امیر تیمور لنگ (بے مثال فاتح) (آخری حصہ)
اسپیشل فیچر
انگریز تاریخ دان فلپ جیک تیمور کے بارے میں لکھتا ہے۔ ’’تیمور کی فتوحات عجوبہ ہیں وہ زمینی نہیں آسمانی مخلوق لگتا ہے اور اس کی طاقت بے مثال اور ناقابل اندازہ ہے۔‘‘ تعجب خیزا مر یہ ہے کہ تقریباً خطہ ارض کو اپنے قبضے میںلانے کے باوجود اس نے ’’شہنشاہ‘‘ کا لقب اختیار نہیں کیا**********تیمور شجیع، بلا کا ذہین اور طاقت ور تھا۔ اسے کم زوری، کاہلی، سستی، بیکاری، غربت اور مفلسی سے سخت نفرت تھی اسی سبب ملک بھر میں گداگری پر پابندی تھی کم زور، ضعیف، معذور اور معمر افراد کے وظائف مقرر تھے اور غرباء و مساکین کے لیے سرائے اور یتیم خانے بنوائے گئے تھے جن میں ساری چیزیں مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ سڑکوں کی نگہداشت اور ملکی انتظامات، تنازعات اور مقدمات کے لیے منتظم اور مجسٹریٹ مقرر تھے جو اپنے علاقے کے نظم ونسق کے مکمل انچارج تھے، کوتاہی یا فرائض منصبی سے غفلت کی صورت میں سخت سزائیں دی جاتی تھیں جس کے باعث چوری، رہ زنی کا تصور بھی نہیں تھا۔ تیمور نبی اکرم ؐ کو سب سے زیادہ محبوب و محترم مانتا تھا، سادات کا احترام کرتا اور تصورِ حکومت میں چنگیزخان و محمود غزنوی کا پیرو تھا، منافقت ریاکاری سے نفرت کرتا اور راست گوئی کو خواہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو بہت پسند کرتا تھا۔ کم تعلیم یافتہ تھا مگر دینی و مذہبی تحقیق پسند کرتا تھا۔ وہ دل ہارنے اور تقدیر کا قائل نہ تھا۔ چائے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ برفانی علاقوں میں تیموری افواج کی حالت شدید سردی کے سبب غیر ہونے پر اس علاقے میں چائے کے پودوں سے پتے توڑ کرکثیر مقدار میں جوش دے کر فوجیوں کو پلانے سے اس کی صحت بہتر ہوگئی تھی اور یوں چائے کا رواج ہوا۔انگریز تاریخ دان فلپ جیک تیمور کے بارے میں لکھتا ہے۔ ’’تیمور کی فتوحات عجوبہ ہیں وہ زمینی نہیں آسمانی مخلوق لگتا ہے اور اس کی طاقت بے مثال اور ناقابل اندازہ ہے۔‘‘ تعجب خیزا مر یہ ہے کہ تقریباً خطہ ارض کو اپنے قبضے میںلانے کے باوجود اس نے ’’شہنشاہ‘‘ EMPEROR کا لقب اختیار نہیں کیا بلکہ اکثر کہا کرتا تھا کہ ’’میں اللہ تعالیٰ کا ایک ناچیز بندہ ہوں‘‘ تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہی شخص نورالدین زنگی، سلطان صلاح الدین ایوبی اور سلطان رکن الدین بیرس کے متبرک شہر دمشق کے تقدس کا نہ صرف پامال کرتا ہے بلکہ اسے بشمول مساجد جلا کر خاکستر کردیتا ہے اور لاکھوں انسانوں کو قتل کر دیتا ہے۔ تسخیر ایران کے بعد وہ چین فتح کرکے اپنی کفالت میں رہنے والے چینی شہزادوں کو ان کا حق دلانا اور اس علاقے میں اسلام کو پھیلانا چاہتا تھا لیکن اس سے قبل وہ ہندوستان پر حملہ ضروری سمجھتے ہوئے مارچ 1398 کو ہندوستان کی طرف بڑھا 24 ستمبر کو دریائے سندھ پار کیا اور 18 دسمبر 1398 کو دہلی پر فتح پالی، ہزار ہا افراد قتل ہوئے۔ چند دن دہلی میں گزار کر قلعہ میرٹھ پر حملہ آور ہوا، کوہِ ہمالیہ کے راجائوں کو مغلوب کیا اور دہلی و ملتان میں سابقہ تغلق حکام کو متعین کرکے واپس لوٹا۔ اگلے برسوں میں اس نے سیواس، ملیہ، حلب، حماۃ، حمض، بعلبک، شام، اور دمشق پر فتوحات حاصل کیں اور بغداد پر بھی دوبارہ حملہ آور ہوا۔تیمور اپنے دیرینہ دشمن بایزید یلدرم پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا اور جب بایزید نے مصر کے عباسیوں سے سندِ حکومت طلب کرلی اور تیمور کے ایک ہم نوا رفیق پر چڑھائی کردی تو تیمور کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ایک بڑی جنگ کی تیاریوں کے بعد انقرہ کے میدان میں 1402 کو دونوں فوجیں ٹکرا گئیں۔ گھمسان کی ہول ناک لڑائی اور معرکہ کارزار کے بعد بایزید شکست سے دو چار اور گرفتار ہوا یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ اکثر باور کیا جاتا ہے کہ تیمور نے بایزید کو اس کی اس غلطی و گستاخی کی سزا دینے کے لیے (بایزید نے ایک مرتبہ اپنے دربار میں تیمور کے لیے ’’کتا‘‘ کے لفظ استعمال کیے تھے) پنجرے میں بند کردیا تھا لیکن تاریخ میںکہیں ایسا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا بر خلاف اس کے تیمور نے اسے دربار میں بلوا کر اپنے برابر بٹھایا تھا لیکن بعد ازاں پنجرے میں بند ضرور کیا تھا۔ تیمور کی تاریخی غلطی یلدرم سے دشمنی اور جنگ کرنا ہے کیوں کہ یورپی اور عیسائی حکومتیں یلدرم سے خوفزدہ تھیں اس لیے انہوں نے تیمور کو یلدرم کے خلاف شہ دی، اکسایا، جنگی امداد اور مشورہ دیا تاکہ دونوں مسلمان آپس میں ٹکرا کر کم زور ہوجائیں۔ اگر تیمور یلدرم کی مدد کرتا یا کم از کم اس سے صرفِ نظر کرلیتا تو یقیناً یورپ کی کمر توڑ دی جاتی اور آج اسلام کی تاریخ اور اسلامی دنیا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ کوئی بعید نہیںکہ مسلمانوں کی سارے عالم پر حکومت برقرار رہتی۔ازمیر کی فتح کے بعد اس نے چین کے خلاف اپنی دیرینہ مہم کا آغاز کیا 1404 میں تیمور کی فوجوں نے دریائے ججونِ (سیحون) کو عبور کرلیا جس پر برف جمی ہوئی تھی۔ فوج کے علاوہ علماء دانش وروں کی ایک کثیر تعداد بھی تبلیغِ اسلام کی غرض سے ساتھ تھی۔ چین کی سرحدوں کے قریب پہنچنے کے بعد وہ بیمار ہوگیا اور ایک ہفتہ علیل رہنے کے بعد 17 شعبان 807 بمطابق 18 فروری1405 کو ستر سال کی عمر میں 36 سال عظیم الشان طریقے سے حکومت کرنے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔امیر تیمور لنگ کے دائیں ہاتھ اور دائیں پیر میں پیدائشی نقص ہونے کے سبب وہ قدرے لنگڑا کر چلتا تھا اسی سبب ’’لنگ‘‘ اس کے نام کا ابدی حصہ بن گیا۔تیمور کی میت سمر قید لائی گئی اور گور میر کی شان دار عمارت میں دفن کی گئی۔ تیمور کے بعد اس کا بیٹا شاہ رخ جانشین بنا، باور کیا جاتا ہے کہ تیمور کی قبر کا سنگِ سیاہ ایک مغل شہزادی نے تحفتاً ہندوستان سے بھجوا کر اپنے جدِ امجد کا قرض اُتارا تھا۔ تیمور کی قبر اس کے روحانی استاد، سیدبرک، کی قبر سے متصل ہے جب کہ دائیں بائیں بیٹے شاہ رخ اور پوتے محمد سلطان اور مرزا الفق بیگ مدفون ہیں۔