اقبالؒ:آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا
اسپیشل فیچر
کس کو خبر تھی کہ ہر عہد پر غالب،مرزا اسد اللّٰہ خاں غالبؔ کے بعد برعظیم پاک وہند میں پھر ایک ایسا شاعر پیدا ہوگا ،جو اُردو شاعری کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا۔ یہ اُردو کی خوش نصیبی ہے کہ اُسے غالب ؔکے بعد اقبالؒ جیسا شاعرِلازوال بھی ملا، جس کے کلام کا سکہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ایران و انگلستان نے بھی مانا۔ اُن کی شاعری گہرائیاں اور وسعتیں لیے ہوئے ہے اور اُن کا فن حسن و عشق سے عبارت ہے ۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری رفعت ِتخیل، سوزوگداز، رمزیت، جدتِ ترکیب، شکوہِ بیان اور تصورِ خودی اور فلسفے سے مزین ہے ۔ انھوںنے اپنی شاعری میں روایتی اُسلوبِ بیان کا خاص خیال رکھا ہے۔ان کی شاعری میں کلاسیکیت اور رومانیت بھرپور انداز میں پائی جاتی ہے :سامنے رکھتا ہوں اُس دورِ نشاط افزا کو میَںدیکھتا ہوں دوش کے آئینے میں فردا کو میَںبرتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگیعلامہ اقبالؒ کے اشعار میں موسیقیت اور ترنم کی ایک خاص کیفیت پائی جاتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے عام طور پر مترنم اور رواں بحریں منتخب کیں، جیسے :نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کامَیں ہلاک جادوئے سامری تُو قتیل شیوۂ آزریاقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں میں آزادی کی شمع کو جلایا۔ انھوں نے اپنے اشعار سے جذبۂ آزادی کو بیدار کیا، خواب ِغفلت سے جگایا۔ انھوں نے بتایا کہ مسلمانوں کی آزادی صرف اور صرف عمل پیہم اور انتھک کوششوں کی بدولت ہی ممکن ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے تحریک ِپاکستان کو جلا بخشی، نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دے کر گویا انھیں آگے بڑھنے اور کمال حاصل کرنے کی طرف راغب کیا:نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پرتو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر ماہرین ِ اقبالیات نے اقبال ؒکی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے ۔ 1905ء تا 1908ء کا عرصہ جو انھوں نے یورپ میں گزارا، وہ اُن کی شاعری کا دوسرا دَور گردانا جاتاہے ۔ پہلا دَور یورپ جانے سے پہلے کی شاعری ہے۔ 1911ء میں انجمن حمایت ِاسلام کے سالانہ جلسے میں علامہ اقبالؒ نے ایک نظم ’’شکوہ‘‘ کے عنوان سے پڑھی، جس کو بڑی پذیرائی ملی۔ اقبالؒ نے اُردو اور فارسی زبانوں میں شاعری کی ہے، تاہم ان کے اُردو کلام اور تصانیف کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اُن کی اُردو منظومات: شکوہ 1911ء، جوابِ شکوہ1912ء، اسرار خودی 1915ء، رموزِ بے خودی 1918ء، خضرِ راہ1921ء اور طلوعِ اسلام 1922ء میں شائع ہوئیں۔ اُس کے بعدانھوں نے اُردو اور فارسی میں چند اور بہترین منظومات پیش کیں،جن میںپیامِ مشرق 1923ء،زبورِ عجم1927ء، فارسی تصنیف جاوید نامہ 1933ء، بالِ جبریل 1935ء، ضرب ِکلیم 1936ء اور فارسی زبان میں ارمغانِ حجاز 1938ء میں شائع ہوئیں۔ اس کے علاوہ ’’مثنوی مسافر‘‘ اور ’’پس چہ باید کرد‘‘ بھی اُن کی منظومات میں شامل ہیں۔علامہ اقبال ؒکی اُردو کتاب ’’بانگ ِدرا‘‘ 1924ء میں شائع ہوئی۔ آغاز میں اقبالؒ نے اُردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی طبع آزمائی کی ۔ اقبالؒ کو بچوں سے بے حد محبت تھی اور اسی محبت کی بنا پر انھوں نے بچوں کی مشہور نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ لکھی۔ علامہ اقبالؒ کے فن و شخصیت کے حوالے سے اُردو میں لکھی گئی، دو تصنیفات ’’روحِ اقبالؒ‘‘ اور ’’زندہ رود‘‘ کے مصنف بالترتیب یوسف حسین خان اور ڈاکٹر جاوید اقبال (فرزندِاقبالؒ) ہیں۔ اسی طرح پروفیسر لطف اللہ اور غلام قادر نے بالترتیب سندھی اور بلوچی زبانوں میں علامہ اقبالؒ پر کتب تحریر کیں۔ ان کتب پر علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی نے انعامات بھی دیئے ۔ علامہ اقبالؒ کی دو مشہور منظومات ’’جاوید نامہ‘‘ اور ’’اسرارِ خودی‘‘ کا پنجابی ترجمہ دو معروف پنجابی شعرا علی الترتیب شریف کنجاہی اور خلیل آتش نے کیا۔ اسی طرح 1963ء میں علامہ اقبالؒ کی دو مشہور منظومات ’’بانگ ِدرا‘‘ اور ’’پیامِ مشرق‘‘ کا پشتو زبان میں بھی ترجمہ شائع ہوچکا ہے ۔ اس کے علاوہ اقبالؒ کے کلام کا ترجمہ دنیا کی بڑی زبانوں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور ترک میں بھی ہوچکا ہے، جو اقبالیات میں ایک گراں نمایہ اضافہ ہے۔ اقبالؒ اپنی زندگی میں کارل مارکس، لینن، نِطشے ، نپولین اور سے بے حد متاثر تھے۔ اس لیے ان کے شاعرانہ کلام میں مغرب کی ان عظیم شخصیات کا ذکر ملتا ہے ۔ اقبالؒ 1933ء میں یورپ کے دورے پر روانہ ہوئے ۔ اسی دوران ان کی مسولینی سے ملاقات ہوئی، اقبالؒ، مسولینی کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے ۔ یورپ کے دورے کے دوران اقبالؒ اسپین بھی گئے اور مسجد قرطبہ میں سات سو سال بعد اذان دی اور نماز ادا کی۔ اقبالؒ 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مولانا سید میر حسن سے حاصل کی، اسکاچ مشن سکول سیالکوٹ سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ کالج سے 1899ء میں بی اے کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے 1905ء میں لندن روانہ ہوگئے ۔ لندن سے 1908ء میں بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال میونخ یونیورسٹی جرمنی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور واپس آکر لاہور میں وکالت کا آغاز کیا۔ 1911ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے ۔ اقبالؒ کو 1923ء میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ اقبالؒ بیسویں صدی کی اُردو شاعری میں سب سے ممتاز شخصیت ہیں، وہ حالیؔ اور اکبرؔ کے جانشین کہے جاسکتے ہیں ،مگر اُن کا ادبی رتبہ ان دونوں سے بلند ہے ۔ علامہ نے شاعری میں مقدس سنجیدگی پیدا کی اور اس سے خاراشگافی کا کام لیا ہے ۔ شکوہِ خسروی کا درس دیا ہے ۔ لہو ترنگ کی جھلک دکھائی ہے ۔ مستیٔ کردار کا ولولہ پیدا کیا اور خاکیوں کو افلاکیوں کے انداز اور آدم کو آداب ِخداوندی سکھائے ہیں۔ اُنھوں نے مشرق کی عظمت کا غلغلہ بلند کیا۔ مغرب کو اُس کے امراض سے آگاہ کیا اور انسانیت کو اُس کے فرائض یاد دلائے۔ انھوں نے وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو اپنے اصل مقصد یعنی دین ِاسلام کی طرف لوٹنے کے لیے اپنی شاعری کا جادو جگایا:کھو نہ جانا اسی سحر و شام میں اے صاحبِ ہوشاک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش قیامِ پاکستان کے بعد اس عظیم شخصیت کی خدمات کے عوض علامہ اوپن یونیورسٹی اور علامہ اقبالؒ میڈیکل کالج لاہور اور کراچی میں واقع علامہ اقبالؒ ڈگری کالج ،ان کے نام پر خاص طور پر رکھے گئے ۔ سیالکوٹ کے ایک مشہور بازار چوڑی گران میں واقع ’’اقبال اسٹریٹ‘‘ بھی اقبالؒ کی یاد دلاتی ہے ۔ علامہ اقبالؒ کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور مصور ِپاکستان جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔اُن کا کلام لازوال ہے اور آج سے کئی سو سال بعد بھی اس کی وہی اہمیت رہے گی ،جو آج اسے حاصل ہے ۔ الغرض یہ ہر گز مبالغہ نہ ہو گا کہ اقبالؒ کے پائے کا شاعر پیدا ہونا مشکل ہے۔اُردو ادب کی یہ نابغہ روزگار شخصیت آخر کار21اپریل1938ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی،بقول فیض احمد فیضؔ:آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیرآیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا