہے تعلق۔۔۔ بھائی فرقان! دیکھو، قافیا کیسا ملا ہے۔۔۔‘‘''یار یرقان تم تو واقعی گدھے ہو۔۔۔ یہ ایتھوپیا اورکولمبیا بیچ میں کہاں آگئے؟‘‘''دیکھو، فرقان۔۔۔ ہم جوکائنات کے بھید جاننا چاہتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم ملکوں اور صحراؤں کو جانتے ہیں۔ دنیا سکڑ گئی ہے۔ کمپیوٹر، سیارے، چاند پرقدم۔۔۔ لیکن تم ذرا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہو کہ تم اس سے پیشتر کولمبیا کو جانتے تھے؟‘‘''ہوں۔۔۔ ہاں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ہاں بس نام سن رکھا تھا۔ اور وہ بھی شاید۔۔۔‘‘

حکایت سعدیؒ:اچھی بیوی

حکایت سعدیؒ:اچھی بیوی

نیک اور فرماں بردار بیوی فقیر کو بھی بادشاہ بنا دیتی ہے۔ بادشاہوں کی طرح اپنے گھر میں خوشی کے پانچ نقارے بجا! اگر تجھے موافقت کرنے والی رفیقہ حیات نصیب ہے۔ سارے دن کے غموں کا غم نہ کر اگر رات غم گساری کرنے والا تیرے ساتھ ہے۔ جس کا گھر آباد ہو اور محبت کرنے والی بیوی گھر میں ہو اس پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔ خوبصورت اور باحیا بیوی والے کیلئے یہ دنیا ہی جنت کی مانند ہے۔ اور اگر بیوی نیک اور خوش کلام ہو تو اس کا خوبصورت ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ ایسے خاوند کا گھر سے باہر اور گھر میں رہنا دونوں عید سے کم نہیں۔ جس گھر سے عورت کی آواز بلند ہو اس گھر پر خوشی کا دروازہ بند سمجھ۔ ایک جو کی حفاظت نہ کرنے والی گندم کے ڈھیر کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ موافقت والی بیوی رکھنے والے کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ خوب سیرت بیوی خوبصورت سے بہتر ہے کہ گھر کو جنت نظیر بناتی ہے ، اپنی اور خاوند کے گھر کی محافظ ہوتی ہے اور اگربیوی خوبصورت ہو مگر خوب سیرت نہ ہو تو گھر جہنم کا نمونہ پیش کرتا ہے اور ایسے گھر سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کولمبس کی پہلی سمندری مہم 3 اگست 1492ء کو اطالوی مہم جو کرسٹوفر کولمبس سپین سے اپنی پہلی سمندری مہم پر روانہ ہوا۔ اس مہم کو سپین کے حکمران جوڑے ملکہ ازابیلا اوّل اور بادشاہ فرڈیننڈ دوئم نے مالی معاونت فراہم کی تھی۔جس کا مقصد ایشیا تک نئی تجارتی راہ تلاش کرنا تھا۔اس وقت تک زمین کے گرد سفر کا کوئی ثابت شدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا اور یورپ کے بیشتر لوگ سمجھتے تھے کہ مغرب کی جانب بحری سفر خطرناک ہے۔سلووینیا کی تاریخ کا بدترین سیلاب2023ء میں 3اگست کو یورپی ملک سلووینیا شدید بارشوں کے باعث اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب سے دوچار ہوا۔ موسلا دھار بارشوں نے دریاؤں کو بپھرا دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے۔ متعدد سڑکیں، پل، رہائشی علاقے اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کر کے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔اگادیرفضائی حادثہ3 اگست 1975ء کو ایک نجی طور پر چارٹر کیا گیا بوئنگ 707 طیارہ مراکش کے شہر اگادیر کے قریب ایک پہاڑی چوٹی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ لینڈنگ کر رہا تھا۔ طیارے میں سوار تمام 188 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت دنیا کے بدترین فضائی سانحات میں شمار کیا گیا اور بعد ازاں اس نے فضائی حفاظت، نیویگیشن اور پروازی طریقۂ کار میں مزید بہتری کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ایلپاسو فائرنگ3 اگست 2019ء کو ٹیکساس کے شہر ایلپاسو میں والمارٹ اسٹور پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ دہشت گردانہ حملے میں ایک فرد نے مبینہ طور پر 23 افراد کو ہلاک اور 23 کو زخمی کیا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے شوٹنگ کی تفتیش دہشت گردی اور نفرت انگیز جرم کے طور پر کی۔ اس واقعہ کو امریکی تاریخ میں لاطینیوں پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ پیٹرک ووڈ کروسیئس کو فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ سکائی ٹاور کا افتتاح3 اگست 1997ء کو نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں واقع ''اسکائی ٹاور‘‘ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ تقریباً ڈھائی سال کی تعمیر کے بعد مکمل ہونے والا یہ ٹاور اس وقت جنوبی نصف کرہ ارض کی بلند ترین عمارت تھا۔ تقریباً 328 میٹر بلند یہ ٹاور نہ صرف آکلینڈ کی شناخت بن گیا بلکہ سیاحوں کیلئے بھی ایک بڑی کشش کا مرکز ہے۔ اس میں مشاہداتی ڈیک، گھومتا ہوا ریستوران اور بنجی جمپ جیسی تفریحی سہولیات موجود ہیں، جبکہ یہ جدید انجینئرنگ اور تعمیراتی مہارت کی ایک شاندار مثال بھی شمار ہوتا ہے۔نائجر نے آزادی حاصل کی3 اگست 1960ء کو نائجر نے تقریباً چھ دہائیوں پر محیط فرانسیسی نوآبادیاتی اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے آزادی حاصل کی۔ اگرچہ ملک کو غربت، خشک سالی، سیاسی عدم استحکام اور سلامتی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم یومِ آزادی آج بھی نائجری عوام کیلئے قومی وقار، خودمختاری اور آزادی کی جدوجہد کی کامیابی کی علامت کے طور پر بھرپور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔