حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی دینی خدمات

حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی دینی خدمات

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانا محمد الیاس عطار قادری


خانقاہی نظام ہی اسلام کی وہ قوت ہے جس نے زوال کے بدترین عہدوں میں بھی ایسی شاندار کامیابیاں حاـصل کیں کہ تاریخ میں وہ سنہری حروف میں لکھی جاتی ہیں ۔مشہور مستشرق پروفیسرہٹی لکھتا ہے کہ’’ اسلام پر جب بھی مشکلات کا دور آیا تو اسلام کا روحانی نظام فوراًاسکی مدد کو آیا اور اسے اتنی قوت عطاء کردی کہ وہ ثابت قدمی سے مصائب کا مقابلہ کرسکے‘‘۔ ڈچ محقق لوکے گارڈاس بات پر تعجب کا اظہار کرتا ہے کہ ’’مسلمانوں کو زوال کا بارہا سامنا کرناپڑا مگر روحانی نظام میں ترقی کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ‘‘۔یہ خانقاہی نظام ہی تھا کہ جس نے روئے ارض کے کونے کونے میں کلمہء توحید پہنچایا ۔جنوبی ہند ،مالدیپ،انڈونیشیا ،ملائیشیااور برونائی کے علاوہ بہت سے ایسے علاقے ہیں۔ جہاں تک کسی مسلمان فاتح کی رسائی نہ ہوئی مگر فقیران خرقہ پوش اللہ اور رسولؐ کا پیغام لے کے وہاں گئے اور اپنے کردارو گفتار کی طاقت سے لوگوں کو مسلمان بنایا ۔ان کے کردار کی روشنی اور نعرہ حق کی ضرب اور ذکرالٰہی کی بدولت کفروشرک کی ظلمتیں سیماب پا ہوتی رہیں ۔یہ ہی خانقاہیں وہ مراکز بنیں جہاں سے لوگوں کو رشدوہدایت اوراسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔جب بھی کوئی شخص اسلام کے خانقاہی نظام کا مطالعہ کرتا ہے تو اس میں ایک روشن مثال ہندوستان کا علاقہ اجمیرشریف سرفہرست آتا ہے ۔ یہ وہ خانقاہ ہے کہ جس نے لاکھوں کفارومشرکین کی تقدیریں بدلیں اور انہیں ایمان کی دولت عظیم نصیب ہوئی ،یہ خانقاہ آج بھی مرجع خلائق ہے ۔سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا خواجۂ خواجگان، سلطان الہند حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز ؒکو مدینہ منورہ حاضری کے موقع پریہ بشارت ملی ’’اے معین الدین توہمارے دین کامعین (یعنی دین کا مددگار) ہے ، تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی، اجمیر جا،تیرے وجود سے بے دینی دور ہوگی اور اسلام رونق پذیرہو گا‘‘۔ سلطان الہند خوا جہ غریب نوازؒ اجمیر شریف تشریف لائے۔ آپؒ کی مساعیٔ جمیلہ سے لوگ جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔ وہاں کے کافر راجہ پرتھوی راج کو اس سے بڑی تشویش ہونے لگی۔ چنانچہ اس نے اپنے یہاں کے سب سے خطرناک اور خوفناک جادوگر اجے پال جوگی کو خواجہ غریب نوازؒ کے مقابلے کے لئے تیار کیا۔ ’’اجے پال جوگی‘‘ اپنے چیلوں کی جماعت لے کر خواجہ صاحب ؒ کے پاس پہنچ گیا۔ مسلمانوں کا اضطراب دیکھ کر خواجہ غریب نوازؒ نے ان کے گرد ایک حصار کھینچ د یا اور حکم فرمایا کہ کوئی مسلما ن اس دائرے سے باہر نہ نکلے۔ ادھر جادوگروں نے جادو کے زور سے پانی، آگ اور پتھر برسانے شروع کر دیئے مگر یہ سارے وا رحصار کے قریب آکر بے کار ہو جاتے ۔ اب انہوں نے ایسا جادو کیا کہ ہزاروں سانپ پہاڑوں سے اتر کر خواجہ صاحبؒ اور مسلمانوں کی طرف لپکنے لگے، جونہی وہ حصار کے قریب آتے مرجاتے۔ جب چیلے ناکام ہوگئے تو خود ان کا گُرو اجے پال جوگی جادو کے ذریعے طرح طرح کے شعبدے دکھانے لگا مگر حصار کے قریب جاتے ہی سب کچھ غائب ہوجاتا۔ جب اس کا کوئی بس نہ چلا تو بپھر گیا اورغصے سے پیچو تاب کھاتے ہوئے اس نے اپنا مرگ چھالا (یعنی ہرنی کا چمڑابالوں والا ) ہوا میں اچھالا اورکود کراس پرجابیٹھا اور اڑتا ہواایکدم بلند ہوگیا۔ مسلمان گھبرا گئے کہ نا جانے اب ا وپر سے کیا آفت برپا کرے گا! خواجہ غریب نوازؒ اس کی حرکت پر مسکرا رہے تھے۔ آپ ؒ نے اپنی نعلین مبارک کو اشارہ کیا،حکم پاتے ہی وہ بھی تیزی کے ساتھ اڑتی ہوئیں جادوگر کے تعاقب میں روانہ ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر پہنچ گئیں اور اس کے سر پر تڑاتڑ پڑنے لگیں! ہرضرب میں وہ نیچے اتر رہا تھا، یہاں تک کہ عاجز ہوکر اترا اورخواجہ غریب نوازؒ کے قدموں پر گر پڑا اور سچے دل سے توبہ کی ا ور مسلمان ہوگیا۔ آپؒ نے اس کاا سلامی نام عبدا ﷲ رکھا ۔ اور وہ خواجہ صاحب ؒ کی نظر فیض اثر سے ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوکر عبد اﷲ بیابانی نام سے مشہور ہوگئے۔ خواجہ غریب نواز ؒ جب مدینۃُ الہند اجمیر شریف تشریف لائے تو اولاً ایک پیپل کے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ یہ جگہ وہاں کے کافر راجہ پرتھوی راج چوہان کے اونٹوں کیلئے مخصوص تھی۔ راجہ کے کارندوں نے آکر آپ ؒ پر رُعب جھاڑا ا ور بے ادبی کے ساتھ کہا کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہ جگہ راجہ کے اونٹوں کے بیٹھنے کی ہے ۔ خواجہ صاحبؒ نے فرمایا ’’اچھا ہم لوگ جاتے ہیں تمہارے اونٹ ہی یہاں بیٹھیں۔‘‘ چنانچہ اونٹوں کو وہا ں بٹھادیا گیا۔ صبح ساربان آئے اور اونٹوں کواٹھانا چاہا، لیکن باوجود ہر طرح کی کوشش کے اونٹ نہ اٹھے۔ ساربان نے ڈرتے جھجکتے حضرت خواجہ صاحبؒ کی خدمت سرا پا کرامت میں حاضر ہوکر اپنی گستاخی کی معافی مانگی۔ ہند کے بے تاج بادشاہ حضرت غریب نواز ؒ نے فرمایا ’’جائو خدا کے حکم سے تمہارے اونٹ کھڑے ہوگئے۔‘‘ جب ساربان واپس ہوئے تو واقعی سب اونٹ کھڑے ہوچکے تھے۔خواجہ غریب نوازؒ کے چندمریدین ایک بار اجمیر شریف کے مشہور تالاب انا ساگر پر غسل کرنے گئے۔کافروں نے دیکھ کر شور مچا دیا کہ یہ مسلمان ہمارے تالاب کو’’ ناپاک‘‘ کررہے ہیں۔ چنانچِہ وہ حضرات لوٹ گئے اور جاکر سارا ماجرا خواجہ صاحبؒ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپؒ نے ایک چھاگل ( پانی رکھنے کا مٹی کا برتن) دے کر خادم کو حکم دیا کہ اس کو تالاب سے بھر کر لے آؤ۔ خادم نے جاکر جونہی چھاگل کوپانی میں ڈالا، سارے کا سارا تالاب اس چھاگل میں آگیا!لوگ پانی نہ ملنے پر بے قرار ہوگئے اور آپؒ کی خدمت سراپا کرامت میں حاضر ہو کر فریاد کرنے لگے۔چنانچہ آپ ؒ نے خادم کو حکم دیا کہ جاؤ اور چھاگل کا پانی واپس تالاب میں انڈیل دو۔ خادم نے حکم کی تعمیل کی اور انا ساگر پھر پانی سے لبریز ہوگیا۔ایک بار اورنگ زیب عالمگیر سلطانُ الہند خواجہ غریب نوازؒ کے مزارِ پُر انوار پر حاضر ہوئے۔ احاطہ میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگارہا تھا: یا خواجہ غریب نواز ؒ ! آنکھیں دے۔آپ نے اس فقیر سے دریافت کیا: بابا! کتنا عرصہ ہوا آنکھیں مانگتے ہوئے؟ بولا، برسوں گزر گئے مگر مراد پوری ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا: میں مزار پر حاضری دے کر تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں اگر آنکھیں روشن ہوگئیں(یعنی بہت خوب) ورنہ قتل کروا دوں گا۔ یہ کہہ کر فقیر پر پہرالگا کر بادشاہ حاضری کیلئے اندر چلا گیا۔ ادھر فقیر پر گریہ طاری تھا اور رو رو کر فریاد کررہا تھا: یا خواجہؒ! پہلے صرف آنکھوں کا مسئلہ تھا اب تو جان پر بن گئی ہے، اگر آپ ؒ نے کرم نہ فرمایا تو مارا جاؤں گا۔ جب بادشاہ حاضری دے کر لوٹا تو اس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں۔ بادشاہ نے مسکرا کر فرمایا: کہ تم اب تک بے دلی اور بے توجہی سے مانگ رہے تھے اور اب جان کے خوف سے تم نے دل کی تڑپ کے ساتھ سوال کیا تو تمہاری مراد پوری ہوگئی۔ شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ مانگنا تو اللہ سے چاہئے اور وہی دیتا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خواجہ غریب نوازؒسے کوئی آنکھیں مانگے اور وہ عطا بھی فرما دیں! جواباً عرض ہے کہ حقیقتاً اللہ ہی دینے والا ہے، مخلوق میں سے جو بھی جو کچھ دیتا ہے وہ اللہ ہی سے لے کر دیتا ہے۔اللہ کی عطا کے بغیر کوئی ایک ذرّہ بھی نہیں دے سکتا۔ اللہ کی عطا سے سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اگر کسی نے خواجہ صاحبؒ سے آنکھیں مانگ لیں اور انہوں نے عطائے خداوندی سے عنایت فرما دیں تو آخر یہ ایسی کون سی بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی؟ یہ مسئلہ تو فی زمانہ فن طب نے بھی حل کر ڈالا ہے! ہر کوئی جانتا ہے کہ آج کل ڈاکٹر آپریشن کے ذریعے مردے کی آنکھیں لگا کر اندھوں کوبینا(یعنی دیکھتا) کر دیتے ہیں۔ بس اسی طرح خواجہ غریب نواز ؒ نے بھی ایک اندھے کواللہ کی عطا کردہ روحانی قوت سے نابینائی کے مرض سے شفا دے کر بینا(یعنی دیکھتا) کر دیا۔ بہرحال اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفا دینے یا کچھ عطا کرنے کا اختیار دیا ہی نہیں ہے تو ایسا شخص حکم قرآن کو جھٹلا رہا ہے۔چنانچہ پارہ 3سورۂ آل عمران آیت نمبر 49 میں حضرت عیسیٰؑ روحُ اﷲ کا قول نقل کیا گیا ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ صاف صاف اعلان فرما رہے ہیںکہ میںاللہ کی بخشی ہوئی قدرت سے اندھوں کو بینائی اور کوڑھیوں کو شفا دیتا ہوں حتیٰ کہ مردوں کو بھی زندہ کر دیا کرتا ہوں۔ اللہ عزو جل کی طرف سے انبیاء کرام علیہم السلام کو طرح طرح کے اختیارات عطا کئے جاتے ہیں اور فیضانِ انبیائے کرام ؑسے اولیائے عظام ؒ کو بھی اختیارات دیئے جاتے ہیں، لہٰذا وہ بھی شفا دے سکتے ہیں اوربہت کچھ عطا فرما سکتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک کافر خنجر بغل میں چھپا کر خوا جہ غریب نواز ؒ کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا آپ ؒنے اس کے تیور بھانپ لئے اور مومنانہ فراست سے اس کا ارادہ معلوم کرلیا ۔ جب وہ قریب آیاتو اس سے فرمایا’’تم جس ارادے سے آئے ہو اس کو پورا کرو میں تمہارے سامنے موجود ہوں۔‘‘ یہ سن کر اس شخص کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ خنجر نکال کر ایک طرف پھینک دیا اور آپ ؒکے قدموں پر گر پڑا اور سچے دل سے توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔6 رجب المرجب 633سن ہجری کو آپؒ اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

20ارب ڈالر کا قمری شہر،ناسا کا انقلابی منصوبہامریکی خلائی ادارہ ناسا آئندہ چند برسوں میں چاند کی سطح پر ایک مستقل انسانی بستی یا ''قمری شہر‘‘ (Lunar City)بسائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد چاند پر طویل المدت انسانی موجودگی کو ممکن بنانا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور مستقبل میں مریخ سمیت مزید دور دراز خلائی مشنوں کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ 2032ء تک 20 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا ناسا کا چاند پر اڈہ کیسا نظر آئے گا؟ اس منصوبے کے تحت چاند کی سطح پر رہائش، سائنسی تحقیق اور وسائل کے استعمال کیلئے جدید سہولیات پر مشتمل مستقل ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قمری بستی رہائشی ماڈیولز، تحقیقی لیبارٹریوں، توانائی کے مراکز اور زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ سائنس فکشن کی کسی کہانی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن ناسا نے صرف چھ سال کے اندر چاند پر ایک شہر نما اڈہ تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین(Jarred Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ 20 ارب ڈالر مالیت کے اس قمری اڈے کے ابتدائی مشن رواں سال ہی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو ''انسانی تاریخ کی سب سے جرات مندانہ انجینئرنگ اور تحقیقی کوششوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوبارہ چاند کی طرف لوٹ رہا ہے، لیکن اس بار وہاں مستقل قیام کیلئے۔آئزک مین نے قمری کالونی کے قیام کیلئے ایک تفصیلی لائحہ عمل بھی پیش کیا، جس میں تین مراحل پر مشتمل ٹائم لائن دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا ہدف 2032ء تک چاند پر ایک مستقل انسانی بستی قائم کرنا ہے۔ بالآخر اس اڈے میں متعدد عمارتیں شامل ہوں گی جو سیکڑوں مربع میل کے رقبے پر پھیلی ہوں گی۔ یہ سب کچھ ایسے ماحول میں تعمیر کیا جائے گا جسے دنیا کے انتہائی دشوار اور خطرناک ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔چاند جیسے غیر موافق حالات میں انسانی بستی تعمیر کرنے کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے آئزک مین نے کہا کہ یہ قمری اڈہ جتنا خوبصورت ہو گا، اتنا ہی خطرناک بھی ہوگا۔ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک مشکل ہے۔ نصف صدی قبل اپالو مشنز کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح پر مجموعی طور پر صرف 80 گھنٹے گزارے تھے، اس لیے ہم اب بھی چاند کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔پہلا مرحلہقمری اڈے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ، جسے ''سیکھو، آزماؤ اور تعمیر کرو‘‘کا نام دیا گیا ہے، رواں سال کے آخر میں شروع ہوگا اور 2029 ء تک جاری رہے گا۔آئندہ تین برسوں کے دوران ناسا کا ہدف تجارتی نوعیت کے قمری مشنز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ممکنہ لینڈنگ مقامات کا جائزہ لیا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔قمری تحقیق کا یہ نیا دور اس سال خزاں کے موسم سے پہلے شروع نہیں ہوگا، جب جیف بیزوس کی کمپنی ''بلیو اوریجن‘‘ اپنا ''بلیو مون مارک1‘‘ لینڈر ''اینڈیورنس‘‘ (Endurance) چاند کی جانب روانہ کرے گی۔یہ لینڈر چاند کے جنوبی قطب کے قریب واقع شیکلٹن کریٹر کے کنارے پر اترے گا، جہاں یہ سائنسی آلات پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی لینڈنگ صلاحیتوں کا بھی عملی امتحان دے گا۔اس کے بعد 2026ء کے آخری مہینوں میں ناساایک روور کو چاند پر بھیجے گا۔اس ابتدائی مرحلے کے اختتام تک ناسا کا منصوبہ ہے کہ مون فال ہیلی کاپٹر ڈرونز اور بغیر انسان کے چلنے والے روورز کے ایک بیڑے کو استعمال کرتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی، برف اور دیگر قدرتی وسائل کی تلاش کی جائے۔دوسرا مرحلہ2029ء سے 2032ء کے دوران ناسا منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گا، جسے ''ابتدائی رہائش‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پہلی مرتبہ انسانی عملے کو چاند کی سطح پر رہنے کیلئے بھیجا جائے گا۔اس دوران 24 چکروں میں تقریباً 60 ٹن سامان اور آلات چاند تک پہنچائے جائیں گے، جن کی مدد سے مجوزہ قمری اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی سہولیات کی تعمیر مکمل کی جائے گی، جو مستقبل میںانسانی بستی کی بنیاد بنیں گی۔ناسا کے مطابق قمری اڈے کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے کیلئے وہاں ایٹمی پلانٹ بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ نظام چاند پر قائم ہونے والی بستی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا بازوں کو ایسی روورز بھی فراہم کی جائیں گی جن کی مدد سے وہ اپنے خلائی لباس اتار کر 30 دن تک آرام دہ ماحول میں رہتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے کی کھوج کر سکیں گے۔تیسرا مرحلہ2032ء میں ناسا منصوبے کے آخری مرحلے ''مستقل انسانی موجودگی‘‘ میں داخل ہوگا، جس کے تحت چاند پر ایک مستقل اڈہ قائم کیا جائے گا۔ جہاں باقاعدگی سے عملے کی تبدیلی، مستقل رہائش اور مکمل بنیادی ڈھانچہ موجود ہو گا۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ہم مہارت، عزم اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ مشن مکمل کر سکیں جو صرف ناسا ہی انجام دے سکتا ہے۔ناسا کے مطابق چاند پر قائم کیا جانے والا یہ اڈہ آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں کیلئے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا، جہاں طویل مدت تک قیام، جدید روبوٹک اور انسانی سرگرمیوں کا فروغ اور چاند کی سطح پر مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔مون بیس کے قیام کے بعد آرٹیمس مشن کے خلا باز زیادہ عرصے تک چاند پر رہ سکیں گے، مزید دور دراز علاقوں کی کھوج کر سکیں گے اور ایسی سائنسی تحقیق انجام دے سکیں گے جو خود خلائی تحقیق کو نئی جہتیں فراہم کرے گی۔

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ کرہ ارض پر موجود آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ سمندری نباتات کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر انسانی زندگی، موسمی نظام اور عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کے جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ مچھلیاں، وہیل، ڈولفن، کچھوے، مرجان اور بے شمار دیگر آبی مخلوقات سمندروں میں زندگی گزارتی ہیں۔ دنیا کے کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کیلئے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، بحری نقل و حمل، سیاحت اور معدنی وسائل کی فراہمی میں سمندروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔بدقسمتی سے آج سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری حیات کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا پہنچتا ہے، جس سے آبی جانور متاثر ہوتے ہیں اور ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندے اور مچھلیاں پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی سمندروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور کئی آبی انواع کے قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال انفرادی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہیں۔سمندروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گے۔

برین ٹیومر کا عالمی دن

برین ٹیومر کا عالمی دن

دماغی رسولی: خاموش مگر سنگین بیماریجدید طبی سائنس کی بے شمار ترقیوں کے باوجود برین ٹیومر آج بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ بیماری تصور کی جاتی ہے، جس کے علاج اور تشخیص کیلئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔برین ٹیومر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، اس بیماری کی بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کیلئے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔برین ٹیومر دراصل دماغ یا اس کے ارد گرد موجود بافتوں میں غیر معمولی خلیات کی نشؤونما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رسولی سومی (Benign) بھی ہو سکتی ہے اور سرطانی (Malignant) بھی۔ اگرچہ ہر برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا اثر نہ صرف مریض کی جسمانی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔برین ٹیومر کی علامات رسولی کے سائز، نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلسل یا شدید سر درد، بینائی میں دھندلا پن، چکر آنا، متلی، یادداشت کی کمزوری، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن ہونا اور دورے پڑنا اس بیماری کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ ان علامات کو عام بیماریوں سے منسوب کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق برین ٹیومر کی بروقت تشخیص مریض کے علاج اور صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جدید دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی طریقوں کی مدد سے دماغی رسولیوں کا نسبتاً جلد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاج کیلئے سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیمو تھراپی اور بعض جدید ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ برین ٹیومر کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ماہرین بعض جینیاتی عوامل، تابکاری کے زیادہ اثرات اور خاندانی طبی تاریخ کو ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔برین ٹیومر کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف طبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد مریض اکثر خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار

ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار

ٹوکیو ٹاور مواصلاتی ذرائع کا ایک بلند ٹاور ہے جو ٹوکیو کے علاقے شیبا پارک میں بنایا گیا ہے۔ اس ٹاور کی تعمیر جون 1957ء میں شروع ہوئی اور 23 دسمبر 1958ء کو یہ ٹاور مکمل ہوا۔ اس کی بلندی 1091 فٹ ہے۔ یہ ٹاور جب مکمل ہوا تو جاپان کا بلند ترین ٹاور تھا اور دُنیا میں ماسکو ٹی وی ٹاور بننے کے بعد یہ دوسرے نمبر پر آگیا پھر جب ٹورنٹو کاٹی وی ٹاور مکمل ہوا تو یہ بلندی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ گیا۔ اب بھی ٹوکیوٹاور جاپان میں دوسرے نمبر پر ہے کیونکہ ٹوکیو ہی میں سکائی ٹری ٹاور بھی ہے۔ جس کی بلندی 2080 فٹ ہے۔اس ٹاور کا ڈیزائن پیرس کے ایفل ٹاور کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور یہ ٹاور ایفل ٹاور سے بھی سو فٹ بلند ہے۔ بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے اُصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ٹاور کو سفید اور نارنجی سرخی مائل رنگوں سے روغن کیا گیا ہے۔ اس ٹاور کے دو پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 490 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ اس پر ریستوران، سٹور موجود ہیںجبکہ گرائونڈ پر میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ اسی فلور پر بار کا ماڈل بھی موجود ہے جسے راقم نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ اس ٹاور کا دوسرا پلیٹ فارم 820 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ جہاں پر شہر اور آسمان کا نظارہ کرنے کیلئے فلکیاتی رصد گاہ بنائی گئی ہے۔ راقم الحروف کو پہلی مرتبہ 1985ء میں اس ٹاور پر جانے کا موقع ملا۔ سارا شہر، پرانا ہوائی اڈا اور بندرگاہ نظروں کے سامنے تھے۔ یہاں سے مائونٹ فیوجی بھی نظر آتا ہے۔ اتنا مزہ آتا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں کا شوق دیدنی ہوتا ہے۔ صبح آٹھ بجے ہی ٹکٹ کے حصول کیلئے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس ٹاور کے بننے سے لے کر تاحال کوئی 20 کروڑ سے زائد سیاح اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آ چکے ہیں۔ اس ٹاور کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی سیاحوں ہی سے حاصل ہوتا ہے۔اس ٹاور کے اُوپر اور اطراف میں کئی درجن ریڈیو، ٹی وی، ٹیلی مواصلات، ٹریفک کنٹرول اور موسم کی دیکھ بھال کے آلات اور انٹینا نصب ہیں۔جو دور سے پرندوں کے گھونسلوں اور بھڑوں کے چھتوں کی مانند لگتے ہیں۔ یہاں پر لگے ہوئے آلات کی مدد سے شہر میں ٹریفک کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ شہر میں چلتی ہوئی سب وے ٹرینوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ ان انٹینوں اور آلات کی تنصیب سے بھی ٹاور کی انتظامیہ کو خاطر خواہ آمدنی ہوتی ہے۔ 1945ء میں جنگ عظیم دوم کی ہزیمت کے بعد جاپان کو یہ محسوس ہوا کہ جنگ سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ سرا سر نقصان ہی نقصان ہے۔ تو حکومت نے بعد میں سارے ٹینک اور توپوں کو فیکٹریوں میں ڈھال کر یہ یاد گاری ٹاور کھڑا کر دیا۔ لہٰذا اس ٹاور کو جنگ عظیم دوم کی ایک یاد گار بھی کہا جاسکتا ہے۔ 1958 ء میں جب ٹوکیوٹاور مکمل ہوا تو یقینا یہ شہر کی خوبصورتی میں ایک گرا نقدر اضافہ ثابت ہوا۔ اس ٹاور کی بناوٹ اس قدر مضبوط ہے کہ یہ بڑے سے بڑے زلزلے کو جس کی طاقت 10 ریکٹر سکیل سے اوپر ہو برداشت کر سکتا ہے اور 220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائوں کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔ مختلف تہواروں پر مختلف رنگوں کی روشنیوں سے ٹاور کو منور کیا جاتاہے۔ جس سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس ٹاور کی خوبصورت تصویریں بنانے کے لیے راقم کو ٹاور سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر پیچھے ہٹنا پڑاتب جا کر کیمرے کے فوکس میں مکمل تصویر آسکی۔ اس کے اوپررنگ و روغن کیلئے 28ہزار لیٹر روغن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہالی وڈکی کئی فلموں کے علاوہ مشہور زمانہ فلم ''کنگ کانگ کی واپسی ‘‘ جیسی فلموں کی بھی اس ٹاور پر عکاسی کی جاچکی ہے۔

 چارپائی اور کلچر

چارپائی اور کلچر

چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے عہدہ برا ہونے کیلئے نت نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسے نازک مواقع پر پرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکے مسکرا دیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کا تصور چارپائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کا خیال آتے ہی ذہن کے اُفق پر بہت سے سہانے منظر ابھر آتے ہیں۔ اجلی اجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھی، کچی مٹی کی سن سن کرتی کوری صراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں اور ان کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پر دن بھر شطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اور جو شام کو دسترخوان بچھاکر کھانے کی میز بنا لی گئی۔ذرا غور سے دیکھئے تو یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بناکر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور چلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقت ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹیریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انھیں بانسوں سے ایک دوسرے کو اسٹیریچر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض جب کھاٹ سے لگ جائے تو تیماردار مؤخرالذِکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کرکے اول الذِکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعہ اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچے غاؤں غاؤں کرتی، چندھیائی ہوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض حضرات اس مضمون کو چارپائی کا پرچہ ترکیب استعمال سمجھ لیں گے تو اس ضمن میں کچھ اور تفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکا ہوں، یہ مضمون اس تہذیبی علامت کا قصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظراحتیاط اتنی وضاحت ضروری ہے کہ:ہم اس نعمت کے منکر ہیں نہ عادینام کی مناسبت سے پائے اگر چار ہوں تو مناسب ہے ورنہ اس سے کم ہوں، تب بھی خلق خدا کے کام بند نہیں ہوتے۔ اسی طرح پایوں کے حجم اور شکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انھیں سامنے رکھ کر آپ غبی سے غبی لڑکے کو اقلیدس کی تمام شکلیں سمجھا سکتے ہیں اوراس مہم کو سر کرنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کا صرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصوری میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ دیہات میں ایسے پائے بہت عام ہیں جو آدھے پٹیوں سے نیچے اور آدھے اوپر نکلے ہوتے ہیں۔ ایسی چارپائی کا الٹا سیدھا دریافت کرنے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ جس طرف بان صاف ہووہ ہمیشہ ''اُلٹا‘‘ ہو گا۔ راقم الحروف نے ایسے انگھڑپائے دیکھے ہین جن کی ساخت میں بڑھئی نے محض یہ اصول مدنظر رکھا ہوگا کہ بسولہ چلائے بغیر پیڑ کو اپنی قدرتی حالت میں جوں کاتوں پٹیوں سے وصل کر دیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سے خراد کے بنے ایسے سڈول پائے بھی گزرے ہیں جنھیں چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہتا ہی۔ اس قسم کے پایوں سے نٹو مرحوم کو جو والہانہ عشق رہا ہوگا اس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک دوست سے ایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں کیا۔ کہنے لگے ''اگر مجھے ایسی چار ٹانگیں مل جائیں تو انھیں کٹواکر اپنے پلنگ کے پائے بنوا لوں۔‘‘غور کیجئے تو مباحثے اور مناظرے کیلئے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں اور بحث وتکرار کیلئے اس سے بہتر طرزنشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر میرا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذکرات گول میز پرنہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جاتیں۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ لدی پھندی چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھرکے اپنوں کی غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں اور کچھ یوں بھی ہے کہ ہمارے ہاں غیبت سے مقصود قطع محبت ہے نہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں ''لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘۔لوگ گھنٹوں چارپائی پر کسمساتے رہتے ہیں مگر کوئی اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنی جگہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر وہ چلا گیا تو فوراً اس کی غیبت شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ پچھلے پہر تک مرد ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالے بحث کرتے ہیں اور عورتیں گال سے گال بھڑائے کچر کچر لڑتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مرد پہلے بحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں۔ عورتیں پہلے لڑتی ہیں اور بعدمیں بحث کرتی ہیں۔ مجھے ثانی الذکر طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے، اس لیے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی شٹل اٹلانٹس کی روانگی2007ء میں آج کے روز امریکی خلائی شٹل اٹلانٹس کو مشن '' ایس ٹی ایس 117‘‘ کے تحت خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک اہم سازوسامان پہنچانا اور اس کی تعمیر و توسیع کے کام میں حصہ لینا تھا۔ اٹلانٹس اپنے ساتھ دو ٹرس (Truss) حصے اور شمسی توانائی پیدا کرنے والے بڑے سولر پینل لے کر گیا، جنہیں خلائی اسٹیشن کے ڈھانچے میں نصب کیا گیا۔ ان اضافوں سے خلائی اسٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور مجموعی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔کوئلے کی کان میں حادثہ8جون 2008ء کو مشرقی یوکرین کے شہر یناکائیو میں کوئلے کی کان گرنے کا خوفناک حادثہ پیش آیا ۔گیس پائپ میں دھماکے کی وجہ سے کان گری جس کے نتیجے میں37کان کن زمین سے533میٹر نیچے گہرائی میں پھنس گئے۔ اس حادثے نے کان میں موجود کان کنوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ کان کی سطح پر آگ بھڑکنے سے وہاں موجود افراد کو بھی نقصان پہنچا۔ اس واقعے کو یوکرین کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔کراچی ائیر پورٹ پر حملہ8 جون 2014ء کو کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوحملہ ہوا۔سکیورٹی فورسز نے 10 دہشت گردوں کو کارروائی کر کے ہلاک کر دیا جبکہ اس دوران26افراد شہید،18زخمی ہوئے۔ یہ پاکستان میںہونے والے بدترین دہشت گرو حملوں میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد ملک بھر کے ائیر پورٹس کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیااور ائیر پورٹ پر آنے والوں کیلئے نئے قوانین کا اطلاق کیا گیا۔امیکسیل جنگ کے اثرات8جون1663ء کو امیکسیل کی جنگ پرتگالیوں اورہسپانیوں کے درمیان لڑی گئی۔ سپین میں اس جنگ کو ایسٹریموز کی لڑائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سپین کا پرتگال پر یہ سب سے کامیاب حملہ تھاجس کے نتیجے میں سپین کی افواج نے پرتگال کا جنوب مغرب کا ایک بڑا حصہ حاصل کر لیا لیکن یہ قبضہ زیادہ دیر قائم نہیںرہ سکا اور پرتگالیوں نے مزاحمت کرکے اسی جنگ کے نتیجے میں سپین سے آزادی حاصل کی۔برازیل :فضائی حادثہ فلائٹ 168، بوئنگ 727، ساؤپالو سے فورٹالیزا( برازیل) کیلئے ایک طے شدہ مسافر پرواز تھی جو 8 جون 1982ء کو فورٹالیزا میں اترتے ہوئے دھند کے باعث ایک پہاڑی کے کنارے سے ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجے میں جہازمیں سوار تمام 137 افراد ہلاک ہو گئے۔ فلائٹ 168 کا حادثہ ہلاکتوں کے حساب سے 20 ویں صدی کے برازیل کے فضائی حادثات میں تیسرا بڑا حادثہ تھا۔''وینس ٹرانزٹ‘‘2004ء میں سیارہ زہرہ (وینس) کا سورج کے سامنے سے گزرنے کا نادر فلکیاتی منظر، جسے ''وینس ٹرانزٹ‘‘کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ یہ واقعہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے بعد رونما ہوا، کیونکہ اس سے قبل آخری مرتبہ 1882ء میں وینس ٹرانزٹ دیکھا گیا تھا۔ اس دوران زہرہ ایک چھوٹے سیاہ نقطے کی صورت میں سورج کی قرص کے سامنے سے گزرتا ہوا دکھائی دیا۔