نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ایوان میں باقاعدہ کتابیں اچھالنےکی ڈیوٹی لگائی گئی،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- ایسےوزرانےکتابیں پھینکیں جن سےتوقع نہیں تھی،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- جب دلائل ختم ہوجائیں توسیاسی بونےذاتیات پراترآتےہیں،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- وزیردفاع نےجوکاغذپھینکاوہ میزائل کی طرح گرا،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- ملک میں بےروزگاری اورمہنگائی میں اضافہ ہوا،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- 2 کروڑلوگ غربت کی سطح سےنیچےآئےہیں،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- ایک ماہ میں ایساکیاہواکہ شرح نمو 4 فیصدپرپہنچ گئی؟عبدالقادرپٹیل
  • بریکنگ :- ڈالر 35 فیصدمہنگاہوگیا،عظیم پاکستانیوگھبرانانہیں،عبدالقادرپٹیل
  • بریکنگ :- 3 سال میں 22 کروڑعوام کاخون چوس کرآپ نےاپنی جیبیں بھریں،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- پہلابجٹ پیش کرنےوالےارسطوکونکال دیاگیا،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- حکومت بتائےکون سامعاشی ہدف حاصل کیا؟قادرپٹیل
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت نے 13 ہزارارب روپےقرض لیا،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- بجٹ سمجھنےکیلئےوہی دماغ چاہیئےجوکہتےہیں سال میں 12 موسم ہیں،قادرپٹیل
  • بریکنگ :- سوتےجاگتےکہتےہیں میں این آراونہیں دوں گا،قادرپٹیل
Coronavirus Updates

ادب کی دنیا : ماہرؔ القادری

ادب کی دنیا :   ماہرؔ القادری

اسپیشل فیچر

تحریر : سید ابو الہاشم


ماہرؔ القادری کا اصل نام منظور حسین اور ماہرؔ تخلص تھا۔ وہ30 جولائی1906ء کو ضلع بلند شہر (یو۔پی بھارت) کے ایک قصبہ کسہیہ کلاں میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کا نام معشوق علی تھا۔ماہر القادری نے قرآنِ حکیم اور اُردو کی ابتدائی تعلیم گائوں کے مکتب سے حاصل کی۔1926ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پاس کیا۔ مولانا عبد القادر بدایونی کی سفارش پر ماہر صاحب نے 1926ء کو حیدر آباد دکن میں محکمہ ڈاک میں ملازمت حاصل کی۔ حیدر آباد دکن میں کم و بیش پندرہ برس تک مقیم رہے۔ 1944ء میں بمبئی منتقل ہوئے۔قیامِ پاکستان کے بعد اپریل1949ء کو ماہر نے ماہنامہ ’’فاران‘‘ کا اجراء کیا جو بڑی پابندی کے ساتھ29 برس تک شائع ہوتا رہا۔1954ء میں ماہر صاحب نے حج کے مشاہدات و تاثرات پر ’’کاروان حجاز‘‘ کے نام سے کتاب تحریر کی۔ ماہر القادری کی شاعری کی کتب1939ء سے 1956ء تک منظر عام پر آتی رہیں، جو درج ذیل ہیں:۱۔ ظہورِ قدسی (نعتیہ مجموعہ) ۲۔ محسوسات ماہر ۳۔ نغماتِ ماہر۴۔ ذکرِ جمیل ۵۔ جذباتِ ماہر ۶۔ فردوسمجموعی اعتبار سے ماہر کی صحت عمر بھر قابل رشک رہی آخری چند سال وہ عارضہ قلب میں مبتلا رہے اور72 برس کی عمر میں1978ء کو وفات پا گئے۔آخر میںاُن کی ایک حمد پیش ِ خدمت ہے:خدا کا نام سہارا ہے ہر کسی کے لیےخدا کا ذکر ہی تسکیں ہے زندگی کے لیےدل و نظر کو ضرورت نہیںچراغوں کییقیں کی شمع ہی سب کچھ ہے روشنی کے لیےمیں کیوں جہاں میں کسی اور کی طرف دیکھوںخدا کی ذات ہی کافی ہے دوستی کے لیےاسی کا نام فنا ہے، اس کا نام بقارضائے دوست ضروری ہے زندگی کے لیےگمان و وہم کے آگے یقیں کی منزل ہےپھر اس کے بعد اُجالا ہے آدمی کے لیےزباں پہ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلّہ ہے ماہرؔیہی وظیفہ ہے ایماں کی تازگی کے لیے٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
علائوالدین خلجی نے ہندوستان کو تباہی سے بچا یا خلجی منگولوں کو نہ روکتا تو ہندو نسل معدوم ہو جاتی : ہندو مؤرخ

علائوالدین خلجی نے ہندوستان کو تباہی سے بچا یا خلجی منگولوں کو نہ روکتا تو ہندو نسل معدوم ہو جاتی : ہندو مؤرخ

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علائوالدین خلجی منگولوں کو پسپا نہ کرتا تو ہندوستان کا کیا نقشہ ہوتا؟ منگولوں کے حملوں کو روکنا اور انہیں شکست دینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کیلئے بے پناہ جرأت اور حوصلے کی ضرورت تھی جس کا مظاہرہ علائوالدین خلجی نے کیا۔منگول بہت بڑی قوت تھے جہاں حملہ کرتے روکنا مشکل ہو جاتا۔انہوں نے روس‘ چین‘ پرشیا‘ عراق‘ شام اور یورپ تک اپنی دہشت کے نشان چھوڑے۔ بڑے سفاک تھے چنگیز خان کی موت کے بعد بھی منگولوں کی ستم کاریوں کا سلسلہ جاری رہا انہوں نے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا۔ ہندوستان پر بھی ان کی نظر تھی۔ وہ اس ملک کی بے پناہ دولت لوٹنا چاہتے تھے۔ علائوالدین خلجی کی فوجوں نے 2لاکھ منگول گھڑ سواروں کو ہندوستان سے پیچھے دھکیل دیا۔ خلجی نے منگولوں سے نمٹنے کیلئے اپنے پسندیدہ جرنیل ملک کافور کو بھیجا۔ خلجی زبردست جرنیل تھا اس کے دور حکومت میں منگولوں نے ہندوستان پر 6 بار حملہ کیا لیکن ہر بار ناکامی ان کامقدر بنی اس کی وجہ علائوالدین خلجی کی بہترین جنگی حکمت عملی‘ قابلیت‘ معاملہ فہمی اور شجاعت تھی۔ ایک ہندو مؤرخ نے اسکے بارے میں لکھا کہ'' اپنی تمام تر خامیوں اور جابرانہ اقدامات کے باوجود خلجی نے ہندوستان کو منگولوں سے بچایا وگرنہ ہندوستان نیست و نابود ہو چکا ہوتا۔ اس کیلئے ہندوستان کو خلجی کا ممنون ہونا چاہیے۔ اگر منگول ہندوستان پر قابض ہو جاتے تو لوگ خلجی کا جابرانہ دور بھول جاتے۔‘‘منگولوں نے پرشیا‘ بغداد‘ روس اور دیگر ملکوں میں سب سے پہلے وہاں کا بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) تباہ کیا۔ اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ علائوالدین خلجی نے اپنی سلطنت کو وسیع کیا اور یہ سلطنت اس نے اپنے چچا جلال الدین خلجی کو قتل کرنے کے بعد حاصل کی تھی۔ علائوالدین نے اپنے بھائی الخ خان اور جرنیل ظفر خان کو منگولوں کی سرکوبی کی ذمہ داری سونپ دی۔ پہلے ملک کافور نے یہ کام کیا تھا۔ خلجی کی فوجوں نے منگولوں کو عبرتناک شکست دی 20ہزار منگولوں کو قیدی بنا لیا گیا جنہیں بعد میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اس سے قبل جلال الدین خلجی کے زمانے میں بھی منگولوں نے حملہ کیا تھا جو 1292عیسوی میں کیا گیا تھا۔ منگولوں کی فوج نے ہلاکو خان کے پوتے کی قیادت میں پنجاب پر حملہ کیا ۔ جلال الدین خلجی نے منگولوں کی پیش قدمی روکی اور دریائے سندھ کے کناروں تک جا پہنچا ۔ مؤرخ بارانی کے مطابق'' جلال الدین خلجی نے منگولوں کی پیش قدمی ضرور روکی تھی چند منگول فوجی افسروں کو گرفتار کیا تھا لیکن وہ منگولوں کی اصل فوج کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ کر سکا اس نے امن کیلئے کوششیں کیں اس پر منگول واپس چلے گئے۔‘‘علائوالدین خلجی کے زمانے میں ہندوستان پر پہلا حملہ 1297-98ء میں ہوا۔ خلجی نے حملے سے تھوڑا عرصہ قبل ہی تخت سنبھالا تھا۔ ایک لاکھ منگولوں کی فوج پنجاب میں داخل ہوئی اور لاہور کے قریب علاقوں میں لوٹ مار شروع کر دی ۔ عخلجی نے الخ خان اور جعفر خان کی قیادت میں فوج بھیجی جس نے جالندھر کے قریب منگولوں کو شکست دی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس لڑائی میں 20 ہزار منگول مارے گئے۔ منگولوں نے 1299 ء عیسوی میں پھر حملہ کیا۔ اس بار ان کی قیادت داوا خان کا بھائی سالدی کر رہا تھا۔ انہوں نے سیہون پر قبضہ کر لیا۔ علائوالدین نے منگولوں کو سبق سکھانے کیلئے ظفر خان کو بھیجا جس نے سیہون کو آزاد کرایا اور منگولوں کی بڑی تعداد کو قیدی بنا لیا۔ ان میں سالدی اور اس کا بھائی بھی شامل تھے۔1299ء کے آخر میں داوا خان نے 2 لاکھ گھڑسواروں کی فوج بھیجی۔ اس دفعہ قیادت اس کا بیٹا متلخ خان کر رہا تھا تاکہ سالدی کی موت اور اپنی توہین کا بدلہ لے سکے۔ اس بار منگولوں کا مقصد لوٹ مار نہیں فتح تھی۔ انہوں نے راستے میں لڑائی سے گریز کیا تاکہ دہلی کے قریب پہنچ جائیں منگولوں نے زبردست لڑائی لڑنے کا عزم کر لیا تھا۔خلجی کے مشیر اور دوست علاالملک نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ انتظار کرے اور کھلی لڑائی لڑنے کا خطرہ مول نہ لے لیکن خلجی نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور پھر دہلی کے قریب کلی کے میدان پر لڑائی ہوئی۔ ظفر خان کی شجاعت کی بدولت خلجی نے یہ لڑائی جیت لی۔ ظفرخان نے 18کوس تک بھاگتے ہوئے منگولوں کا پیچھا کیا لیکن واپسی پر منگولوں نے اس پر چھپ کر حملہ کیا اور یوں ظفر خان موت کی وادی میں اتر گیا لیکن منگولوں کو علائوالدین خلجی کی فوجی طاقت کا بخوبی علم ہو گیا تھا۔ انہوں نے پسپا ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ دہلی سے 30کوس تک پیچھے ہٹ گئے اور پھر واپس چلے گئے۔منگولوں نے چوتھا حملہ اس وقت کیا جب علائوالدین خلجی کو چتوڑ سے واپسی کو کچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ یہ 1303کا واقعہ ہے۔ اس دفعہ منگولوں کے گھڑ سواروں کی تعداد 1 لاکھ 20 ہزار تھی اور ان کی قیادت ترغی کر رہا تھا۔ انہوں نے اتنی تیزی سے دہلی کی طرف پیش قدمی کی کہ صوبائی گورنروں کو وقت ہی نہ ملا کہ وہ دہلی پہنچ کر سلطان کی مدد کر سکیں۔ اس کے علاوہ علائوالدین کی فوج کا بڑا حصہ تیلنیگا نہ مہم کیلئے روانہ ہو چکا تھا اور دہلی میں بہت کم فوج رہ گئی تھی خلجینے دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ منگولوں نے دہلی کے اردگرد کے علاقوں میں لوٹ مار شروع کر دی اور سری قلعے کا 2 ماہ تک محاصرہ کیے رکھا جہاں خلجی نے پناہ لے رکھی تھی لیکن منگول قلعہ فتح کرنے میں ناکام رہے اور واپس چلے گئے۔ ترغی کے حملے نے خلجی کی آنکھیں کھول دیں اسے احساس ہوا کہ سرحدوں کا دفاع کس قدر ضروری ہے۔ اس نے سری کو دارالحکومت بنا لیا حفاظتی قلعوں کو مزید مضبوط بنایا دہلی کے قلعیسمیت شمال مغرب میں موجود قلعوں کو مضبوط بنایا اور قلعے تعمیر کیے اور وہاں فوجوں کو موجود رہنے کا حکم جاری کیا۔ شمال مغرب کیلئے الگ اور مستقل فوج رکھنے کا فیصلہ کیا، الگ گورنر کی تعیناتی کی اور فوج کی تعداد بھی بڑھا دی۔منگولوں کی بربریت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ دنیا فتح کرنے کا خواب وہ اب بھی دیکھ رہے تھے اور ہندوستان کی بے پناہ دولت پر قبضے کی خواہش پہلے سے بھی بڑھ گئی تھی۔ حالانکہ لاکھوں منگول علائوالدین خلجی کے ساتھ جنگوں میں مارے جا چکے تھے۔ 1306 عیسوی میں منگولوں کی فوج کی قیادت کوبک کر رہا تھا۔ یہ فوج دریائے راوی کے کناروں تک پہنچی اسکا دوسرا حصہ ناگور پہنچا۔ منگولوں کو اس بار بھی ذلت آمیز شکست ہوئی۔اس دفعہ 50ہزار منگول قید کر لیے گئے انہیں دہلی بھیج دیا گیامرد قیدیوں کو ہاتھیوں کے پیروں تلے کچل دیا گیابدایوں گیٹ پر ان کی کھوپڑیوںکا مینار تعمیر کیا گیا۔ منگول قیدی عورتوں اور بچوں کو غلاموں کے طور پر بیچ دیا گیا۔ منگولوں نے سب سے زیادہ خطرناک حملے علائوالدین خلجی کے دور میں کیے اور اس نے ان تمام حملوں کو ناکام بنایا۔اگرچہ غیاث الدین تغلق کے دور میں بھی منگولوں نے حملے کی کوشش کی لیکن یہ ایک کمزور کوشش تھی۔ سلطان محمد تغلق کے دور میں بھی ایک بار حملہ کیا۔ چودھویں صدی کے وسط میں ہندوستان منگولوں کے خطرے سے مکمل آزاد ہو گیا۔ امیر تیمور نے وسط ایشیاء اور افغانستان میں اپنی سلطنت قائم کر لی اس کے بعد ہندوستان پر حملے کیلئے کوئی منگول سردار باقی نہ رہا۔اگر علائوالدین خلجی منگولوں کو روکنے میں ناکام ہو جاتا تو پھر ہندوستان کا کیا ہوتا؟ یقینی طور پر منگولوں نے بربریت کا بازار گرم کر دینا تھا،ہندوستان کا ثقافتی ورثہ بربادہو جاتا۔ بعض مؤرخین کی رائے میں یہ ممکن تھا کہ ہندوئوںکا نام و نشان ہی مٹ جاتا کیونکہ اس وقت ہندو صرف ہندوستان تک ہی محدود تھے جبکہ مسلمان سپین اور انڈونیشیا تک پھیل چکے تھے۔ ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ علائوالدین خلجی ہندوستان کا کتنا بڑا محسن تھا۔ ایک ایسا نجات دہندہ جس کی ہندوستان والے اتنی پذیرائی نہیں کرتے جتنی کرنی چاہیے۔ فلموں میں تاریخ کا ایک رخ دکھاتے ہیں پدماوتی والا قصہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ خلجی نے اپنی بہادری‘ استقامت اورحوصلے کی وہ مثالیں قائم کیں جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

دبی آوازیں

دبی آوازیں

''خوشبودار سبز الائچی والا خاص پشاوری قہوہ۔ قہوہ لے لو، گرما گرم قہوہ۔ فی کپ 20 روپے، پشاوری قہوہ تیار ہے۔ چائے، کافی، آئس کریم، چپس، مناسب قیمت پر لینے کے لیے ہمارے پاس آ جائیں۔ فیملی کیلئے الگ سے جگہ ہے۔ کرارے اور مزیدار پوپکارن۔ ''بھائی! کھلونے لو گے۔ اچھے والے کھلونے ہیں اور جلدی نہیں ٹوٹتے۔ لے لو ناں! اپنے بچوں کیلئے لے لو۔ میں آپ کیلئے دعا کرونگی۔‘‘مال روڈ پر بھیڑ کے درمیان ایک پٹھانی بچی نے اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ وہ سر سبز وادیوں کے حسن میں کھویا ہوا تھا۔ وقفے وقفے سے برفباری ہونے کی وجہ سے گھروں کی چھتوں پر سفید نرم سی تہہ بچھ چکی تھی، ماحول میں خاصی خنکی تھی۔وہ بھونچکا رہ گیا۔ سردی کی شدت کے لحاظ سے بچی کے کپڑے انتہائی غیر موزوں تھے۔ وہ ایک سیاح تھا، ملکوں ملکوں گھومنا اور قدرت کا حسن دیکھنا اسکا کام تھا آج بھی وہ اسی مقصد کے تحت کاغان ناران کی وادیوں سے ہوتے ہوئے مری کے مسحورکن نظاروں کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا۔ ''بھائی! مجھے یہ کھلونے بیچ کر گھر جانا ہے شام ہو رہی ہے، اپنے بچوں کیلئے لے لو، چلو 25 میں لے لو۔ اتنا سستا کہیں سے بھی نہیں ملے گا۔‘‘ بچی بولتی چلے جا رہی تھی۔ وہ حیرت کا بت بنے، اس عجیب و غریب منظر کے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔ اس دنیا کے جبر کی داستان بچی کے چہرے پر رقم تھی۔ بھائی! بچی نے جھنجوڑا تو وہ چونک اٹھا۔ ''بچوں کیلئے کھلونے لے لو، میں دعا دونگی۔‘‘ وہ نہایت بھولپن سے بولی ۔ ''کیا دعا دو گی؟‘‘ سیاح کا لہجہ تجسس بھرا تھا۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ ''واہ بھئی واہ! تم تو کافی سمجھدار ہو۔‘‘ اس نے نوٹ تھماتے ہوئیگفتگو جاری رکھی۔ ''گھر کدھر ہے تمہارا؟‘‘ ڈھلان کے اس پار۔ بچی نے اشارہ کرتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔ ''او ہو! اتنی دور کیسے جاؤ گی؟‘‘ اب اس کا انداز تھوڑا فکر مندانہ تھا۔شام ہونے سے پہلے تمام کھلونے بیچ کر اپنی سہیلیوں کے ساتھ جاؤ نگی۔ برفباری ہو گئی تو پھر بہت مشکل ہو جائیگی۔ ۔ ''اچھا ایسا کرو تم سارے کھلونے مجھے بیچ دو۔‘‘ اس نے مسئلے کا حل پیش کیا۔ کیا واقعی؟وہ بے یقینی کے انداز میں بولی۔ بھائی! آپ تو بہت اچھے ہیں۔ میری امی کہتی ہیں امیروں میں احساس نہیں ہوتا۔ آج میں ان کو بتاؤں گی کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ وہ کسی ترنگ میں بولی۔''وہ ایسا کیوں کہتی ہیں؟‘‘ سیاح کی نظروں میں تحیر تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ مالدار لوگ سفید پوش طبقے کی مالی امداد نہیں کرتے اپنا پیسہ سود اور رشوتوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ بے بس ہو کر ماں باپ ہمیں کمانے کیلئے لگاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کریں تو گھر کا چولا جلنا بند ہو جائے ۔ وہ اتنی یاسیت سے بولی کہ سیاح کو اپنا وجود کٹتا محسوس ہوا۔کھلونے اس نے وصول کر لیے ، نقدی بھی ادا کر چکا تھا۔ بچی کے لبوں پر چپ کی مہر تھی لیکن آنکھیں شکریہ بول رہی تھیں۔ اس نے اچھلتے کودتے اپنی راہ پکڑی، جیسے اس کے ناتواں کندھوں سے بہت بڑا بوجھ سرک گیا ہو۔بچی تو چلی گئی مگر جاتے جاتے سیاح کو مبہوت کر گئی۔ اس کے کانوں میں اس کے الفاظ ابھی تک گونج رہے تھے۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔ سیاحوں کا جم غفیر منظر کشی میں مصروف تھا۔ گروپ کی صورت میں آنے والے سیاح اپنی چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔ کانوں سے ٹکراتی مختلف چیزیں بیچتے مقامی بچوں کی آوازیں ہجوم کے شوروغل میں مکمل طور پر دب چکی تھیں۔

محبت بھرے احساس کا نام باپ

محبت بھرے احساس کا نام باپ

باپ پسینے میں شرابور تھا۔ وہ کیا کرتا تھا، اولاد کو علم نہیں تھا۔ اولاد زندگی شہزادوں کی طرح گزار رہی تھی۔جیب خالی تھی یا بھری اولاد کی ضرورتوں کے ساتھ خواہشیں بھی پوری ہو رہیں تھی۔ ایک دن باپ پسینے میں شرابور کھڑا تھا اور بیٹے کو ایک بھیانک خواہش نے ڈس لیا تھا۔ وہ الجھی نگاہوں سے باپ کو دیکھ رہا تھا۔باپ کی آنکھوں میں شفقت اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔باپ کا کہنا تھا ''بیٹا ابھی میری جیب اس قابل نہیں کہ میں تیری یہ خواہش پوری کر سکوں۔ کچھ وقت صبر کرو میں جلد تیری خواہش پوری کر دوں گا۔ ابھی مجھ سے ناراض نہ ہونا۔‘‘ باپ کی اس بات کے باوجود بیٹے کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔''نہیں آپ کو میری کوئی فکر نہیں، مجھ سے پیار نہیں کرتے ، میرے جذبوں کو نہیں سمجھتے۔ عمر نکل گئی تو میری خواہش کا کیا ہو گا۔ میں کبھی آپ سے بات نہیں کروں گا۔‘‘ باپ نے اپنی اولاد کے چہرے کو دیکھا تو مسکرا کر چلا گیا اور جب واپس آیا تو اس کی خواہش کو پورا کر دیا۔ بیٹے نے دیکھا تو جھوم اُٹھا اور بولا ''مجھے پتہ تھا آپ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ میری خواہش پوری کر سکتے ہیں۔‘‘ بیٹا اپنی خواہش کو پورا ہوتا دیکھ کر خوشی میں جھوم رہا تھا اور باپ اپنے بیٹے کو خوش دیکھ کر خود کو مکمل محسوس کر رہا تھا۔ اتنے میں دوسرے بیٹے کو کسی خواہش نے ڈس لیا۔ دوسرا بولا ''ابو آپ کو مجھ سے پیار نہیں کیا؟ آپ مجھے پسند نہیں کرتے۔ کیا میں آپ کی اولاد نہیں؟ میری خواہش کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟‘‘ باپ نے دیکھا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا، ''بیٹا تو بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا دوسری اولاد مگر کچھ وقت دو۔ ‘‘ دوسرا بیٹا بولا '' آپ مجھ سے نہیں پہلے بیٹے سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔‘‘ باپ نے سنا تو مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا جب واپس آیا تو اس کی خواہش بھی پوری کر آیا ۔ جس پر بیٹا بولا ''مجھے پتہ تھا آپ میری خواہش پوری کر کے آئیں گے۔ دیکھا آپ ایسے ہی مجھے صبر کا کہہ رہے تھے‘‘ ۔یہ خواہشیں باپ نے کیسے پوری کیں اولاد کو علم نہیں۔ باپ نے کس سے ادھار رقم لی ، کس کے آگے منت کی اس سب کاعلم اولاد کو نہیں ہونے دیتا باپ اکیلا غم جھیلتا ہے اولاد کیلئے۔باپ اپنی اولاد کی محبت میں محنت کرتا ہے اور اولاد محنت نہ کرنے کی وجہ سے والدین سے محبت نہیں کر پاتی۔ صاحب خوش نصیب وہ نہیں جس کی خواہشیں پوری ہوں بلکہ خوش نصیب وہ ہے جس کی ضرورتیں پوری ہوں۔ احساس پیدا نہ ہو تو جذبے اپنی قبر خود کھود لیتے ہیں۔ ادھر روز غریب اولادیں اپنے امیر والدین کو دفناتی ہیں اور دوبارہ مڑ کر نہیں دیکھتیں۔ وہ دولت سے غریب نہیں ہوتے محبت کی کمی کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں۔ کام چور اولاد کا باپ جس دن مرتا ہے اس دن باپ نہیں مرتا، اولاد مر جاتی ہے۔اولاد کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا۔ ان کا باپ نہیں وہ مر گئے تھے۔ ان کے پاس نہ محنت کی دولت تھی اور نہ محبت کی اور اب باپ کی دولت سے بھی محروم تھے۔ جس مستقبل کی فکر میں وہ خواہشیں پوری کر رہے تھے، وہ اسی مستقبل میں کھڑے ہو کر ماضی کے گناہ یاد کر رہے تھے۔ اپنی بھری جیبوں سے بھی باپ خرید نہیں سکتے تھے۔کیونکہ اب ان کی خواہش اپنے مرے باپ کو زندہ دیکھنا تھا۔ انہوں نے ایک کتبہ اپنے باپ کی قبر پر لگایا، جس پر لکھا تھا ''باپ ایک محبت بھرے احساس کا نام ہے، جو خواہشات سے بھری اولاد کے دل میں نہیں آتا۔‘‘

  مریخ سے جڑے عجیب نظریات

مریخ سے جڑے عجیب نظریات

یورپ میں پرانے وقتوں میں مریخ کو ضعیف العقیدہ لوگ ''آگ کا سیارہ‘‘ کے طور پر لیتے تھے اور اسے جنگ کا خدا سمجھتے تھے۔لیکن17 ویں صدی میں ٹیلی سکوپ کی مدد سے سائنسدان اس کی کچھ جھلکیاں دیکھنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم مریخ کا قریبی نظارہ لینے کیلئے ایک طاقتور ٹیلی سکوپ کی ضرورت تھی۔ معلومات آنے پر اس سیارے کے بارے میں قدیمی نظریات دم توڑ گئے۔1877میں اٹلی کے ایک ماہر فلکیات گیووانی شیاپیرل نے یہ معلومات دیں کہ یہ سرخ سیارہ اپنے گرد کچھ لائنیں رکھتا ہے۔اس نے ان لائنوں کو کینالی (جس کا مطلب چینلز تھا) کا نام دیا۔ تاہم وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ سیارے کی مخلوق کی زندگی کے حوالے سے بھی ہوسکتی ہیں۔ جیسے ہی یہ لفظ مشہور ہوا تو اسے کینال کے طور پر لیا جانے لگا کہ اگر کچھ نہریں ہیں تو کوئی مخلوق ضرور ہوگی جس نے انہیں کھودا ہوگا۔کچھ نے خیال کیا کہ یہ لائنیں عظیم سیارے کے گرد پانی کی لہروں کا ایک سسٹم ہوسکتا ہے۔ اس سسٹم کے بارے میں خیال کیا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ مریخ پرغیرزمینی مخلوق رہتی ہو بلکہ وہ انتہائی ماہر انجینئرز بھی ہوسکتے ہیں۔زمین پر سوئز نہر بنانے میں انسانوں کو دس سال لگے تھے۔تاہم مریخ کی مخلوق کو یہ سب مکمل کرنے میں انسانوں سے کم وقت لگا ہوگا۔ 1894میں ایک ماہر فلکیات نے اس نظریہ کو مزید پھیلایا کہ مریخ پر نہریں ہیں۔لوویل نے بھی ان نہروں کو اپنی ٹیلی سکوپ کے ذریعے دیکھا۔اس نے مریخ کی سطح پر جو کچھ دیکھا اس کا نقشہ بنایا، بہت سی کتابیں لکھیں، لیکچرز دیئے کہ مریخ کی مخلوق وجود رکھتی ہے۔اور کہا کہ وہ اپنے سیارے کو سیراب بھی کررہے ہیں۔لیکن سائنسدان بہت جلد اس بات تک پہنچ گئے کہ مریخ پر کوئی زندگی وجود رکھتی ہے یا نہیں۔ 1899میں لوویل کے نظریہ سے بہت سے سائنسدانوں کو ایک راستہ ملا ۔ نکولا ٹیسلا جو کہ الیکٹریکل انجینئر تھے نے یہ دعویٰ کیا کہ مریخ سے کچھ سگنلز ملے ہیں۔ اس نے اپنے ٹرانسمیٹر سے بہت تجربات کئے، ایسا اس نے کولوریڈو کی بلند چٹانوں پر کیا۔مبینہ طور پر اس نے ایک پیغام وصول کیا ، وہ پیغام کیا تھا ٹیسلا کہتے ہیں کہ وہ ''ایک ، دو ، تین ‘‘ تھا۔کچھ سالوں کے بعد موجد نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ مریخ کی مخلوق سے وائرلیس پیغامات بھیج کر رابط کرسکتا ہے۔یہ محض ایک بیان تھا کیونکہ اس سال کے دسمبر تک زمین سے کوئی پیغام نہ بھیجا جاسکا۔ٹیسلا کو علم نہیں تھا کہ مریخ کی مخلوق کس طرح کی نظر آتی ہے ۔ لیکن اسے یہ یقین تھا کہ وہ مریخ کی سخت حالت کو جانچ سکتا ہے۔بہت سوں کے نزدیک یہ عقلی بات تھی کہ اگر زمین سے پیغام بھیجنا ممکن ہوا تو مریخ سے بھی پیغام آسکتا ہے۔ 1909 میں مریخ پر کسی بھی زندگی سے رابطے کی بہت سی کوششیں کی گئیں۔ ایک ماہر فلکیات نے روشنی کے سگنلز کی ایک طاقتور سیریز بھیجنے کی کوشش کی ۔ روشنی کے یہ عکس پچاس بڑے شیشوں سے پیدا کئے گئے اور کئی سالوں تک مریخ تک بھیجے جاتے رہے۔ ماہر فلکیا ت کا کہنا تھا کہ ہم یہ خیال کرسکتے ہیں کہ اگر وہاں کوئی مخلوق ہے تو وہ بھی ہم انسانوں کی طرح ٹیلی سکوپ جیسی آنکھیں یا کچھ اور رکھتی ہوگی جیسے کہ ہم زمین پر ٹیلی سکوپ رکھتے ہیں۔ ماہر فلکیات نے یہ سب جانچنے کیلئے دس ملین ڈالر کا خرچ بتایا لیکن کسی نے اسے فنڈنگ کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ ایک ماہر فلکیات پروفیسر ڈیوڈ ٹاڈ نے خیال کیا کہ اگر گرم ہوا کے بڑے غبارے پچاس ہزار فٹ تک بھیجے جائیں تو مریخ سے پیغامات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ٹاڈ نے کہا کہ اگر مریخ پر مخلوق ہے تو وہ بھی ہم سے رابطہ کرنے کیلئے کوشش کررہی ہوگی۔یہ سوچ کر اس نے اپنا تجربہ کیا لیکن اس کے گرم ہوا کے غبارے صرف پانچ ہزار فٹ تک ہی جاسکے۔اس طرح یہ کوشش بھی ادھوری رہ گئی۔اکتوبر کو لندن سے تعلق رکھنے والے وکیل نے مریخ تک ٹیلیگرام سگنلز بھیجنے کی کوشش کی جو کہ 35 ہزار ملین میل دور تھا۔ ڈاکٹر مینز فیلڈ کو یقین تھا کہ اس کا پیغام مریخ کی مخلوق کو مل گیا ہے کیونکہ وہ اپنے دو سالوں میں زمین کے قریب ترین تھا۔ اس کے علاوہ مینز فیلڈ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے ایک مریخ کی خاتون سے بات کی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مریخ کی مخلوق الیکٹرک ہوائی جہاز استعمال کرتی ہے اور الیکٹرک درختوں کے پھل کھاتی ہے۔ مینز فیلڈ نے لندن کی سنٹرل ٹیلی گراف آفس کے ذریعے مریخ کی خاتون کو پیغامات بھیجنے کی کوشش کی۔ ایسا رگبی ٹاور کے ذریعے کیا گیا جو دنیا کا طاقتورترین وائرلیس سٹیشن تھا۔ ٹیلی گراف دفتر کے عملے نے کہا کہ انہوں نے کچھ نہیں سنا لیکن مینز فیلڈ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے پیغام سن لیا ہے ۔ مینز فیلڈ نے کہا کہ مریخ کی مخلوق بھی ہمارے پیغامات لینے کیلئے بیٹھی ہوئی ہے اور وہ ہمارے سائنسدانوں پر ہنستی ہے۔اس دور کے ماہرین فلکیات کے نظریات کچھ حقیقی نہیں تھے لیکن ان نظریات نے نوجوان نسل میں ایک تجسس ضرور پیدا کیا کہ مریخ کی مخلوق کا پتا چلایا جائے۔1976 میں ناسا نے مریخ پر ایک تحقیق کی۔اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا واقعی مریخ پر زندگی کے کوئی آثار ہیں۔انہوں نے دو آلات مریخ کی سطح پر اتارے اور اس کے میٹابولک تجربات کی مدد سے یہ معلومات ملیں کہ اس سرخ سیارہ پر زندگی کے کچھ آثار ہوسکتے ہیں۔وہ مریخ کی مٹی کا سیمپل لینے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم یہ نتائج آج تک متنازع ہیں۔کیا مریخ پر زندگی ممکن ہے، اس سوچ نے مزید تجربات اور تحقیق کی طرف راغب کیا اور 2012 میں ایک تحقیق سے پتا چلا کہ اس سرخ سیارے پر پہاڑ بھی ہیں۔یہ پہاڑ وقت کے ساتھ ساتھ کئی سالوں میں وجود میں آئے جن کو بننے میں پانی اور ہوا نے مدد دی ہوگی۔ناسا نے مزید تحقیق کے لئے فروری 2021 میں ''پرسیویرنس روور‘‘ روبوٹ مریخ پر بھیجا۔اس کی دریافت بہت باریک بین تھی لیکن اتنی زیادہ قابل ذکر نہیں تھی۔لیکن اس کی بھیجی ہوئی تصاویر سے کافی معلومات ملی ہیں۔ ابھی تک مریخ پر مزید تحقیق جاری ہے اور ناسا بھی اس حوالے سے مزید معلومات چاہتا ہے ۔ 2026 میں ایک اور چھوٹا روور لانچ کیا جائے گا جو جیزیرو کے قریب پہنچے گا اور پرسیویرنس کے اکٹھے کردہ نمونے حاصل کر لے گا۔انھیں مریخ کے مدار پر بھیجا جائے گا اور انھیں ایک مصنوعی سیارچے (سیٹلائٹ) کے ذریعے پکڑ کر واپس لایا جائے گا جہاں زمین کی لیبارٹریوں میں اس کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

 عراق کی بادشاہت کا خاتمہ اور شہزادی بادیہ

عراق کی بادشاہت کا خاتمہ اور شہزادی بادیہ

شہزادی بادیہ بنت علی کیلئے وہ دن بہت خوفناک تھا جب عراقی بادشاہت کا خاتمہ ہوا کیونکہ اس بغاوت میں ان کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے تھے۔انہوں نے 14 جولائی 1958 کا وہ خوفناک دن بغداد کی ایک عمارت کی بالکونی سے دیکھا جب رحاب محل سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے۔ان کا تعلق ہاشمی شاہی گھرانے سے تھا۔ سنہ 1920 میں دمشق میں پیدا ہونے والی شہزادی بادیہ بادشاہ علی بن الحسین کی صاحبزادی تھیں۔ علی بن الحسین نے مغربی عرب میں کچھ عرصہ تک حجاز پر بھی حکومت کی اور ''گرینڈ شریف آف مکہ‘ کا خطاب بھی حاصل کیا۔ ان کے دادا حسین بن علی نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی اور 1916 میں حجاز میں اقتدار سنبھالا تھا۔سنہ 1925 میں سعودی عرب کے بانی ابن سعود کے ہاتھوں بادشاہت کا خاتمہ ہونے کے بعد شہزادی بادیہ اور ان کا خاندان مکہ چھوڑ کر عراق منتقل ہوا۔ننھی شہزادی کیلئے بغداد پہنچنا بہت خوشی اور جوش کا باعث بنا اور وہ اس کی گرویدہ ہوتی چلی گئیں۔ ایک انٹرویو میں شہزادی نے بغداد کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا:''بغداد بہت خوبصورت شہر تھا، اس کے مقابلے میں موم بتیوں سے روشن ہونے والا عمان بہت چھوٹا تھا۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا: ''بغداد میں بجلی تھی، وہاں پْل اور پہاڑ کے دامن میں سڑک بھی تھی۔ بغداد بہت خوبصورت تھا اور مجھے بہت اچھا لگتا تھا‘‘۔فیصل نے 12 سال تک وہاں حکومت کی اور 48 سال کی عمر میں دل کے دورے سے وفات پانے کے بعد ان کے بیٹے غازی نے 1933 میں تاج پہنا۔ انہوں نے شہزادی بادیہ کی بہن شہزادی عالیہ سے شادی کی۔چھ سال بعد جب وہ بغداد میں ایک کار ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تو اس وقت ان کے بیٹے فیصل دوئم صرف تین سال کے تھے۔یوں ایک بار پھر بادیہ اقتدار کی راہداریوں میں رہیں کیونکہ ان کے بھائی ولی عہد عبداللہ ایک ایسے نائب کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے بچے کی بادشاہت کیلئے معقول عمر تک پہنچنے تک حکومتی معاملات چلانا تھے۔برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد فیصل دوئم نے اٹھارہ سال کی عمر میں 1953 میں تخت سنبھالا۔ایک ذہین انسان کے قدرتی وسائل سے مالامال ملک کا سربراہ بننے کے بعد توقع یہی تھی کہ وہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیں گے اور ایسا ہی ہوا۔تیل کی بدولت حاصل ہونے والی آمدن بڑھتی چلی گئی اور ملک میں تیزی سے صنعتیں پھیلنے لگیں۔تاہم عراق برطانیہ اور مغربی ممالک سے قریب تر ہوتا گیا۔اگر شہزادی بادیہ 14 جولائی 1956 کو رحاب محل میں ہوتیں تو یقیناً قتل کر دی جاتیں کیونکہ اسی روز عبدالکریم قسیم اپنی فوجوں کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔بادشاہ کے ساتھ قطار میں کھڑے کر کے مارے جانے والوں میں شہزادی بادیہ کا بھائی ولی عہد عبداللہ، ان کی بہن عبادیہ اور بھابی شہزادی ہیام شامل تھیں۔شہزادی بادیہ نے باغیوں کا شور عراق کے دارالحکومت میں سنا جہاں وہ اپنے شوہر شریف الحسین بن علی اور تین بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔شہزادی نے بتایا کہ ''میں نے صبح چھ ساڑھے چھ بجے کے قریب ایک زوردار دھماکہ سنا، گھبرا کر بستر سے نکلی اور حسین سے پوچھا یہ آواز کیسی تھی؟ میں نے رحاب محل کی طرف دیکھا تو اس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔‘‘انہوں نے بادشاہ فیصل دوئم سے موت سے چند لمحے قبل بات کی، انہوں نے حفاظت کیلئے گارڈ بھجوانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اسی لمحے ایک شاہی ملازم خون میں تر بھاگتا ہوا وہاں پہنچا اور چیخ کر کہا: ''انہوں نے بادشاہ اور ان کے خاندان کو قتل کر دیا ہے۔‘‘شہزادی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سعودی عرب کے سفارتخانے پہنچیں جہاں ان کو ایک ماہ تک پناہ دی گئی۔سعودی سفارتخانے سے نکلنے کے بعد وہ مصر گئیں، اس کے بعد سوئزرلینڈ بھی رہیں تاہم اس کے بعد برطانیہ میں رہائش پذیر ہوئیں جہاں وہ اپنی موت تک رہیں۔لندن میں سو سال کی عمر میں وفات پا جانے والی بادیہ عراق کی زندہ بچ جانے والی آخری شہزادی تھیں۔ ان کی وفات کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے اس تاریخی اور ہنگامہ خیز باب کا بھی خاتمہ ہو گیا جو انہیں بچپن میں مکہ سے لے کر خطے کے بڑے بڑے محلات اور پھر برطانیہ تک لے گیا۔

 بہاولپور کا شاہی قبرستان، غیر ملکی بیگمات کے سفید مقبرے

بہاولپور کا شاہی قبرستان، غیر ملکی بیگمات کے سفید مقبرے

بہاولپور کے نوابوں کا ذاتی قبرستان شاہی قبرستان کے نام سے مشہور ہے لہٰذا اسے عام لوگوں کے لیے نہیں کھولا جاتا۔ چاردیواری کے اندر کئی طرح کے مقبرے ہیں۔ کچھ مقبروں کے گنبد روایتی سرائیکی اور سندھی فنونِ لطیفہ کے شاہکار ہیں جن پر نیلے رنگ کے پھول بوٹے ہیں اور یہ کشیدہ کاری ہاتھ سے کی گئی ہے۔ کچھ مقبرے سفید سنگِ مرمر کے پتھروں سے بنائے گئے ہیں۔نوابزادہ سردار مجتبیٰ خان رِند جن کی والدہ اگرچہ عباسی خاندان کی ہیں تاہم رِند قبیلے سے ہونے کی وجہ سے اس خاندان کو بھی نواب کا درجہ حاصل ہے۔وہ مقبروں کے اس فرق کی وضاحت کچھ اس طریقے سے کرتے ہیں کہ ''یہ جو آپ کو سفید مقبرے نظر آرہے ہیں، یہ سفید پتھر فرانس سے درآمد کیا گیا تھا اور نوابوں کی جو ازواج غیر ملکی تھیں ان کے مقبرے سفید پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ جو ازواج اس خطے اور قبیلے کی تھیں ان کے مقبروں پر علاقائی رنگ آپ کو نمایاں نظر آئے گا۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ دونوں میں فرق کیا جا سکے۔‘‘نوابوں کی غیر ملکی ازواج کے مقبرے سفید پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں۔اخروٹ کی لکڑی سے بنے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوں تو عالی شان مقبروں کی قطاریں اور شاہانہ طرزِ تعمیر آپ کو حصار میں لے لیتا ہے۔بائیں طرف ایک بڑے ہال میں ان 12 نوابوں کی قبریں ہیں جنہوں نے ریاست بہاولپور پر حکومت کی۔ ہر قبر کے تعویذ پر نواب کا نام اور مختصر تاریخ درج ہے جب کہ ساری قبریں سنگِ مرمر کی ہیں اور پتھر پر خطاطی بھی کی گئی ہے۔قبروں کے ایک طرف چھوٹے بڑے ستون رکھے گئے ہیںجن کی اونچائی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ سردار مجتبیٰ کے مطابق ان اونچائیوں کے نیچے اوپر ہونے کی بھی حکمت ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ''یہ چھوٹے ستون ایک خاص پیمائش کی اکائی سے بنائے گئے ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ کس نواب نے کتنا عرصہ حکومت کی۔ جس نے زیادہ حکومت کی ان کے مینار بڑے ہیں، جن کی حکومت کا دورانیہ مختصر تھا ان کے مینار چھوٹے ہیں۔‘‘آخری قبر نواب صادق محمد خان خامس کی ہے جو ریاست بہاولپور کے آخری نواب تھے جنہوں نے 1955 میں ریاست کا الحاق پاکستان سے کیا اور یوں بہاولپور کی الگ ریاستی شناخت ختم ہوگئی۔مرکزی ہال کے باہر بنے مقبرے نواب خاندان کی خواتین کے ہیں۔نواب صادق محمد خان پنجم عباسی کی اہلیہ بھی غیر ملکی تھیں جن کا نام اوی لین جمیلہ تھا اور ان کی قبر بھی سفید رنگ کے پتھر کی ہے۔ ریاست بہاولپور کے آخری نواب صادق محمد خان خامس کی ایک اہلیہ برطانوی تھیں جن کا نام وکٹوریہ تھا۔ تاہم بعد میں مسلمان ہونے کے بعد ان کا نام غلام فاطمہ رکھا گیا۔ شاہی قبرستان کے احاطے میں آئیں تو قطار اندر قطار کھڑے مقبروں میں آپ کو وکٹوریہ کا مقبرہ نظر نہیں آئے گا۔مرکزی ہال سے نکل کر ہال کے دوسری طرف جائیں تو پائین کی طرف سفید سنگِ مرمر سے بنا ایک چھوٹا سا مزار ہے اور یہ نواب صادق محمد خامس کی قبر کے بالکل سامنے ہے تاہم مرکزی ہال کی دیوار اس کو جدا کرتی ہے۔نوابزادہ سردار مجتبیٰ خان رِند نے ریاست بہاولپور کی آخری خاتون اول کے مزار کے چھوٹے رکھے جانے اور باقی خواتین کے مزاروں سے ہٹ کے مرکزی ہال کی پچھلی طرف ہونے کی ایک دلچسپ وجہ بتائی۔وکٹوریہ نواب صادق خامس سے بہت پیار کرتی تھیں اور انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا، تاہم مرنے سے قبل انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کو نواب صاحب کے قدموں میں دفن کیا جائے۔''یہ محبت کی ایک عظیم مثال تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اس خواہش کو پورا کیا گیا اور بالکل نواب صادق محمد خان خامس کی قبر کے سامنے قدموں کی طرف ان کو سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کا مقبرہ بڑا نہ بنایا جائے کہ نواب صاحب کے مقبرے کی چھت سے اونچا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ باہر سے دیکھنے سے وکٹوریہ کا مقبرہ آپ کو نظر نہیں آئے گا اسے دیکھنے کے لیے مرکزی ہال سے باہر دوسری طرف جانا پڑتا ہے۔