نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کامریم نواز کے خطاب کےحوالےسےٹویٹ
  • بریکنگ :- مریم نواز آزاد کشمیر کے بعد سیالکوٹ میں بھی بری طرح ناکام ہوگئی،فردوس عاشق اعوان
  • بریکنگ :- مریم نواز کے والد سزا یافتہ مجرم ہیں،معاون خصوصی ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان
  • بریکنگ :- انڈرورلڈ ڈان کی طرح بیرون ملک بیٹھ کرملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،فردوس عاشق
  • بریکنگ :- یہ تڑپنا،مچلنا تفریح تو ہو سکتی ہے،قوم کو دھوکہ نہیں دیاجا سکتا،فردوس عاشق
  • بریکنگ :- ان سب ٹوپی ڈراموں کا کوئی فائدہ نہیں،فردوس عاشق اعوان
  • بریکنگ :- ملک کو قوم کے لوٹے پیسے واپس کریں تو معافی مل سکتی ہے،فردوس عاشق اعوان
  • بریکنگ :- مریم پٹرول،لوڈشیڈنگ مہنگائی چورن بیچنا چاہتی ہے وہ نہیں بکے گا،فردوس عاشق اعوان
Coronavirus Updates

ادب کی دنیا : ماہرؔ القادری

ادب کی دنیا :   ماہرؔ القادری

اسپیشل فیچر

تحریر : سید ابو الہاشم


ماہرؔ القادری کا اصل نام منظور حسین اور ماہرؔ تخلص تھا۔ وہ30 جولائی1906ء کو ضلع بلند شہر (یو۔پی بھارت) کے ایک قصبہ کسہیہ کلاں میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کا نام معشوق علی تھا۔ماہر القادری نے قرآنِ حکیم اور اُردو کی ابتدائی تعلیم گائوں کے مکتب سے حاصل کی۔1926ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پاس کیا۔ مولانا عبد القادر بدایونی کی سفارش پر ماہر صاحب نے 1926ء کو حیدر آباد دکن میں محکمہ ڈاک میں ملازمت حاصل کی۔ حیدر آباد دکن میں کم و بیش پندرہ برس تک مقیم رہے۔ 1944ء میں بمبئی منتقل ہوئے۔قیامِ پاکستان کے بعد اپریل1949ء کو ماہر نے ماہنامہ ’’فاران‘‘ کا اجراء کیا جو بڑی پابندی کے ساتھ29 برس تک شائع ہوتا رہا۔1954ء میں ماہر صاحب نے حج کے مشاہدات و تاثرات پر ’’کاروان حجاز‘‘ کے نام سے کتاب تحریر کی۔ ماہر القادری کی شاعری کی کتب1939ء سے 1956ء تک منظر عام پر آتی رہیں، جو درج ذیل ہیں:۱۔ ظہورِ قدسی (نعتیہ مجموعہ) ۲۔ محسوسات ماہر ۳۔ نغماتِ ماہر۴۔ ذکرِ جمیل ۵۔ جذباتِ ماہر ۶۔ فردوسمجموعی اعتبار سے ماہر کی صحت عمر بھر قابل رشک رہی آخری چند سال وہ عارضہ قلب میں مبتلا رہے اور72 برس کی عمر میں1978ء کو وفات پا گئے۔آخر میںاُن کی ایک حمد پیش ِ خدمت ہے:خدا کا نام سہارا ہے ہر کسی کے لیےخدا کا ذکر ہی تسکیں ہے زندگی کے لیےدل و نظر کو ضرورت نہیںچراغوں کییقیں کی شمع ہی سب کچھ ہے روشنی کے لیےمیں کیوں جہاں میں کسی اور کی طرف دیکھوںخدا کی ذات ہی کافی ہے دوستی کے لیےاسی کا نام فنا ہے، اس کا نام بقارضائے دوست ضروری ہے زندگی کے لیےگمان و وہم کے آگے یقیں کی منزل ہےپھر اس کے بعد اُجالا ہے آدمی کے لیےزباں پہ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلّہ ہے ماہرؔیہی وظیفہ ہے ایماں کی تازگی کے لیے٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
طفیل ہوشیارپوری کی شاعری غزلوں اور نظموں کے علاوہ ان کے فلمی گیت بھی بے مثال ہیں

طفیل ہوشیارپوری کی شاعری غزلوں اور نظموں کے علاوہ ان کے فلمی گیت بھی بے مثال ہیں

برصغیر پاک و ہند میں ایسے شاعروں کی کمی نہیں جنہوں نے نہ صرف خوبصورت غزلیں اور نظمیں تخلیق کیں بلکہ فلموں کیلئے بھی بے مثل گیت لکھے۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں سے اکثر شعرا ء کو ان کے فلمی نغمات کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی۔ بھارت کا ذکر کیا جائے تو ہمیں ساحر لدھیانوی‘ مجروح سلطانپوری‘ جانثار اختر اور کیفی اعظمی کی مثالیں ملتی ہیں۔ ان شعرا ء نے عمدہ غزلوں اور نظموں کے علاوہ بڑے باکمال نغمات تخلیق کیے جنہیں آج بھی سنا جائے تو زبان سے بے اختیار واہ نکلتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ کلیم عثمانی‘ حبیب جالب اور منیر نیازی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ منیر نیازی نے سب سے کم فلمی گیت لکھے لیکن کیا خوب لکھے۔ جوش ملیح آبادی نے پہلے بھارت میں کچھ فلموں کے نغمات تحریر کئے۔ ایک نام کا اور اضافہ کر لیجئے اور وہ ہے طفیل ہوشیارپوری۔ انہوںنے بہت معیاری غزلیں اور نظمیں لکھیں اور ان کے شعری مجموعے بھی منظرعام پر آئے۔ جن میں ''سوچ مالا‘ میرے محبوب وطن‘ شعلہ جاں اور جام مہتاب‘‘ شامل ہیں۔ وہ کئی برس تک ایک ادبی جریدے کی ادارت بھی کرتے رہے۔ طفیل ہوشیارپوری نے اردو اور پنجابی فلموں کیلئے جو گیت لکھے ان میں سے کئی ایسے گیت ہیں جنہوں نے لازوال شہرت حاصل کی۔طفیل ہوشیار پوری کا اصل نام محمد طفیل تھا 14جولائی 1914ء کو ضلع ہوشیارپور (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ایک استاد کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1948 ء میں اردو اور پنجابی فلموں کے نغمات لکھنا شروع کیے۔ ان کی مشہور فلموں میںشمی (1950ء)‘ ہرجائی (1952ء)‘ غلام (1953ء)‘ شہری بابو (1953ء)‘ قاتل (1955ء)‘ پتن (1955ء)‘ دلا بھٹی (1956ء)‘ لخت جگر (1956ء)‘ ماہی منڈا (1956)‘ قسمت (1956ء)‘ سرفروش(1956ء)‘ معصوم(1957ء)‘ انارکلی (1958ء)‘ مٹی دیاں مورتاں (1960ء)‘ شام ڈھلے (1960ء)‘ عجب خان (1961ء)‘ شہید (1962ء)‘ عذرا (1962ء) ‘ موسیقار (1962ء)‘ نائیلہ (1965ء) اور میری دھرتی میرا پیار (1970ء) شامل ہیں۔فلمی گیت نگاری کے حوالے سے طفیل ہوشیارپوری کو سب سے پہلے پنجابی فلم ''شمی‘‘ سے شہرت ملی یہ فلم 1950 میں ریلیز ہوئی۔ یہ واحد فلم تھی جس کا نام فلم کی ہیروئن شمی کے نام پر رکھا گیا۔ اس فلم میں سنتوش کمار‘ ببو‘ ایم اسماعیل‘ اجمل اور غلام محمد نے اہم کردار ادا کیے ۔ شمی اداکارہ شمی کی پہلی فلم تھی فلم کی پروڈیوسر ملکہ پکھراج تھیں جبکہ ہدایتکار منشی دل تھے۔ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔ شمی کے گیت تنویر نقوی‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ ساغر صدیقی اور اقبال سیف پوری نے لکھے۔ صرف ایک گیت طفیل ہوشیارپوری نے لکھا اور وہ سب پر بازی لے گئے۔ اس گیت نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔بھارت میں بھی اس گیت کی دھوم مچی اس کے بول تھے ''نی سوہے جوڑے والئے‘ ذرا اک واری آ جا‘ سانوں مکھڑا وکھا جا‘‘۔ عنایت حسین بھٹی نے اس گیت کو بڑی مہارت سے گایا۔1953میں ''شہری بابو‘‘ ریلیز ہوئی اس کے ہدایتکار نذیر،موسیقی رشید عطرے کی تھی۔ منور سلطانہ‘ زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے فلم کے نغمات گائے ۔ اس فلم میں سورن لتا (نذیر کی اہلیہ)‘ سنتوش کمار‘ نذر‘ ایم اسماعیل‘ علائو الدین اور عنایت حسین بھٹی نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ نغمہ نگاروں میں بابا عالم سیاہ پوش‘ طفیل ہوشیارپوری‘ حزیں قادری اور وارث لدھیانوی شامل تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ''شہری بابو‘‘ زبیدہ خانم کی بطور گلوکارہ پہلی فلم تھی۔ اس کے علاوہ وارث لدھیانوی نے بھی پہلی بار کسی فلم کے گیت لکھے۔ ویسے تو اس فلم کے سارے گیت ہی پسند کئے گئے لیکن طفیل ہوشیارپوری کا لکھا گیت بھی بہت مقبول ہوا۔ ''دل نئیں دنیا تیرے بنا‘‘ ۔اُس زمانے میں ایک فلم کے گیت کئی شعرا ء لکھتے تھے اور ہر ایک کے حصے میں ایک یا دو گیت ہی آتے تھے۔ طفیل صاحب کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں بہت اچھے موسیقار ملے۔1953ء میں ان کی اردو فلم ''غلام‘‘ ہٹ ہوئی اس فلم کے ہدایتکار انور کمال پاشا تھے۔ صبیحہ خانم‘ سنتوش کمار‘ شمیم‘ شمی‘ آصف جاہ‘ ہمالیہ والا‘ راگنی‘ اجمل اور ایم اسماعیل نے خوبصورت اداکاری کی ۔ گلوکار فضل حسین کی یہ پہلی فلم تھی ،اس فلم کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر نے مرتب کی تھی۔ ماسٹر غلام حیدر وہ نامور موسیقار تھے جنہوںنے بھارت میں اپنے نام کا ڈنکا بجایا تھا۔ یہ وہ موسیقار تھے جنہوںنے سب سے پہلے لتا منگیشکر کو پلے بیک گلوکارہ کے طور پر متعارف کرایا۔ ''غلام‘‘ میں ان کی موسیقی بہت پسند کی گئی۔ اس کے نغمات قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ ساغر صدیقی اورطفیل ہوشیارپوری نے لکھے۔ باقی گیتوں کی طرح طفیل صاحب کا گیت بھی بہت پسند کیا گیا جس کے بول تھے ''چھپ چھپ جوانی آئی اے‘‘ اسے پکھراج پپو نے گایا اوریہ صبیحہ خانم پر پکچرائز ہوا۔1955 ء میں انور کمال پاشا کی مشہور زمانہ فلم'' قاتل‘‘ ریلیز ہوئی اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچادی۔ ماسٹر عنایت حسین نے کمال کی موسیقی ترتیب دی ''قاتل‘‘ مسرت نذیر‘ اسلم پرویز اور نیر سلطانہ اور دلجیت مرزاکی پہلی فلم تھی۔ کہانی انور کمال پاشا کے والد حکیم احمد شجاع نے لکھی ۔ نغمات قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف اور طفیل ہوشیارپوری کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے، سبھی گیتوں کو بے حد پذیرائی ملی۔ طفیل ہوشیارپوری نے ایک ہی گیت لکھا جس نے بہت دھوم مچائی، اس گیت کو کوثر پروین نے گایا اور یہ صبیحہ خانم پر عکس بند ہواگیت کے بول تھے ''اومینانجانے کیا ہو گیا‘ کہاں دل کھو گیا‘‘۔1955 ء میں ہدایتکار لقمان کی سپرہٹ پنجابی فلم ''پتن‘‘ ریلیز ہوئی جس میں مسرت نذیر‘ سنتوش کمار‘ آشا پوسلے‘ نذر‘ شیخ اقبال‘ ایم اسماعیل اور علائوالدین نے کام کیا۔ یہ ایک رومانوی فلم تھی جس کی شاندار موسیقی بابا جی اے چشتی نے مرتب کی تھی۔ طفیل ہوشیارپوری‘ مشیر کاظمی‘ حزیں قادری‘ اسماعیل متوالا اور جی اے چشتی کے لکھے گیتوں کو زبیدہ خانم‘ کوثر پروین‘ زاہدہ پروین‘ عنایت حسین بھٹی اور علائوالدین نے گایا فلم کے 13میں سے 2 نغمات طفیل صاحب کے حصے میں آئے اور دونوں ہٹ ہو گئے۔ ایک گیت کے بول تھے ''میرے کنڈلاں والے وال وے‘ میری ہرنی ورگی چال وے‘‘ اور دوسرے گیت کے بول کچھ یوں تھے ''رنگ رنگیلی ڈولی میری‘ بابل اج نہ ٹور‘‘ دونوں گیتوں کو بالترتیب کوثر پروین اور زبیدہ خانم نے گایا۔1956ء طفیل ہوشیارپوری کیلئے بڑا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی کامیاب ترین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ''دلابھٹی‘ ماہی منڈا‘ سرفروش اور چن ماہی‘‘ شامل ہیں۔ فلم ''دُلا بھٹی‘‘ کے ہدایتکار ایم ایس ڈار تھے اس فلم میں صبیحہ‘ سدھیر‘ علائوالدین‘ غلام محمد‘ ایم اسماعیل اور اجمل نے اہم کردار ادا کیے۔ فلمساز آغا جی اے گل نے اس فلم کی کمائی سے ایورنیو سٹوڈیو تعمیر کیا۔اس فلم کے 10گیت تھے جنہیں زبیدہ خانم‘ منورسلطانہ‘ عنایت حسین بھٹی اور اقبال بانو نے گایا۔ گیت نگاروں میں طفیل ہوشیارپوری‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ جی اے چشتی اور ایف ڈی شرف شامل تھے۔ طفیل صاحب نے اس فلم کیلئے 6 گیت لکھے۔ سارے گیت ہی باکمال تھے لیکن منور سلطانہ کا گایایہ گیت پنجابی کے عظیم ترین گیتوںمیںشمار ہوتا ہے۔ اس گیت کے بول تھے ''واسطہ ای رب دا تو جانویں وے کبوترا‘‘ اس گیت کی شہرت آج تک قائم ہے۔طفیل ہوشیارپوری نے 68فلموں کیلئے 224نغمات تخلیق کیے ان کے مقبول اردو اور پنجابی نغمات کی تعداد کافی زیادہ ہے انہوں نے ملی نغمات بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے۔ انہوں نے بڑی بھرپور زندگی گزاری 4جنوری 1993ء کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ ایک غزل گو‘ نظم گو اور نعت گو کے علاوہ طفیل ہوشیارپوری کو ایک شاندار نغمہ نگار کی حیثیت سے بھی یاد رکھا جائے گا۔

قدرت اللہ شہاب اور’’ جمہوریت کا سِکہ‘‘ بحیثیت ادیب ’’شہاب نامہ ‘‘  میں حقائق کو ممکنہ حد تک پیش کرنے کی کوشش کی

قدرت اللہ شہاب اور’’ جمہوریت کا سِکہ‘‘ بحیثیت ادیب ’’شہاب نامہ ‘‘ میں حقائق کو ممکنہ حد تک پیش کرنے کی کوشش کی

''شہاب نامہ ‘‘ایسی کتاب ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں اردو دنیا میں آج تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی سوانح عمری ''شہاب نامہ‘‘ہے، قیام پاکستان کے بعد قدرت اللہ شہاب اہم عہدوں پر فائز رہے انہوں نے اپنی خودنوشت کے کئی ابواب کو اسی دور کے حالات و واقعات سے مزین کیا ، قدرت اللہ شہاب نے کتاب میں لکھا کہ میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی جس رنگ میں وہ مجھے نظرآئے ۔کتاب کے پہلے حصے میں شہاب نے بہت سے زند ہ کردار تخلیق کئے ۔ ان کرداروں میں مولوی صاحب کی بیوی ، چوہدری مہتاب دین ، ملازم کریم بخش اورچندرواتی وغیرہ ۔چندراوتی کا سراپا یوں لکھتے ہیں۔ رنگت میں وہ سونے کی ڈلی تھی اور جلد اس کی باریک مومی کاغذ کی تھی ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ،ایک روز وہ چھابڑی والے کے پاس تاز ہ گنڈیریاں کٹوانے کھڑی ہوئی تو میرے دل میں آیا ایک موٹے گنے سے چندرا وتی کو مار مار کر ادھ موا کردوں اور گنڈیریوں والے کی درانتی سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے دانتوں سے کچر کچر چبا ڈالوں۔‘‘چندراوتی شہاب نامہ کا بے مثال کردار ہے جس کے اندر محبت کا الائو دہک رہا تھا، لیکن وہ زبان پر نہ لا سکی اور مر گئی ۔ کتاب کا دوسرا حصہ ''آئی سی ایس میں داخلہ اور دور ملازمت‘‘پر مشتمل ہے ۔ کانگرس ہائی کمان کا خفیہ منصوبہ جو شہاب صاحب نے جوش جنوں میں قائداعظم تک پہنچایا یہ واقعہ بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔کتاب کے تیسرے حصے میںپاکستان کے بارے میں تاثرات ہیں ، اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کیسے بن سکتا ہے ۔وہ کہتے ہیں ''ہمیں حب الوطنی کا جذبہ نہیں بلکہ جنون درکار ہے ۔ ‘‘کتاب کا سب سے اہم حصہ چوتھا حصہ ہے جس میں ''دینی و روحانی تجربات و مشاہدات‘‘بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں ہم ان کی کتاب کے مختصر3 پیرا گراف پیش کر رہے ہیں ۔''میں نے دنیا بھر کے درجنوں سربراہان مملکت ،وزرائے اعظم اور بادشاہوں کو کئی کئی مرتبہ کافی قریب سے دیکھا ہے لیکن میں کسی سے مرعوب نہیں ہوا اور نہ ہی کسی میں مجھے اس عظمت کا نشان نظر آیا جو جھنگ شہر میں شہید روڈ کے فٹ پاتھ پر پھٹے پرانے جوتے گانٹھنے والے موچی میں دکھائی دیا تھا ۔‘‘''جمہوریت کا سکہ اسی وقت چلتا ہے ،جب تک وہ خالص ہو ۔ جوں ہی اس میں کھوٹ مل جائے ،اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی‘‘۔۔۔۔''صاحب اقتدار اگر اپنی ذات کے گرد خود حفاظتی کا حصار کھینچ کر بیٹھ جائے تو اس کی اختراعی ، اجتہادی اور تجدیدی قوت سلب ہو کر اسے لیکر کا فقیر بنا دیتی ہے ۔‘‘قدرت اللہ شہاب گلگت میں 26 فروری 1917ء کو محمد عبداللہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم پنجاب کے گائوںچمکویہ، ضلع انبالہ مشرقی پنجاب سے حاصل کی، اس وقت پنجاب تقسیم نہیں ہوا تھا ۔بی ایس سی کی ڈگری 1937ء میں پرنس آف ویلز کالج جموں و کشمیر سے حاصل کی اور ماسٹر ان انگلش لٹریچر گورنمنٹ کالج لاہور سے 1939ء میں کیا۔ اور1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوگئے، ابتداء میں بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئےقیام پاکستان تک وہیںرہائش پذیر رہے ۔ 1947ء میںپاکستان آئے آزاد کشمیر کی نوزائیدہ حکومت کے سیکرٹری جنرل بھی بنے جھنگ کے ڈپٹی کمشنر رہے ، 3 سربراہان ِ مملکت کے پرسنل سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے یہ ہی نہیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر جیسے عہدوں پر بھی فائز رہے۔جس وقت جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا انہوں نے استعفیٰ دیدیا ۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے اب کچھ بات ہو جائے شہرہ آفاق کتاب'' شہاب نامہ‘‘ کی، ملک میں یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے ۔ ان کی کتاب کے چار حصے کیے جا سکتے ہیں۔پہلا حصہ قدرت اللہ کا بچپن اور تعلیم وغیرہ پر مشتمل ہے۔قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت ''شہاب نامہ‘‘ میںلکھتے ہیں ۔9 جون 1938ء سے میں نے باقاعدہ ایک ڈائری لکھنے کی طرح ڈالی ۔اس میں ہر واقعہ کو ایک خود ساختہ شارٹ ہینڈ میں لکھا ۔ایک روز یہ کاغذات ابن انشا ء کو دکھائے ۔ابن انشاء کے کہنے پر کافی مدت بعد قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب کو لکھا ۔کتاب کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں ''خوش قسمتی سے مجھے ایسے دوستوں کی رفاقت نصیب ہوئی جن کا اپنا ایک الگ رنگ اور اپنی شخصیت میںایک نام رکھتے ہیں ۔مثلاََ ابن انشاء ،ممتاز مفتی ،بانو قدسیہ ،اشفاق احمد واصف علی واصف ،جمیل الدین عالی ،ریاض انور ،ایثار علی ، مسعود کھدر پوش ابن الحسن برنی ،اعجاز بنالوی اورابو بخش اعوان ۔قدرت اللہ شہاب کی وفات کے بعد ان کے بارے میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں ''ذکر شہاب‘‘ اور''مراد بریشم‘‘خاص طور پر مقبول ہوئیںجبکہ ان کے خطوط کے مجموعے بھی چھاپے گئے ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی کوششوںسے عمل میں آئی۔حکومت کی جانب سے انہیںستارہ ٔ قائداعظم اور ستارۂ پاکستان بھی دیا گیا۔انکی تصانیف میں'' یاخدا، نفسانے ،سرخ فیتہ، ماں جی اور ''شہاب نامہ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں 69برس کی عمر میں وفات پائی۔

احساس کیجیے۔۔۔۔۔

احساس کیجیے۔۔۔۔۔

غربت و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں شکستہ چہرے لاغر و ناتواں جسم کس چیز کی عکاسی کر رہے ہیں حسرت و یاس کی تصویر بنے بوڑھے،بین کرتی مائیں بلکتے بچے، پناہ کی تلاش میں سرگرداں بہنیں، ہوس کی بھینٹ چڑھ جانے والی معصوم بچیاں اورمعاشرے کے ہاتھوں ستائے بے روزگار خودکشی پر مجبور نوجوان ہیں ۔ طالب علموں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ ہتھیار تھما دئیے گئے ہیں، قوم کے مسیحا ادویات کے کمیشن کے چکر میں موت باٹنے لگے ہیں ، محافظ چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عصمتوں کو تار تار کرتے نظر آ رہے ہیں ۔مفلوک الحال افراد کو ''سودکی سولی‘‘ پر چڑھا دیا جاتا ہے ،ملزم منصف بن جاتے ہیں ، جہاں سہولیات صرف بااثر طبقے کیلئے ہیں جہاں سوسائٹی ''ہائی ‘‘اور'' لو‘‘ میں بٹی ہوئی ہے۔ جہاں قانون صرف غریب کیلئے ہو اور امراء وڈیرے اور بد قماش لوگ دندناتے پھرتے ہوں۔ جہاں مطلب کی دوستیاں، منافقانہ روئیے، بدیانتی اور ریا کاری کا دور دورہ ہو، جہاں سفارش ،رشوت اور اقرباء پروری کا راج ہو جہاں دولت ہی شرافت کا معیار ہو اور ظالم وڈیرے کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے کی جائے ۔جہاں چند کوڑی کی خاطر بھائی بھائی کا جانی دشمن بن چکا ہے بیٹا والدین کو پہچاننے سے انکاری ہے جہاں زبان ، قومیت اور مذہب کے نام پر قتل عام جاری ہے جہاں سچ بولنے کی پاداش میں ہاتھ اور زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ جہاں صحافیوں کو ظلم، نا انصافی اور سچ دکھانے پر قتل کر دیا جاتا ہے جہاں مظلوم کا ساتھ دینے پر عبرتناک موت ملتی ہے۔ جہاں مغربی کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے جہاں اپنی قومی زبان اردو بولنے پر شرم اور تہذیب و تمدن کو فرسودہ سمجھا جاتا ہے۔ جی ہاں کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے ہمارامعاشرہ جس میں آج چوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی گرانفروشی اور کرپٹ سیاستدانوں کا راج ہے۔تاریخ پر جب ہم نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ جو قومیں اپنے اسلاف اور انکی روایات کو بھول جاتی ہیں دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے اب بھی وقت ہے سنبھل جائو کہ یہ بارشیں، طوفان اور کورونا وائرس جیسے موذی امراض نشانیوں کے طور پر ہمارے سامنے ہیں یورپ میں آج بھی عورت کو جتنا ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے اسکی کہیں مثال نہیں ملتی جبکہ اسلام نے عورت کو چادر چاردیورای کا محافظ اور گھر کی زینت بنایا مگر عورت ذلیل و خوار ہورہی ہے کبھی سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہاہے؟ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہم نے احکامات خداوندی سے منہ موڑ لیا ہے، غیر مسلم ہمارے دین سے اس قدر متاثر ہیں کہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کررہے ہیں مگر ہم اہل اسلام ہو کر بھی مغربی تہذیب و ثقافت سے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ اسے اپنانے میں ایک دوسرے سے سبقت لیے جا رہے ہیں ۔خدارا سوچیے۔۔ غور و فکر کیجیے ۔ ۔اور ایک دوسرے کا احساس کیجئے ۔۔۔

 ظفر حسن ایبک۔۔ عالمی جنگ اول سے لیکر ترک فوج میں افسر بننے تک کی روداد

ظفر حسن ایبک۔۔ عالمی جنگ اول سے لیکر ترک فوج میں افسر بننے تک کی روداد

ظفر حسن ایبک 26ستمبر 1895ء کی رات کو دہلی سے 76میل اور پانی پت کے مشہور میدان جنگ سے تقریباً 25میل شمال میں واقع شہر کرنال کے محلہ قاضیاں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک چھوٹے زمیندار خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ وہ پانچ سال کی عمر میں محلے کی مسجد میں قرآنِ شریف کی تعلیم حاصل کرنے لگے ۔ ابتدائی اور مڈل سکول کے دوران فارسی اور عربی کی تعلیم بھی حاصل کرلی۔ ظفر حسن نے اپنے خاندان کے مالی مسائل کے سبب رات دن محنت کرکے اسکالر شپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اُس زمانے میں کرنال ہائی اسکول کے لڑکے انٹرنس کے لیے امتحان انبالہ سنٹر میں دیتے تھے اِسی لیے وہ بھی 1911ء میں انبالہ جاکر انٹرنس کے امتحان میں شامل ہوگئے اور اپنی جماعت میں اوّل آکر اُنھیں سکالرشپ دیا گیا ۔پھرلاہور جاکر گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران پہلے جنگِ طرابلس اور پھر جنگِ بلقان پھوٹی تو وہ بھی اپنے ہم عمر نوجوانوں کی طرح جوش و جذبے میں آکر اپنے ترک بھائیوں کے لیے کچھ کرنے کو تڑپ گئے لیکن لاچار تھے۔ جب 1914ء میں پہلی جنگِ عظیم چھڑ گئی تو ہندوستان کا ماحول کچھ دگرگوں ہونے لگا ۔ جب عثمانی سلطان کے خلیفہ محمد رشاد نے جہادِ کا اعلان کیا تو عالمِ اسلام کے مختلف حصّوں میں مغربی طاقتوں کے خلاف شورشیں اور بغاوتیں شروع ہوئیں اور خاص طور پر مسلمان نوجوان جذبۂ جہاد سے سرشار ہوکر عثمانیوں کی صف میں آکر جنگ کرنے لگے۔ ہندوستان کے نوجوانوں نے دوسرے ملکوں کے نوجوانوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر اِس جہاد میں حصّہ لینا شروع کیا تھا۔ ظفر حسن بھی اپنے کچھ ہم جماعتوں اور لاہور کے دوسرے کالجوں کے کچھ طلباء کے ساتھ اِس جہاد میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرکے1915ء میں روپوش ہوکر روانہ ہوئے اور ایک کٹھن سفر کے بعد کابل پہنچے۔ جہاد کے لیے سفر کے راہی ہونے کے بعد اُس زمانے کی افغانی حکومت نے انگریزوں کے ساتھ تعلقات کو خراب نہ کرنے کی خاطر، اِ ن افراد کو آگے نہیں جانے دیا تو وہ لوگ آٹھ سال تک افغانستان میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان میں مختلف سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور بعد میں افغانستان اور انگریزوں کے مابین شروع ہونے والی جنگ میں بھی افغانوں کی صف میں جنگ لڑی۔ 1922ء میں افغانی حکومت کی اجازت پر اپنے استاد اور رہنما عبیداللہ سندھی کے ہمراہ روانہ ہوکر ماسکو گئے۔ دو سال وہاں رہنے کے بعد 1924ء میں ترکی تشریف لائے اور استنبول میں آباد ہوئے۔ اُنھوں نے ترکی شہریت حاصل کرنے کے بعد ترکی اسٹاف کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر ترک فوج میں افسر بنے۔ 1933ء میں ترکی اور افغانستان کے مابین معاہدے کی بناء پر ایک ترک افسر کی حیثیت سے افغانستان گئے اور افغان فوج کی تنظیم کے کاموں میں خدمات انجام دیں۔ افغانستان کی طرف سے چیکوسلواکیا سے توپ خریدنے کے سلسلے میں بھیجے گئے وفد کی سربراہی بھی اُنھوں نے کی۔ وہ1936ء سے 1937ء تک یورپ کے مختلف ملکوں میں سفر کرکے پھر افغانستان واپس لوٹے لیکن اپنی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کابل سے استنبول واپس آئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان جاکر اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں سے ملے اور ترکی اور پاکستان کی دوستی اور برادری کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ''خاطرات‘‘ بھی لکھی۔ استنبول میں 1987ء میں 92سال کی عمر میں وفات پائی ۔

افسانچہ،ساون کے دن

افسانچہ،ساون کے دن

ساون کے دن تھے، کبھی دھوپ تو کبھی بارش اور کبھی حبس۔۔پچھم سے اس قدر گہرے بادل آئے کہ'' شاداں کی آواز گونجی''بچو جلدی سے چارپائیاں اندر کرو، سیاہ بادل گھر کر آئے ہیں ضرور برسیں گے‘‘۔ فرصت کے زمانے تھے، گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور سب پڑھنے والے اور گھر کے دیگر افراد گرمیوں میں درختوں کے نیچے بیٹھ جایا کرتے تھے۔ گھر کھلا تھا ، آنگن میں ایک لسوڑے کا درخت سب کیلئے آرام گاہ تھا، اس کے بڑے بڑے پتے سورج کی روشنی کو نیچے آنے سے روک دیتے تھے، ایسی گھنی چھائوں ہوتی کہ گھنٹوں بیٹھنے کو دل کرتا۔ بجلی چلی جاتی تو تپتی گرمیوں میں یہی لسوڑے کا درخت گھر بھر کیلئے سکون کا باعث ہوتا تھا۔آنگن میں بکھری چارپائیاں پرچھتی پر اور کچھ برآمدے میں رکھی جاچکی تھیں، گھنگور گھٹا ایسی آئی کے روشن دن میں یک لخت شام کا گماں ہونے لگا، ساتھ ٹھنڈی ہوا نے کئی دنوں کے پسینے سے شرابور جسموں کو ایسے سرد کیا جیسے کسی نے برف کی سل ہی ڈال دی ہو۔ باد ل گرجے، بجلی چمکی اور اس زور کی بارش ہوئی کہ جل تھل ہوگیا۔لسوڑے کے درخت کے پتوں سے بارش کا پانی ٹپک رہا تھا، لسوڑے جو کہ کافی دن پہلے اتارے جاچکے تھے اب چیدہ چیدہ پکے ہوئے لسوڑے جو رہ گئے تھے گر رہے تھے ۔ اور چھوٹے بچے اٹھا اٹھا کر کھارہے تھے۔ شاداں جو چند لمحے پہلے پورے گھر میں سامان کو سنگوانے کے لئے بھاگی پھر رہی تھیں اب آرام سے چارپائی پر بیٹھی تیز بارش کو اور لسوڑے کے درخت کو دیکھ رہی تھی۔ گلیوں میں پانی بھرگیاتھا، محلے کے لڑکے بالے بارش کے پانی میں نہاتے پھر رہے تھے ۔تقسیم کے بعد جب شاداں اور اس کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا تب سے وہ اس گھر کو سنوارنے میں لگی ہوئی تھی، لسوڑے کا درخت بھی اس نے منگواکرلگایا تھاکیونکہ اپنے وطن گڑگائوں کے لسوڑے اسے بہت پسند تھے۔اسی لئے یہاں بھی لسوڑے کا درخت لگوایا گیا۔گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر کے سب بچے جھولے ڈال لیتے اور خوب مزے کرتے۔کھانا بھی جھولے میں بیٹھے بیٹھے کھایا جاتا۔ شاداں اس درخت کا بہت خیال رکھتی جیسے کسی اپنے بچے کا خیال رکھتی ہو۔درخت کے قریب ہی پانی کا نلکا تھاجہاں سے پانی اس درخت کو دیا جاتا اور جب پھل لگنے کے قریب ہوتا تو خاص کھاد منگواکر ڈالی جاتی تاکہ پھل زیادہ لگے، پھر گرمیوں میں لسوڑے اور آم کا اچار ڈلتا جو پورا سال چلتا تھا۔ مرتبان بھرجاتے، کبھی کبھی ہمسایوں کو بھی بجھوادیا جاتا۔ بیسن کی روٹی ، لسوڑے کا اچار اور لسی عجب ہی لطف دیتی تھی۔ اسی درخت کے نیچے گھر بھر کے کپڑے دھلتے اور فارغ ہوکر اسی کے نیچے چارپائیاں ڈال لی جاتیں، کبھی کبھی محلے کی لڑکیاں بھی ٹھنڈی چھائوں لینے اور اماں سے ملنے کیلئے آتی تو اسی کے نیچے بیٹھتیں۔ بچے اپنے اپنے کھیل بھی کھیلتے تو کبھی درخت پر چڑھ جاتے اور کبھی اس کے نیچے پہاڑیاں بناتے۔اسے گھر میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، گھر کی رونق اسی کے دم سے تھی ۔ شاداں خوشی سے نہال ہوجاتی جب محلے کی لڑکیاں اس کے گھر آتیں اور خوب ہلا گلا ہوتا۔ کہیں کھسیانی ہنسی ہنسی جارہی ہے تو کہیں بالوں کی چٹیا بن رہی ہے اور کہیں مہندی لگ رہی ہے ۔ شاداں تھوڑ ا بہت بڑھی ہوئی بھی تھی اس لئے وہ محلے کے بچوں کو پڑھا دیا کرتی تھی۔ اس کا شوہر جب کام سے واپس آتا تو محلے کی لڑکیاں تتر بتر ہوجاتیں اور لسوڑے کا درخت پھر سنسان ہوجاتا۔ پھر بیٹھنا برآمدے میں ہوتا اور بچے بھی سہم کر بیٹھ جاتے۔ کام کاج کی بات ہوتی ، ملکی سیاست پر اس کا شوہر دو چار باتیں کرتا اور کڑھتا۔ایک دن جب اس نے کہا کہ لسوڑے کے درخت کی وجہ سے گھر میں بہت تنگی اور گند ہے کیوں ناں اسے کاٹ دیا جائے تو شاداں نے پہلی مرتبہ غصے سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ میرے ہوتے ہوئے یہ کٹ نہیں سکتا۔ لسوڑے کی درخت کی ٹھنڈک لینے کے لئے سب بچے بھی دل ہی دل میں شاداں کی حمایت کرنے لگے۔ اس دن کے بعد اس کے شوہر نے کوئی بات نہ کی ۔ لیکن پھر محلے میں گھر بننے لگے اور درخت کٹنے لگے۔ آباد ی بڑھی تو مکان بننے سے سبزہ ختم ہونے لگا۔ بچے بڑے ہوگئے تو شاداں کے شوہر نے بھی کہا کہ اب گھر میں کمروں کی ضرورت ہے ، لسوڑے کا درخت کاٹنا پڑے گا۔ یہ سن کر شاداں غم سے سوکھ گئی لیکن مجبور تھی کہ کمروں کی ضرورت تھی، بچوں کی شادیاں کرنی تھیں۔ پھر ایک دن شاداں کے شوہر نے چند مزدور بلائے جو آری لئے ہوئے تھے اور بد ھ کے روز لسوڑے کا درخت کٹ گیا، اسی شام شاداں کو بخار ہوا اور وہ بستر سے لگ گئی۔ لسوڑے کا درخت کیا کٹا گھر کی رونق ختم ہوگئی۔ بڑا بیٹا اپنے لئے کمرہ بنانا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے سسرال والے بڑے لوگ ہیں ، اسے گھر میں ایک اچھے کمرے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عزت سے انہیں بٹھا سکے۔ لسوڑے کا درخت کٹا تو ساتھ ہی پانی کا نلکا بھی اکھاڑ دیا گیا کیونکہ یہ بھی کمرے کی جگہ پر آرہا تھا۔بالاخر صحن کھلا ہوگیا اور لسوڑے کا برسوں کا درخت کٹنے کے بعد ایسی دھوپ صحن پر پڑی کی سب کے پسینے چھوٹ گئے۔اگلے دن صبح بڑا بیٹا اٹھا تو اس نے دیکھا کہ شاداں درخت کی جڑ کے پاس گری پڑی ہے۔ اس نے ذرا ہلایا تو اس میں جان ہی نہیں تھی۔ گھر کے دو درخت کٹ چکے تھے۔

 طنز و مزاح ،اتفاق میں برکت ہے

طنز و مزاح ،اتفاق میں برکت ہے

ایک بڑے میاں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کمایا بنایا تھا، آخر بیمار ہوئے، مرض الموت میں گرفتار ہوئے۔ ان کو اور تو کچھ نہیں، کوئی فکر تھی تو یہ کہ ان کے پانچوں بیٹوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ گاڑھی کیا، پتلی بھی نہیں چھنتی تھی۔ لڑتے رہتے تھے۔ کبھی کسی بات پر اتفاق نہ ہوتا تھا حالانکہ اتفاق میں بڑی برکت ہے۔آخر انہوں نے بیٹوں پر اتحاد و اتفاق کی خوبیاں واضح کرنے کے لئے ایک ترکیب سوچی۔ ان کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔ ''دیکھو اب میں کوئی دم کا مہمان ہوں، سب جاکر ایک ایک لکڑی لاؤ۔‘‘ایک نے کہا۔ ''لکڑی؟ آپ لکڑی کا کیا کریں گے؟‘‘ دوسرے نے آہستہ سے کہا۔ ''بڑے میاں کا دماغ خراب ہورہا ہے۔ لکڑی نہیں شاید ککڑی کہہ رہے ہیں۔ ککڑی کھانے کو جی چاہتا ہوگا۔‘‘ تیسرے نے کہا۔ ''نہیں کچھ سردی ہے، شاید آگ جلانے کو لکڑیاں منگاتے ہوں گے۔‘‘ چوتھے نے کہا۔ ''بابو جی! کوئلے لائیں؟‘‘ پانچویں نے کہا۔ ''نہیں! اپلے لاتا ہوں وہ زیادہ اچھے رہیں گے۔‘‘باپ نے کراہتے ہوئے کہا۔ ''ارے نالائقو! میں جو کہتا ہوں وہ کرو۔ کہیں سے لکڑیاں لاؤ، جنگل سے۔‘ ایک بیٹے نے کہا۔ ''یہ بھی اچھی رہی، جنگل یہاں کہاں؟ اور محکمہ جنگلات والے لکڑی کہاں کاٹنے دیتے ہیں۔‘‘ دوسرے نے کہا۔ ''اپنے آپے میں نہیں ہیں بابو جی۔ بک رہے ہیں جنون میں کیا کیا کچھ۔ تیسرے نے کہا۔ ''بھئی لکڑیوں والی بات اپن کی تو سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘چوتھے نے کہا۔ ''بڑے میاں نے عمر بھر میں ایک ہی تو خواہش کی ہے، اسے پورا کرنے میں کیا حرج ہے؟‘‘ پانچویں نے کہا۔ ''اچھا میں جاتا ہوں ٹال پر سے لکڑیاں لاتا ہوں۔‘‘ چنانچہ وہ ٹال پر گیا۔ ٹال والے سے کہا۔ ''خان صاحب ذرا پانچ لکڑیاں تو دینا، اچھی مضبوط ہوں۔‘‘ٹال والے نے لکڑیاں دیں۔ ہر ایک خاصی موٹی اور مضبوط۔ باپ نے دیکھا اس کا دل بیٹھ گیا۔ یہ بتانا بھی خلافِ مصلحت تھا کہ لکڑیاں کیوں منگائی ہیں اور اس سے کیا اخلاقی نتیجہ نکالنا مقصود ہے۔ آخر بیٹوں سے کہا۔ ''اب ان لکڑیوں کا گھٹا باندھ دو۔‘‘اب بیٹوں میں پھر چہ میگوئیاں ہوئیں۔ ''گھٹا، وہ کیوں؟ اب رسی کہاں سے لائیں۔ بھئی بہت تنگ کیا ہے اس بڈھے نے۔‘‘ آخر ایک نے اپنے پاجامے میں سے ازار بند نکالا اور گھٹا باندھا۔ بڑے میاں نے کہا۔ ''اب اس گھٹے کو توڑو۔‘‘ بیٹوں نے کہا۔ ''لو بھئی یہ بھی اچھی رہی۔ کیسے توڑیں؟ کلہاڑا کہاں سے لائیں؟‘‘باپ نے کہا۔ ''کلہاڑی سے نہیں، ہاتھوں سے توڑو، گھٹنے سے توڑو۔‘‘ حکم والد مرگ مفاجات۔ پہلے ایک نے کوشش کی، پھر دوسرے نے، پھر تیسرے نے، پھر چوتھے نے، پھر پانچویں نے۔ لکڑیوں کا بال بیکا نہ ہوا۔ سب نے کہا۔ ''بابو جی! ہم سے نہیں ٹوٹتا یہ لکڑیوں کا گھٹا۔‘‘باپ نے کہا۔ ''اچھا اب ان لکڑیوں کو الگ الگ کردو، ان کی رسی کھول دو۔‘‘ ایک نے جل کر کہا۔ ''رسی کہاں ہے، میرا ازار بند ہے۔ اگرآپ کو کھلوانا تھا تو گھٹا بندھوایا ہی کیوں تھا۔ لاؤ بھئی کوئی پنسل دینا ازار بند ڈال لوں پاجامے میں۔‘‘ باپ نے بزرگانہ شفقت سے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ''اچھا اب ان لکڑیوں کو توڑو، ایک ایک کرکے توڑو۔‘‘لکڑیاں چونکہ موٹی موٹی اور مضبوط تھیں۔ بہت کوشش کی، کسی سے نہ ٹوٹیں۔ آخر میں بڑے بھائی کی باری تھی۔ اس نے ایک لکڑی پر گھٹنے کا پورا زور ڈالا اور تڑاخ کی آواز آئی۔باپ نے نصیحت کرنے کے لئے آنکھیں ایک دم کھول دیں۔ کیا دیکھتا ہے کہ بڑا بیٹا بے ہوش پڑا ہے۔ لکڑی سلامت پڑی ہے۔آواز بیٹے کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹنے کی تھی۔ ایک لڑکے نے کہا۔ ''یہ بڈھا بہت جاہل ہے۔‘‘ دوسرے نے کہا۔ ''اڑیل ضدی۔‘‘ تیسرے نے کہا۔ ''کھوسٹ، سنکی، عقل سے پیدل، گھامڑ۔‘‘ چوتھے نے کہا۔ ''سارے بڈھے ایسے ہی ہوتے ہیں، کمبخت مرتا بھی نہیں۔‘‘ بڈھے نے اطمینان کا سانس لیا کہ بیٹوں میں کم از کم ایک بات پر تو اتفاق رائے ہوا۔ اس کے بعد آنکھیں بند کیں اور نہایت سکون سے جان دے دی۔