آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گزشتہ دنوں ملک بھر سے یونیورسٹی اور کالج کے نوجوان طلبہ کے ایک گروپ سے خطاب کے دوران طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے زور دیا کہ طلبہ پاکستانیت کو اپنائیں‘ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں بہترین کارکردگی کے حصول کیلئے کوشش کریں اور ایسی مہارتیں پیدا کریں جو انہیں ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ جب تک قوم اور نوجوان ساتھ کھڑے ہیں‘ پاک فوج کبھی نہیں ہارے گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ خارجیوں کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی‘ ہاں اگر وہ ریاست کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیں تو ریاست سے رحم کی توقع کر سکتے ہیں۔ آرمی چیف نے نوجوانوں کے ساتھ فکری نشست میں یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں کی ہے جب سکیورٹی فورسز کئی محاذوں پر شدت پسند عناصر سے نبرد آزما ہیں۔ عزم استحکام کے تحت افواجِ پاکستان روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں پیش کر رہی ہیں۔ بلاشبہ ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں افواج پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے‘ سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹی ٹی پی کا شیڈو گورنر ثاقب گنڈاپور انجام کو پہنچ چکا ہے۔ ٹی ٹی پی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔اس کے علاوہ طالبان کے ایک خطرناک کردار سربکف مہمند کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردوں سے نبردآزما ہیں‘ تاہم ہمیں ففتھ جنریشن وار فیئر جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ دشمن سامنے آ کر لڑنے کے بجائے چھپ کر وار کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ذیل کی سطور میں ففتھ جنریشن وار فیئر کی تھیوری کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ففتھ جنریشن وار فیئر روایتی جنگوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس میں براہِ راست فوجی تصادم کے بجائے معلومات‘ پروپیگنڈا اور سائبر حملوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جنگ کا مقصد کسی ملک یا گروہ کے نظریات‘ اقدار اور ثقافت کو کمزور کرنا اور اس کے سماجی و سیاسی ڈھانچے کو مفلوج کرنا ہوتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فیئر کا بنیادی نشانہ عوام کے ذہن اور دل ہوتے ہیں جس کیلئے سوشل میڈیا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے سوشل میڈیا ففتھ جنریشن وار فیئر کو زرخیز زمین فراہم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط خبریں‘ جھوٹا پروپیگنڈا اور نفرت انگیز تقاریر بہت آسانی سے پھیلائی جا سکتی ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر موجود الگورتھم ایسے مواد کو فروغ دیتے ہیں جو جذباتی ردعمل پیدا کرتے ہیں‘ خواہ وہ سچ ہوں یا جھوٹ۔ اس طرح جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا بہت کم وقت میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ نوجوان ففتھ جنریشن وار فیئر کا آسان ہدف ہیں۔ نوجوان عموماً سوشل میڈیا پر زیادہ فعال ہوتے ہیں اور ان میں معلومات کی درستی کو پرکھنے کی مہارت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اسی طرح نوجوان اپنے جذباتی ردِعمل پر زیادہ قابو نہیں رکھتے اور جلدی سے کسی بھی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ففتھ جنریشن وار فیئر کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا آسان ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو مختلف قسم کے جھوٹے نعروں‘ جذباتی تقریروں اور غلط معلومات کے ذریعے مشتعل کیا جاتا ہے اور انہیں بڑی مہارت سے اپنے ملک اور معاشرے کے خلاف کر دیا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فیئر سے نوجوانوں کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ کس طرح وہ غلط خبروں اور پروپیگنڈا کی پہچان کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو تنقیدی سوچ اور معلومات کو پرکھنے کی مہارت سکھانا بھی ضروری ہے۔ اگر نوجوان ان تمام باتوں کو سمجھ جائیں گے تو وہ ففتھ جنریشن وار فیئر کی جنگ کا آسان ہدف بننے سے بچ سکتے ہیں۔
جدید دور میں جنگ اور دہشت گردی کی شکل یکسر بدل چکی ہے۔ اب روایتی جنگوں کی طرح آمنے سامنے لڑائی نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی کی بہت اہمیت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے مصنوعی ذہانت‘ بگ ڈیٹا اور انٹرنیٹ آف تھِنگز بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہم دشمن کی حرکات و سکنات کا پہلے سے اندازہ لگا سکتے ہیں اور بگ ڈیٹا کے ذریعے ہم معلومات کا تجزیہ کر کے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور ان کے منصوبوں کا پتا چلا سکتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ آف تھِنگز کی مدد سے ہم سکیورٹی کو بہتر اور کسی بھی قسم کے خطرناک حملے کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہم ایسے مواد کی شناخت کر سکتے اور اسے پھیلنے سے روک سکتے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی خود بخود تمام مسائل کا حل نہیں ہے۔
ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو دہشت گردوں کا آلہ کار بننے سے بچانے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔ اس جانب تعلیم سب سے پہلا قدم ہے‘ جب نوجوان تعلیم حاصل کریں گے تو ان میں شعور پیدا ہو گا اور وہ غلط اور صحیح میں فرق کر سکیں گے۔ تعلیم نوجوانوں کو تنقیدی سوچ اور معلومات کو پرکھنے کی مہارت بھی سکھاتی ہے جس سے وہ دہشت گردوں کے جھوٹے پروپیگنڈا کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ دوسرا اہم قدم نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ بیروزگاری نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرنے کا ایک اہم سبب ہے۔ جب نوجوانوں کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تو وہ مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں دہشت گرد انہیں آسانی سے اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے تو وہ معاشرے کا حصہ بن کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں گے اور دہشت گردی سے دور رہیں گے۔ تیسرا اہم قدم نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔ نوجوانوں کو کھیلوں‘ فن‘ ادب اور سماجی خدمات جیسی سرگرمیوں میں شامل کرکے انکی توانائی کو صحیح سمت میں لگایا جا سکتا ہے۔ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ ان میں خود اعتمادی‘ قیادت اور تعاون جیسی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف لڑائی قومی سطح پر لڑی جائے اور پوری قوم کا ایک ہی بیانیہ ہو تو اس میں کامیابی کے وسیع امکانات ہوتے ہیں‘ اس کے برعکس اگر قومی وحدت کا فقدان ہو‘ بالخصوص صوبے اور وفاق الگ الگ حکمت عملی کے تحت چل رہے ہوں تو کامیابی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ بلاشبہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہے۔ عوام کے جان و مال کیلئے صوبائی حکومت کی فکرمندی قابلِ ستائش ہے تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کے پی حکومت کے پیشِ نظر قیام امن کا کوئی منصوبہ زیر غور تھا بھی تو بہتر تھا کہ صوبائی حکومت اس پر وفاق کو اعتماد میں لیتی اور وفاق کے تعاون سے مشترکہ طور پر لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا مگر افغانستان سے بات چیت کیلئے خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے تئیں ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے جس کے تحت دو وفد افغانستان جائیں گے۔ صوبائی حکومت نے دورے کے ٹی او آرز بھی تیار کر لیے ہیں۔ بیرسٹر سیف کو رابطہ کاری کیلئے فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے۔ وفد بھیجنے کا مقصد کراس بارڈر ٹرائبل ڈپلومیسی کو مضبوط کرنا ہے۔ پہلا وفد مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنانے سمیت دیگر سفارتی امور نمٹائے گا جبکہ دوسرا وفد کئی سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہو گا۔ کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت مذاکرات کیلئے وفاقی حکومت سے رابطے میں رہے گی۔ اس پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی خارجہ امور وفاق کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ دفتر خارجہ کی اس تنبیہ کے باوجود صوبائی حکومت اپنی روش پر قائم رہتی ہے یا وفاقی حکومت کی سرپرستی قبول کرتی ہے۔