حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی دینی خدمات

حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی دینی خدمات

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانا محمد الیاس عطار قادری


خانقاہی نظام ہی اسلام کی وہ قوت ہے جس نے زوال کے بدترین عہدوں میں بھی ایسی شاندار کامیابیاں حاـصل کیں کہ تاریخ میں وہ سنہری حروف میں لکھی جاتی ہیں ۔مشہور مستشرق پروفیسرہٹی لکھتا ہے کہ’’ اسلام پر جب بھی مشکلات کا دور آیا تو اسلام کا روحانی نظام فوراًاسکی مدد کو آیا اور اسے اتنی قوت عطاء کردی کہ وہ ثابت قدمی سے مصائب کا مقابلہ کرسکے‘‘۔ ڈچ محقق لوکے گارڈاس بات پر تعجب کا اظہار کرتا ہے کہ ’’مسلمانوں کو زوال کا بارہا سامنا کرناپڑا مگر روحانی نظام میں ترقی کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ‘‘۔یہ خانقاہی نظام ہی تھا کہ جس نے روئے ارض کے کونے کونے میں کلمہء توحید پہنچایا ۔جنوبی ہند ،مالدیپ،انڈونیشیا ،ملائیشیااور برونائی کے علاوہ بہت سے ایسے علاقے ہیں۔ جہاں تک کسی مسلمان فاتح کی رسائی نہ ہوئی مگر فقیران خرقہ پوش اللہ اور رسولؐ کا پیغام لے کے وہاں گئے اور اپنے کردارو گفتار کی طاقت سے لوگوں کو مسلمان بنایا ۔ان کے کردار کی روشنی اور نعرہ حق کی ضرب اور ذکرالٰہی کی بدولت کفروشرک کی ظلمتیں سیماب پا ہوتی رہیں ۔یہ ہی خانقاہیں وہ مراکز بنیں جہاں سے لوگوں کو رشدوہدایت اوراسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔جب بھی کوئی شخص اسلام کے خانقاہی نظام کا مطالعہ کرتا ہے تو اس میں ایک روشن مثال ہندوستان کا علاقہ اجمیرشریف سرفہرست آتا ہے ۔ یہ وہ خانقاہ ہے کہ جس نے لاکھوں کفارومشرکین کی تقدیریں بدلیں اور انہیں ایمان کی دولت عظیم نصیب ہوئی ،یہ خانقاہ آج بھی مرجع خلائق ہے ۔سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا خواجۂ خواجگان، سلطان الہند حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز ؒکو مدینہ منورہ حاضری کے موقع پریہ بشارت ملی ’’اے معین الدین توہمارے دین کامعین (یعنی دین کا مددگار) ہے ، تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی، اجمیر جا،تیرے وجود سے بے دینی دور ہوگی اور اسلام رونق پذیرہو گا‘‘۔ سلطان الہند خوا جہ غریب نوازؒ اجمیر شریف تشریف لائے۔ آپؒ کی مساعیٔ جمیلہ سے لوگ جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔ وہاں کے کافر راجہ پرتھوی راج کو اس سے بڑی تشویش ہونے لگی۔ چنانچہ اس نے اپنے یہاں کے سب سے خطرناک اور خوفناک جادوگر اجے پال جوگی کو خواجہ غریب نوازؒ کے مقابلے کے لئے تیار کیا۔ ’’اجے پال جوگی‘‘ اپنے چیلوں کی جماعت لے کر خواجہ صاحب ؒ کے پاس پہنچ گیا۔ مسلمانوں کا اضطراب دیکھ کر خواجہ غریب نوازؒ نے ان کے گرد ایک حصار کھینچ د یا اور حکم فرمایا کہ کوئی مسلما ن اس دائرے سے باہر نہ نکلے۔ ادھر جادوگروں نے جادو کے زور سے پانی، آگ اور پتھر برسانے شروع کر دیئے مگر یہ سارے وا رحصار کے قریب آکر بے کار ہو جاتے ۔ اب انہوں نے ایسا جادو کیا کہ ہزاروں سانپ پہاڑوں سے اتر کر خواجہ صاحبؒ اور مسلمانوں کی طرف لپکنے لگے، جونہی وہ حصار کے قریب آتے مرجاتے۔ جب چیلے ناکام ہوگئے تو خود ان کا گُرو اجے پال جوگی جادو کے ذریعے طرح طرح کے شعبدے دکھانے لگا مگر حصار کے قریب جاتے ہی سب کچھ غائب ہوجاتا۔ جب اس کا کوئی بس نہ چلا تو بپھر گیا اورغصے سے پیچو تاب کھاتے ہوئے اس نے اپنا مرگ چھالا (یعنی ہرنی کا چمڑابالوں والا ) ہوا میں اچھالا اورکود کراس پرجابیٹھا اور اڑتا ہواایکدم بلند ہوگیا۔ مسلمان گھبرا گئے کہ نا جانے اب ا وپر سے کیا آفت برپا کرے گا! خواجہ غریب نوازؒ اس کی حرکت پر مسکرا رہے تھے۔ آپ ؒ نے اپنی نعلین مبارک کو اشارہ کیا،حکم پاتے ہی وہ بھی تیزی کے ساتھ اڑتی ہوئیں جادوگر کے تعاقب میں روانہ ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر پہنچ گئیں اور اس کے سر پر تڑاتڑ پڑنے لگیں! ہرضرب میں وہ نیچے اتر رہا تھا، یہاں تک کہ عاجز ہوکر اترا اورخواجہ غریب نوازؒ کے قدموں پر گر پڑا اور سچے دل سے توبہ کی ا ور مسلمان ہوگیا۔ آپؒ نے اس کاا سلامی نام عبدا ﷲ رکھا ۔ اور وہ خواجہ صاحب ؒ کی نظر فیض اثر سے ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوکر عبد اﷲ بیابانی نام سے مشہور ہوگئے۔ خواجہ غریب نواز ؒ جب مدینۃُ الہند اجمیر شریف تشریف لائے تو اولاً ایک پیپل کے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ یہ جگہ وہاں کے کافر راجہ پرتھوی راج چوہان کے اونٹوں کیلئے مخصوص تھی۔ راجہ کے کارندوں نے آکر آپ ؒ پر رُعب جھاڑا ا ور بے ادبی کے ساتھ کہا کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہ جگہ راجہ کے اونٹوں کے بیٹھنے کی ہے ۔ خواجہ صاحبؒ نے فرمایا ’’اچھا ہم لوگ جاتے ہیں تمہارے اونٹ ہی یہاں بیٹھیں۔‘‘ چنانچہ اونٹوں کو وہا ں بٹھادیا گیا۔ صبح ساربان آئے اور اونٹوں کواٹھانا چاہا، لیکن باوجود ہر طرح کی کوشش کے اونٹ نہ اٹھے۔ ساربان نے ڈرتے جھجکتے حضرت خواجہ صاحبؒ کی خدمت سرا پا کرامت میں حاضر ہوکر اپنی گستاخی کی معافی مانگی۔ ہند کے بے تاج بادشاہ حضرت غریب نواز ؒ نے فرمایا ’’جائو خدا کے حکم سے تمہارے اونٹ کھڑے ہوگئے۔‘‘ جب ساربان واپس ہوئے تو واقعی سب اونٹ کھڑے ہوچکے تھے۔خواجہ غریب نوازؒ کے چندمریدین ایک بار اجمیر شریف کے مشہور تالاب انا ساگر پر غسل کرنے گئے۔کافروں نے دیکھ کر شور مچا دیا کہ یہ مسلمان ہمارے تالاب کو’’ ناپاک‘‘ کررہے ہیں۔ چنانچِہ وہ حضرات لوٹ گئے اور جاکر سارا ماجرا خواجہ صاحبؒ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپؒ نے ایک چھاگل ( پانی رکھنے کا مٹی کا برتن) دے کر خادم کو حکم دیا کہ اس کو تالاب سے بھر کر لے آؤ۔ خادم نے جاکر جونہی چھاگل کوپانی میں ڈالا، سارے کا سارا تالاب اس چھاگل میں آگیا!لوگ پانی نہ ملنے پر بے قرار ہوگئے اور آپؒ کی خدمت سراپا کرامت میں حاضر ہو کر فریاد کرنے لگے۔چنانچہ آپ ؒ نے خادم کو حکم دیا کہ جاؤ اور چھاگل کا پانی واپس تالاب میں انڈیل دو۔ خادم نے حکم کی تعمیل کی اور انا ساگر پھر پانی سے لبریز ہوگیا۔ایک بار اورنگ زیب عالمگیر سلطانُ الہند خواجہ غریب نوازؒ کے مزارِ پُر انوار پر حاضر ہوئے۔ احاطہ میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگارہا تھا: یا خواجہ غریب نواز ؒ ! آنکھیں دے۔آپ نے اس فقیر سے دریافت کیا: بابا! کتنا عرصہ ہوا آنکھیں مانگتے ہوئے؟ بولا، برسوں گزر گئے مگر مراد پوری ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا: میں مزار پر حاضری دے کر تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں اگر آنکھیں روشن ہوگئیں(یعنی بہت خوب) ورنہ قتل کروا دوں گا۔ یہ کہہ کر فقیر پر پہرالگا کر بادشاہ حاضری کیلئے اندر چلا گیا۔ ادھر فقیر پر گریہ طاری تھا اور رو رو کر فریاد کررہا تھا: یا خواجہؒ! پہلے صرف آنکھوں کا مسئلہ تھا اب تو جان پر بن گئی ہے، اگر آپ ؒ نے کرم نہ فرمایا تو مارا جاؤں گا۔ جب بادشاہ حاضری دے کر لوٹا تو اس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں۔ بادشاہ نے مسکرا کر فرمایا: کہ تم اب تک بے دلی اور بے توجہی سے مانگ رہے تھے اور اب جان کے خوف سے تم نے دل کی تڑپ کے ساتھ سوال کیا تو تمہاری مراد پوری ہوگئی۔ شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ مانگنا تو اللہ سے چاہئے اور وہی دیتا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خواجہ غریب نوازؒسے کوئی آنکھیں مانگے اور وہ عطا بھی فرما دیں! جواباً عرض ہے کہ حقیقتاً اللہ ہی دینے والا ہے، مخلوق میں سے جو بھی جو کچھ دیتا ہے وہ اللہ ہی سے لے کر دیتا ہے۔اللہ کی عطا کے بغیر کوئی ایک ذرّہ بھی نہیں دے سکتا۔ اللہ کی عطا سے سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اگر کسی نے خواجہ صاحبؒ سے آنکھیں مانگ لیں اور انہوں نے عطائے خداوندی سے عنایت فرما دیں تو آخر یہ ایسی کون سی بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی؟ یہ مسئلہ تو فی زمانہ فن طب نے بھی حل کر ڈالا ہے! ہر کوئی جانتا ہے کہ آج کل ڈاکٹر آپریشن کے ذریعے مردے کی آنکھیں لگا کر اندھوں کوبینا(یعنی دیکھتا) کر دیتے ہیں۔ بس اسی طرح خواجہ غریب نواز ؒ نے بھی ایک اندھے کواللہ کی عطا کردہ روحانی قوت سے نابینائی کے مرض سے شفا دے کر بینا(یعنی دیکھتا) کر دیا۔ بہرحال اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفا دینے یا کچھ عطا کرنے کا اختیار دیا ہی نہیں ہے تو ایسا شخص حکم قرآن کو جھٹلا رہا ہے۔چنانچہ پارہ 3سورۂ آل عمران آیت نمبر 49 میں حضرت عیسیٰؑ روحُ اﷲ کا قول نقل کیا گیا ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ صاف صاف اعلان فرما رہے ہیںکہ میںاللہ کی بخشی ہوئی قدرت سے اندھوں کو بینائی اور کوڑھیوں کو شفا دیتا ہوں حتیٰ کہ مردوں کو بھی زندہ کر دیا کرتا ہوں۔ اللہ عزو جل کی طرف سے انبیاء کرام علیہم السلام کو طرح طرح کے اختیارات عطا کئے جاتے ہیں اور فیضانِ انبیائے کرام ؑسے اولیائے عظام ؒ کو بھی اختیارات دیئے جاتے ہیں، لہٰذا وہ بھی شفا دے سکتے ہیں اوربہت کچھ عطا فرما سکتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک کافر خنجر بغل میں چھپا کر خوا جہ غریب نواز ؒ کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا آپ ؒنے اس کے تیور بھانپ لئے اور مومنانہ فراست سے اس کا ارادہ معلوم کرلیا ۔ جب وہ قریب آیاتو اس سے فرمایا’’تم جس ارادے سے آئے ہو اس کو پورا کرو میں تمہارے سامنے موجود ہوں۔‘‘ یہ سن کر اس شخص کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ خنجر نکال کر ایک طرف پھینک دیا اور آپ ؒکے قدموں پر گر پڑا اور سچے دل سے توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔6 رجب المرجب 633سن ہجری کو آپؒ اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع شیخ زید جامع مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین تعمیرات اور سیاحوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے مزین یہ عظیم الشان مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ اتحاد، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔یہ مسجد متحدہ عرب امارات کے بانی صدر شیخ زید بن سلطان النہیان کے وژن کا عملی نمونہ ہے، جن کی خواہش تھی کہ ایک ایسی جامع مسجد تعمیر کی جائے جو اسلامی تہذیب کی خوبصورتی اور وسعتِ نظر کی عکاسی کرے۔ 1996ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم منصوبہ 2007ء میں مکمل ہوا۔ مسجد میں بیک وقت تقریباً چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش موجود ہے، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں شامل کرتی ہے۔شیخ زید مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 82 سفید گنبد اور چار بلند و بالا مینار ہیں جو تقریباً 107 میٹر کی بلندی تک پہنچتے ہیں۔ مرکزی صحن میں سنگِ مرمر پر کی گئی نفیس پھولدار نقش و نگاری دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ مسجد کے اندر نصب عظیم الشان کرسٹل فانوس جرمنی سے تیار کروا کر لائے گئے، جبکہ مرکزی ہال میں بچھا قالین ہاتھ سے بْنے ہوئے دنیا کے بڑے قالینوں میں شمار ہوتا ہے جو ایرانی ماہرین کا تیار کردہ ایک شاہکار ہے۔ یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے رہنمائی کے خصوصی انتظامات موجود ہیں تاکہ وہ اسلامی تعلیمات اور فن تعمیر کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہو سکیں۔ خاص طور پر غروبِ آفتاب کے وقت مسجد کا منظر، جب سفید گنبد سنہری روشنی میں نہا جاتے ہیں، دلکش اور یادگار ہوتا ہے۔ شیخ زید جامع مسجد دراصل جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی نئی جہتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی روحانیت اور عصری جمالیات ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ ابو ظہبی کی یہ عظیم مسجد آج نہ صرف امارات کی پہچان ہے بلکہ عالمِ اسلام کیلئے فخر کا باعث بھی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!فاروق ضمیر منفرد لب و لیجے کے اداکار (2017-1941ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!فاروق ضمیر منفرد لب و لیجے کے اداکار (2017-1941ء)

٭...1941ء میں لاہور میں پیدا ہوئے، پورا نام فاروق ضمیر غوری تھا۔٭...گورنمنٹ کالج سے آرکیالوجی میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ٭...دوران تعلیم ہی ان کا رجحان اداکاری کی طرف ہو گیا تھا۔ فنی کریئر کا آغاز 90 کی دہائی میں اسٹیج سے کیا۔ ٭...وہ اداکاری شوقیہ کرتے تھے۔والد کی طرف سے وراثت میں ملاہوا پرنٹنگ پریس چلاتے ر ہے۔ ٭...بے پناہ فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ ٭...انہیں ان کی اداکاری کے اعتراف میں پی ٹی وی ایوارڈ ز اور بولان ایوارڈ سمیت سینکڑوں ایوارڈز سے نوازا گیا۔٭...ان کے مقبول ڈراموں میں ''گڈریا‘‘، ''رانی‘‘ ، ''سراغ زندگی‘‘، ''کاغذ کی ناؤ‘‘، ''بوڑھا احمق‘‘ اور ''شمالی ترانوے‘‘ شامل ہیں۔٭... ٹی وی کے علاوہ فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔٭...وہ اپنی سنجیدہ اداکاری اور منفرد لب و لہجے کے باعث ہر خاص و عام میں مقبول تھے۔٭...23فروری 2017ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔سوگواران میں ایک بیوہ،اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔بڑا بیٹا عمر بینکر اور چھوٹا سعد کمپیوٹر ہارڈ ویئر انجینئر اور بیٹی امریکہ میں مقیم ہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا فہد پاکستان ایئر فورس میں اسکواڈرن لیڈر ہے۔ اہلیہ مہوش انٹیریئر ڈیزائنر ہیں۔

رمضان کےمشروب و پکوان:ورقی سموسے

رمضان کےمشروب و پکوان:ورقی سموسے

اجزاء: ایک کلو گوشت کا قیمہ، ایک کلو گھی، ایک کلو میدہ، دارچینی، الائچی ہر ایک 10 ،10 گرام، مرچ ایک چائے کا چمچ، پیاز 250 گرام، ادرک، دھنیا ہر ایک کھانے کا ایک ایک چمچ، بکرے کی چربی 100 گرام۔ترکیب: پہلے قیمہ کو گھی میں بھون کر بگھاریئے اور معمولی مصالحہ دے کر دو پیازہ پکایئے اور جوش دے کر رکھ لیجیے۔ پھر میدہ کو نمک کے پانی سے اچھی طرح گوندھیے اوربیلن سے پوریاں بنا کر سانٹھ لیجیے اورقیمہ بھر کر سموسہ کی شکل کی مروڑی دے کر سانٹھ کے گھی میں تلیے اور استعمال میں لایئے۔ بجائے دو پیازہ کے اگر پستہ وبادام اور مصری اور کشمش بھریئے تو اور بھی زیادہ مزیدار ہو جائیں گے۔ اگر نمکین چاہیے تو بجائے مصری کے میدہ میں حسب ضرورت نمک بھی ڈالیے۔ سانٹھ کا گھی اس طرح بنتا ہے کہ اگر ہوا گرم ہو تو چربی کا ایک حصہ اور گھی دو حصے اور اگر ٹھنڈی ہوا ہو تو چربی اور گھی دونوں ہم وزن ملا کر استعمال میں لاتے ہیں۔کھجور اور دودھیہ ان بہترین مشروبات میں سے ایک ہے جس کا استعمال افطار کے لیے یقینی بنانا چاہیے۔ ہم چند کھجوروں کو ایک کپ ملائی والے دودھ میں بھگو کر تقریباً 12 گھنٹے کے لیے چھوڑ سکتے ہیں، پھر اس فائدہ مند اور بھرپور مشروب سے افطار شروع کریں، جو ہمیں توانائی دیتا ہے اور بلڈ شوگر کی معتدل سطح کو برقرار رکھتا ہے، جو عام طور پر روزے کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''سویت ریڈ آرمی‘‘ کا قیام23 فروری 1918ء کو ''سویت ریڈ آرمی‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اکتوبر 1917ء کے انقلاب کے بعد لو تروچکی کے حکم پر شاہی فوج کیخلاف جنگ کیلئے ریڈ آرمی کو تیار کیا گیا تھا۔ریڈ آرمی کا بنیادی مقصد سوویت حکومت کا دفاع کرنا تھا۔ 1946ء میں اس کا نام بدل کر جمہوریہ سویت یونین کی مشترکہ مسلح افواج رکھ دیا گیا۔الاباما کا اینٹی ٹرسٹ قانون23فروری 1883ء کو امریکی ریاست الاباما (Alabama) نے کاروباری اجارہ داری کے خلاف قانون منظورکیا۔ الاباما امریکا کی پہلی ریاست تھا جس نے اینٹی ٹرسٹ قانون نافذ کیا۔ اس قانون کا مقصد بڑی تجارتی کمپنیوں کو منڈی پر مکمل قبضہ جمانے سے روکنا تھا تاکہ منصفانہ مسابقت کو فروغ ملے اور صارفین کا استحصال نہ ہو۔ ایلومینیم کی دریافت1886ء میں آج کے روز چارلس مارٹن ہال نے کئی برس کی مسلسل محنت اور تجربات کے بعد ایلومینیم کے نمونے تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ سائنسی کارنامہ دھات سازی کی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوا۔ اس سے قبل ایلومینیم کا حصول نہایت مشکل اور مہنگا عمل تھا۔ ہال کی تحقیق نے ایلومینیم کو عام استعمال کی دھات بنا دیا۔ پاناما نہرکا کنٹرول 23 فروری 1904ء کو امریکہ نے 10 ملین ڈالرز کے بدلے پاناما نہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا۔پہلے جہاز براعظم جنوبی امریکا کے گرد چکر لگا کر راس ہارن سے بحر الکاہل تک پہنچتے تھے۔ اس کی تعمیر کے بعد سے نیویارک سے سان فرانسسکو کے درمیان بحری فاصلہ 9 ہزار 500 کلومیٹر ہوگیا جو راس ہارن کے گرد چکر لگانے پر 22 ہزار 500 کلومیٹر تھا۔

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند کی سطح میں تبدیلیاں، مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹیاگر آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں اور محسوس کریں کہ چاند کچھ چھوٹا نظر آ رہا ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی تازہ تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں دراصل چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کا نتیجہ ہیں، جس سے اس کی بیرونی پرت میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلینیٹری اسٹڈیز کے سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد ایسی دراڑیں دریافت کی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں۔ماہرین کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ چاند سکڑ رہا ہے اور اپنی ساخت کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند کی سطح پر جانے یا وہاں رہنے والے خلا نورد تباہ کن قمری زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہاکہ ہم قمری سائنس اور تحقیق کے ایک نہایت سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکے ہیں۔آنے والے قمری تحقیقی پروگرام، جیسے آرٹیمس، ہمیں چاند کے بارے میں بے شمار نئی معلومات فراہم کریں گے۔قمری ارضیات اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کی بہتر سمجھ بوجھ ان اور مستقبل کے مشنز کی حفاظت اور سائنسی کامیابی کیلئے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگی۔2010ء سے سائنس دان یہ جانتے ہیں کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، کیونکہ اس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس کی سطح سمٹ رہی ہے۔ اس سکڑاؤ کے نتیجے میں قمری بلند علاقوں (لُونر ہائی لینڈز) میں مخصوص زمینی ساختیں پیدا ہوئیں، جنہیں ''لوبیٹ اسکارپس‘‘(lobate scarps) کہا جاتا ہے۔یہ ساختیں اس وقت بنتی ہیں جب چاند کی پرت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور پیدا ہونے والی قوتیں مادّے کو فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ اوپر اور قریبی پرت پر دھکیل دیتی ہیں، جس سے ایک ابھرا ہوا کنارہ وجود میں آتا ہے۔تاہم اپنی نئی تحقیق میں محققین نے ایک مختلف علاقے، جسے لونر ماریا(lunar maria) کہا جاتا ہے،یعنی چاند کی سطح پر پھیلے وسیع اور تاریک میدان میں عجیب و غریب دراڑیں دریافت کیں۔ انہوں نے ان دراڑوں کو ''سمال ماری رِجز‘‘ (SMRs) کا نام دیا ہے۔مطالعے کے مرکزی محقق نائپیور (Nypaver) نے کہا کہ اپولو دور سے ہم قمری بلند علاقوں میں لوبیٹ اسکارپس کی کثرت سے واقف ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے قمری ماریا میں بھی اسی نوعیت کی ساختوں کی وسیع موجودگی کو دستاویزی شکل دی ہے۔یہ تحقیق ہمیں چاند پر حالیہ زمینی حرکات (ٹیکٹونزم) کے بارے میں عالمی سطح پر مکمل تناظر فراہم کرتی ہے، جس سے اس کے اندرونی ڈھانچے، حرارتی اور زلزلہ جاتی تاریخ، اور مستقبل میں ممکنہ قمری زلزلوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔نئی تحقیق میں ٹیم نے 1,114 اسمال ماری رِجز دریافت کیں، جس سے چاند پر اب تک دریافت شدہ ایسی ساختوں کی مجموعی تعداد 2,634 ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل لاکھوں برسوں سے جاری ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں مستقبل کے خلائی مشنز، خصوصاً چاند کے جنوبی قطب پر منصوبہ بند سرگرمیوں کیلئے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ زمین کے برعکس چاند پر زلزلوں جیسی حرکات زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہیں، جو کسی بھی انسانی یا روبوٹک مشن کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ادارے، بالخصوص ناسا، ان جغرافیائی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مشنز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔