مسلمان اور اسکندریہ کا کتب خانہ
اسپیشل فیچر
مدتوں یہ باور کیا جاتا رہا کہ جب عمروبن العاصؓ نے مصر فتح کیا تو انہوں نے اسکندریہ کا عظیم کتب خانہ تباہ کیا لیکن مغرب کی حالیہ علمی تحقیقات نے اسے غلط ثابت کیا ہے۔ تمام مسلمانوں کو اس الزام کی تردید کرنی چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ عبدالطیف البغدادی پہلا شخص ہے جس نے کتب خانے کی تباہی کا قصہ بیان کیا۔ یہ شخص ابن العاص ؓکی فتح کے کوئی چھ سوسال بعد 132ش میں فوت ہوا۔ البغدادی نے دعویٰ کیا کہ خلیفہ کے حکم سے شہر کے بڑے بڑے حماموں کی بھٹیوں میں اسکندریہ کے عظیم الشان کتب خانے کی کتابیں جھونکی گئیں لیکن اس کے کسی ہمعصر نے ایسی غارت گری کا ذکر نہیں کیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں مصر میں کوئی قابل ذکر کتب خانہ ہی نہ تھا۔ بطیلموس کا کتب خانہ تھا۔ سواسے جولیس سیزر نے 48ق۔ م میں تباہ کردیا۔ پلوتارک اس کا ذکر اپنی تالیف۔ ’’سوانح حیات‘‘ میں یوں کرتا ہے: ’’جب جولیس سیزر نے اپنا بیڑہ دشمن کے قبضے میں دیکھا تو وہ خطرے سے بچنے کے لیے اسے آگ لگانے پر مجبور ہوا ۔ اس کے شعلے بندرگاہ سے پھیلے اور انہوں نے (اسکندریہ ) کا کتب خانہ جلادیا۔‘‘ سینی کون (46ش) کی بھی یہی رائے تھی۔ اس کے تخمینے کی روسے سیزر نے جوکتابیں جلائیں ان کی تعداد چارلاکھ تھی۔ دایو کیشیش (150تا 230ش) بتاتا ہے کہ آگ ان عمارتوں تک پہنچ گئی تھی جوکتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد 273ش میں شہنشاہ اور ریلیاں نے مصریوں کی بغاوت کے جواب میں بچے کھچے کتب خانے کو سپرد آتش کردیا۔ ہمیں اس امر کا پتا بھی چلتا ہے کہ 389میں ایک نیا کتب خانہ قائم کیا گیا اس کا نام ’’کتب خانہ ٔدختر‘‘ تھا۔ اسے شہنشاہ تیھودوسیس کے حکم پر تباہ کیا گیا۔ پھر جب عمرو بن العاص ؓنے مصر فتح کیا تو اسکندریہ میں ایسا کوئی کتب خانہ نہ تھا جسے جلایا جاسکتا۔ پروفیسر الفریڈنے اس موضوع پر نہایت دلکش کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام ’’فتح العرب مصریہ ‘‘ ہے اور 1933ء میں قاہرہ میں چھپی تھی۔ پروفیسر نے واضح کیا ہے کہ حضرت عمرؓجیسے پاکباز اور متقی خلیفہ کے لیے کتابوں کی تباہی کا حکم نافذ کرنا ممکن نہ تھا۔ انہیں خبر تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتابوں کی کتنی قدر کرتے تھے۔ پروفیسر ایلفریڈبٹر کے نزدیک عملی صورت یہ تھی کہ یہ نام نہاد کتابیں کاغذ پر نہ لکھی گئی تھیں۔ یہ تو چمڑے اور پیپرس کے رول تھے جنہیں مضبوطی سے لپیٹ لیا ہوگا۔ یہ بڑی مشکل سے آگ پکڑتے تھے۔ کاغذ سے کہیں کم آگ پکڑتے۔ اگر انہیں حماموں میں جلایا جاتا تو ان سے درجہ حرارت بڑھ نہ سکتا تھا۔ کتب خانہ تو رہا ہی نہ تھا۔ اگر کوئی کتب خانہ ہوتا تو اسے جلا کروہ نتائج پیدانہ کیے جاسکتے تھے جو داستان میں مذکورہ ہیں۔ (کتاب’’ مسلمانوں کے تہذیبی کارنامے‘‘)