حضرت خواجہ معین ا لدّین چِشتی اَجمیری رحمتہ اللہ علیہ

حضرت خواجہ معین ا  لدّین  چِشتی اَجمیری رحمتہ اللہ علیہ

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانامحمد ناصر خان چشتی


عطائے رَسولؐ فی الہند،بانی سلسلۂ چشتیہ،سلطانُ الہندسلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ 14 رجب المرجب536ھ/1141 ء پیرکے دن قصبہ ’’سجستان‘‘میںمتولّد ہوئے۔آپ کے والدحضرت سیّدناخواجہ غیاث الدین ؒ برگزیدہ اورکامل ولی اللہ تھے۔ آپ کی والدئہ محترمہ حضرت بی بی ماہِ نورؒ بھی عابدہ اورزاہدہ خاتون تھیں۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نجیب الطرفین سیّد ہیں۔آپ کاسلسلۂ نسب تیرہویںپشت میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جاملتاہے۔سلطان الہندنے مقتدائے زمانہ ہستیوںسے علومِ دینیہ یعنی علم ِقرآن، حدیث، تفسیر، فقہ ، منطق اورفلسفے کی تعلیم حاصل کی۔آپ نے علم ظاہری کے حصول میں تقریباًچونتیس (34)برس صرف کیے۔ علم معرفت وسلوک کی تمناآپ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی رہی۔ عراقِ عجم (ایران) میں پہنچ کر آپ نے مرشدِکامل کی تلاش کی اور بالآخر نیشاپور کے قصبے ’’ہارون‘‘میں حضرت خواجہ شیخ عثمان ہاروَنی ؒ ایسے عظیم المرتبت بزرگ کی خدمت میںحاضرہوئے اورآپ کے دست مبارک پرشرف ِبیعت سے فیض یاب ہوئے۔حضرت شیخ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کو دولتِ بیعت ،خرقۂ خلافت اوراپناخاص مصلّٰی (جائے نماز)، عصااورپاپوش مبارک بھی عنایت فرمائے۔خواجہ غریب نواز ؒ اپنے پیرو مرشد کے ہمراہ بیس سال تک رہے اور بغداد شریف سے اپنے شیخ طریقت کے ہمراہ زیارتِ حرمین شریفین کا مبارک سفر اختیار فر ما یا ۔مکہ مکرمہ پہنچ کر مناسکِ حج ادا کر کے حضرت خواجہ شیخ عثمان ہا روَنی ؒ نے آپ ؒ کا ہاتھ پکڑ ا اور میزابِ رحمت کے نیچے کھڑے ہو کر با رگاہِ خدا وندی میں دُعا فر ما ئی :’’اے میرے پروردگار! میرے معین الدین حسن کو اپنی با ر گاہ میں قبول فرما۔‘‘ غیب سے آوازآئی: ’’معین الدین !ہمارا دوست ہے، ہم نے اسے قبول فر ما یا اور عزّت و عظمت عطا کی۔‘‘ حضرت خواجہ عثمان ہا رونی ، خواجہ غریب نواز ؒ کو لے کر مدینہ منوّرہ میں بار گاہِ مصطفویؐ پہنچے اوردرودو سلام پیش کیا : ’’ الصلوٰ ۃ والسلام علیکم یا سیّد المرسلین و خاتم النبینؐ۔‘‘روضئہ اقدس سے جواب عنایت ہوا:’’ وعلیکم السلام یا قطب المشائخ۔‘‘ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ با ر گاہ ِ رسالت مآبؐ سے سلام کا جواب اورقطب المشائخ کا خطاب سُن کر بے حد خوش ہو ئے ۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ لا ہور تشریف لا ئے اورحضور دا تا گنج بخش سیّدعلی ہجویری ؒ کے مزار شریف پر حاضری دی ۔چالیس دن تک معتکف بھی رہے اور یہاں بے بہا انوارو تجلّیات سے فیض یا ب ہو ئے تو رخصت ہو تے وقت یہ شعر حضور داتا صاحب کی شان میں پیش کیا ۔گنج بخش ، فیض ِعالم ، مظہر نورِ خدا ناقصاں را پیر کامل ، کا ملاں رَا رہنما اس شعر کو اتنی شہرت نصیب ہو ئی کہ اس کے بعد حضور داتا گنج بخش سیّد علی ہجویری ؒ ’’داتا گنج بخش‘‘کے نام سے مشہور ہوگئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی انقلاب آفرین شخصیت ہندوستان کی تاریخ میںایک نہایت ہی زرّیں با ب کی حیثیت رکھتی ہے ۔لاکھوں کی تعداد میںلوگوں نے اسلام قبول کیا جب کہ آپ ؒ کے عقیدت مندوںمیں شامل سلطان شہاب الدین غوری،اُن کے بعدسلطان قطب الدین ایبک اور سلطان شمس الدین التمش ایسے با لغ نظر ، بلند ہمّت اور عادل حکم راں نے سیاسی اقتدار مستحکم کیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی حیاتِ مبارکہ قرآن و سُنّت کا قابلِ رشک نمونہ تھی۔ آپؒ دن میں روزہ رکھتے اور رات قیام میں گزارتے تھے۔ آپ مکارمِ اخلاق اور محاسن اخلاق کے عظیم پیکر اوراخلاقِ نبویؐ کا مکمل نمونہ تھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ غرباء اور مساکین کے لیے سرا پا ر حمت و شفقت کا مجسمہ تھے،اسی وجہ سے دنیا آپ کو ’’غریب نواز‘‘کے عظیم لقب سے یا د کرتی ہے۔ آپؒ فرماتے: ’’جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنا دوست بناتا ہے تو اسے اپنی محبت عطا فرماتا ہے اور وہ بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن اور ہمہ وقت اُس کی رضا وخوش نودی کے لیے وقف کر دیتا ہے تو خداوندِ قدوس اُسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر بن جائے۔‘‘سلطان الہندؒ جب علم و عرفاںاورمعرفت وسلوک کی منازل طے کرچکے تواپنے وطن واپس تشریف لے گئے ۔وطن میںقیام کیے ابھی تھوڑی مدّت ہوئی تھی کہ دل میںبیت اللہ اورروضہ نبویؐ کی زیارات کے لیے تڑپ پیدا ہوئی۔ اسی وقت مقدس سفرکے لیے چل پڑے۔ حضورسیّدِعالمؐ کے روضۂ اقدس کے پاس کئی دن تک عبادت میں مشغول رہے۔ایک دن روضۂ نبویؐ سے یہ سعادت افروزآوازآئی: ’’اے معین! تُوہمارے دین کامعین ومددگارہے،ہم نے تمہیںہندوستان کی ولایت پرفائزکیاہے، لہٰذااجمیرجاکرقیام کرو، وہاںکفر، شرک،گم راہی اورضلالت کی تاریکیاںپھیلی ہوئی ہیں۔تمہارے وہاں ٹھہرنے سے اسلام وہدایت کے سورج کی روشنی چہارسوپھیلے گی۔‘‘ابھی آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ہندو ستان میں اجمیرکہاں ہے؟ اچانک غنودگی ہوئی اور حضور سیّدِ دو عالمؐ کی زیارت سے شرف یا ب ہوئے ۔ آپؐ نے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب تمام ہندوستان کی سیر کر ادی اور اجمیر کا پہاڑ بھی دکھا دیا۔وسط ہندکا مشہورشہراجمیر شریف توحیدورسالت کے اَنوارو تجلّیات اور علم وعرفاںکاروحانی مرکزبننے کے لیے بے حد مناسب تھا۔حضرتِ والانے مناسب جگہ پر مسکن بنایا۔ ذِکر، فکراوریادِخداوندی میں مشغول ہوگئے۔لوگوںنے جب آپ کی سیرت کردار،علم ا ورفضل دیکھاتووہ آپ کی طرف متوجّہ ہوتے گئے۔ایک مشہورروایت کے مطابق تقریباً نوّے (90) لاکھ غیر مسلم اسلام کی دولت سے فیض یاب ہوکرمسلمان ہوئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے مقام و منصب کا اندازہ اس بات سے بہ خوبی لگا یا جا سکتا ہے کہ آپ کو با ر گاہِ رسالت مآبؐ سے ’’قطب المشائخ‘‘کا لقب عطا ہوا۔ آج ہندوستان کا گوشہ گوشہ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کے فیوض و برکات سے ما لامال ہے ۔ انتہائی قلیل مدّت میں اجمیر شریف اسلامی آبادی کا عظیم مر کز بن گیا اور آپ کے حُسنِ اخلاق سے آپ کی غریب نو ازی کا ڈنکا چہار دانگِ عالم بجنے لگا۔ اس ملک میں جہاں پہلے ’’نا قوس ‘‘ بجا کرتے تھے ، اب جگہ جگہ ’’صدائے اللہ اکبر‘‘ گونجنے لگی ۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لاکھوں افراد کے دل درست، عقائد، عملِ صالح اور پا کیزہ اخلاق کے نشیمن بنادیے۔ یوں تو ہزاروں کرامتیںآپؒ سے ظہور پزیر ہوئیں، لیکن آپؒ کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ کی انقلاب آفریں جدو جہد کے طفیل ہندوستان میںدین ِ اسلام کی حقانیت کا بو ل با لا ہوا۔ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کی ابدی سلطنت نے اجمیر شریف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشتِ عقیدت اور جنّت ِمعرفت بنا دیا۔آپ ؒ نے تقریباً 45برس تک اجمیر شریف میں مخلوقِ خدا کو فیض یاب فر مایا ۔سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ لاہور سے دہلی تشریف لے گئے، جہاںاُس دور میںہر طرف کفرو شرک اورگم راہی کادوردورہ تھا۔ آپ ؒنے یہاں کچھ عرصے قیام فرمایااورپھراپنے خلیفۂ خاص حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکیؒ کو مخلوق کی ہدایت اورراہنمائی کے لیے متعین فرما کر خود حضور سیّدِ دوعالمؐ کے فرمان کے مطابق اجمیر جانے کاقصد فرمایا،آپ کی آمدسے نہ صرف اجمیر بلکہ پورے ہندوستان کی قسمت جاگ اٹھی۔ جب سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اجمیر شریف میں رونق افروز ہوئے تواُن دنوںوہاںپرہندوراجا پرتھوی کی حکمرانی تھی۔آپؒ کی آمدپر پرتھوی راج اور ہندو جوگیوں اور جادوگروں نے سخت مزاحمت کی تاکہ آپؒ اجمیر کو اپنا مرکزو مسکن نہ بنائیں،لیکن آپؒ کوتوبہ طورِخاص اسلام کی شمع روشن کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مخالفت ہوتی رہی اور مقابلہ بھی ہوتارہا،لیکن آپؒ اپنے عظیم مقصدومشن میںلگے رہے اوربالآخر کام یابی نے آپؒ ہی کے قدم چومے۔ کچھ ہی عرصے میںراجا پرتھوی راج کے سب سے بڑے مندرکا سب سے بڑا پجاری ’’سادھورام‘‘سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس کے بعد اجمیرکے مشہور جوگی’’جے پال‘‘نے بھی اسلام قبول کرلیا اور یہ دونوںبھی دعوتِ اسلام وہدایت اوراسلامی و روحانی مشن کی تبلیغ واشاعت میںخواجہ غریب نوازؒ کے ساتھ ہوگئے۔ اجمیرکاراجا پرتھوی راج روزانہ نت نئے طریقوںسے حضرت والاکو تکلیف پہنچانے کی کوششیںکرتارہتالیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی ہرتدبیراُلٹی ہوجاتی۔آخر تھک ہارکر پرتھوی راج نے نہایت ناشائستہ انداز و الفاظ میں18ہزارعالمین کامشاہدہ کرنے والے سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کواجمیرسے نکل جانے کا کہاتو حضور خواجہ غریب نواز ؒ بے ساختہ مسکرادیے اورجلال میںآکر فرمایا: ’’میںنے پرتھوی راج کوزندہ سلامت لشکرِاسلام کے سپردکردیا۔‘‘ آپؒ کافرمان درست ثابت ہوا اور تیسرے ہی روزفاتحِ ہند سلطان شہاب الدین غوری ؒ نے ہندوستان کوفتح کرنے کی غرض سے دہلی پر لشکرکشی کی۔راجا پرتھوی راج لاکھوںکا لشکر لے کرمیدانِ جنگ میںپہنچا۔کفرواسلام کے درمیان زبردست معرکے کے بعد سلطان غوری نے لشکرِ کفرکوشکستِ فاش دے کرپرتھوی راج کو گرفتار کرلیااوربعدازاں قتل ہوکرواصلِ جہنم ہوگیا۔ پرتھوی راج کی ذلت آمیز شکست، عبرت ناک قتل اور سلطان غوری ولشکر اسلام کی عظیم الشّان فتح کے نتیجے میں ہزاروں لوگ جوق درجوق اسلام قبول کرنے لگے۔ یوں اجمیر شریف میںسب سے پہلے اسلامی پرچم سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے نصب فرمایا۔فاتحِ ہندسلطان شہاب الدین غوری بہ صدعجزو انکسارسلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی خدمتِ عالیہ میںحاضرہوا اورآپ سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔ روایت ہے کہ دہلی فتح کرنے کے بعدجب سلطان شہاب الدین غوری اجمیرشریف میںداخل ہوئے تو شام ہوچکی تھی۔ مغرب کاوقت تھا، اذانِ مغرب سُنی تودریافت کرنے پرمعلوم ہواکہ ایک درویش کچھ عرصے سے یہاں اقامت پزیرہیں۔ چناں چہ سلطان غوری فوراً مسجد کی طرف چل پڑے۔جماعت کھڑی ہوچکی تھی اور سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ مصلّے پرفائزہوکرامامت فرما رہے ہیں۔ سلطان غوری بھی جماعت میںشامل ہوگئے۔ نماز ختم ہوئی اوراُن کی نظر خواجہ غریب نوازؒ پرپڑی تویہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اُن کے سامنے وہی بزرگ جلوہ فرماہیں، جنہوںنے اُنہیں خواب میں’’فتح دہلی‘‘ کی بشارت دی تھی۔سلطان شہاب الدین غوری آگے بڑھے اورخواجہ غریب نوازؒکے قدموں میں گرگئے ، درخواست کی:’’ حضور!مجھے بھی اپنے مریدوں اور غلاموںمیںشامل فرمالیں۔‘‘ آپ ؒنے اس خواہش کو شرف ِقبولیت بخش کر اُنہیںمرید بنالیا۔ خواجہ اجمیریؒ آفتابِ طریقت بھی تھے اور ماہتابِ شریعت بھی۔ بڑے بڑے اولوالعزم شاہانِ زمانہ آپؒ کے آستانے پر حاضر ہو کر آپؒ کی قدم بوسی کو سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔سلطان شہاب الدین غوری آپ کی قدم بوسی کے لیے آیا۔کبھی سلطان شمس الدین التمش نے سر ِارادت جھکایااور یہ سلسلہ بعد از وصال بھی جاری رہا۔ کبھی سلطان محمود خلجی آپ کے روضۂ انور پر فتح کی دُعا مانگتا ہے تو فتح یاب ہوتا ہے ، کبھی اکبر بادشاہ درگاہِ عالیہ میں اولاد کی درخواست پیش کرتا ہے تو بامُراد لوٹتا ہے اور کبھی جہانگیر اپنی شفایابی پر سرِ دربار آپ ؒ کا غلام ہو جاتا ہے۔اُس وقت سے لے کر آج تک ہندوستان کے سارے حکم راں بلا امتیاز عقیدہ و مسلک، اس آستانہ ٔعالیہ پر اپنا سر نیاز جھکاتے آئے ہیں۔ آپ کے وسیلے اور قدومِ میمنتِ لزوم کے صدقے میں سر زمینِ ہند رشکِ آسماں بنی رہے گی۔اولیائے کرام آپؒ کے دربار کی خاک چوم کر اپنے قلب و روح کو مجلّٰی کرکے عروج پاتے ہیں۔ آج بھی آپ کی شانِ غریب نوازی کار فرما ہے۔ صاحبِ دل،اہلِ محبت اور اہلِ طریقت آپ ؒکے حُسنِ باطن اور عشقِ حقیقی کے تصرفات سے آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ آپؒ کے نورِ ولایت کا آفتاب آج بھی چمک رہا ہے۔ آپ ؒ کا قلبی نور آج بھی ضیاء بخش عالم ہے۔آپؒ کی آنکھوں سے نکلے ہوئے آنسو آج بھی آبِ حیات اور بارانِ رحمت کی طرح فیض رساں ہیں۔حضرت خواجۂ خواجگان، قطب الاقطاب، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒسے اِن جلیل القدر ہستیوں کو بھی خلافت حاصل ہوئی۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت بابا فرید گنج شکرؒ، حضرت علائو الدّین علی بن احمد صابر کلیریؒ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب ِالٰہی، حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی ؒ شامل ہیں۔یہ برگزیدہ اور عظیم المرتبت بزرگ اپنے وقت کے ولیٔ کامل اور باکرامت اولیاء اللہ ہوئے۔ آپؒ کی ساری زندگی امربالمعروف ونہی عن المنکرپر عمل کرتے ہوئے گزری۔بالآخریہ عظیم پیکرِعلم وعرفاں، حاملِ سُنّت وقرآں، محبوبِ یزداں، محب سروروکون ومکاں، شریعت وطریقت کے نیرتاباںحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ 6رجب المرجب633ھ/1236ء کو غروب ہو کر واصلِ ربِّ دوجہاںہوگیا۔روایات میں آتا ہے کہ جس وقت آپؒ کا وصال ہوا،آپؒ کی پیشانی مبارکہ پرنورانی خط میں تحریرتھا…مَاتَ حَبِیْبُ اللّٰہ،فِیْ حُبِّ اللّٰہ…یعنی اللہ کا دوست، اللہ کی محبت میں وصال فرماگیا۔خواجہ غریب نوازحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کا مزارپُرانوار اجمیر شریف(انڈیا) میں مرجع خلائق ہے۔آپ کے مزارِ پر مسلمان ہی نہیں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے بھی لاکھوں افراد عقیدت و محبت کے ساتھ حاضر ہو تے ہیں۔ درگاہِ عا لیہ آج بھی ایمان و یقین اور علم و معرفت کے نو ر بر ساتی ہے اور ہزاروں خوش نصیب لو گ فیض یاب ہو تے ہیں۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال ناصرف اجمیرشریف میں بلکہ پورے پاک وہند میں پورے عقیدت واحترام اورتزک واحتشام کے ساتھ منایاجاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
تاریخ میں پہلی بار خلائی سٹیشن سے خلا بازوں کاطبی انخلا

تاریخ میں پہلی بار خلائی سٹیشن سے خلا بازوں کاطبی انخلا

ناسا کی ہنگامی کاروائی،کریو11 کی مقروہ وقت سے پلے واپسیخلائی تحقیق کی تاریخ میں گزشتہ ہفتے ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب ناسا نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کیلئے طبی انخلا کی کارروائی شروع کی۔ یہ واقعہ نہ صرف سائنسی دنیا بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ کی بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔ خلا جیسے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ماحول میں انسانی صحت کا تحفظ ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے اور اس ہنگامی اقدام نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ جدید خلائی طب، حفاظتی منصوبہ بندی اور انسانی جان کی اہمیت کو اوّلین ترجیح دینے کی واضح مثال ہے، جو مستقبل کی خلائی مہمات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کو تاریخ میں پہلی بار اس وقت انخلا کی تیاری کرنا پڑی جب ایک خلا باز کو طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین (Jared Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ''کریو11‘‘ اپنی طے شدہ واپسی کی تاریخ (فروری) تک مشن جاری نہیں رکھے گا اور ان کی محفوظ واپسی کا طریقہ کار جلد طے کیا جائے گا۔ آئزک مین نے کہا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے خلا بازوں کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ کریو11 کو مقررہ وقت سے پہلے واپس بلایا جائے۔ یہ اعلان اس پیش رفت کے ایک دن سے بھی کم وقت میں سامنے آیا جب ناسا نے طبی مسئلے کے باعث جمعرات کو ہونے والی اسپیس واک منسوخ کر دی تھی۔''کریو11‘‘ میں چار خلا باز ناسا کی زینا کارڈمین (Zena Cardman ) اور مائیک فنکے(Mike Fincke)، جاپانی خلا باز کیمیا یوئی (Kimiya Yui)اور روسی خلا نورد اولیگ پلاٹونوف (Oleg Platonov) شامل ہیں۔ حال ہی میں اس گروپ کے ساتھ جاپانی خلا باز کوئیچی واکاتا (Koichi Wakata)اور ناسا کے خلا باز کرس ولیمز ( Chris Williams) بھی شامل ہوئے تھے، جو نومبر 2025ء میں ایک روسی سوئیوز خلائی جہاز کے ذریعے اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ آئزک مین کے مطابق ولیمز امریکی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے سوئیوز عملے کے ساتھ خلائی اسٹیشن پر ہی قیام کریں گے۔اگرچہ جس خلا باز کو طبی مسئلہ پیش آیا اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم ناسا کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیمز پولک نے بتایا کہ خلا باز کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں اور واپسی تک ساتھی عملے کی جانب سے ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر پولک نے مزید کہا کہ خلا باز کو پیش آنے والا طبی مسئلہ آئندہ ہونے والی اسپیس واک یا خلائی اسٹیشن پر جاری کسی اور سرگرمی سے متعلق نہیں تھا۔انہوں نے مخصوص طبی تفصیلات بتائے بغیر وضاحت کی کہ یہ زیادہ تر مائیکرو گریویٹی جیسے مشکل ماحول میں پیدا ہونے والا ایک طبی مسئلہ ہے۔ناسا کے مطابق خلا باز کی محفوظ حالت برقرار رکھنے کیلئے واپسی تک کسی خصوصی احتیاطی تدابیر کی ضرورت نہیں ہوگی اور ان کی حالت کو انخلا کے منصوبے کی تکمیل تک تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ناسا کو اس سے قبل کبھی طبی وجوہات کی بنیاد پر کسی خلا باز کو واپس نہیں لانا پڑا، تاہم ہر آئی ایس ایس مشن میں ہنگامی انخلا کا منصوبہ شامل ہوتا ہے اور عملے کی واپسی کیلئے خلائی گاڑیاں ہمہ وقت تیار رکھی جاتی ہیں۔ناسا کے سربراہ نے مزید کہاکہ اب تک خلا بازوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ادارے کی تیز رفتار کوششوں پر مجھے فخر ہے۔البتہ ناسا کے منتظم نے یہ بھی واضح کیا کہ خلائی ادارہ اس معاملے کو ایک سنگین طبی حالت سمجھتا ہے، جس کے باعث حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ تاریخ میں پہلی بار طبی انخلا ضروری ہو گیا ہے۔تاہم ڈاکٹر پولک نے اس بات پر زور دیا کہ خلا باز کو فوری خطرہ لاحق نہیں، جس کی وجہ سے ناسا کو کسی غیر محفوظ پرواز کے وقت میں جلد بازی سے انخلا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ڈاکٹر پولک نے کہا کہ عملے کا رکن مکمل طور پر مستحکم ہے، اس لیے میں مشن کے شیڈول یا ان کی سرگرمیوں میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کرتا۔ ''کریو11‘‘ یکم اگست 2025ء کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچا تھا، جس کے باعث ان کی واپسی کی تاریخ فروری کے اواخر میں طے کی گئی تھی۔ چاروں خلا بازوں کو اس وقت واپسی کرنا تھی جب ''کریو12‘‘ پندرہ فروری سے قبل ایک اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول کے ذریعے اسٹیشن پر پہنچتا۔ جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ اگر کریو12 کی لانچ تاریخ آگے لانے پر غور بھی کیا گیا تو اس سے فروری 2026ء میں طے شدہ ''آرٹیمس ٹو ‘‘ مشن متاثر نہیں ہوگا۔انہوں نے دونوں لانچز کوبالکل الگ مہمات قرار دیاہے، جس کا مطلب ہے کہ آرٹیمس مشن وقت پر لانچ ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ آرٹیمس ٹو 1972ء کے بعد چاند کے گرد گردش کرنے والی پہلی انسانی خلائی پرواز ہوگی۔دوسری جانب، آئی ایس ایس پر ہر وقت خلا بازوں کی موجودگی لازمی ہوتی ہے، کیونکہ وہ دیکھ بھال، مرمت، پیچیدہ تجربات کے انعقاد، لائف سپورٹ نظام کے انتظام اور اسپیس واکس جیسے اہم فرائض انجام دیتے ہیں۔ایسے کام جنہیں خودکار نظام مکمل طور پر سنبھال نہیں سکتے۔ اس طرح حفاظت اور سائنسی پیداوار کیلئے انسانی نگرانی برقرار رہتی ہے۔اب تک آئی ایس ایس سے کسی بھی عملے کو مقررہ وقت سے پہلے واپس نہیں بلایا گیا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں خلا بازوں کو درپیش مختلف صحت کے مسائل کے باعث دو اسپیس واکس منسوخ کی جا چکی ہیں۔2021ء میں ایک مشن اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب خلا باز مارک وانڈے ہائی کو اعصابی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اسٹیشن سے باہر جانے کے قابل نہ رہے۔اسی طرح 2024ء میں ایک اسپیس واک آخری لمحے پر اس وقت منسوخ کر دی گئی جب ایک خلا باز کو ''اسپیس سوٹ میں تکلیف‘‘ محسوس ہوئی۔

 قِصے جُڑواں الفاظ کے

قِصے جُڑواں الفاظ کے

انگریزی کی طرح اردو میں بھی جڑواں الفاظ ہوتے ہیں جن کی بدلتی اَ شکال قاری کیلئے ''اِشکال‘‘ کا موجب ہیں۔ اِشباح (اِعراب) کی خفیف سی تبدیلی خاصے '' اَشباہ‘‘ پیدا کر دیتی ہے۔ لہٰذا سمجھ سمجھ کر سمجھ کو سمجھنا ہی اصل سمجھ ہے۔ کرکِٹ کوہی لیجیے،کَرکَٹ ہوا تو ''گِرگَٹ‘‘کی طرح رنگ بدل کر کُوڑے کا معنی دینے لگا۔ اِدھر ''عَجَب‘‘ عَالَم ہے کہ عُجب کے باعث ہر ''نَفس‘‘ ہمہ جہت ''عَالِم‘‘ بنے پھرتا ہے اور خود کو فاضل جان کر اپنے ہر ''ہم نَفَس‘‘ کو ''فاضِل‘‘ (بیکار) سمجھتا ہے۔ '' سَو ‘‘بار سنا ہے کہ دنیا میں ہر '' سُو ‘‘ عُلمائے سُو موجود ہوتے ہیں ۔ ہم نے تو '' پَل‘‘ بھر میں خون سفید ہوتے یوں دیکھے کہ نہر کی '' پُل ‘‘ پر نشے کی '' دَھت ‘‘ میں ''دُھت ‘‘ یار لوگ اپنوں پر ہی '' پِل ‘‘ پڑے۔ یک طَرفہ فیصلے بھی '' طُرفہ تماشے‘‘ ہیں ۔زمانے کی '' رِ یت ‘‘ ہے کہ رشتے ناتے ''ریت کے گھروندے ہی تو ہیں ۔جب ''سَر‘‘ میں بھیجا اور روح میں '' سُر‘‘ نہ رہے تو پھر '' سِرِّدلبراں ‘‘ چہ معنی دارد؟۔دوسروںکی ''سُدھار‘‘میں لگے بہت سے بھلے مانَس حسرتیں لیے مُلکِ عدم '' سِدھار‘‘ جاتے ہیں۔ کم نگاہ لوگوں کو جتنی بھی '' پُر شکوہ ‘‘ ضیافت دو،ان کا '' شکوہ ‘‘ جاتا نہیں ۔یہ بات '' مُسَّلَم ‘‘ ہے کہ '' مُسلِم ‘‘باقی دنیا سے پیچھے ہیں اور کسی ''حقیقتِ مُنتظَر‘‘ کے مُنتظِر ہرگز نہیں۔ایسے ''گُل ‘‘ کھِلاتے ہیں کہ امیدوں کے چراغ ''گُل ِ‘‘ ہوکر '' گِل ‘‘ میں مل جاتے ہیں۔ مَلِکہ نورجہاں امورِ سلطنت کا خاص '' مَلکہ ‘‘ رکھتی تھیں مگر جہانگیر کی عُسرت میں عِشرت کے موجب بامراد نہ ہوئیں۔ سچ ہے کہ بڑے سے بڑا ''مَلِک ‘‘ بھی '' مَلَک الموت ‘‘ سے بچ نہیں پاتا چاہے اس کی '' مِلک‘‘ میں سارا'' مُلک ‘‘ ہی کیوں نہ ہو ۔نیلے ''امبر‘‘ تلے قدرت کی ''عنبر‘‘ اور '' عُود ‘‘ کی خوشبوئیں بکھرتی ہیں تو سہانے ماضی کی یادیں '' عَود ‘‘ کر آجاتی ہیں ۔ سَن نوے میں جب '' سِنِ بلوغت ‘‘ کو پہنچے تو جانا کہ '' سئور‘‘ سے ملتے جلتے لفظ '' سور‘‘کے سنسکرت میں معنی ہیرو کے ہیں ،اور سورما کی اصطلاح بھی اسی سور سے مُشتَق ہے۔ کل ایک''حاجی‘‘ صاحب نے بتایا کہ ہَجو لکھنے اور کرنے والے کو بھی '' ہاجی ‘‘ کہتے ہیں۔ حاجی صاحب اب بطور '' خَیَّام‘‘ '' مِصر ‘‘ جا کر ''خِیام ‘‘سازی کے کاروبار کرنے پر ''مُصِر‘‘ ہیں ۔کیونکہ یہاں ان کی زمینیں '' سیم ‘‘ اور تھور کی وجہ سے ''سِیم و زَر‘‘ اُگلنے سے قاصر ہیں ۔ البتہ ان کے بھائی کے ہاں محکمہ ''ریل‘‘ میں ہونے کے باعث دولت کی '' ریل پیل ‘‘ ہے۔اگر اس نُکتے کو نُقطہ نہ سمجھیں تو واضح ہے ہم عجمیوں کو ہی تلفظ کیلئے ''اِعراب‘‘ کی ضرورت ہے جبکہ '' اَعراب‘‘(اہل عرب ) کو ایسی کوئی حاجت نہیں۔ مثلاً عربی میں بیضا کا مطلب سفید اور روشن ہے جبکہ انڈے کو وہ ''بیضہ‘‘ کہتے ہیں ۔ اسی لیے ہم اصطلاحات کی درگت بقول شاعر کچھ ایسے بنا بیٹھتے ہیں ـ۔ عدن کو پڑھتے عَدَن ہیں، رُوم کو کہتے ہیں روم مِلَتِ بیضا کا مطلب لکھ دیا انڈے کی قوم

آج تم یاد بے حساب آئے!نذر الاسلام:مایہ ناز ہدایتکار (1939-1994ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!نذر الاسلام:مایہ ناز ہدایتکار (1939-1994ء)

٭...پاکستان کے مایہ ناز فلمساز و ہدایتکار 19اگست 1939ء کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔٭... وہ بنگلا دیش کے قیام کے بعد پاکستان ہی میں مقیم رہے۔٭... انہیں1971ء میں بننے والی فلم ''پیاسا‘‘ سے شہرت ملی۔٭... ان کی فلموں کی خاصیت یہ تھی کہ ان کی ٹیم بنگالی فنکاروں پر مشتمل ہوتی ۔٭...فلمی صنعت میں انہیں ''دادا‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔٭...اپنے کریئر میں انہوں نے 30فلمیں بنائیں ، جن میں 20اردو فلمیں تھیں۔وہ اپنی فلموں کی سینما ٹو گرافی اور موسیقی پر خاص توجہ دیتے تھے۔٭...انہوں نے ''آئینہ‘‘ جیسی معرکہ آراء فلم کی ہدایات دیں، یہ فلم کراچی میں 5سال نمائش پذیر رہی۔اس فلم کے تمام نغمات ہٹ ہوئے اور آج بھی ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ ٭...ان کی فلموں''بندش‘‘ اور ''نہیں ابھی نہیں‘‘ بھی زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ '' نہیں ابھی نہیں‘‘ 1980ء میں ریلیز ہوئی جس سے فیصل اور ایاز کو متعارف کرایاگیا۔ فلم کے گیت سرور بارہ بنکوی نے تحریر کئے اور سنگیت روبن گھوش کا تھا۔ ٭...ان کی ایک اور شاندار فلم ''لوسٹوری‘‘ تھی جو 1982ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔اس میں فیصل کے علاوہ لیلیٰ اور آغا طالش نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس کے نغمات بہت ہٹ ہوئے۔٭... انہوں نے ایک پنجابی فلم ''کالے چور‘‘ بھی بنائی جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے مرکزی کردار سلطان راہی، ہمایوں قریشی اور نیلی نے نبھائے۔٭... ندیم، بابرا شریف، ننھا اور مصطفی قریشی جیسے ستاروں سے سجی ان کی فلم ''زندگی‘‘ نے بھی بڑی کامیابی حاصل کی۔1978ء میں سینما گھروں کی زینت بننے والی اس فلم نے گلوکار اے نیئر کو بھی بہت شہرت بخشی۔ ان کا گیت ''سالگرہ کا دن آیا ہے‘‘ بہت پسند کیا گیا ۔٭...رومانوی اور سوشل فلم ''امبر‘‘ بھی سپرہٹ ثابت ہوئی، اس کے گیت بہت مقبول ہوئے، خاص طور پر مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گیت ''ٹھہرا ہے سماں‘‘ اور اے نیئر اور ناہید اختر کا یہ دو گانا ''ملے دو ساتھی‘‘ بہت مقبول ہوئے۔٭...11جنوری 1994ء میں یہ بے مثال ہدایتکار اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔نذرالاسلام کی شاہکار فلمیںآئینہ (1977) امبر (1978)زندگی (1978) بندش (1980)لو سٹوری (1983)آنگن (1982)دیوانے دو(1985)زمین آسمان(1985)پلکوں کی چھائوں(1985)بارود کی چھائوں(1989)کالے چور (1991)نہیں ابھی نہیں (1980) خواہش میڈیم باوری نرگس

آج کا دن

آج کا دن

انسولین کا استعمال11جنوری1922ء کو دنیا کے پہلے انسان کو انسولین لگائی گئی۔ اس شخص کا نام لیونارڈ تھامسن تھا جو ٹائپ1ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کے علاج اور تحقیقی غرض سے اسے انسولین لگائی گئی۔انسولین کے مثبت اور حیران کن نتائج نے اس وقت کے ماہرین کو حیران کر دیا۔ اس سے قبل انسولین کو مختلف تجرباتی مراحل سے گزارا گیا تھا لیکن انسانوں پر کیا جانے والا یہ پہلا تجربہ تھا۔انسانوں پر کامیاب تجربے کے بعد انسولین کو ذیابیطس کیلئے بطور علاج استعمال کیا جانے لگا۔تھروگز نک برج کا افتتاح1961ء میں آج کے روز نیویارک میں ''تھروگز نک برج‘‘ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے کھولا گیا۔ یہ پل ایسٹ ریور پر تعمیر کیا گیا اور شہری آمدورفت کو بہتر بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس پل کی بدولت نہ صرف سفر کے اوقات میں نمایاں کمی آئی بلکہ شہر کے مختلف حصوں کے درمیان تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔ یہ پل جدید انجینئرنگ کا عمدہ نمونہ ہے، جس نے نیویارک کے ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مؤثر بنایا اور شہری ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اینڈیوور مشن''ایس ٹی ایس72‘‘ امریکی خلائی شٹل اینڈیوور کا ایک اہم مشن تھا، جس کا بنیادی مقصد جاپان کے مائیکرو گریویٹی اسپیس فلائٹ یونٹ کو خلا سے تحویل میں لے کر محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانا تھا۔ یہ تاریخی مشن 11 جنوری 1996ء کو کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا سے روانہ ہوا۔جاپانی اسپیس فلائٹ یونٹ کا وزن تقریباً 3,577 کلوگرام تھا۔ اس یونٹ کو جاپان کی سپیس ایجنسی نے 18 مارچ 1995ء کوخلا میں بھیجا تھا، جہاں اس نے مائیکرو گریویٹی ماحول میں سائنسی تجربات انجام دیے۔ قصبہ حماد کا قتل عام سیدی حماد کا قتل عام11 جنوری 1998ء کی شب الجزئر سے 30کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے سیدی حماد میں پیش آیا۔ ایک اندازے کے مطابق پچاس بندوق برداروںنے قصبے پر حملہ کیا۔حملہ آوروں نے ایک کیفے اور ایک مسجد پر بمباری کی۔حملہ کے بعد وہاں موجود لوگوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے بھاگنے والوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی اور سب کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد حملہ آور گھروں کے اندر گھس کر لوگوں کو قتل کرنے لگے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس قتل عام میں 103افراد ہلاک اور 70کے قریب زخمی ہوئے۔تاہم غیر سرکاری ذرائع 120ہلاکتوں کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ الجزائر کے کچھ اخبارات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً400تھی۔ سسلی کا زلزلہ 11جنوری1693ء کو سسلی، کلابریا اور مالٹا کے قریب جنوبی اٹلی کے کچھ حصوں کو ایک خوفناک زلزلے کا سامنا کرنا پرا۔ اس سے قبل9جنوری کو بھی ایک زور دار جھٹکا محسوس کیا گیا تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4ریکارڈ کی گئی جو اطالوی تاریخ میں سب سے زیادہ طاقتور زلزلہ تھا۔اس شدید زلزلے سے کم از کم70قصبے تباہ ہوئے اور5ہزار600مربع کلومیٹر کے رقبے کو شدید نقصان پہنچا۔اس زلزلے میں تقریباً60ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔زلزلے کے نتیجے میں سونامی بھی آیا جس نے بحیرہ Ionianاور آبنائے میسینا کے ساحلی دیہاتوں کو تباہ کر دیا۔

سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

2026ء سمندری حیات کیلئے خطرناک قرار دنیا بھر کے سمندروں میں پھیلی مرجانی چٹانیں، جو سمندری حیات کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں آج تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026ء وہ سال ثابت ہو سکتا ہے جب عالمی سطح پر سمندری چٹانوں کا نظام تیزی سے بکھرنے لگے گا۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سمندری پانی کی تیزابیت اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات نے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان نہ صرف سمندری حیات بلکہ کروڑوں انسانوں کی خوراک، روزگار اور ساحلی تحفظ کیلئے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا بھر میں موجود سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران دنیا کی اندازاً 30 سے 50 فیصد سمندری چٹانیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا سمندری حیات کیلئے ایک ایسے ناقابل واپسی موڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔سمندری ماحولیاتی نظام کی ماہر ڈاکٹر سمانتھا گیرارڈ (Dr Samantha Garrard)کا کہنا ہے کہ آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان تباہ کن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کا مستقبل بحرالکاہل میں گرم اور ٹھنڈے پانی کے ایک قدرتی چکر پر منحصر ہے، جسے ''ایل نینو سدرن اوسلیشن‘‘ ( El Niño-Southern Oscillation) کہا جاتا ہے۔ ہم حال ہی میں ایک انتہائی تباہ کن ایل نینو مرحلے سے گزر چکے ہیں، جس کے دوران گرم پانی نے دنیا کی 84 فیصد سمندری چٹانوں کو ایسی حد تک حرارت کے اثر میں مبتلا کر دیا جو کورل بلیچنگ کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو مرحلے کی توقع کی جا رہی ہے، اس لیے ماہرین موسمیات کو خدشہ ہے کہ سمندری چٹانیں اگلے شدید اثر سے شاید دوبارہ سنبھل نہ سکیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کے مطابق یہ وہ سال ہو گا جب گرم پانی میں پائی جانے والی چٹانیں ایک ایسے موڑ پر پہنچ جائیں گی جس کے بعد ان کا مقدر طے ہو جائے گا، حتیٰ کہ سب سے زیادہ مضبوط اقسام بھی بحالی کے قابل نہیں رہیں گی۔سمندری چٹانیں سمندر کی سطح کے صرف ایک فیصد حصے پر پھیلی ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سمندری حیات کی تقریباً ایک چوتھائی اقسام کو سہارا دیتی ہیں۔ تاہم یہ حیرت انگیز قدرتی مساکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کیلئے غیرمعمولی طور پر حساس بھی ہیں۔ جب مرجانی چٹانوں کا درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ان میں بلیچنگ (Bleaching) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ حرارت کے دباؤ کے باعث یہ اپنے اندر موجود رنگین الجی کو خارج کر دیتی ہیں، جس سے اس کا رنگ سفید ہو جاتا ہے۔ اگر بلند درجہ حرارت طویل عرصے تک برقرار رہے تو بڑے پیمانے پر اجتماعی بلیچنگ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، جن کے بعد یہ چٹانیں اکثر دوبارہ بحال نہیں ہو پاتیں۔گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی اخراج نے عالمی سطح پر سمندری درجہ حرارت کو ریکارڈ حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سمندری گرمی کی لہریں کہیں زیادہ شدید اور بار بار آنے لگی ہیں۔زیادہ اوسط درجہ حرارت ان چٹانوں کو ایل نینو سدرن اوسلیشن کے اثرات کیلئے بھی زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔ ایل نینو کے دوران بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے کم از کم 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت کئی مہینوں تک برقرار رہتی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں موسم غیرمعمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔ماضی میں گرم ایل نینو سالوں کے بعد بحرالکاہل کے چکر کے دوران نسبتاً ٹھنڈے موسم کے سال آتے تھے، جنہیں لا نینا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گیرارڈ وضاحت کرتی ہیں کہ اس وقفے کے دوران ان چٹانوں کو چند سال کا موقع ملتا تھا تاکہ وہ ''سانس لے سکیں‘‘ اور دباؤ کے اثرات سے دوبارہ بحال ہو سکیں۔ تاہم تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کے گرم مراحل کو زیادہ شدید اور زیادہ بار آنے والا بنا رہی ہے، جبکہ ایل نینو اور لا نینا کے درمیان عبوری ادوار مختصر اور زیادہ گرم ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کا کہنا ہے: چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو متوقع ہے، اور یہ گزشتہ مرحلے کے فوراً بعد آئے گا، اس لیے بہت سی چٹانوں کو بحالی کیلئے کافی وقت نہیں مل سکے گا۔ یہ مرحلہ مرجانی چٹانوں کے وسیع پیمانے پر انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ 2026ء دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کیلئے ایک 'ٹِپنگ پوائنٹ‘ ثابت ہو سکتا ہے، یعنی وہ حد عبور ہو جائے گی جہاں ماحولیاتی نظام میں تبدیلی اچانک اور ناقابلِ واپسی ہو جاتی ہے۔

چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں

چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں

لالیبیلا کے گرجا گھر قدیم افریقی انجینئرنگ کا شاہکارایتھوپیا کے شمالی پہاڑی خطے امہارا میں واقع لالیبیلا ایک ایسا تاریخی اور مذہبی شہر ہے جو صدیوں سے دنیا کو حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہ شہر اپنی چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی عظیم الشان گرجا گھروں کی بدولت عالمی شہرت رکھتا ہے، جو انسانی محنت، عقیدت اور فن تعمیر کا بے مثال شاہکار ہیں۔ زمین کی سطح سے نیچے ایک ہی چٹان کو کاٹ کر تعمیر کیے گئے یہ گرجا گھر نہ صرف مذہبی تقدس کے حامل ہیں بلکہ قدیم افریقی تہذیب کی اعلیٰ انجینئرنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔لالیبیلا کے گرجا گھر بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیے گئے، جب ایتھوپیا پر زاگوا خاندان کی حکومت تھی۔ روایت کے مطابق ان گرجا گھروں کی تعمیر کا حکم شاہ لالیبیلا نے دیا، جن کا خواب تھا کہ افریقہ میں ایک مقدس شہر قائم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ لالیبیلا کو آج بھی ‘‘افریقہ کا یروشلم'' کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی تعمیر محض سیاسی یا مذہبی منصوبہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک تہذیبی اعلان تھا کہ افریقہ بھی علم، فن اور تعمیر میں کسی سے کم نہیں۔لالیبیلا کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا راک ہیون فنِ تعمیر (Rock Hewn Architecture) ہے۔ یہاں گرجا گھر زمین کے اوپر تعمیر نہیں کیے گئے بلکہ ایک ہی چٹان کو اوپر سے نیچے کی طرف کاٹ کر وجود میں لائے گئے۔ یعنی پہلے چٹان کے گرد گہری خندق بنائی گئی، پھر اندرونی حصے کو تراش کر ستون، محرابیں، چھتیں اور راہداریاں تشکیل دی گئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں نہ سیمنٹ استعمال ہوا، نہ اینٹیں اور نہ ہی لوہے کے جدید اوزار۔ اس کے باوجود یہ عمارتیں صدیوں سے قائم ہیں۔لالیبیلا میں کل 11 گرجا گھر ہیں، جنہیں تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر گرجا گھر نہ صرف ساخت کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ اس کا مذہبی اور علامتی مفہوم بھی الگ ہے۔ ان میں سب سے مشہور ''چرچ آف سینٹ جارج ‘‘ ہے، جو صلیب کی مکمل شکل میں تراشا گیا ہے۔ یہ گرجا گھر سطح زمین سے نیچے واقع ہے اور اس تک پہنچنے کیلئے تنگ راستوں اور سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے، جو زائرین کو روحانی یکسوئی کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح بیٹے مدھانِ عالم (Bete Medhane Alem) کو دنیا کا سب سے بڑا یک سنگی گرجا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اندر تراشے گئے ستون اور چھتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم افریقی معمار نہ صرف ساختی توازن سے واقف تھے بلکہ جمالیاتی حسن کو بھی غیرمعمولی اہمیت دیتے تھے۔ یہ گرجا گھر محض عبادت کے مقامات نہیں بلکہ زندہ عجائب گھر ہیں، جہاں ہر دیوار، ہر نقش اور ہر راستہ ایک کہانی سناتا ہے۔لالیبیلا کے گرجا گھروں کی انجینئرنگ کا ایک اور حیرت انگیز پہلو نکاسی آب ہے۔ پہاڑی علاقے میں بارش کے پانی کو عمارتوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے کیلئے زیر زمین نالیاں بنائی گئیں جو آج بھی کارآمد ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معماروں کو جغرافیہ، موسم اور تعمیراتی سائنس کی گہری سمجھ حاصل تھی۔مذہبی اعتبار سے لالیبیلا ایتھوپیائی آرتھوڈوکس عیسائیوں کیلئے نہایت مقدس مقام ہے۔ سال بھر یہاں عبادات جاری رہتی ہیں، لیکن کرسمس اور ایپی فینی کے موقع پر ہزاروں زائرین سفید روایتی لباس پہن کر ان گرجا گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ دعائیں، جلوس اور چراغوں کی روشنی اس شہر کو ایک روحانی منظرنامے میں بدل دیتی ہے، جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔لالیبیلا کی عالمی اہمیت کا اعتراف اس وقت ہوا جب اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔ اس اعزاز کا مقصد نہ صرف ان گرجا گھروں کو محفوظ بنانا ہے بلکہ دنیا کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ افریقی تہذیبیں محض زبانی روایات تک محدود نہیں بلکہ تعمیر، فن اور فکر میں بھی عظیم ورثہ رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے قدرتی عوامل، وقت کی مار اور سیاحتی دباؤ کے باعث یہ گرجا گھر خطرات سے دوچار ہیں۔لالیبیلا کے گرجا گھر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان اگر عقیدت، علم اور محنت کو یکجا کر لے تو پتھر بھی بولنے لگتے ہیں۔ یہ عبادت گاہیں صرف مذہبی عمارتیں نہیں بلکہ ایک تہذیب کی اجتماعی دانش، صبر اور تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔ آج کے جدید دور میں، جہاں بلند عمارتیں شیشے اور فولاد سے بنتی ہیں، لالیبیلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت وسائل کی کثرت میں نہیں بلکہ وژن اور ہنر میں ہوتی ہے۔آخرکار، لالیبیلا کا شہر اور اس کے چٹانوں میں تراشے گئے گرجا گھر انسانی تاریخ کے ان روشن ابواب میں شامل ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ افریقہ محض تاریخ کا پس منظر نہیں بلکہ خود تاریخ کا خالق بھی رہا ہے۔ یہ شاہکار آنے والی نسلوں کیلئے پیغام ہیں کہ ایمان، فن اور علم جب یکجا ہوں تو صدیوں کو مات دے سکتے ہیں۔