ہیپاٹائٹس:اسباب،علامات اورغذائی پرہیز
اسپیشل فیچر
جگر بدنِ انسانی میں پائے جانے والے اعضاء میں سے سب سے بڑا عضو ہے۔یہ نہ صرف جسامت کے لحاظ سے بڑا ہے بلکہ اپنے افعال و کار کردگی کے حوالے سے بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔جگر کا سب سے بڑا کام غذا سے حاصل ہونے والے مختلف غذا ئی اجزا کو صاف کر کے خون کی شکل میں پورے جسم کی طرف منتقل کرنا ہے۔دورانِ نطامِ ہضم ہمارے معدے میں کئی ایک غیر ضروری اور زہریلے مادے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں فضلات کے ساتھ خارج کر دیتا ہے۔جسم کو قدرتی طور پرحرارت پہنچانے والا مادہ گلائیکوجن بھی جگر میں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔جو بوقتِ ضرورت جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے کام آتا ہے۔اسی طرح غیر ضروری چربی کے ذرات بھی جگر اپنے اندر جمع کرتا رہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر استعمال میں لاکر بدن کو توانائی مہیا کرتا ہے۔اگر جگرکے افعال وکارکردگی میں نقص واقع ہوجائے تو پورا بدن ِ انسانی بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔جگر کو متاثر کرنے والے عوارض میں سے سب سے بڑا فیکٹر ورم یا سوزش ہے جسے طبی اصطلاح میں ہیپاٹائیٹس کہا جاتاہے۔ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش ،کار کردگی متاثر ہونے یا اس میں نقص واقع ہونے کو کہا جاتا ہے۔جگر کی یہ متاثرہ حالت اس پر ورم یا سوزش آجانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔مرض کی شدت سے بعض اوقات جگر کے خلیات بھی متاثر ہونے لگتے ہیں یہ ہیپاٹائٹس کی شدید کیفیت ہوتی ہے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یرقان ہیپاٹائٹس سے با لکل الگ اور دوسرا مرض ہے لیکن یاد رہے کہ یرقان کا زیادہ دیر تک رہنا ہیپاٹائٹس کی نشان دہی کرتا ہے۔یرقان پر قابو پانا قدرے آسان ہوتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس ایک موذی مرض ہے اگرا س کی تشخیص بر وقت ہو جائے تو اس سے چھٹکارا پانا بھی آسان ہوتا ہے۔لیکن اگر اس کے علاج پر بر وقت توجہ نہ دی جائے تو یہ جگر کو بری طرح متاثر کر کے بدنِ انسانی کے لیے کئی دوسرے عوارض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ہیپا ٹائٹس کی علامات :۔ ہر وقت تھکن کا احساس رہنا،ہلکا ہلکا بخار رہنا اور سردی محسوس ہونا۔مریض کی بھوک میں روز بروز کمی واقع ہونا۔ متلی اور قئے کا تواتر سے آنا ۔ڈائریا اور بد ہضمی کا اکثر رہنا۔ سر میں درد اور بھاری پن محسوس ہوناپیٹ کا ہر وقت بھرا بھرا لگنا اور اس میں درد کا محسوس ہو نا۔آنکھوں کی رنگت سفیدی مائل زرد ہو جانا۔بعض مریضوں کے جسم پر ہلکی ہلکی اور بعد ازاں شدید خارش ہو نا۔مریض کے پیشاب کی رنگت بدل جانا۔بعض اوقات مریض کوجوڑوں کا درد لاحق ہو جا نا۔جگر کے بیرونی مقام پر جلد کا سرخ اور اْبھرا اْبھرا ہو جا نا۔جلد کو چھو نے سے زخم کا احساس ہو نا۔ہیپا ٹائٹس کے اسباب :۔غیر معیاری اور غیر متوازن غذا کا متواتر استعمال،چکنائیوں کا زیادہ استعمال ہیپا ٹائٹس وائرس کا حملہ ۔الکحل کا زیادہ استعمال۔چٹ پٹی اور تیز مصالحہ جات غذائوں کا استعمال۔زہر آلود غذائوں کا استعمال۔جسمانی میٹابولزم میں خرابی پیدا ہو نا۔آ لودہ پا نی کا استعمال۔غیر محفوظ جنسی تعلقات۔ہیپا ٹائٹس میں مبتلا افراد کے خون کی تن درست افراد میں منتقلی۔ہیپا ٹائٹس سے متاثرہ افراد کی استعمال شدہ سرنج کا استعمال۔دندان سازی کے غیر صاف شدہ آلا ت کا استعما۔حجام کے غیر صاف شدہ اوزاروں کا استعمال۔دوران آپریشن آلات کی مناسب صفائی نہ ہو نا۔ ہیپاٹائٹس میں مبتلا ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔دورانِ حمل خواتین کو ہیپا ٹائٹس وائرس کے حملے کا عام دنوں کی نسبت زیادہ خطرہ ہو تا ہے۔قوتِ مْدافعت میں کمی واقع ہو نا۔سرخ گوشت کا تواتر سے استعمال۔بیگن کے پکوڑوں کا عام استعمال۔غذائی احتیاط :بطورِ پرہیز گوشت،تلی ہوئی اور مرغن غذائوں۔تیز مصالحہ جات،کافی، قہوہ، چائے، شراب، بیگن،دال مسور، بھنڈی، گوبھی، مونگرے، تڑکے والے چاول بازاری مشروبات اور بیکری مصنوعات سے مکمل طور پر بچا جائے۔بناسپتی کی جگہ کسی اچھی نسل کا کوکنگ اوئل استعمال کریں۔ہلکی پھلکی غذائوں ،سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کیا جائے۔انشاء اللہ آپ نہ صرف مرض کے اثراتِ بد سے محفوظ ہو جائیں گے بلکہ کئی دیگر امراض کے حملوں سے بھی بچے رہیں گے۔نوٹ:۔ مرض کی شدید علامات کی صورت میں خود معالجاتی طرزِ عمل سے بچتے ہوئے کسی ماہر معالج سے رجوع آپکی تن درستی اور صحت مند زندگی کی ضمانت فرا ہم کرتا ہے۔hk.niaz@yahoo.com ٭…٭…٭