لفظوں کے بے تاج بادشاہ لوگ!
اسپیشل فیچر
بسوں،ٹرکوں،ویگنوں اور رکشوں کے پیچھے لکھے اشعار اور’اقوالِ زریں‘ عوامی ادب میں شاہکار ہوتے ہیںبلکہ کسی زمانے میںریستورانوں مین لکھی ہوئی ہدایات بھی ایسی ہوتی تھیں کہ پڑھنے والا بھڑک اٹھتا تھا۔مثلاََ رمضان کے مہینے میں ایک ریستوران کے باہر یہ عبارت بھی لکھی ہوئی نظر آئی ’’رمضان کریم کے مقدس مہینے کے احترام میں ہوٹل بند ہے،برائے کرم کھانا کھانے کے لیے پیچھے سے اندر تشریف لائیں‘‘۔کچھ اسی طرح کے شاہکار عوامی بیت الخلاؤں میں بھی نظر آتے ہیں۔راہ چلتے ہوئے اکثر دیواروں پر ’’وہ دیکھو گدھا پیشاب کر رہا ہے‘‘کی عبارت بھی دکھائی دیتی ہے اور یہ عبارت ’’وہ گدھا‘‘ دیوار کی طرف منہ کیے اکڑوں بیٹھا خود ہی پڑھ رہا ہوتا ہے، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ،جو لوگ’’وہ دیکھو گدھا پیشاب کر رہا ہے‘‘کی عبارت کو سرے سے خاطر میں ہی نہیں لاتے،انہیں مذہب کا واسطہ دینے کی کوشش میں لکھا ہوتا ہیــ’’اسطر ف قبلہ ہے‘‘ مگر وہ سمجھتا ہے کہ شاید کسی حکمران کو طنزاََ ـ ’’قبلہ ‘‘کہا گیا ہے۔چنانچہ وہ دل کی بھڑا س نکالنے کے لیے اپنے علاوہ دوسرے اہلِ حاجت کو بھی حاجت روائی کی ترغیب دیتا دکھائی دیتا ہے۔یہ سب باتیںمجھے ایس ایم شائق صاحب کی کتاب ’’دیوان ٹرانسپورٹ ‘‘ دیکھ کر یاد آگئیں۔موصوف نے نامعلوم شعراء کا کلام بنا کر اسے ’’دیوانِ ٹرانسپورٹ ‘‘ کے نام شائع کر دیا۔چند ایک آپ بھی ملاحظہ فرمائیں: ٭تو جہاں پر بھی جائے، چھیتر تیس کو یاد رکھنا۔٭ لازم ہے ہر بشر کو صبر کرنا چاہیے۔٭ بس جب کھڑی ہوجائے تو اترنا چاہیے۔مختلف گاڑیوں پر سفر کرکے اپنی اپنی منزلوں پر پہنچناہمارا روز کا معمول ہے۔جب ہم گاڑیوں پر سفر کر رہے ہوتے ہیں تب ہماری نظر سڑک پر دوڑنے والی دوسری گاڑیوں پر بھی پڑتی ہے اور بعض دفعہ ان گاڑیوں پر لکھے ہوئے جملے،اشعار،کہاوتیں پڑھنے میں ہمیں کافی دلچسپ اور کبھی کبھی کافی عجیب وغریب بھی لگتی ہیں۔ایسی باتیں زیادہ تر ہمیں بس،ٹرک،رکشے وغیرہ کے پیچھے لکھی نظر آتی ہیں۔جب ہم ان باتوں کوپڑھتے ہیں تو لگتا ہے کہ واقعی یہ باتیں اسی گاڑی کے لیئے لکھی گئی ہیں۔جیسے کہ ایک رکشہ کے پیچھے لکھا ہوا دیکھا کہ ’’گھر کی رونق بچے سے،روڈ کی رونق رکشے سے‘‘۔اس طرح مختلف ٹرکوں کے پیچھے بھی ہمیں ایسی باتیں پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں جیسا کہ ’’ہمت ہے تو کراس کر،ورنہ برداشت کر‘‘ گویا ابھی ٹرک چڑھا دے گا۔اسی طر ح کے ایسے بہت سے مقامات ہیں جن سے ہمیں روزانہ پالا پڑتا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں ہی کہا کہ سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال بسوں ،ٹرکوں، ویگنوں، رکشوں کے پیچھے لکھے ہوئے اشعار اور ’’اقوال زریں‘‘ کے حوالے سے نظرآتی ہیں۔یہ تحریریں عوامی ادب کا شکار ہوتی ہیں جبکہ کچھ تحریریں ایسی بھی ہیں جن کو پڑھتے ہی اوسان خطاہوجائیں ،مثلاً: ’’بس سوار ہونے سے پہلے کلمہ پڑھ لیں ،ممکن ہے یہ سفر آپکی زندگی کا آخری سفر ہو‘‘جیسی سچائی بسوں پر لکھی نظر آتی ہے،لیکن کچھ عبارتوں میں اپنے شہر اور علاقے لے لیے اس قدر محبت پائی جاتی ہے کہ داد دینے کو جی کرتا ہے۔ایک دوسرے شہر سے واپس کراچی آنے والی ویگن کے پیچھے لکھا تھا ’’میں کس کس کو بتاؤں کہ میں اپنے کراچی واپس جارہی ہوں!‘‘۔اگر دیکھا جائے تو اس طرح کی باتیں ڈرائیوروں کے ذہنوں کی عکاسی کرتی ہیں اور اس طرح وہ اپنے تاثرات اور خیالات کو پینٹروں کے ذریعے اپنی گاڑیوں پر لکھوا لیتے ہیں۔اس سلسلے میں جب گاڑی کے ڈرائیوروں سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ ہر ڈرائیور کا اپنا اپنا رجحان اور اپنی اپنی پسند ہوتی ہے،مثال کے طور پر کوئی ڈرائیور دینی رجحان رکھتا ہے، تو وہ اپنی گاڑی پر اسی طرح کی باتیں لکھواتا ہے ۔مسخرا مزاج ہو تو وہ مزاحیہ باتیں لکھواتا ہے۔بعض ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کا حسن ہی ان فقروں سے ہے ورنہ بس،رکشہ،ٹرک یا ویگن جو بھی ہو اس کا حسن ادھورا ادھورا معلوم ہوتا ہے۔میں بھی صبح جب گھر سے نکلتا ہوں تو اکثر ایسی تحریروں پر نظر پڑتی ہے کہ ان کے مقابلے میںاپنی تحریریں ماند دکھائی دیتی ہیں۔میرا خیال ہے کہ اب میں بھی گھرسے کاغذ قلم لے کر نکلا کروں اور یہ عوامی ادب کے شاہکار فقرے اپنی نوٹ بک میں درج کر کے قارئین کو عوام کوکھ سے پھوٹنے والے اصلی مزاح کو پڑھنے کا موقع دوں۔یہ خواہش تو جب پوری ہو گی، سو ہو گی! اس سے پہلے آخر میں صدر روڈ پر چلنے والے رکشے کے پیچھے لکھا ہوا ایک لازوال جملہ خدمت میں حاضر ہے:’’بڑا ہو کر ٹرک بنوں گا۔۔!!‘‘٭…٭…٭