حضرت خواجہ معین ا لدّین چِشتی اَجمیری رحمتہ اللہ علیہ

حضرت خواجہ معین ا  لدّین  چِشتی اَجمیری رحمتہ اللہ علیہ

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانامحمد ناصر خان چشتی


عطائے رَسولؐ فی الہند،بانی سلسلۂ چشتیہ،سلطانُ الہندسلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ 14 رجب المرجب536ھ/1141 ء پیرکے دن قصبہ ’’سجستان‘‘میںمتولّد ہوئے۔آپ کے والدحضرت سیّدناخواجہ غیاث الدین ؒ برگزیدہ اورکامل ولی اللہ تھے۔ آپ کی والدئہ محترمہ حضرت بی بی ماہِ نورؒ بھی عابدہ اورزاہدہ خاتون تھیں۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نجیب الطرفین سیّد ہیں۔آپ کاسلسلۂ نسب تیرہویںپشت میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جاملتاہے۔سلطان الہندنے مقتدائے زمانہ ہستیوںسے علومِ دینیہ یعنی علم ِقرآن، حدیث، تفسیر، فقہ ، منطق اورفلسفے کی تعلیم حاصل کی۔آپ نے علم ظاہری کے حصول میں تقریباًچونتیس (34)برس صرف کیے۔ علم معرفت وسلوک کی تمناآپ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی رہی۔ عراقِ عجم (ایران) میں پہنچ کر آپ نے مرشدِکامل کی تلاش کی اور بالآخر نیشاپور کے قصبے ’’ہارون‘‘میں حضرت خواجہ شیخ عثمان ہاروَنی ؒ ایسے عظیم المرتبت بزرگ کی خدمت میںحاضرہوئے اورآپ کے دست مبارک پرشرف ِبیعت سے فیض یاب ہوئے۔حضرت شیخ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کو دولتِ بیعت ،خرقۂ خلافت اوراپناخاص مصلّٰی (جائے نماز)، عصااورپاپوش مبارک بھی عنایت فرمائے۔خواجہ غریب نواز ؒ اپنے پیرو مرشد کے ہمراہ بیس سال تک رہے اور بغداد شریف سے اپنے شیخ طریقت کے ہمراہ زیارتِ حرمین شریفین کا مبارک سفر اختیار فر ما یا ۔مکہ مکرمہ پہنچ کر مناسکِ حج ادا کر کے حضرت خواجہ شیخ عثمان ہا روَنی ؒ نے آپ ؒ کا ہاتھ پکڑ ا اور میزابِ رحمت کے نیچے کھڑے ہو کر با رگاہِ خدا وندی میں دُعا فر ما ئی :’’اے میرے پروردگار! میرے معین الدین حسن کو اپنی با ر گاہ میں قبول فرما۔‘‘ غیب سے آوازآئی: ’’معین الدین !ہمارا دوست ہے، ہم نے اسے قبول فر ما یا اور عزّت و عظمت عطا کی۔‘‘ حضرت خواجہ عثمان ہا رونی ، خواجہ غریب نواز ؒ کو لے کر مدینہ منوّرہ میں بار گاہِ مصطفویؐ پہنچے اوردرودو سلام پیش کیا : ’’ الصلوٰ ۃ والسلام علیکم یا سیّد المرسلین و خاتم النبینؐ۔‘‘روضئہ اقدس سے جواب عنایت ہوا:’’ وعلیکم السلام یا قطب المشائخ۔‘‘ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ با ر گاہ ِ رسالت مآبؐ سے سلام کا جواب اورقطب المشائخ کا خطاب سُن کر بے حد خوش ہو ئے ۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ لا ہور تشریف لا ئے اورحضور دا تا گنج بخش سیّدعلی ہجویری ؒ کے مزار شریف پر حاضری دی ۔چالیس دن تک معتکف بھی رہے اور یہاں بے بہا انوارو تجلّیات سے فیض یا ب ہو ئے تو رخصت ہو تے وقت یہ شعر حضور داتا صاحب کی شان میں پیش کیا ۔گنج بخش ، فیض ِعالم ، مظہر نورِ خدا ناقصاں را پیر کامل ، کا ملاں رَا رہنما اس شعر کو اتنی شہرت نصیب ہو ئی کہ اس کے بعد حضور داتا گنج بخش سیّد علی ہجویری ؒ ’’داتا گنج بخش‘‘کے نام سے مشہور ہوگئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی انقلاب آفرین شخصیت ہندوستان کی تاریخ میںایک نہایت ہی زرّیں با ب کی حیثیت رکھتی ہے ۔لاکھوں کی تعداد میںلوگوں نے اسلام قبول کیا جب کہ آپ ؒ کے عقیدت مندوںمیں شامل سلطان شہاب الدین غوری،اُن کے بعدسلطان قطب الدین ایبک اور سلطان شمس الدین التمش ایسے با لغ نظر ، بلند ہمّت اور عادل حکم راں نے سیاسی اقتدار مستحکم کیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی حیاتِ مبارکہ قرآن و سُنّت کا قابلِ رشک نمونہ تھی۔ آپؒ دن میں روزہ رکھتے اور رات قیام میں گزارتے تھے۔ آپ مکارمِ اخلاق اور محاسن اخلاق کے عظیم پیکر اوراخلاقِ نبویؐ کا مکمل نمونہ تھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ غرباء اور مساکین کے لیے سرا پا ر حمت و شفقت کا مجسمہ تھے،اسی وجہ سے دنیا آپ کو ’’غریب نواز‘‘کے عظیم لقب سے یا د کرتی ہے۔ آپؒ فرماتے: ’’جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنا دوست بناتا ہے تو اسے اپنی محبت عطا فرماتا ہے اور وہ بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن اور ہمہ وقت اُس کی رضا وخوش نودی کے لیے وقف کر دیتا ہے تو خداوندِ قدوس اُسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر بن جائے۔‘‘سلطان الہندؒ جب علم و عرفاںاورمعرفت وسلوک کی منازل طے کرچکے تواپنے وطن واپس تشریف لے گئے ۔وطن میںقیام کیے ابھی تھوڑی مدّت ہوئی تھی کہ دل میںبیت اللہ اورروضہ نبویؐ کی زیارات کے لیے تڑپ پیدا ہوئی۔ اسی وقت مقدس سفرکے لیے چل پڑے۔ حضورسیّدِعالمؐ کے روضۂ اقدس کے پاس کئی دن تک عبادت میں مشغول رہے۔ایک دن روضۂ نبویؐ سے یہ سعادت افروزآوازآئی: ’’اے معین! تُوہمارے دین کامعین ومددگارہے،ہم نے تمہیںہندوستان کی ولایت پرفائزکیاہے، لہٰذااجمیرجاکرقیام کرو، وہاںکفر، شرک،گم راہی اورضلالت کی تاریکیاںپھیلی ہوئی ہیں۔تمہارے وہاں ٹھہرنے سے اسلام وہدایت کے سورج کی روشنی چہارسوپھیلے گی۔‘‘ابھی آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ہندو ستان میں اجمیرکہاں ہے؟ اچانک غنودگی ہوئی اور حضور سیّدِ دو عالمؐ کی زیارت سے شرف یا ب ہوئے ۔ آپؐ نے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب تمام ہندوستان کی سیر کر ادی اور اجمیر کا پہاڑ بھی دکھا دیا۔وسط ہندکا مشہورشہراجمیر شریف توحیدورسالت کے اَنوارو تجلّیات اور علم وعرفاںکاروحانی مرکزبننے کے لیے بے حد مناسب تھا۔حضرتِ والانے مناسب جگہ پر مسکن بنایا۔ ذِکر، فکراوریادِخداوندی میں مشغول ہوگئے۔لوگوںنے جب آپ کی سیرت کردار،علم ا ورفضل دیکھاتووہ آپ کی طرف متوجّہ ہوتے گئے۔ایک مشہورروایت کے مطابق تقریباً نوّے (90) لاکھ غیر مسلم اسلام کی دولت سے فیض یاب ہوکرمسلمان ہوئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے مقام و منصب کا اندازہ اس بات سے بہ خوبی لگا یا جا سکتا ہے کہ آپ کو با ر گاہِ رسالت مآبؐ سے ’’قطب المشائخ‘‘کا لقب عطا ہوا۔ آج ہندوستان کا گوشہ گوشہ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کے فیوض و برکات سے ما لامال ہے ۔ انتہائی قلیل مدّت میں اجمیر شریف اسلامی آبادی کا عظیم مر کز بن گیا اور آپ کے حُسنِ اخلاق سے آپ کی غریب نو ازی کا ڈنکا چہار دانگِ عالم بجنے لگا۔ اس ملک میں جہاں پہلے ’’نا قوس ‘‘ بجا کرتے تھے ، اب جگہ جگہ ’’صدائے اللہ اکبر‘‘ گونجنے لگی ۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لاکھوں افراد کے دل درست، عقائد، عملِ صالح اور پا کیزہ اخلاق کے نشیمن بنادیے۔ یوں تو ہزاروں کرامتیںآپؒ سے ظہور پزیر ہوئیں، لیکن آپؒ کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ کی انقلاب آفریں جدو جہد کے طفیل ہندوستان میںدین ِ اسلام کی حقانیت کا بو ل با لا ہوا۔ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کی ابدی سلطنت نے اجمیر شریف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشتِ عقیدت اور جنّت ِمعرفت بنا دیا۔آپ ؒ نے تقریباً 45برس تک اجمیر شریف میں مخلوقِ خدا کو فیض یاب فر مایا ۔سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ لاہور سے دہلی تشریف لے گئے، جہاںاُس دور میںہر طرف کفرو شرک اورگم راہی کادوردورہ تھا۔ آپ ؒنے یہاں کچھ عرصے قیام فرمایااورپھراپنے خلیفۂ خاص حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکیؒ کو مخلوق کی ہدایت اورراہنمائی کے لیے متعین فرما کر خود حضور سیّدِ دوعالمؐ کے فرمان کے مطابق اجمیر جانے کاقصد فرمایا،آپ کی آمدسے نہ صرف اجمیر بلکہ پورے ہندوستان کی قسمت جاگ اٹھی۔ جب سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اجمیر شریف میں رونق افروز ہوئے تواُن دنوںوہاںپرہندوراجا پرتھوی کی حکمرانی تھی۔آپؒ کی آمدپر پرتھوی راج اور ہندو جوگیوں اور جادوگروں نے سخت مزاحمت کی تاکہ آپؒ اجمیر کو اپنا مرکزو مسکن نہ بنائیں،لیکن آپؒ کوتوبہ طورِخاص اسلام کی شمع روشن کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مخالفت ہوتی رہی اور مقابلہ بھی ہوتارہا،لیکن آپؒ اپنے عظیم مقصدومشن میںلگے رہے اوربالآخر کام یابی نے آپؒ ہی کے قدم چومے۔ کچھ ہی عرصے میںراجا پرتھوی راج کے سب سے بڑے مندرکا سب سے بڑا پجاری ’’سادھورام‘‘سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس کے بعد اجمیرکے مشہور جوگی’’جے پال‘‘نے بھی اسلام قبول کرلیا اور یہ دونوںبھی دعوتِ اسلام وہدایت اوراسلامی و روحانی مشن کی تبلیغ واشاعت میںخواجہ غریب نوازؒ کے ساتھ ہوگئے۔ اجمیرکاراجا پرتھوی راج روزانہ نت نئے طریقوںسے حضرت والاکو تکلیف پہنچانے کی کوششیںکرتارہتالیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی ہرتدبیراُلٹی ہوجاتی۔آخر تھک ہارکر پرتھوی راج نے نہایت ناشائستہ انداز و الفاظ میں18ہزارعالمین کامشاہدہ کرنے والے سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کواجمیرسے نکل جانے کا کہاتو حضور خواجہ غریب نواز ؒ بے ساختہ مسکرادیے اورجلال میںآکر فرمایا: ’’میںنے پرتھوی راج کوزندہ سلامت لشکرِاسلام کے سپردکردیا۔‘‘ آپؒ کافرمان درست ثابت ہوا اور تیسرے ہی روزفاتحِ ہند سلطان شہاب الدین غوری ؒ نے ہندوستان کوفتح کرنے کی غرض سے دہلی پر لشکرکشی کی۔راجا پرتھوی راج لاکھوںکا لشکر لے کرمیدانِ جنگ میںپہنچا۔کفرواسلام کے درمیان زبردست معرکے کے بعد سلطان غوری نے لشکرِ کفرکوشکستِ فاش دے کرپرتھوی راج کو گرفتار کرلیااوربعدازاں قتل ہوکرواصلِ جہنم ہوگیا۔ پرتھوی راج کی ذلت آمیز شکست، عبرت ناک قتل اور سلطان غوری ولشکر اسلام کی عظیم الشّان فتح کے نتیجے میں ہزاروں لوگ جوق درجوق اسلام قبول کرنے لگے۔ یوں اجمیر شریف میںسب سے پہلے اسلامی پرچم سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے نصب فرمایا۔فاتحِ ہندسلطان شہاب الدین غوری بہ صدعجزو انکسارسلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی خدمتِ عالیہ میںحاضرہوا اورآپ سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔ روایت ہے کہ دہلی فتح کرنے کے بعدجب سلطان شہاب الدین غوری اجمیرشریف میںداخل ہوئے تو شام ہوچکی تھی۔ مغرب کاوقت تھا، اذانِ مغرب سُنی تودریافت کرنے پرمعلوم ہواکہ ایک درویش کچھ عرصے سے یہاں اقامت پزیرہیں۔ چناں چہ سلطان غوری فوراً مسجد کی طرف چل پڑے۔جماعت کھڑی ہوچکی تھی اور سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ مصلّے پرفائزہوکرامامت فرما رہے ہیں۔ سلطان غوری بھی جماعت میںشامل ہوگئے۔ نماز ختم ہوئی اوراُن کی نظر خواجہ غریب نوازؒ پرپڑی تویہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اُن کے سامنے وہی بزرگ جلوہ فرماہیں، جنہوںنے اُنہیں خواب میں’’فتح دہلی‘‘ کی بشارت دی تھی۔سلطان شہاب الدین غوری آگے بڑھے اورخواجہ غریب نوازؒکے قدموں میں گرگئے ، درخواست کی:’’ حضور!مجھے بھی اپنے مریدوں اور غلاموںمیںشامل فرمالیں۔‘‘ آپ ؒنے اس خواہش کو شرف ِقبولیت بخش کر اُنہیںمرید بنالیا۔ خواجہ اجمیریؒ آفتابِ طریقت بھی تھے اور ماہتابِ شریعت بھی۔ بڑے بڑے اولوالعزم شاہانِ زمانہ آپؒ کے آستانے پر حاضر ہو کر آپؒ کی قدم بوسی کو سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔سلطان شہاب الدین غوری آپ کی قدم بوسی کے لیے آیا۔کبھی سلطان شمس الدین التمش نے سر ِارادت جھکایااور یہ سلسلہ بعد از وصال بھی جاری رہا۔ کبھی سلطان محمود خلجی آپ کے روضۂ انور پر فتح کی دُعا مانگتا ہے تو فتح یاب ہوتا ہے ، کبھی اکبر بادشاہ درگاہِ عالیہ میں اولاد کی درخواست پیش کرتا ہے تو بامُراد لوٹتا ہے اور کبھی جہانگیر اپنی شفایابی پر سرِ دربار آپ ؒ کا غلام ہو جاتا ہے۔اُس وقت سے لے کر آج تک ہندوستان کے سارے حکم راں بلا امتیاز عقیدہ و مسلک، اس آستانہ ٔعالیہ پر اپنا سر نیاز جھکاتے آئے ہیں۔ آپ کے وسیلے اور قدومِ میمنتِ لزوم کے صدقے میں سر زمینِ ہند رشکِ آسماں بنی رہے گی۔اولیائے کرام آپؒ کے دربار کی خاک چوم کر اپنے قلب و روح کو مجلّٰی کرکے عروج پاتے ہیں۔ آج بھی آپ کی شانِ غریب نوازی کار فرما ہے۔ صاحبِ دل،اہلِ محبت اور اہلِ طریقت آپ ؒکے حُسنِ باطن اور عشقِ حقیقی کے تصرفات سے آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ آپؒ کے نورِ ولایت کا آفتاب آج بھی چمک رہا ہے۔ آپ ؒ کا قلبی نور آج بھی ضیاء بخش عالم ہے۔آپؒ کی آنکھوں سے نکلے ہوئے آنسو آج بھی آبِ حیات اور بارانِ رحمت کی طرح فیض رساں ہیں۔حضرت خواجۂ خواجگان، قطب الاقطاب، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒسے اِن جلیل القدر ہستیوں کو بھی خلافت حاصل ہوئی۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت بابا فرید گنج شکرؒ، حضرت علائو الدّین علی بن احمد صابر کلیریؒ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب ِالٰہی، حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی ؒ شامل ہیں۔یہ برگزیدہ اور عظیم المرتبت بزرگ اپنے وقت کے ولیٔ کامل اور باکرامت اولیاء اللہ ہوئے۔ آپؒ کی ساری زندگی امربالمعروف ونہی عن المنکرپر عمل کرتے ہوئے گزری۔بالآخریہ عظیم پیکرِعلم وعرفاں، حاملِ سُنّت وقرآں، محبوبِ یزداں، محب سروروکون ومکاں، شریعت وطریقت کے نیرتاباںحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ 6رجب المرجب633ھ/1236ء کو غروب ہو کر واصلِ ربِّ دوجہاںہوگیا۔روایات میں آتا ہے کہ جس وقت آپؒ کا وصال ہوا،آپؒ کی پیشانی مبارکہ پرنورانی خط میں تحریرتھا…مَاتَ حَبِیْبُ اللّٰہ،فِیْ حُبِّ اللّٰہ…یعنی اللہ کا دوست، اللہ کی محبت میں وصال فرماگیا۔خواجہ غریب نوازحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کا مزارپُرانوار اجمیر شریف(انڈیا) میں مرجع خلائق ہے۔آپ کے مزارِ پر مسلمان ہی نہیں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے بھی لاکھوں افراد عقیدت و محبت کے ساتھ حاضر ہو تے ہیں۔ درگاہِ عا لیہ آج بھی ایمان و یقین اور علم و معرفت کے نو ر بر ساتی ہے اور ہزاروں خوش نصیب لو گ فیض یاب ہو تے ہیں۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال ناصرف اجمیرشریف میں بلکہ پورے پاک وہند میں پورے عقیدت واحترام اورتزک واحتشام کے ساتھ منایاجاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

سائنس نے ایک اور راز سے پردہ اٹھا دیااہرامِ مصر صدیوں سے انسانی عقل و فہم کو حیران کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر حالیہ سائنسی انکشاف نے اس حیرت کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق عظیم اہرام کے نیچے تقریباً چار ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک خفیہ اور وسیع میگا اسٹرکچر کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ اور سائنس دانوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قدیم مصری تہذیب کی سائنسی اور تعمیراتی صلاحیتیں ہمارے اندازوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ یہ دریافت نہ صرف اہرام کے مقصد اور ساخت سے متعلق پرانے نظریات کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے اور پراسرار باب کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔جوئے روگن(Joe Rogan) کے پوڈ کاسٹ میں شریک مہمان نے ایسے متنازع اسکینز پر گفتگو کی جن میں عظیم اہرام مصر کے نیچے ایک وسیع و عریض زیر زمین ڈھانچے کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جو قدیم تاریخ سے متعلق تصورات کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ اسکین اطالوی سائنس دان فلیپو بیونڈی( Filippo Biondi ) اور خفری پروجیکٹ ٹیم نے سنتھیٹک اپرچر ریڈار (synthetic aperture radar)کی مدد سے کیے، جو ایک جدید سیٹلائٹ امیجنگ ٹیکنالوجی ہے اور زمین کے اندرونی خدو خال کو ریڈیو لہروں کے ذریعے نقشہ بند کرتی ہے۔اٹلی اور امریکہ کی مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ 200 سے زائد اسکینز میں یکساں نتائج سامنے آئے، جن سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 65فٹ قطر کے بڑے ستون موجود ہیں جو پیچ دار شکل میں لپٹے ہوئے ہیں اور تقریباً 4ہزار فٹ گہرائی تک جاتے ہیں۔ بیونڈی کے مطابق یہ ستون تینوں اہرام اور اسفنکس (Sphinx) کے نیچے موجود 260 فٹ لمبے اور چوڑے مکعب کمروں پر ختم ہوتے ہیں، جنہیں انہوں نے ''انتہائی بڑے چیمبرز‘‘ قرار دیا۔اسکینز میں تقریباً 2ہزار فٹ گہرائی تک جانے والی شافٹس (عمودی راستے) بھی دکھائے گئے جو 10 فٹ اونچے افقی راستوں سے جڑتے ہیں۔ اس بنیاد پر بیونڈی کا خیال ہے کہ اہرام شاید مقبرے نہیں بلکہ قدیم زمانے کے توانائی گھر (پاور پلانٹس) یا ایسی کمپن پیدا کرنے والی مشینیں ہو سکتی ہیں جو روحانی یا جسم سے باہر تجربات کیلئے استعمال ہوتی ہوں۔جو ئے روگن نے بھی ان انکشافات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقبرے نہیں ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا درست ہوا تو اہرام صرف ''برفانی پہاڑ کی نوک‘‘ ثابت ہوں گے۔بیونڈی نے ان زیر زمین ڈھانچوں کی عمر 18ہزار سے 20ہزار سال بتائی اور انہیں زیپ ٹیپی (Zep Tepi) یعنی اس اساطیری ''پہلے زمانے‘‘ سے جوڑا جب دیوتاؤں کی حکومت تھی اور تہذیب کا آغاز ہوا۔ انہوں نے قدیم سمندری پانی کے سیلاب سے پیدا ہونے والے نمکیاتی آثار کو بھی ایک عظیم طوفان کی علامت قرار دیا، جو اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ اہرام کے نیچے ایک نہایت قدیم اور ترقی یافتہ تہذیب کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔یہ کمپلیکس تین اہراموں خوفو، خفرع اور منقرع پر مشتمل ہے، جو تقریباً 4,500 سال قبل شمالی مصر میں دریائے نیل کے مغربی کنارے ایک چٹانی سطح مرتفع پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم خفرع اہرام پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے اس سے کہیں زیادہ قدیم ہیں اور ان کے نیچے ایک ایسا زیر زمین جہان چھپا ہوا ہے جسے کسی گمشدہ تہذیب نے تعمیر کیا تھا۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ساکھ ہے۔ بیونڈی کے مطابق انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اطالوی فوج کیلئے خفیہ منصوبوں کے دوران تیار کی اور بعدازاں اسے موصل ڈیم اور اٹلی کی گرانڈ ساسو لیبارٹری جیسے حساس مقامات پر بھی آزمایا گیا۔یہ ٹیکنالوجی پیٹنٹ شدہ، ہم مرتبہ جانچ شدہ اور نہایت درستگی کیلئے تیار کی گئی ہے، لیکن جب اس کا اطلاق ان اہرام پر کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آیا۔ معروف ماہر آثارقدیمہ ڈاکٹر زاہی حواس نے ان اسکینز کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے۔بیونڈی نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ اور ان کے ساتھی آرمانڈو میئی خود بھی نتائج پر یقین نہیں کر پا رہے تھے اور انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک ڈیٹا روک کر رکھا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ یہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بیونڈی کے مطابق: میری رائے یہ تھی کہ یہ حقیقی نہیں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ شور یا ہماری پروسیسنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے بننے والے آرٹی فیکٹس ہیں۔ بالآخر مختلف سیٹلائٹ نظاموں اور معیارات سے تصدیق ہوئی، جن میں اٹلی کے گرانڈ ساسو پارٹیکل کولائیڈر کی درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔ بیونڈی کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیٹا سیٹس میں یکسانیت ہی وہ عنصر تھا جس نے انہیں یقین دلایا کہ یہ نتائج حقیقی ہیں۔ابتدا میں ٹیم نے صرف اٹلی کے سیٹلائٹس کے ڈیٹا پر انحصار کیا، لیکن بعد ازاں نتائج کی تصدیق کیلئے انہوں نے امریکی کمپنی ''کپیلا سپیس‘‘ (Capella Space) کے سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے بھی تجزیہ کیا، تاکہ مختلف ذرائع سے یکساں شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ بیونڈی نے کہاکہ جب ہمیں امریکی سیٹلائٹس استعمال کرتے ہوئے بھی وہی نتائج ملے اور دیگر سیٹلائٹس سے بھی ہمیشہ ایک جیسے نتائج سامنے آئے، تو ہم نے انہیں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔مجموعی طور پر 200 سے زائد اسکینز میں ایک جیسے ساختی نمونے سامنے آئے۔جوئے روگن نے نشاندہی کی کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی دیگر مقامات پر درست ثابت ہو چکی ہے، جن میں اٹلی کی زیر زمین گران ساسو لیبارٹری کی نہایت درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

شناخت،وقار اور آزادی کا عالمی پیغامہر سال یکم فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ حجاب ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک مذہبی علامت کے تعارف یا فروغ تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے حقِ انتخاب، مذہبی آزادی، باوقار شناخت اور سماجی ہم آہنگی کا عالمی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس دن کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ حجاب کسی جبر کا نام نہیں بلکہ لاکھوں خواتین کے لیے ایک شعوری انتخاب، ذاتی شناخت اور روحانی سکون کی علامت ہے۔ورلڈ حجاب ڈے کا آغاز 2013ء میں نیویارک کی ایک مسلمان خاتون نظمہ خان نے کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں حجاب پہننے کی وجہ سے امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کیا تھا۔ اسی تجربے نے انہیں اس دن کے اجراپر آمادہ کیا تاکہ غیر مسلم خواتین بھی ایک دن کے لیے حجاب پہن کر اس احساس کو سمجھ سکیں کہ حجاب پہننے والی خواتین کن سماجی رویوں کا سامنا کرتی ہیں۔ آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے اور لاکھوں خواتین اس مہم میں شریک ہوتی ہیں۔اسلامی تناظر میں حجاب کا تصور صرف لباس تک محدود نہیں۔ یہ حیا، وقار، خود داری اور اخلاقی حدود کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حجاب دراصل عورت کی شخصیت کو اس کی ظاہری نمائش کے بجائے اس کے علم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے پہچان دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ ایک ایسا پردہ ہے جو عورت کو معاشرے میں تحفظ، اعتماد اور خود اعتمادی فراہم کرتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دنیا میں حجاب کو اکثر غلط فہمیوں اور منفی تصورات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ بعض مغربی معاشروں میں اسے خواتین کی آزادی کے منافی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آزادی کا اصل مفہوم انتخاب کا حق ہے اور اگر ایک عورت اپنی مرضی سے حجاب اختیار کرتی ہے تو یہ اس کی آزادی کا اظہار ہے، نہ کہ اس کی نفی۔ ورلڈ حجاب ڈے انہی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مکالمے کے دروازے کھولنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔یہ دن مسلم خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں حجاب پہننے والی خواتین کو نفرت انگیز رویوں، ملازمت میں رکاوٹوں اور تعلیمی اداروں میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ورلڈ حجاب ڈے ان مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی کو بھی کمتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں بھی حجاب پر بحث مختلف زاویوں سے کی جاتی ہے۔ کچھ خواتین حجاب کو اپنی شناخت کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں جبکہ کچھ اسے ذاتی معاملہ قرار دیتی ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ برداشت، احترام اور مکالمہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر اس دن کی مناسبت سے سیمینارز، مباحثے اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔ غیر مسلم خواتین کا ایک دن کے لیے حجاب پہننا محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ یہ باہمی سمجھ بوجھ اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب لوگ خود کسی تجربے سے گزرتے ہیں تو تعصب کی دیواریں خود بخود گرنے لگتی ہیں۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کی خوبصورتی تنوع میں ہے۔ لباس، عقیدہ یا ثقافت کی بنیاد پر کسی کو جانچنا ناانصافی ہے۔ حجاب پہننے یا نہ پہننے کا فیصلہ ہر عورت کا ذاتی حق ہے، اور اسی حق کے احترام میں ہی حقیقی آزادی مضمر ہے۔ یکم فروری کا دن ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو سمجھیں، قبول کریں اور ایک زیادہ باوقار اور پرامن عالمی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ظہور احمد عہد سازاداکار(2009-1934)

آج تم یاد بے حساب آئے!ظہور احمد عہد سازاداکار(2009-1934)

٭...ظہور احمد 18 ستمبر 1934ء کو ناگ پور بھارت میں پیدا ہوئے ۔٭...تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تھیٹر سے اپنے فنکارانہ کریئر کا آغاز کیا۔٭... ان کے مقبول سٹیج ڈراموں میں '' نظام سقّہ‘‘ اور'' تعلیم بالغاں‘‘ سرفہرست ہیں۔ ٭...ظہور احمد نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا۔ ان میں سب سے مشہور فلم ''ارمان‘‘ تھی جس میں انہوں نے وحید مراد کے والد کا کردار ادا کیا۔٭...انہوں نے فلم '' ہیرا اور پتھر، ارمان، بادل اور بجلی، شہر اور سائے، مسافر، دل والے،ٹاورز آف سائلنس اور پیسہ بولتا ہے‘‘میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ٭...جب لاہور فلم نگری میں تبدیل ہوا تو ظہور احمد نے کراچی میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور وہ ٹی وی ڈراموں میں کام کرتے رہے۔ ٭... نظام سقہ اور نورالدین زنگی کے کردار اتنی عمدگی سے نبھائے کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔٭... ڈرامہ سیریز ''آخری چٹان‘‘ اور ''چنگیز خان‘‘ میں بھی اعلیٰ درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٭...وہ مکمل طور پر ایک پروفیشنل اداکار تھے۔ ولن کے کردار بڑی عمدگی سے نبھائے۔٭...انہوں نے ملک کے استحکام اور مسئلہ کشمیر پر ڈرامے تحریر کیے۔ ان میں سے ایک ڈرامے ''لہو سے کر کے وضو‘‘ نے ہمایوں سعید کو سٹار بنا دیا۔٭... ظہور احمد کی خوبی یہ تھی کہ فلموں میں کام کرنے کے باوجود انہوں نے ٹی وی کو نہیں چھوڑا۔ ٭...یکم فروری 2009ء کو ان کااسلام آباد میں انتقال ہوااور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ مقبول ٹی وی ڈرامےشریف آدمیمولا پہلواندیواریںخدا کی بستیپردیسچنگیز خاننور الدین زنگیآہنآخری چٹان

آج کا دن

آج کا دن

سائنٹیفک کیلکولیٹر کی ایجاد1972ء میں یکم فروری کو پہلا سائنٹیفک ہینڈ کیلکولیٹر متعارف کرایا گیا۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں سائنٹیفک کیلکولیٹر موجود تھے لیکن ہاتھ یا جیب میں رکھنے والا کیلکولیٹر موجود نہیں تھا، جسے کہیں بھی اپنے ساتھ لے جایا جا سکے۔ ہینڈ کیلکولیٹر کے متعارف ہونے سے ریاضی کے شعبہ میں انقلاب دیکھنے میں آیا۔آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی پہلی جلد کی اشاعت1884ء میں دنیا کی سب سے مستند لغات میں شمار ہونے والی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ عظیم منصوبہ برسوں کی محنت، تحقیق اور ماہرین لسانیات کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس لغت کا مقصد انگریزی زبان کے ہر لفظ کی درست تعریف، تلفظ، تاریخ اور استعمال کی مثالیں فراہم کرنا تھا۔ اس اشاعت نے زبان و ادب کی دنیا میں ایک نیا معیار قائم کیا۔ ملکہ الزبتھ کا دورہ پاکستانیکم فروری1961ء کوملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 16 روزہ دورے پر اپنے شوہر کے ساتھ کراچی پہنچیں۔ملکہ برطانیہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر ان کا بھر پور استقبال کیا گیا۔ملکہ الزبتھ نے سوات کا دورہ بھی کیا ، اُن دنوںسوات میں شدیدسردی تھی پھر بھی ہزاروں لوگ سڑک کے دونوں طرف ملکہ کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے کھڑے تھے۔ملکہ برطانیہ نے کھلی چھت والی گاڑی میں سوات کی سیر کی اور اس دوران ہاتھ ہلا کر عوام کے نعروں کا جواب دیتی رہیں۔ برطانیہ نے سوویت یونین کو تسلیم کیا 1924ء میں آج کے روز برطانیہ نے سوویت یونین کو باقائدہ تسلیم کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین ، برطانیہ اور امریکہ کا اتحادی تھا، اس کے باوجود برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ سوویت یونین کے تعلقات دوستانہ نہیں رہ سکے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ چلتی رہی۔ جس میں برطانیہ نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ روس ، امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات آج بھی مثالی نہیں ہیں جبکہ سوویت یونین کو ختم کر دیا گیا ہے۔ آیت اللہ خمینی کی واپسییکم فروری 1979 ء کو ایران کے اسلامی انقلاب کے لیڈر آیت اللہ خمینی جلا وطنی ختم ہونے پر فرانس سے ایران واپس آئے۔ خمینی کو 1964ء میں اپنے نظریات کی بنا پر جلا وطنی کاٹنا پڑی تھی، اس دوران انہوں نے کچھ عرصہ ترکی میں بھی گزارا۔سولہ سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے بہشت زہرا کے قبرستان تک لاکھوں ایرانیوں نے ان کا استقبال کیا،جن کی تعداد 1کروڑ بتائی جاتی ہے۔ پہلوی خاندان کا تختہ الٹنے کے بعد جمہوریت کے قیام اور انقلاب ایران کے سلسلے میں خمینی نے ایرانی عوام کی نمائندگی کی۔

کیلاویا آتش فشاں قدرت کا قہر یا سائنسی معجزہ؟

کیلاویا آتش فشاں قدرت کا قہر یا سائنسی معجزہ؟

دنیا میں قدرتی مظاہر کی ایک طویل فہرست ہے جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر آتش فشاں ان میں سب سے زیادہ خوفناک اور پُرہیبت سمجھے جاتے ہیں۔ زمین کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی آگ جب اچانک لاوے، راکھ اور دھوئیں کی صورت میں باہر آتی ہے تو یہ منظر نہ صرف ہولناک ہوتا ہے بلکہ انسان کو قدرت کی بے پناہ قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ ہوائی جزیرے پر واقع کیلاویا آتش فشاں (Kilauea Volcano) دنیا کے سب سے زیادہ متحرک اور مشہور آتش فشائوں میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں کیلاویا ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک سو فٹ سے بھی زائد بلند لاوا اگلنے کے منظر نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ آتش فشاں بارہا لاوا اگل چکا ہے اور اپنے اردگرد کے علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔کیلاویا آتش فشاں امریکی ریاست ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے اور یہ دنیا کے فعال ترین آتش فشاں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق کیلاویا گزشتہ کئی صدیوں سے وقفے وقفے سے پھٹتا آ رہا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر لاوا کا بہاؤ نسبتاً آہستہ رفتار سے ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ اردگرد کی بستیوں، سڑکوں، جنگلات اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق کیلاویا کی باقاعدہ آتش فشانی سرگرمی کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا، جب 1823ء میں اس کے بڑے پیمانے پر پھٹنے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد سے یہ آتش فشاں متعدد بار متحرک ہو چکا ہے۔ 2018ء میں کیلاویا کے شدید دھماکوں اور لاوے کے بہاؤ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ سیکڑوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ یہ واقعہ کیلاویا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دور تصور کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلاویا دراصل ایک شیلڈ وولکینو (Shield Volcano) ہے، یعنی ایسا آتش فشاں جس کی شکل شیلڈ کی مانند ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں دھماکہ خیز آتش فشانی سرگرمی کے بجائے زیادہ تر لاوا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات دباؤ میں اضافے کے باعث دھماکے بھی ہو سکتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔کیلاویا کی سرگرمیوں کا سائنسی مطالعہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر تحقیقی ادارے مسلسل کر رہے ہیں۔ جدید آلات کے ذریعے زمین کے اندر ہونے والی حرکات، گیسوں کے اخراج اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے دھماکے کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق آتش فشاں کی پیش گوئی مکمل طور پر ممکن تو نہیں، تاہم مسلسل نگرانی سے خطرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔کیلاویا آتش فشاں سائنسی تحقیق کیلئے ایک اہم تجربہ گاہ بھی ہے۔ زمین کی ساخت، میگما کے بہاؤ اور آتش فشانی عمل کو سمجھنے میں کیلاویا نے سائنسدانوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے محققین ہوائی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس آتش فشاں کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاویا آتش فشاں سیاحت کے لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ حکام کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق آتش فشانی سرگرمی جہاں ایک طرف تباہی لاتی ہے، وہیں دوسری طرف زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ لاوا کے ٹھنڈا ہونے کے بعد بننے والی مٹی معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے، جو زراعت کیلئے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی کی زمین دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار ہوتی ہے۔کیلاویا کی تازہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود قدرت کے سامنے بے بس ہے۔ جب بھی یہ متحرک ہوتا ہے حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے اور مسلسل آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیلاویا آتش فشاں صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ زمین کے اندرونی نظام کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سیارہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ کیلاویا کی ہر نئی سرگرمی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں چھپی طاقت آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی وقت اپنا اظہار کر سکتی ہے۔

صحت مند زندگی کا راز

صحت مند زندگی کا راز

6 عادات جو زندگی بدل دیںتیز رفتار اور مصروف طرزِ زندگی نے انسان کو سہولتوں کی بہتات تو عطا کر دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ صحت جیسے قیمتی اثاثے کو شدید خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ آج ہر شخص مہنگی ادویات، سپلیمنٹس اور جدید علاج کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کیلئے ہمیشہ بھاری اخراجات ضروری نہیں ہوتے۔ حالیہ تحقیق اور ویلنَس ماہرین کی آراء کے مطابق روزمرہ زندگی کی چند سادہ اور مفت سرگرمیاں ایسی ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی عطاکرتی ہیں۔ یہی چھ بنیادی عادات اگر معمول کا حصہ بنا لی جائیں تو انسان خود کو زیادہ توانا، چست اور صحت مند محسوس کر سکتا ہے۔جنوری کا مہینہ عموماً فیشن ایبل ڈائٹس، مہنگے سپا ٹرپس اور بری عادات ترک کرنے کے عزم کیلئے مشہور ہے۔ بہت سے لوگ اس مہینے کا آغاز اس نیت سے کرتے ہیں کہ وہ خود کو زیادہ صحت مند بنائیں گے۔ کوئی دوڑ لگانا شروع کرتا ہے، کوئی ویٹ لفٹنگ، تو کوئی نئے سال میں سونا باتھ کو معمول بنا لیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی فروری قریب آتا ہے، ان میں سے بہت سی عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق چھ روزمرہ سرگرمیاں ایسی ہیں جو بغیر جیب پر بوجھ ڈالے آپ کی صحت کو تیزی سے بہتر بنا سکتی ہیں۔ وٹامن ڈی حاصل کریںصبح کے وقت نہانے، ناشتہ کرنے، کپڑے پہننے اور وقت پر کام کیلئے نکلنے کی جلدی میں ہم میں سے اکثر صحت مند صبح کے معمول کے ایک نہایت اہم حصے دھوپ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح صرف پانچ منٹ چہرے پر دھوپ پڑنے سے نیند بہتر ہو سکتی ہے اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی آ سکتی ہے۔امریکی محققین نے دریافت کیا کہ وہ لوگ جو صبح 8 بجے سے دوپہر 12بجے کے درمیان کچھ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں وہ رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور ان کی نیند میں خلل بھی کم ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جو دھوپ جیسی نعمت کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔یہ صرف جسمانی گھڑی کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، جو ہمارا جسم دھوپ کی مدد سے بناتا ہے۔ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جو مضبوط ہڈیوں کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے بچوں میں رکٹس اور بڑی عمر میں ہڈیاں کمزور یا بھربھری ہو سکتی ہیں۔کھانے کے بعد چہل قدمی کریںغذا کھانے کے بعد چلنا شاید وہ آخری چیز ہو جو آپ کرنا چاہیں لیکن ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی بھی صحت پر بہت مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں ظاہر ہوا کہ کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کم ہوتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے 60 سے 90 منٹ بعد چلنا سب سے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس وقت بلڈ شوگر کی سطح عموماً بلند ہوتی ہے۔لوگوں کو 15 منٹ کی چہل قدمی کا ہدف رکھنا چاہیے لیکن تحقیق کے مصنفین کے مطابق دو سے پانچ منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح دن بھر مختصر حرکات بھی کیلوریز جلانے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔منہ سے سانس لینے سے گریز کریںمنہ کے ذریعے سانس لینا طویل عرصے سے نیند میں خلل ڈالنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عادت موٹاپا، ڈیمنشیا، گنٹھیا (arthritis) اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ منہ کے ذریعے سانس لینے سے منہ خشک ہو جاتا ہے جس سے نقصان دہ بیکٹیریا پھیلنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ گھاس کو پیروں سے چھوئیںماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ننگے پیروں کھڑے ہونا جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ گھاس، ریت یا مٹی پر ننگے پیروں وقت گزارنا، جسے اکثر گراؤنڈنگ (grounding) کہا جاتا ہے، اعصابی نظام کو پرسکون کرنے، تناؤ کم کرنے اور نیند بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔کھانے کے دوران فون رکھ دیںکھانے کے دوران فون دیکھنے کی عادت وزن بڑھنے سے منسلک پائی گئی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مرد اور خواتین نے جب کھاتے وقت فون دیکھا، تو انہوں نے تقریباً 15 فیصد زیادہ کیلوریز کھائیں اور زیادہ چکنائی والا کھانا بھی تناول کیا۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کے کھانے کے دوران فون استعمال کرتے تھے، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں شام تک زیادہ تھکے ہوئے محسوس کرتے تھے جو چہل قدمی کرتے یا کتاب پڑھتے تھے۔ ماہرین کے مطابق آہستہ کھائیں اور سکرینز کے بغیر کھانا کھائیں تو ''ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ‘‘ اعصابی نظام فعال ہوتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور بھوک منظم ہوتی ہے۔سونے کے وقت کو بحال کریںنیند صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ نیند کی کمی کئی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جن میں بلند فشار خون، دل کی بیماریاں، ڈیمنشیا اور ڈپریشن شامل ہیں۔ بالغ افراد کو عموماً رات میں تقریباً سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ہر شخص کیلئے مختلف ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ زیادہ تر وقت نیند کی کمی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد بالغ افراد ہر رات مطلوبہ نیند حاصل نہیں کرتے۔ تقریباً 75 لاکھ افراد ہر رات پانچ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ خراب نیند کی عادات کو درست کرنے کیلئے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیڈ ٹائم روٹین دوبارہ قائم کریں۔ معیاری نیند مدافعتی نظام، موڈ، اور مجموعی صحت بہتر بنانے کا سب سے تیز طریقہ ہے اور اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔